بعد الحمد والصلوٰۃ۔ جامعہ بیت النور میں وقتاً فوقتاً حاضری کا موقع ملتا ہے۔ مولانا عثمان آفاق، مولانا محمد اویس اور ان کے دوستوں کی محنت دیکھ کر خوشی ہوتی ہے اور دل سے بے ساختہ دعائیں نکلتی ہیں، اللہ پاک قبول فرمائیں اور برکات و ترقیات سے بہرہ مند فرمائیں۔ مولانا عثمان صاحب کا تقاضہ ہے کہ میں کبھی کبھی آیا کروں اور علماء اور اساتذہ و طلبہ سے کچھ گفتگو ہو جایا کرے۔ میں بھی تعلیمی لائن کا آدمی ہوں، آپ کے تجربات سے فائدہ اٹھاؤں گا اور اپنے تجربات آپ سے شیئر کروں گا۔
میرا معمول ہے کہ طلبہ سے جب بات کرتا ہوں تو زیادہ تر کہانیوں اور لطیفوں میں کرتا ہوں۔ آج کے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پہلا واقعہ ایک طالب علم کا ہی سناؤں گا۔ امت کے اکابر اہلِ علم میں ایک بڑا نام ہے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، امت کے مفسرین کے سردار کہلاتے ہیں۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں اور حضورؐ کے شاگرد بھی ہیں جبکہ ایک رشتے میں حضورؐ کے بھانجے بھی لگتے ہیں کہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ان کی حقیقی خالہ ہیں۔ حضورؐ ان کے چچا زاد بھائی بھی ہیں اور خالو بھی ہیں، یعنی گھر کے آدمی ہیں، لیکن عمر بہت چھوٹی تھی۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جب وصال ہوا ہے تو میں پندرہ سال کا تھا۔ گویا جب حضورؐ کی خدمت میں بطور طالب علم کے آئے ہیں تو تیرہ چودہ سال کے تھے۔ امت کے رأس المفسرین کہلاتے ہیں، ترجمان القرآن کہلاتے ہیں، اور حبرۃ الامۃ کہا جاتا ہے ان کو۔
استاذ جب بوڑھا ہو جائے تو اپنے تجربات سنایا کرتا ہے۔ حضرت عکرمہؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ ایک دن اپنے شاگردوں میں بیٹھے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ آج جو تم مجھے دیکھ رہے ہو کہ دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں اور مجھ سے قرآن کریم کی آیتیں پوچھتے ہیں، تفسیر پوچھتے ہیں، میں بیٹھا ہوتا ہوں اور لوگ بڑی عقیدت سے آتے ہیں، میں جس مقام پہ بیٹھا ہوں یہ ایسے ہی نہیں ہے، میرے پیچھے دعا ہے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ انہوں نے اور بھی اسباب بیان کیے ہیں لیکن آج میں دعا کا ہی ذکر کروں گا۔ فرماتے ہیں کہ میں اکثر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ہی رہتا تھا، خالہ کے ہاں رہتا تھا۔ اور خالہ ماں ہی ہوتی ہے۔ میں ایک دن خالہ جان کے ہاں تھا، صبح چاشت کا وقت تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے، میں بھی تھا۔ حضورؐ اچانک اٹھے اور باہر نکل گئے۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ کیوں گئے ہیں۔
یہ ’’کیوں‘‘ علم کی کنجی ہے، اس سے علم کے دروازے کھلتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سوچ میں پڑ گیا کہ حضورؐ کیوں باہر گئے ہیں۔ میں نے سوچا کہ نماز کا وقت بھی نہیں ہے، بلانے بھی کوئی نہیں آیا، گھر والوں نے بھی کوئی کام نہیں کہا، تو لازمی بات ہے کہ قضائے حاجت کے لیے گئے ہیں۔ پھر دوسرا سوال ذہن میں آیا کہ اِس وقت کیا چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت ہو گی، میں کیا خدمت کر سکتا ہوں؟ اُس زمانے میں واش روم تو نہیں ہوتے تھے، کھلے میدان میں جاتے تھے، کہیں پردے کی جگہ تلاش کر کے بیٹھتے تھے، مٹی سے استنجا کرتے تھے، پھر گھر آ کر پانی استعمال کرتے تھے۔ آج کل بھی دیہاتوں میں یہی ہوتا ہے۔ کہتے ہیں میں نے سوچا کہ اس وقت حضورؐ کی ضرورت پانی ہے۔ میں نے پانی کا لوٹا بھرا اور پیچھے چل پڑا۔ میرا اندازہ درست تھا، حضورؐ آبادی سے باہر نکلے اور کسی چٹان اوٹ میں یا کوئی گڑھا تھا، یعنی پردے کی جگہ تلاش کی اور بیٹھ گئے۔ کہتے ہیں میں احتیاط کے ساتھ گیا اور پانی کا لوٹا ایسی جگہ قریب رکھ دیا کہ نظر پڑ جائے۔ اور خود دور جا کر کھڑا ہو گیا۔ حضورؐ کی نظر پڑ گئی کہ کسی نے پانی کا لوٹا رکھا ہے۔ یہی ان کا مقصد تھا۔
حضورؐ اپنی ضرورت سے فارغ ہوئے، پانی کا لوٹا لیا، ضروریات پوری کیں۔ پھر اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تو میں کھڑا تھا۔ آواز دی، عبد اللہ! پانی تم لائے ہو؟ یا رسول اللہ! میں لایا ہوں۔ کس نے کہا تھا؟ حضورؐ نے سوچا شاید خالہ نے کہا ہو۔ بتایا کہ کسی نے نہیں کہا۔ میں نے سوچا کہ آپ اِس وقت اسی ضرورت کے لیے باہر گئے ہوں گے اور اس وقت آپ کی خدمت یہی ہو سکتی ہے تو میں پانی کا لوٹا لے کر آ گیا ہوں۔
محدثین فرماتے ہیں کہ حضورؐ دو باتوں پر خوش ہوئے۔ ایک اس بات پر کہ بچہ سمجھدار ہے اور موقع کی ضرورت کو سمجھتا ہے۔ یہ ساری کارروائی سمجھداری کی ہے کہ کیا ضرورت ہے اور کیا کرنا ہے۔ اور دوسرا اس بات پر کہ جو سمجھتا ہے وہ کرتا بھی ہے۔ بسا اوقات بات سمجھ میں آجاتی ہے لیکن بندہ کہتا ہے کہ چلو چھوڑو، کوئی اور کر لے گا۔ حضورؐ نے وضو کیا اور وضو کر کے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور عبد اللہؓ سے پوچھا کہ تمہارے لیے کیا دعا مانگوں؟ ذرا سوچیے کہ کون کہہ رہا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو کر موج میں آ کر ہاتھ اٹھا کر تیرہ سال کے بچے سے پوچھ رہے ہیں تمہارے لیے کیا دعا مانگوں۔ بچے نے کیا مانگا ہو گا؟ ہم پر کوئی وقت آجائے؟ اب نیا نبی تو کوئی نہیں آنا لیکن اللہ کے نیک بندے تو ہر زمانے میں رہے ہیں۔ ایسے نیک بندے جن کے بارے میں دل کا تصور یہ ہو کہ اس کے اٹھے ہوئے ہاتھ خالی واپس نہیں آئیں گے، ایسا کوئی بندہ ہمارے کسی کام سے اتنا خوش ہو کہ موج میں آ کر ہاتھ اٹھا کر ہم سے پوچھے کہ کیا مانگوں؟ تو ہم کیا مانگیں گے؟ کس ملک کا ویزا مانگیں گے؟ کتنی کوٹھیاں مانگیں گے؟ کتنے پرمٹ مانگیں گے؟ انہوں نے کیا مانگا؟ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے کہا یا رسول اللہ مجھے قرآن پاک کا علم چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو جملوں کی دعا فرمائی: ’’اللھم علمہ الکتاب وقہ سوء الحساب‘‘۔ یہ کتاب تو تقریباً حدیث کی ہر کتاب میں ہے لیکن منظر مؤرخین نے بیان کیا ہے، اور حضرت عبد اللہؓ خود بھی ایک روایت میں بیان کرتے ہیں۔ تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے شاگردوں سے کہہ رہے ہیں کہ میرے پیچھے یہ دعا ہے، ایسے ہی نہیں بیٹھا ہوا۔
ایک بات میں عرض کیا کرتا ہوں کہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے پیچھے تو دعا تھی، لیکن دعا کے پیچھے بھی کچھ تھا کہ ویسے ہی مل گئی تھی؟ میں عزیز طلبہ اور طالبات کو اس بات پر غور کی دعوت دے رہا ہوں کہ ان کی دعا کے پیچھے کیا تھا؟ سب سے پہلی چیز یہ طلب کہ مجھے قرآن کا علم چاہیے۔ اس کے بعد محنت اور خدمت، خالی گھر بیٹھے نہیں چاہیے۔ ساری گفتگو کا خلاصہ عرض کر رہا ہوں کہ علم کا راستہ کیا ہے؟ پہلے تو علم کی طلب ہونی چاہیے۔ پھر اس کے لیے محنت ہونی چاہیے۔ پھر اس کے ساتھ نیک لوگوں کی دعائیں ہونی چاہئیں۔ یہ علم کا راستہ ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو نصیب فرمائیں۔
ایک واقعہ اور عرض کر دیتا ہوں۔ اس دور میں جو کم عمر طلبہ تھے ان میں ایک اور بچہ بھی تھا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ کہتے ہیں میں دس سال کی عمر میں حضورؐ کی خدمت میں آیا تھا، دس سال خدمت میں رہا، جب حضورؐ کا انتقال ہوا تو میں اکیس سال کا تھا۔ حضرت انس بن مالکؓ امت کے بڑے محدثین میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ اپنا قصہ سناتے ہیں اور اپنی ماں کی تعریف کرتے ہیں کہ میری ماں بڑی سیانی تھی۔ ماں سمجھدار ہو تو اللہ پاک بڑی رونقیں لگا دیتے ہیں۔ کہتے ہیں میری ماں بہت سمجھدار تھی۔ بہت سے واقعات بیان کرتے ہیں، ان میں ایک یہ واقعہ بھی ہے۔ کہتے ہیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف لایا کرتے تھے، ہم ان کے لیے چارپائی بچھا دیتے تھے کہ درخت کے نیچے آرام فرما لیں، اور کچھ کھجوروں اور ستو وغیرہ سے خدمت کر دیا کرتے تھے۔
ایک دن چاشت سے پہلے کا وقت تھا۔ جب مسجد میں ہجوم یا کام زیادہ ہوتا تھا تو آرام کے لیے اکثر ابو طلحہ کے گھر میں جاتے تھے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ رش زیادہ ہو تو آدمی کا ایسی جگہ جانے کو جی چاہتا ہے کہ جہاں پیچھے کوئی نہ آئے۔ حضورؐ ان کے ہاں چلے جایا کرتے تھے۔ کہتے ہیں حضورؐ تشریف لائے، تھوڑی دیر آرام فرمایا، میری والدہ محترمہ امِ سُلیمؓ نے کچھ کھجوریں اور ستو وغیرہ کھلائے، حضورؐ اٹھے اور وضو کر کے چاشت کے نفل پڑھے، اور دعا مانگنے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت انس بن مالکؓ کے گھر میں آرام فرما کر، کچھ کھا پی کر، فریش ہو کر اور نفل پڑھ کر دعا مانگ رہے ہیں۔ کہتے ہیں میری ماں بڑی سیانی تھی۔ دیکھا کہ حضورؐ اب بالکل تازم دم ہیں اور موڈ میں ہیں اور ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں تو میرا ہاتھ پکڑا اور لے جا کر سامنے کھڑا کر دیا: یا رسول اللہ! ’’خویدمک‘‘ آپ کا بچہ ہے اس کے لیے دعا مانگیں۔ حضورؐ نے انسؓ سے پوچھا کہ انس! کیا مانگوں؟ میں نے کہا، یا رسول اللہ، بڑا مال چاہیے، لمبی عمر چاہیے، بڑی اولاد چاہیے۔ حضورؐ نے دعا فرمائی اور وہ قبول ہو گئی: ’’اللہم اکثر مالہ وولدہ وبارک لہ فی عمرہ‘‘۔
حضرت انسؓ سب سے آخر میں فوت ہونے والے دو چار صحابہؓ میں سے ہیں۔ سو سال سے زیادہ عمر پائی ہے۔ اور اولاد کتنی تھی؟ بخاری شریف کی روایت ہے، خود کہتے ہیں کہ اپنی زندگی میں جو بیٹے بیٹیاں پوتے پوتیاں نواسے نواسیاں خود اپنے ہاتھ سے دفن کیے ہیں وہ نوے کے قریب ہیں۔ اور جو وفات کے وقت موجود تھے وہ دو سو سے زیادہ بیان کیے جاتے ہیں۔ حضورؐ کی دعا ہے پیچھے۔ اور مال میں اللہ پاک نے برکت دی تھی۔ کہتے ہیں ایک دفعہ ایسا ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی نے دعوت کی۔ میں خادم تھا، میں بھی ساتھ چلا گیا۔ جیسے پوچھا جاتا ہے کہ مہمان کیا پسند کرتا ہے، تو انہوں نے کسی سے پوچھا کہ حضورؐ کیا پسند کرتے ہیں۔ بتایا کہ حضورؐ قدید پسند کرتے ہیں اور کدو پسند کرتے ہیں۔ قدید خشک کیا ہوا گوشت ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں کہ ہم گئے تو انہوں نے قدید اور کدو پکایا ہوا تھا، شوربہ ہے بڑے پیالے میں، حضورؐ تشریف فرما ہیں، میں بھی بیٹھا ہوں، ہم کھا رہے ہیں۔ تو میں نے محسوس کیا کہ حضورؐ کدو شوق سے کھا رہے ہیں۔ کدو کے ٹکرے تلاش کرتے ہیں اور کھاتے ہیں۔ تو میں کدو کے ٹکڑے نکال نکال کر حضورؐ کے سامنے رکھنے شروع کر دیے۔ کہتے ہیں ’’لم أزل أحب الدباء‘‘ حضورؐ کو کدو شوق سے کھاتے دیکھا تو اس کے بعد مجھے کدو سے محبت ہی ہو گئی۔ اور زندگی میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ گھر والوں نے مجھ سے پوچھا ہو کہ کیا پکانا ہے اور کدو نہ پکا ہو۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں کوفہ اور بصرہ نئے شہر آباد کیے تھے اور وہاں مختلف صحابہ کرامؓ کو بسایا تھا۔ اِن کو بصرہ بھیجا تھا۔ یہ کاشتکار تھے، ان کو کچھ زمین الاٹ کر دی۔ کہتے ہیں میں نے کھیتی باڑی شروع کی تو کدو ہی بونے شروع کر دیے۔ اوپر کھجور کے درخت اور نیچے کدو کی بیلیں۔ کہتے ہیں حضورؐ کی دعا کی برکت تھی کہ باقی لوگوں کے کھیت سال میں ایک فصل دیتے تھے اور میرے کھیت سال میں دو فصلیں دیتے تھے۔ کھجور کا بھی سال میں دو دفعہ پھل اترتا تھا اور کدو بھی سال میں دو دفعہ ہوتے تھے۔ اور کہتے ہیں کہ اتنے بڑے بڑے کدو بھی تھے کہ ایک دفعہ ایک کدو کاٹ کر گدھے پر چھٹ کی طرح لاد کر لے گیا۔ میری ماں بڑی سیانی تھی، اس نے حضورؐ کو دعا کرتے دیکھا تو میرا بازو پکڑا اور سیدھا سامنے لا کھڑا کیا کہ یا رسول اللہ اس کے لیے دعا کیجیے۔
مائیں سمجھدار ہوں تو اولاد سنبھل جاتی ہے۔ ایک واقعہ اور عرض کر دیتا ہوں۔ قاضی اوقصؒ مکہ مکرمہ کے ایک معروف قاضی تھے، بالکل معذور تھے، ٹانگوں سے بھی، ہاتھوں سے بھی، چہرہ بھی صاف نہیں تھا، ایسے کہ آدمی دیکھنا گوارا نہ کرے۔ ظاہری شکل و صورت واجبی بھی نہیں تھی۔ کہتے ہیں جب میں پیدا ہوا اور سال دو سال عمر ہوئی تو میری ماں پریشان تھی کہ یہ کرے گا کیا؟ نہ اس کی ٹانگیں سیدھی ہیں، نہ ہاتھ سیدھے ہیں، نہ ناک سیدھا ہے، نہ منہ سیدھا ہے، زندہ ہے تو یہ اللہ کی نعمت ہے اور اللہ کی مخلوق ہے۔ میری ماں بہت پریشان رہتی تھی۔ میں جب کچھ سمجھنے بوجھنے کے قابل ہوا تو میری ماں مجھے کہتی ہے کہ بیٹا! مجھے تمہاری فکر لگی رہتی ہے، زندگی کیسے گزارے گا؟ زندگی پتہ نہیں کتنی ہے لیکن گزارے گا کیسے، تجھے تو کوئی ساتھ نہیں بیٹھنے دے گا۔ مجھے ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے۔ یہ قاضی اوقصؒ کی ماں کہہ رہی ہے۔ بیٹا! علم حاصل کرو، علم ہی ایک ایسی چیز ہے جو ساری کمزوریاں چھپا لیتا ہے۔ علم کی چادر میں ہر کمزوری چھپ جاتی ہے اور ہر عیب چھپ جاتا ہے۔ قاضی اوقصؒ کہتے ہیں کہ ماں کی بات مجھے سمجھ میں آ گئی کہ ماں ٹھیک کہہ رہی ہے۔ میں نے پھر ماں کی نصیحت پہ عمل کیا۔ اور آج میں مکہ مکرمہ کا قاضی ہوں، اور وہ لوگ جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ مجھے پاس بٹھانا گوارا نہیں کریں گے، میرے سامنے سر جھکائے بیٹھتے ہیں۔
یہ علم ہے۔ علم بہت سی چیزیں چھپا لیتا ہے اور بڑی عظمتیں عطا کرتا ہے۔ ایک واقعہ بچیوں کو سناؤں گا۔ آج کل بچیوں کی تعلیم کے بارے میں بھی سوال ہوتا ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن پاک سیکھنے والے مرد بھی تھے اور عورتیں بھی تھیں۔ حدیث کی روایت کرنے والے مرد بھی تھے اور حدیث کی روایت کرنے والی عورتیں بھی تھیں۔ اور پہلی صدی میں فتویٰ دینے والے مرد بھی تھے اور عورتیں بھی تھیں۔ حافظ ابن القیم رحمہ اللہ تعالیٰ نے صحابہؓ کے دور کی مفتیاتؓ میں تئیس نام لکھے ہیں جو فتویٰ دیتی تھیں اور ان کا فتویٰ چلتا تھا۔ ان میں ایک کا ذکر کروں گا۔ یہ تابعیہ ہیں، عمرہ بنت عبد الرحمٰنؓ۔ حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی پوتی ہیں۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شاگرد بھی ہیں، خادمہ بھی ہیں اور جانشین بھی ہیں۔ ساری زندگی حضرت عائشہؓ کی خدمت میں گزاری ہے۔ یہ مفتیہ تھیں، بہت بڑی فقیہہ تھیں، بہت بڑی محدثہ تھیں۔ یہ ان کا اعزاز ہے کہ امیر المؤمنین حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی خلافت کے دور میں سرکاری طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو جمع کر کے مرتب کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ نجی طور پر تو یہ کام ہوتا رہتا تھا لیکن سرکاری سطح پر اور ریاستی طور پر احادیث کو جمع کر کے منظم کرنے کا کام سب سے پہلے حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے کیا ہے۔
حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے اپنے گورنروں کو خط لکھا۔ یہ پہلی صدی کا اختتام اور دوسری صدی کا آغاز تھا۔ یہ ۱۰۱ھ میں خلیفہ تھے۔ مدینہ منورہ کے گورنر کو لکھا کہ تمہارے علاقے میں جو بھی پرانے بزرگ موجود ہیں ان کی روایات قلمبند کرواؤ اور ریکارڈ میں لاؤ۔ اور سب سے زیادہ خصوصیت کے ساتھ عمرہؓ کی روایات لکھوانی ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ بیان کی کہ وہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے علوم کی وارث ہیں۔ اور اللہ کی قدرت کہ جن گورنر صاحب کو حکم ہوا وہ حضرت عمرہ بنت عبد الرحمٰن کے بھانجے تھے، یعنی انہیں اپنی خالہ کی روایات بطور خاص جمع کرنے کی ہدایت کی۔
میں بچیوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اچھے زمانوں میں عورتوں کے علم کا معیار یہ ہوتا تھا کہ احادیث جب لکھوائی گئیں تو سب سے زیادہ اہمیت کا حکم ایک خاتون عمرہ بنت عبد الرحمٰنؓ کے بارے میں تھا جو حضرت عائشہؓ کی شاگرد بھی تھیں، خادمہ بھی تھیں اور ان کے علوم کی وارث بھی تھیں اور اپنے وقت کی بہت بڑی مفتیہ اور محدثہ تھیں۔
میں نے آج تمہیداً دو چار واقعے آپ کو سنائے ہیں، ان شاء اللہ جو نظم طے ہو گا اس کے مطابق حاضری ہوا کرے گی اور گفتگو بھی ہو گی۔ اب حسبِ عادت ایک لطیفہ بھی سنا دیتا ہوں۔ آپ ما شاء اللہ علم حاصل کرنے آئے ہیں، اللہ پاک مبارک کرے۔ آپ علم حاصل کر کے آگے پڑھائیں گے بھی۔ پڑھائیں گے یا اپنے ساتھ لے جائیں گے؟ اور جب آپ علم منتقل کریں گے تو اس وقت آپ کے پاس یہ علم موجود ہونا چاہیے یا نہیں؟ آپ کے پاس ہو گا تو آگے منتقل کریں گے، اور اگر پہلے ہی کہیں گر گیا تو پھر کیا کریں گے؟ علم توجہ سے پڑھیں، سمجھیں اور محفوظ رکھیں تاکہ جب دوسروں کے حوالے کرنے کا موقع آئے تو یہ جیب میں ہو۔ ورنہ کیا ہو گا؟ ایک خان صاحب کا لطیفہ بڑا مشہور ہے۔ میں خود خان ہوں، گبھرائیں نہیں۔ ایک خان صاحب راستے میں جا رہے تھے کہ ایک ہندو پہ نظر پڑ گئی۔ مشترک دور تھا۔ خان صاحب کو غصہ چڑھ گیا کہ ہندو جا رہا ہے۔ قریب آئے تو ہندو کو پکڑا اور کہا: کافر کا بچہ، کلمہ پڑھتا ہے یا نہیں؟ اس نے سوچا یہ تو مارے گا۔ اس نے کہا: خان صاحب! پڑھاؤ، میں پڑھتا ہوں۔ خان نے کہا: کافر کا بچہ، خود پڑھو، آتا مجھے بھی نہیں ہے۔
بس یہ بات آپ سے کہنی تھی کہ اس طرح پڑھیں کہ جب آپ پڑھانے لگیں تو آپ کو آتا ہو۔ اللہ پاک آپ کو علم عطا فرمائیں، فہم نصیب فرمائیں، برکات نصیب فرمائیں۔

