ٹویٹس

۲۸ اگست ۲۰۲۲ء

تمام باہم برسر پیکار سیاستدانوں سے اللہ کے نام پر درخواست ہے کہ آپس کی ’’تو تو میں میں‘‘ چند روز کیلئے روک دیں اور ساری توجہ سیلاب زدگان کی مدد اور بحالی پر مرکوز رکھیں، اللہ پاک سب کا بھلا کریں۔

۲۷ اگست ۲۰۲۲ء

سیلاب اور بارشوں سے تباہی کی جو صورتحال بن چکی ہے ہمیں اور معاملات پر بحث میں وقت صرف کرنے کی بجائے متاثرین کے تحفظ اور بحالی کے کاموں پر توجہ دینی چاہیے اور اپنی بساط کے مطابق جس قدر ہو سکے امداد کا بندوبست کرنا چاہیے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق دیں۔

۲۵ اگست ۲۰۲۲ء

اسلام اور مسلمانوں کے تشخص کے بارے میں مغرب کے زیراثر عالمی میڈیا کا رویہ غیرمتوقع نہیں ہے۔ کیونکہ وہ یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ مغرب نے آسمانی تعلیمات سے انحراف و بغاوت کے فلسفے پر مبنی جو ثقافت دنیا میں متعارف کرا رکھی ہے اس کی راہ میں اسلام ہی ایک مضبوط رکاوٹ ثابت ہو رہا ہے۔

۲۵ اگست ۲۰۲۲ء

سیلاب کی تباہ کاریوں کے ظاہری اسباب کا جائزہ لینے اور ان کے حوالے سے تحفظ کے اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے باطنی اسباب اور روحانی عوامل کی طرف توجہ دی جائے اور ان کو دور کرنے کے لیے بھی اسی قدر بلکہ اس سے زیادہ محنت کی جائے۔

۲۴ اگست ۲۰۲۲ء

ریاستی اداروں کا احترام قومی تقاضہ ہے اور اس کا ماحول قائم رکھنا قوم کے ساتھ ساتھ خود ریاستی اداروں کی بھی ذمہ داری ہے، اللہ تعالٰی وطنِ عزیز کو ہر طرح کے خلفشار سے بچائے۔

۲۳ اگست ۲۰۲۲ء

سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے سعودی عرب کے دورے کے دوران ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی جب تک عقیدہ کی تعلیم دینا ترک نہیں کریں گے اور اپنے نصابِ تعلیم سے عقیدہ کی تلقین کا عنصر خارج نہیں کریں گے ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف عالمی مہم میں ان کی شرکت پر اعتماد قائم نہیں ہوگا۔

۲۲ اگست ۲۰۲۲ء

تمام احباب سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور امداد کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر شریک ہوں اور اپنے علاقوں میں اس کے لئے منظم اور مربوط محنت کا اہتمام کریں، ایسے حالات میں متاثرین کی امداد نفلی عمرہ اور حج پر بھی ترجیح رکھتی ہے، اللہ تعالٰی جزائے خیر دیں، آمین۔

۲۱ اگست ۲۰۲۲ء

مسلسل بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں متاثرہ ہم وطنوں کی فوری امداد کے ساتھ ساتھ بارگاہ ایزدی میں سربسجود ہونے اور گناہوں کی معافی مانگنے کی طرف بھی توجہ دلا رہی ہیں اللہ پاک ہم سب کو توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔

۲۰ اگست ۲۰۲۲ء

اسلام دشمن قوتیں مستحکم، منظم اور متحد ہیں، ان کے وسائل مجتمع اور ترقی یافتہ ہیں اور ترجیحات طے شدہ ہیں۔ عالمِ اسلام منتشر اور غیر مستحکم ہے، اپنے وسائل پر اس کا کنٹرول نہیں، بیشتر حکومتیں دشمن کی مطیع ہیں، اور ترجیحات تو رہیں ایک طرف اس کے اہداف بھی واضح طور پر متعین نہیں ہیں۔

۱۹ اگست ۲۰۲۲ء

سیاست، معیشت، ٹیکنالوجی، عسکریت اور وسائل پر تصرف کی دوڑ میں ہم مغرب سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ اب صرف دین و ثقافت کا میدان ہے جس میں مغرب کو مطلوبہ کامیابی نہیں مل رہی اور اسے اعتراف ہے کہ وہ عام مسلمان کا خدا اور رسول کے ساتھ عقیدہ و محبت کا تعلق توڑنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا۔

۱۸ اگست ۲۰۲۲ء

خلافتِ راشدہ سے لے کر خلافتِ عثمانیہ اور مغل سلطنت تک مساجد کے خطباء کو کبھی اس بات کا پابند نہیں کیا گیا کہ وہ جمعۃ المبارک کے خطابات اور عمومی دینی بیانات میں سرکاری طور پر لکھی گئی تقاریر پڑھ کر سنائیں اور اپنی طرف سے کوئی بات نہ کریں، حتٰی کہ اکبر بادشاہ کے دور میں بھی نہیں۔

۱۷ اگست ۲۰۲۲ء

پنجاب اسمبلی پرائیویٹ سود کی ممانعت کا بل منظور کرنے پر مبارکباد کی مستحق ہے مگر اصل ضرورت وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر اپیلیں واپس لے کر اس پر عملدرآمد کی راہ ہموار کرنے کی ہے۔

۱۶ اگست ۲۰۲۲ء

امریکی کانگریس کے سابق اسپیکر نیوٹ کنگرچ نے کہا تھا کہ جو مسلمان شریعت پر یقین رکھتے ہیں انہیں امریکہ سے نکال دیا جائے کیونکہ شریعت مغربی تہذیب سے مطابقت نہیں رکھتی۔ جبکہ ہمارے بعض دانشوروں کا کہنا ہے کہ اسلام اور مغرب کے درمیان کوئی تہذیبی کشمکش نہیں ہے محض مفادات کی جنگ ہے۔

۱۶ اگست ۲۰۲۲ء

ہمارے ہاں یہ رویہ پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ کسی بھی مسئلہ پر کتنی ہی سنجیدہ بات کی جائے اس پر تبصرے یہی سامنے آتے ہیں کہ جی فلاں تو یہ کر رہا ہے اور فلاں تو یہ کہتا ہے۔ جس سے اصل بات گم ہو جاتی ہے بس فلاں فلاں ہی منظر پر رہتے ہیں۔

۱۵ اگست ۲۰۲۲ء

یہ ’’بے خبری‘‘ محض اتفاقی نہیں بلکہ ملک کے تعلیمی نظام و نصاب سے اسلام اور نظریۂ پاکستان کے بارے میں معلومات و مواد کو دھیرے دھیرے خارج کر کے اس کا ماحول پیدا کیا گیا ہے اور اس خود ساختہ ماحول میں آج کی نسل کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ نظریۂ پاکستان آخر کیا چیز ہے؟

۱۴ اگست ۲۰۲۲ء

یومِ آزادی پر وزیر اعظم نے میثاقِ معیشت کی بات کی ہے جس نے اس سے قبل کئے جانے والے میثاقِ جمہوریت کا حشر یاد دلا دیا ہے جبکہ قوم کو اصل ضرورت میثاقِ شریعت کی ہے جو تمام مشکلات کا حل ہے۔

۱۴ اگست ۲۰۲۲ء

یہ وہ پاکستان ہے جس کے متعلق قائد اعظم نے فرمایا تھا کہ اس کا دستور قرآن ہوگا اور یہاں کا نظام اسلامی اصولوں پر استوار کیا جائے گا۔ اس اعلان پر علامہ شبیر احمد عثمانی اور مولانا ظفر احمد عثمانی کی قیادت میں ہزاروں علماء نے رائے عامہ کو بیدارومنظم کرنے کیلئے دن رات ایک کر دیا تھا۔

۱۲ اگست ۲۰۲۲ء

عالمی معاہدات اور اداروں کے ذریعے جو بیرونی تسلط ہم پر قائم ہو چکا ہے اس کا تقاضہ ہے کہ جس طرح آزادی کے حصول کیلئے محنت کی گئی تھی اسی طرح آزادی کے تحفظ اور قومی خودمختاری کی بحالی کیلئے ہمہ گیر جدوجہد منظم کی جائے جس میں قوم کے تمام طبقات اپنا کردار ادا کریں۔

۱۱ اگست ۲۰۲۲ء

وطنِ عزیز پون صدی گزر جانے کے باوجود جغرافیائی طور پر بھی نامکمل ہے اور اپنے قیام کے مقاصد کے حوالے سے بھی۔ یومِ آزادی ہمیں اپنے بزرگوں کی محنت اور قربانیوں کی یاد دلاتے ہوئے پاکستان اور اس کے مقاصد کی تکمیل کا درس دیتا ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق سے نوازیں، آمین یارب العالمین

۱۰ اگست ۲۰۲۲ء

سیدنا حضرت فاروق اعظمؓ اور سیدنا حضرت امام حسینؓ کے تذکرہ کا اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ عدل و انصاف اور سادگی پر مبنی نظام کے قیام کی کوشش کی جائے اور تعیش و تکلفات، پروٹوکول و پرسٹیج، اور قانون و نظم سے بالا ہونے کے اس ماحول سے نجات کیلئے ہر قسم کی قربانی دی جائے۔

۸ اگست ۲۰۲۲ء

سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جدوجہد نااہلی کے خلاف تھی کہ جس کو وہ خلافت کا اہل نہیں سمجھتے تھے اس کی بیعت سے انکار کر دیا۔ راہنمائی کے اس آئینے میں ہم بھی اپنے سیاسی فیصلوں کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

۷ اگست ۲۰۲۲ء

گوجرانوالہ کے ایک کمشنر ہوتے تھے غلام مرتضیٰ پراچہ صاحب ان سے میری اچھی علیک سلیک تھی، ایک دفعہ بے تکلفی سے کہنے لگے مولوی صاحب! اگر میری سیٹ پر بٹھانے کیلئے آپ کے پاس بندہ ہے تو نفاذِ شریعت کی بات کریں ورنہ اپنا اور لوگوں کا وقت ضائع نہ کریں

؎ صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کیلئے

۵ اگست ۲۰۲۲ء

امام حرم الشیخ صالح بن حمید حفظہ اللہ تعالیٰ کے ایک خطبہ پر صہیونی میڈیا کی چیخ و پکار بتا رہی ہے کہ انہوں نے ملتِ اسلامیہ کے موقف و جذبات کی بھرپور ترجمانی فرمائی ہے جس پر وہ امت کے شکریہ و تبریک کے مستحق ہیں اللہ تعالٰی انہیں جزائے خیر سے نوازیں آمین

۴ اگست ۲۰۲۲ء

شعر و خطابت اُس دور میں ابلاغ کے مؤثر ترین ذرائع تھے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے دفاع اور دعوت کیلئے بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔ آج ہمیں انہی مقاصد کیلئے ابلاغ کے اِس دور کے مؤثر ترین ذرائع اختیار کرنا ہوں گے۔

۲ اگست ۲۰۲۲ء

قومی مسائل کے حل کا اس کے سوا کون سا راستہ ہو سکتا ہے کہ تمام طبقات اور ادارے دین و شریعت اور ان کی عملداری کی ضمانت دینے والے دستور کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے فرائض و حقوق میں توازن لانا شروع کر دیں۔

۳۱ جولائی ۲۰۲۲ء

سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے ان کے طرزِ حکمرانی اور رفاہی نظام کو اپنا کر ایک بار پھر دنیا کو خوفِ خدا اور عدل و انصاف پر مبنی طرزِ زندگی سے بہرہ ور کیا جائے، دعا کریں اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو ایسی قیادت نصیب فرمائے آمین۔

۲۹ جولائی ۲۰۲۲ء

تاشقند میں پاکستان کے وزیرخارجہ بلاول بھٹو اور افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی کی ملاقات خطے کیلئے نیک شگون اور دونوں ملکوں میں خیر سگالی کی علامت ہے

’’اللہ کرے زورِ قدم اور زیادہ‘‘

۲۸ جولائی ۲۰۲۲ء

مغرب کی ثقافتی یلغار کا سب سے بڑا ذریعہ بین الاقوامی معاہدات ہیں، ان کا ہر حوالے سے تجزیہ اور وضاحت ضروری ہے ورنہ ہم بحیثیت قوم نہ صرف تاریخ کے مجرم ہوں گے بلکہ عند اللہ بھی مسئول ہوں گے۔

۲۷ جولائی ۲۰۲۲ء

پاکستان کے قومی و دینی معاملات میں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی مسلسل مداخلت سے ملک کے عوام ازحد پریشان ہیں اور اس کے خلاف کسی مضبوط ردعمل کا اظہار چاہتے ہیں مگر بین الاقوامی قرضوں کے انبار تلے دبی اس قوم کو چھٹکارے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا۔

۲۶ جولائی ۲۰۲۲ء

وفاق المدارس العربیہ کی قیادت کا دورۂ کابل خوش آئند اور وقت کی ضرورت ہے، امید ہے کہ اس سے امارتِ اسلامی افغانستان کو اپنے مسائل و مشکلات کے حل میں مدد ملے گی، اللہ تعالٰی کامیاب فرمائیں، آمین۔

۲۵ جولائی ۲۰۲۲ء

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جب سودی نظام کے بارے میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کر کے اسٹے لے رکھا ہے تو وہ اسی فیصلہ پر عملدرآمد کیلئے بنائی جانے والی ٹاسک فورس کا حصہ کیسے بن گیا ہے؟

۲۴ جولائی ۲۰۲۲ء

معاشرتی ماحول میں خیر و شر کی صورتحال کو دیکھتے رہنا، خیر کی حوصلہ افزائی اور شر کی حوصلہ شکنی کرتے رہنا، جسے قرآن کریم نے امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے تعبیر کیا ہے، یہ ایک آزادانہ ذمہ داری ہے جس کا اہتمام کوئی بھی شخص، جماعت یا طبقہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کر سکتا ہے۔

۲۲ جولائی ۲۰۲۲ء

محرم الحرام کی آمد آمد ہے، سیدنا فاروق اعظم اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہما کی صحیح یاد یہ ہے کہ ہم ان کے اسوۂ مبارکہ کو اپنا طرزِ زندگی بنانے کا ماحول بنائیں، اللہ تعالٰی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

۲۱ جولائی ۲۰۲۲ء

ملک میں قرآن و سنت کی عملداری کیلئے عدلیہ اور انتظامیہ کو شریعت کے ماہر جج صاحبان اور افسران فراہم کرنا ریاستی نظامِ تعلیم کی ذمہ داری ہے جس کے پورا نہ ہونے کی سزا قوم بھگت رہی ہے۔

۱۹ جولائی ۲۰۲۲ء

بیرونی مداخلت سے نجات اور قومی خودمختاری کی بحالی چہرے بدلنے سے نہیں قومی پالیسیوں میں تبدیلی سے ہو گی۔ اس کیلئے بین الاقوامی اداروں کی ناجائز باتیں قبول کرنے سے انکار پہلی سیڑھی ہے جس پر قدم رکھنے والی قیادت قوم کی نجات دہندہ ہو گی۔

۱۸ جولائی ۲۰۲۲ء

صدر پاکستان جناب عارف علوی کا ارشاد ہے کہ آزادانہ فیصلوں کیلئے معاشی استحکام ضروری ہے۔ بجا فرمایا مگر معاشی استحکام کیلئے بین الاقوامی قرضوں اور سودی نظام سے نجات ضروری ہے

؎ کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں

۱۷ جولائی ۲۰۲۲ء

امریکی صدر جو بائیڈن کے دورۂ اسرائیل اور سعودی عرب کے نتائج بتا رہے ہیں کہ اسرائیل کو عربوں سے بہرحال قبول کرانے اور سنی شیعہ خانہ جنگی کا دائرہ وسیع تر کرنے کا امریکی ایجنڈا تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے

؎ ’’اے خاصۂ خاصانِ رُسل وقتِ دُعا ہے‘‘

۱۶ جولائی ۲۰۲۲ء

سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جواد حسن کا کہنا ہے کہ ستر سال سے عدالتی نظام میں اصلاحات نہیں ہو سکیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم سب شکوے ہی کرتے رہیں گے؟ یہ کام آخر کس نے کرنا ہے اور اس معاملہ میں عدالتِ عظمٰی کی اپنی ذمہ داری کیا ہے؟

۱۵ جولائی ۲۰۲۲ء

افغانستان میں روس کے نائب سفیر انتون لادروف کا یہ کہنا بجا ہے کہ افغان عوام کی مدد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اسے سیاسی رنگ دیے بغیر ہونی چاھئیے، اس بات پرتمام ممالک بالخصوص مسلم حکمرانوں کی سنجیدہ توجہ درکار ہے۔

۱۲ جولائی ۲۰۲۲ء

گزشتہ ٹویٹ پر ایک تبصرہ یہ سامنے آیا ہے کہ بابا گورونانک صاحب نے نبوت کا دعوٰی نہیں کیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ جب سکھ اپنے مذہب کو آسمانی مذہب اور گوروگرنتھ کو الہامی کتاب مانتے ہیں تو کسی اور صراحت کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟

۱۱ جولائی ۲۰۲۲ء

سکھ مت اور قادیانیت دونوں نئی وحی اور نبوت کے عنوان سے سامنے آئے مگر سکھوں نے الگ ٹائیٹل اور شناخت اختیار کر لی جبکہ قادیانیوں نے اسلام اور مسلمانوں کے ٹائیٹل پر بے جا اصرار کر کے خواہ مخواہ جھگڑا کھڑا کر رکھا ہے۔

۹ جولائی ۲۰۲۲ء

السلام علیکم ورحمۃ اللہ سب رفقاء بزرگوں دوستوں اور احباب کو عید الاضحٰی مبارک، اللہ پاک امتِ مسلمہ کو آزادی خودمختاری اور نفاذِ شریعت کی حقیقی خوشیوں سے مالامال فرمائیں، آمین یارب العالمین۔

۷ جولائی ۲۰۲۲ء

امارتِ اسلامی افغانستان کے امیر ملّا ھبۃ اللہ اخوندزادہ کا یہ مطالبہ انصاف اور امن کی پکار ہے کہ ہم سب کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا چاہتے ہیں ہمیں تسلیم کیا جائے۔ اس مطالبہ کو نظرانداز کرنا سراسر نا انصافی ہے۔

۵ جولائی ۲۰۲۲ء

مولانا فضل الرحمٰن پر اعتراض کرنے والے اور ان سے امیدیں وابستہ رکھنے والے حضرات یہ مت بھولیں کہ انہیں بھی اسی نظام سے سابقہ ہے جس میں دستور کی بالادستی، قومی خودمختاری، یا نفاذِ اسلام کے کسی فیصلے نے جب بھی ’’ریڈ لائن‘‘ کراس کرنے کی کوشش کی وہ کسی نہ کسی جال میں پھنس کر رہ گیا۔

۴ جولائی ۲۰۲۲ء

امریکی سپریم کورٹ نے عورت کے اسقاطِ حمل کے حق کو محدود کر دیا ہے جو پاپائے روم اور دیگر مذہبی قیادتوں کے اس موقف کی تائید ہے کہ بچے میں جان پڑ جانے کے بعد اسقاط کرنا قتل کے مترادف ہے۔

یکم جولائی ۲۰۲۲ء

جب تک حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس لائحہ عمل سامنے نہیں آتا سودی نظام سے چھٹکارے کے حوالے سے سب اعلانات اور وعدے زبانی جمع خرچ اور وقت گزاری کے ہتھکنڈے ہیں جو ہماری حکومتیں کئی دہائیوں سے استعمال کرتی چلی آ رہی ہیں۔

۲۹ جون ۲۰۲۲ء

چند روز پہلے جناب ڈاکٹر نثار احمد چیمہ نے قومی اسمبلی میں والد محترم مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے نام پر گکھڑ منڈی میں فلائی اوور برج تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی تھی، گزشتہ روز مولانا اسعد محمود نے اسمبلی میں اس تجویز پر عملدرآمد کا اعلان کیا ہے، ہم اہلِ خاندان دونوں کے شکرگزار ہیں۔

۲۷ جون ۲۰۲۲ء

سودی نظام کے خاتمہ کے لیے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کے خلاف اپیل واپس لے کر اس پر عملدرآمد کیلئے قومی کمیشن بنایا جائے تو اس سلسلہ میں مشکلات کے حل کے لیے باہمی تعاون کی صورت بن سکتی ہے، ورنہ عوامی مزاحمت کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

۲۶ جون ۲۰۲۲ء

اسٹیٹ بینک اور چار نجی بینکوں نے سود کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے اور اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ہم سپریم کورٹ میں راہنمائی حاصل کرنے کیلئے گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عدالتی فیصلہ پر عملدرآمد رکوانا راہنمائی کی کونسی قسم ہے؟

۲۴ جون ۲۰۲۲ء

یہ درست ہے کہ عالمی اداروں کی معاشی جکڑبندی ہماری قومی مجبوری ہے مگر کن لوگوں کی نا اہلیوں اور عیاشیوں کے ذریعے قوم کو اس دلدل میں پھنسایا گیا ہے، کیا اس کا کوئی ٹریک موجود ہے اور کیا اس سے نکلنے کا کوئی راستہ بھی ہے؟ قومی خودمختاری اور دستور کی بالادستی کا مدار اس کے جواب پر ہے۔

Pages

Flag Counter