اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطالبہ اور پاکستان کا اصولی موقف

   
درس قرآن ڈاٹ کام
۸ جنوری ۲۰۱۹ء

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرات محترم، آج مجھے گفتگو کرنی ہے اس سوال پر کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بات ہو رہی ہے، پاکستان کا اصولی موقف کیا ہونا چاہیے اور کیا ہے؟ اور معروضی حالات میں پاکستان کا مفاد کیا ہے؟ اس پر مجھے تھوڑی سی بات کرنی ہے۔ لیکن مجھے اس سے پہلے، مسئلے کی نوعیت کیا ہے، اسرائیل کے قیام کے پس منظر پر تھوڑی سی گفتگو کرنا ہو گی۔ اس کے بعد موجودہ معروضی صورتحال سامنے آئے گی اور پھر میں اپنی رائے کا اظہار کروں گا۔

آج سے ایک صدی پہلے اسرائیل کا کوئی وجود نہیں تھا۔ فلسطین پورے کا پورا خلافتِ عثمانیہ کا صوبہ تھا۔ اور یہ فلسطین، بین المقدس، یہ پورا خطہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں فتح ہوا تھا، حضرت ابو عبیدہ عامر بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس علاقے کے فاتح ہیں۔ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود تشریف لا کر بیت المقدس کا چارج مسیحی علماء سے، پادریوں سے اور مسیحی قیادت سے خود چارج لیا تھا۔ اور یہودیوں پر جو پابندیاں عائد تھیں؛ طیطس رومی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کے کوئی پون صدی بعد قبضہ کر لیا تھا اور یہودیوں کو نکال دیا تھا اور پابندی لگا دی تھی اور ان کا جو معبد تھا وہ ختم کر دیا تھا۔ وہ پابندیاں حضرت عمرؓ نے اس حد تک ختم کیں کہ یہودیوں کو عبادت کی اجازت ہو گئی کہ وہ اپنی عبادت گاہ میں عبادت کریں آ کر۔ جو ۱۹۲۴ء تک، خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے تک رہی ہے، ۱۹۱۶ء، ۱۹۱۷ء، ایک صدی پہلے تک۔

فلسطین میں یہودیوں کی آبادی بہت تھوڑی تھی، ایک فیصد بتائی جاتی ہے یا دو فیصد، یا کم و بیش زیادہ ہو گی، لیکن اسی ratio میں۔ یہودیوں کو یہ اجازت رہی ہے کہ وہ آئیں اور اپنی دیوارِ گریہ کے ساتھ جو اُن کی عبادت ہے وہ کریں۔ لیکن فلسطین میں خلافتِ عثمانیہ کے پورے دور میں، جو چار صدیوں تک محیط ہے، وہاں زمین خریدنے کی اور آباد ہونے کی اجازت نہیں تھی، کیونکہ یہ خدشہ تھا کہ یہودی اُس دو ہزار سال قبل کی پوزیشن پہ جا کر وہاں اپنا قبضہ کرنا چاہ رہے ہیں، بیت المقدس پہ اور فلسطین پہ۔ تو ان تحفظات کے باعث کہ فلسطینی وہاں آباد ہیں، وہاں مقامی آبادی ڈسٹرب ہو گی، اور بیت المقدس پر مسلمانوں کا کنٹرول ڈسٹرب ہو گا، تو یہ اجازت نہیں تھی کہ یہودی وہاں جگہ خرید نہیں سکتے، آباد نہیں ہو سکتے، کاروبار نہیں کر سکتے۔ ہاں عبادت کے لیے آ جا سکتے ہیں۔

اب سے کوئی ایک صدی یا ڈیڑھ صدی پہلے یہودیوں نے عالمی سطح پر ایک تنظیم بنائی اور پروگرام بنایا کہ ہم نے فلسطین میں دوبارہ آباد ہو کر، دنیا بھر سے جو یہودی، جہاں کہیں بھی ہیں، آ کر آباد ہو کر یہاں اپنا سابقہ دور واپس لانا ہے، اور اسرائیل کے نام سے ریاست قائم کرنی ہے۔ اسرائیل حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں ان کی بڑی ریاست تھی، اس کو بحال کرنا ہے۔ اور اس کے لیے انہوں نے تگ و دو شروع کر دی۔ خلافتِ عثمانیہ کا دور تھا، خلیفہ عبد الحمید ثانی رحمہ اللہ تعالیٰ اس وقت خلافتِ عثمانیہ کے تاجدار تھے۔ تو ان سے ملاقاتیں اور رابطے شروع ہوئے کہ ہمیں فلسطین میں زمین خریدنے کی، آباد ہونے کی اجازت دی جائے۔ تو خلیفہ عبد الحمید نے انکار کر دیا۔ وہ اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ مجھے معلوم تھا کہ ان کا پروگرام کیا ہے، اس لیے میں یہ رسک نہیں لے سکتا تھا۔ ان سے ایک دفعہ ملاقات ہوئی ہرتزل کی، دو دفعہ ہوئی، تین دفعہ ہوئی، انہوں نے انکار کر دیا۔

اس کے بعد خلافتِ عثمانیہ خود مسائل کا شکار ہو گئی، خلیفہ عبد الحمید ثانی کو معزول کر کے نظربند کر دیا گیا۔ وہ الگ داستان ہے۔ لیکن یہودیوں نے یہ چاہا کہ ہمیں فلسطین میں زمین خرید کر مکان بنا کر آباد ہونے کا موقع دیا جائے، اور دنیا بھر سے یہودی اکٹھے ہو کر یہاں جمع ہوں، اسرائیل کی ریاست ہم بحال کریں۔ یہ ان کا پروگرام تھا جسے خلافتِ عثمانیہ نے قبول نہیں کیا۔ یہ جنگِ عظیم اول کا زمانہ ہے۔ تو یہودیوں نے پھر برطانیہ سے رابطہ قائم کیا۔ اور جو اُن کے روایتی حریف تھے، عیسائی یہودی دشمنی تو دنیا کی معروف دشمنی ہے۔ لیکن انہوں نے اس کے لیے برطانیہ سے رابطہ قائم کیا اور برطانیہ کے ساتھ معاہدہ ہوا۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ تھے بالفور، انہوں نے 1916ء میں یہ تسلیم کیا، اعلان کیا ’’اعلانِ بالفور‘‘ کے نام سے۔ ’’بالفور ڈکلیریشن‘‘ کے نام سے یہ معروف ہے کہ برطانیہ، سلطنتِ عظمیٰ برطانیہ، فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن تسلیم کرتی ہے۔ اور ان کا حق تسلیم کرتی ہے کہ وہ دوبارہ آباد ہوں اور یہاں اپنی ریاست اور اپنا وطن بنائیں اس کو۔ اور یہ سلطنتِ عظمیٰ برطانیہ وعدہ کرتی ہے کہ جب بھی اسے موقع ملا تو یہودیوں کو فلسطین میں دوبارہ آباد ہونے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

اس دوران جنگِ عظیم اول کے نتیجے میں خلافتِ عثمانیہ ختم ہو گئی۔ اور یہ علاقے مختلف ملکوں، کوئی فرانس کے، کوئی برطانیہ کے، کوئی کسی کے قبضے میں چلا گیا۔ فلسطین کا علاقہ برطانیہ نے، اس تقسیم میں جو جنگِ عظیم اول کے بعد اتحادی فوجوں میں، اتحادی ممالک میں آپس میں تقسیمِ کار ہوئی، اس میں فلسطین برطانیہ نے سنبھال لیا، اپنا وائسرائے بٹھا دیا، گورنر جنرل بٹھا دیا۔ اور یہ اعلان کر دیا کہ یہودی دنیا بھر سے آ سکتے ہیں، آباد ہو سکتے ہیں۔ تو یہ ۱۹۱۴ء، ۱۹۱۵ء، ۱۹۱۶ء، آج سے کوئی ایک صدی پہلے کی بات ہے۔ یہودیوں نے آ کر آباد ہونا شروع کیا۔ فلسطینیوں نے مزاحمت کی، تصادم ہوئے، لمبا قصہ ہے۔

لیکن بہرحال برطانیہ نے اپنی انتداب کے دور میں، جو فلسطین کو انہوں نے نوآبادی کے طور پر سنبھال رکھا تھا، یہودیوں کو پورا موقع، وسائل، اور وعدہ ’’اعلانِ بالفور‘‘ کے مطابق انہوں نے مواقع فراہم کیے، اور یہودی آ کے آباد ہونا شروع ہوئے۔ اور جب یہ اس حد تک آ گئے کہ ایک علاقہ ان کے لیے ریاست کے طور پر تسلیم کیا جا سکتا تھا، سن ۱۹۴۵ء میں اقوامِ متحدہ میں کیس لے جا کر فلسطین کی تقسیم اور اسرائیل کے قیام کی قرارداد اقوامِ متحدہ سے منظور کروا کے برطانیہ واپس چلا گیا اور اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔ اسرائیل قائم ہوا فلسطین کے ایک حصے پر۔ فلسطین تقسیم کر دیا گیا۔ ایک حصے کو اسرائیلی ریاست قرار دے دیا۔ اقوامِ متحدہ نے تسلیم کر لیا ۔ ایک حصہ فلسطینیوں کے حصے میں رہا، جو ابھی تک نیم ریاست اور نیم نوآبادی اور نیم پتہ نہیں کیا کیا ہے، اس پوزیشن میں ہے۔ اسرائیل کو تو ایک آزاد ریاست تسلیم کر لیا گیا، لیکن اس تقسیم کے منطقی تقاضے پر فلسطین کو ابھی تک ایک آزاد مستقل ریاست تسلیم نہیں کیا گیا۔ یہ چلتی رہی بات۔

اس وقت مصر سے بھی مزاحمت ہوئی، سب کچھ ہوا، میں اس تفصیلات میں نہیں جاتا۔ اس وقت اقوام متحدہ نے فلسطین کی تقسیم کا اور اسرائیل کے قیام کا، اور باقی فلسطین فلسطینیوں کی ریاست کا، یہ فارمولا منظور کیا۔ اس پر اسرائیل کو بڑی طاقتوں نے تسلیم کر لیا۔ لیکن مسلمان ملکوں نے یہ تقسیم قبول نہیں کی۔ عربوں نے بھی، مسلمانوں نے بھی، یہ تقسیم قبول نہیں کی۔ اور کہا کہ یہ زیادتی ہے فلسطینیوں پر، اور بیت المقدس پر یہودیوں کے قبضے کی یہ سازش ہے۔ اس تقسیم کو اس وقت قبول نہیں کیا گیا۔

چنانچہ، یہ زمانہ تھا پاکستان بننے سے پہلے کا، قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ، بانئ پاکستان، ان کا واضح ریکارڈ پہ بیان موجود ہے کہ یہ مسلمانوں کے دل میں خنجر گھونپنے کی بات ہے اور یہ ایک ناجائز ریاست ہے، جسے ہم کسی صورت میں قبول نہیں کریں گے، تسلیم نہیں کریں گے۔ یہ قائد اعظم کا اعلان ریکارڈ میں موجود ہے کہ انہوں نے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا۔ اور یہ کہ ناجائز ریاست ہے اور مسلمانوں کے سینے میں خنجر گھونپنے کے مترادف ہے۔ خیر، یہ چلتی رہی بات، چلتی رہی بات۔ یہ بین الاقوامی طاقتیں اس کو سپورٹ کرتی رہیں، روس بھی سپورٹ کرتا رہا، امریکہ سپورٹ کرتا رہا، یورپ سپورٹ کرتا رہا۔

اور اس سے اگلا مرحلہ یہ ہوا کہ ۱۹۶۷ء میں ایک جنگ ہوئی، ایک طرف اسرائیل تھا، دوسری طرف اردن، شام اور مصر تھے۔ اس جنگ میں اسرائیل کو مکمل پشت پناہی حاصل تھی مغربی طاقتوں کی۔ اسرائیل نے ان تینوں ملکوں کو شکست دی اور صحرائے سینا پر بھی قبضہ کر لیا، شام میں گولان کی پہاڑیوں پر بھی قبضہ کر لیا، اور اردن کے پاس تھا فلسطین کا یہ حصہ، یروشلم کا اور بیت المقدس کا حصہ، اس پہ بھی قبضہ کر لیا، اور اپنی سرحدیں توسیع کر دیں۔ یہ ۱۹۶۷ء کی بات ہے۔ میری ہوش کا زمانہ ہے، میں نے وہ سارے، اس وقت کے مناظر میری آنکھوں کے سامنے ہیں، میں بھی کمپین کا ایک حصہ تھا۔

خیر، اس کے بعد پھر لڑائیاں چلتی رہیں، مصر کی اسرائیل سے پھر جنگ ہوئی، پھر صحرائے سینا مصر نے چھین لیا۔ گولان ابھی تک اسرائیل کے پاس ہے، اور یروشلم، بیت المقدس ابھی تک اسرائیل کے پاس ہے۔ اقوام متحدہ نے یہ ۱۹۶۷ء کے بعد کی اسرائیل کی حدود کو تسلیم نہیں کیا۔ اور اقوام متحدہ کی مسلسل قراردادیں ابھی تک یہ چلی آ رہی ہیں کہ اسرائیل کو ۱۹۶۷ء کی پوزیشن پر واپس چلے جانا چاہیے اور ۱۹۶۷ء میں جو قبضے کیے ہیں اسرائیل کو یہ علاقے خالی کرنے چاہئیں۔ یو این کا ابھی تک سرکاری موقف، عملاً‌ جو کچھ مرضی کریں، سرکاری موقف ابھی تک یو این کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں کا یہی ہے کہ ۱۹۶۷ء کی پوزیشن پہ، جو تقسیم اقوام متحدہ نے کی تھی، اس تقسیم پہ واپس جانا چاہیے۔ اور جو علاقے قبضہ کیے تھے وہ انہیں خالی کرنے چاہئیں۔

اس کے بعد صورتحال آگے بڑھتی گئی، بڑھتی گئی، بڑھتی گئی۔ تو رشیا تھا ایک طرف سرد جنگ میں۔ رشیا کچھ عرب ممالک کو سپورٹ کر رہا تھا، کچھ عرب ممالک کو امریکہ سپورٹ کر رہا تھا، اور اسرائیل کو تو سارے ہی سپورٹ کر رہے تھے۔ تو اس ساری کشمکش میں ایک مرحلہ ایسا آیا کہ عربوں سے یہ کہا گیا کہ اگر آپ ۱۹۶۷ء سے پہلے کی اسرائیل کی پوزیشن کو تسلیم کر لیں تو ہم اسرائیل کو واپس جانے پہ مجبور کر سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں گولان کی پہاڑیاں بھی واپس ہوں گی، اس کے نتیجے میں یہ بیت المقدس بھی سابقہ پوزیشن پہ واپس چلا جائے گا۔ یہ ایک فارمولا دیا گیا۔ چنانچہ اس فارمولے پر کیمپ ڈیوڈ سمجھوتہ ہوا۔ ان سے وعدہ کیا گیا کہ اسرائیل کو سابق پوزیشن پہ واپس لانا ہماری ذمہ داری ہو گی، آپ سابقہ پوزیشن پہ اسرائیل کو تسلیم کر لیں۔ تو مصر نے بھی تسلیم کر لیا، شام نے، دوسرے ممالک نے۔ لیکن اس کے باوجود سعودی عرب اور پاکستان اور ایران اور کچھ ممالک سابقہ موقف پر ڈٹے رہے، ابھی تک ڈٹے ہوئے ہیں کہ ہم سرے سے اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے۔ اور قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم کے اعلان کے مطابق یہ ناجائز ریاست ہے، ہم اس کو ایک جائز ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کر سکتے۔ یہ اس وقت سے یہ بات چلی آ رہی ہے۔

اس وقت دنیا میں تین موقف ہیں:

  1. ایک موقف یہ ہے کہ اسرائیل ایک وجود میں آ گیا ہے، ایک معروضی حقیقت ہے، اس کو تسلیم کرنا چاہیے اور اس کے ساتھ معاملات کرنے چاہئیں۔ یہ موقف ہمارے کچھ دانشوروں کا ہے، اب اس کو بار بار کہا جا رہا ہے کہ معروضی حقیقت ہے، دنیا میں وجود میں آ گیا ہے، اس کے ساتھ معاملات طے کرنے ہیں، تو تسلیم کرنا چاہیے۔
  2. دوسرا موقف اُن عرب ممالک کا ہے جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے لیکن ان کا تقاضہ، مطالبہ یہ ہے کہ یہ ۱۹۶۷ء کی پوزیشن پہ واپس جائے اور ۱۹۶۷ء میں جن علاقوں پہ، بیت المقدس سمیت، گولان کی پہاڑیوں سمیت، جن علاقوں پہ اسرائیل نے قبضہ کیا تھا، اب وہ واپس جائے۔ یہ بہت سے عرب ممالک کا، مصر وغیرہ کا، اور اقوام متحدہ کا سرکاری موقف بھی یہی ہے کہ اسرائیل کو ۱۹۶۷ء کی پوزیشن پہ واپس جانا چاہیے، اور اس کے بعد یہ باقی معاملات آگے ہوں گے۔ پہلا موقف تو یہ ہے کہ جو بھی ہے، ہر ایک چیز کو قبول کر لیا جائے۔ دوسرا موقف یہ ہے۔
  3. تیسرا موقف حماس اور اِدھر پاکستان، سعودی عرب، ابھی تک ان کا موقف یہ ہے کہ ہم اسرائیل کو ایک جائز ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتے اور اسے قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

یہ تین موقفوں کے درمیان ابھی تک کشمکش جاری ہے۔ یہ ہے پس منظر۔ اس تناظر میں پاکستان سے یہ تقاضہ کیا جا رہا ہے، پاکستان کے اندر بھی اور باہر سے بھی، کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرے، اور تسلیم کر کے اس کے ساتھ معاملات کو چلائے۔ یہ ایک بڑی کمپین ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس کمپین میں اضافہ ہو کیونکہ لابنگ بہت ہو رہی ہے، پراپیگنڈا بھی بہت ہو رہا ہے۔ لیکن میں یہ عرض کرنا چاہوں گا، پہلی بات تو یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ہمارے دوست جو اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کر رہے ہیں، یہ تسلیم کرنے کی بات کس تناظر میں کر رہے ہیں؟ جس تناظر میں وہ عرب ممالک جنہوں نے کیمپ ڈیوڈ سمجھوتے کے نتیجے میں اسرائیل کو تسلیم کیا تھا، اور اسرائیل کے ۱۹۶۷ء کی پوزیشن پہ واپس جانے کی شرط پر تسلیم کیا تھا، یہ اس پر ہے؟ یا علی الاطلاق اسرائیل کو، جو کچھ بھی ہے، بیت المقدس پر قبضے سمیت سب کچھ تسلیم کر لینا ہے؟ ہمارے دانشور یہ بات واضح نہیں کر رہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات اُس تناظر میں کر رہے ہیں یا اِس تناظر میں کر رہے ہیں۔ لیکن میں دونوں تناظروں کو سامنے رکھ کر یہ بات عرض کرنا چاہوں گا کہ پاکستان کا مفاد کیا ہے اور پاکستان کی ضرورت کیا ہے۔

پاکستان کی سب سے پہلی بات تو میں قائد اعظم کی بات دہراؤں گا۔ ہم اگر قائد اعظم کا پاکستان کہتے ہیں اور قائد اعظم کو پاکستان کا بانی کہتے ہیں، اور پاکستان کی پالیسیوں کا سرچشمہ قائد اعظم کو تسلیم کرتے ہیں، تو پھر قائد اعظم کی یہ بات ہمیں کبھی بھی نہیں بھولنی چاہیے۔ اگر ہم ’’کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے‘‘ یہ بات قائد اعظم کی بھولنے کے لیے تیار نہیں ہیں، تو ’’اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے، جسے تسلیم نہیں کرنا چاہیے، نہیں کریں گے‘‘ یہ ہم قائد اعظم کی بات کس طرح نظرانداز کر سکتے ہیں؟ ایک بات تو یہ۔

دوسری بات یہ ہے کہ معروضی صورتحال بھی دیکھ لیں کہ یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ جو حضرات مطالبہ کر رہے ہیں وہ مصر اور شام اور اردن کی اس پوزیشن پر کہ ۱۹۶۷ء کی پوزیشن پہ واپس جائے؟ مجھے یہ تعجب ہوتا ہے کہ مسلم امہ سے تو یہ تقاضہ کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کریں۔ اسرائیل سے، کوئی کسی طرف سے دباؤ ڈالنے والا نہیں ہے کہ ۱۹۶۷ء کی پوزیشن پہ واپس جاؤ۔ میں اس پوزیشن کا موقف نہیں رکھتا لیکن اگر یہ موقف ہو بھی تو یہ دباؤ تو دو طرفہ ہونا چاہیے۔ اگر مسلم ممالک پر دباؤ ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کریں، تو اسرائیل سے کیوں نہیں کہا جا رہا کہ ۱۹۶۷ء کی پوزیشن پہ واپس جائے۔ اس کو ۱۹۶۷ء کی پوزیشن پہ اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر واپس لے جائے بغیر مسلم امہ سے یہ کہنا اور پاکستان سے یہ کہنا کہ اسرائیل کو تسلیم کریں، یہ نا انصافی کی بات ہے یار، ظلم کی بات ہے، نا انصافی کی بات ہے، دھاندلی کی بات ہے، کہ اس سے تو کچھ نہیں کہا جا رہا کہ وہ ۱۹۶۷ء پہ واپس جائے۔ نہیں، بلکہ میں ایک قدم اور آگے کی بات کروں گا۔

اسرائیل کا ایک دائرہ وہ ہے جو ۱۹۶۷ء پہ، جس کو اقوام متحدہ تسلیم کرتی ہے۔ ایک دائرہ وہ ہے، ۱۹۶۷ء کے بعد ناجائز قبضوں کے ساتھ جو اس کی موجودہ سرحد ہے۔ اسرائیل کا ایک دائرہ ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کا بھی ہے۔ اسرائیل تو گریٹر اسرائیل کے لیے بات کر رہا ہے۔ گریٹر اسرائیل کا نقشہ نیٹ پہ موجود ہے۔ اسرائیلیوں سے پوچھ لیں کہ گریٹر اسرائیل کا مقصد کیا ہے۔ اس گریٹر اسرائیل کا جو ٹارگٹ ہے ان کا، مصر ہے اس میں، اس میں شام ہے، اس میں آدھا سعودی عرب ہے، اس میں سوڈان ہے، اس میں عراق ہے۔ ایک پورا گریٹر اسرائیل کا نقشہ نیٹ پہ موجود ہے، کوئی بھی ساتھی دیکھ سکتا ہے۔ اسرائیل تو نہ ۱۹۶۷ء سے پہلے کی پوزیشن پہ واپس جانے کو تیار ہے، اور نہ گریٹر اسرائیل کے ایجنڈے دستبردار ہونے کو تیار ہے۔ وہ تو گریٹر اسرائیل کی بات کر رہا ہے۔ اس کو کوئی کچھ کہنے کو تیار نہیں ہے۔ اور مسلم امہ سے کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل جیسا کیسا ہے، ویسا قبول کر لیا جائے۔ یہ غیر منطقی بات ہے، غیر اصولی بات ہے، نا انصافی کی بات ہے، ون وے ٹریفک ہے، زیادتی کی بات ہے۔ یہ مطالبہ کرنے والوں کو خود اندازہ نہیں ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔

اگر اسرائیل گریٹر اسرائیل کے تصور سے دستبردار ہو جائے اور ۱۹۶۷ء کی پوزیشن پہ واپس جانے کی گارنٹی دے، تو کسی حد تک بات سمجھ میں آتی ہے کہ اس کے ساتھ اقوامِ متحدہ کے دائرے میں بات ہونی چاہیے، لیکن وہ تو اقوام متحدہ کو تسلیم نہیں کر رہا، وہ تو اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تسلیم نہیں کر رہا۔ وہ عالمی موقف کو، کہ ۱۹۶۷ء پہ واپس جاؤ، تسلیم نہیں کر رہا۔ وہ گریٹر اسرائیل، جس میں مصر پر قبضہ شامل ہے، عراق پر قبضہ شامل ہے، آدھے سعودیہ پر قبضہ شامل ہے، سوڈان پر قبضہ شامل ہے، شام پر، اردن پر قبضہ شامل ہے، اس سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہے۔ اور ہم سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل کو جیسا کیسا ہے ویسا قبول کر لیا جائے۔ یہ تو معروضی صورتحال میں نا انصافی کی بات ہے۔

ایک پہلو میں اور عرض کروں گا۔ دیکھیے، کشمیر پہ ہمارا موقف کیا ہے؟ کشمیر پہ انڈیا کے قبضے کو ہم ناجائز کہتے ہیں اور متنازعہ علاقہ کہتے ہیں۔ اور اقوام متحدہ کی قراردادیں ہمارا ساتھ دے رہی ہیں۔ ہم وہاں استصوابِ رائے کے بغیر، کشمیری عوام کو حقِ خود اختیاری دیے بغیر، یعنی اپنا فیصلہ خود کرنے کا اختیار دیے بغیر، ہم کشمیر پر انڈیا کا قبضہ تسلیم نہیں کر رہے۔ اور نہیں کرنا چاہیے۔ عالمی رائے عامہ، اقوامِ متحدہ، سلامتی کونسل، اس کی قراردادیں موجود ہیں، کشمیر ایک ڈسپیوٹڈ علاقہ ہے اور اس پر استصوابِ رائے کشمیریوں کا حق ہے۔ اگر ہم کشمیر پہ اس بات پہ اڑے ہوئے ہیں کہ عالمی رائے عامہ اور بین الاقوامی معاہدات اور اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے فیصلوں کے مطابق کشمیریوں کو اعتماد میں لیے بغیر ہم کوئی فیصلہ قبول نہیں کر سکتے، تو فلسطین میں اقوام متحدہ کی قراردادیں، سلامتی کونسل کے فیصلے، اقوام متحدہ کا موقف، عالمی رائے عامہ، اس کو بنیاد کیوں نہیں بناتے؟ اور وہاں فلسطینیوں کو اعتماد میں لیے بغیر اسرائیل کے قبضے کو غیر مشروط طور پر قبول کرنے کی بات کیسے کر رہے ہیں؟ اگر ہم اسرائیل کو موجودہ پوزیشن میں تسلیم کرتے ہیں تو اس کا منطقی نتیجہ یہ ہو گا کہ ہمیں کشمیر سے دستبرداری بھی اختیار کرنا ہو گی۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ کشمیر پہ ہمارا موقف اور ہو، اور یروشلم پہ ہمارا موقف اور ہو۔ سری نگر کے بارے میں ہمارا موقف مختلف ہو، اور بیت المقدس کے بارے میں ہمارا موقف مختلف ہو۔ بھئی موقف ایک رکھنا چاہیے۔

میں نے تین باتیں عرض کی ہیں۔ ایک بات یہ عرض کی ہے کہ یہ قائد اعظم کے اعلان کے خلاف بات ہو گی، اسرائیل کو تسلیم کرنا۔ دوسری بات یہ عرض کی ہے کہ اسرائیل کو کم از کم، کم از کم ۱۹۶۷ء کی پوزیشن پہ واپس جائے بغیر، اس کی گارنٹی کے بغیر، اسرائیل کو تسلیم کرنا، یہ ظلم کی بات ہو گی۔ اور تیسری بات کہ اسرائیل کے ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے تصور سے دستبرداری کا اعلان، اس کے بغیر کوئی بات کرنا، یہ یکطرفہ بات ہے۔ اور چوتھی بات میں نے یہ عرض کی ہے کہ کشمیر اور فلسطین دونوں بڑے مسئلے ہیں۔ دونوں کی پوزیشن تقریباً‌ ایک جیسی ہے کہ کشمیر پر انڈیا اقوامِ متحدہ کی قراردادیں اور فیصلے قبول کرنے کو تیار نہیں ہے، اور بیت المقدس اور اس کے بارے میں اسرائیل اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے فیصلے تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ دونوں کی پوزیشن ایک جیسی ہے۔ ہم اگر اس مسئلے پر لچک اختیار کرتے ہیں تو دوسرے مسئلے پر ہمارے لیے کھڑے ہونے کا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔

اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ ہم سے یہ بات کہلوانے والے، پاکستان کو یہ بات کہنے والے کہ پاکستان موجودہ صورت میں اسرائیل کو تسلیم کر لے، ایک تیر سے دو شکار، بالواسطہ کشمیر پر انڈیا کے قبضے کو تسلیم کروانے کی بات ہو گی یہ، ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہ رہے ہیں۔ اس لیے بڑی سوچ سمجھ کے ساتھ، بڑی دیانت داری کے ساتھ اس سازش کو سمجھنا چاہیے۔ میں اس کو سازش سمجھتا ہوں۔ یہ فلسطینیوں کے خلاف ہی نہیں ہے صرف، کشمیریوں کے خلاف بھی ہے۔ یہ سازش جو ہے، پاکستان کو اس موقف پر لانے کی بات، یہ فلسطینیوں کے خلاف تو ہے ہی، یہ کشمیریوں کے خلاف بھی ہے۔ اس سے مسئلہ فلسطین بھی متاثر ہو گا اور مسئلہ کشمیر بھی متاثر ہو گا۔ اس لیے میں یہ عرض کروں گا کہ ہمیں زمینی حقائق، امتِ مسلمہ کا مفاد، فلسطینیوں اور کشمیریوں کے جائز حقوق، اقوام متحدہ کی قراردادیں، اور ایک اصولی موقف کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اور محض پراپیگنڈے کے اور لابنگ کے دائرے میں آ کر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات نہیں کرنی چاہیے۔ اللھم صل علیٰ سیدنا محمدن النبی الامی وآلہ واصحابہ وبارک وسلم۔

https://youtu.be/BTRULUE0G8Q

2016ء سے
Flag Counter