بعد الحمد والصلوٰۃ۔ جمعیت اہل سنت، ہمک، ماڈل ٹاؤن، اسلام آباد کا اور مولانا حافظ سید علی محی الدین کا شکرگزار ہوں کہ میری اسلام آباد حاضری کے موقع پر آپ حضرات کے ساتھ اس ملاقات کا اہتمام فرمایا۔ آپ حضرات سے کچھ مسائل میں تبادلۂ خیالات ہو گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہماری ملاقات اور حاضری کو قبول فرمائیں اور ہماری جو دینی و ملی جدوجہد ہے اسے بار آور فرمائیں۔ وقت مختصر ہے، باتیں بہت زیادہ ہیں، تو میں تمہید کے بغیر اپنی گفتگو کا آغاز مسجد اقصیٰ اسلام آباد کے معاملے سے کروں گا کہ یہ مسجد، مسجد کے خطیب مولانا ظہیر عباس اور مسجد کے منتظمین جس بحران سے گزرے ہیں، اس میں سرخروئی پر مبارکباد دیتا ہوں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اسلام آباد کے علماء کی یہ ہم آہنگی، یکجہتی اور اکٹھا ہو جانا قبول فرمائیں۔ ان کے اکٹھے محنت کرنے کے ثمرات ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
اس کے ساتھ یہ بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ مسئلہ ہمیں شروع سے درپیش ہے۔ اسلام آباد کا لفظ اور پاکستان کا دستور عالمی قوتوں کے لیے ناقابلِ قبول تھا جو اب ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ میں آپ کو یاد دلانا چاہوں گا کہ اسلام آباد جب بنا تھا، اس کا نام اسلام آباد ہم نے عقیدت کے طور پر رکھا تھا۔ یہ نیا شہر ہے، ہمارے سامنے بنا ہے۔ مگر اُسی دور میں ملک کے دستور میں ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ سے ’’اسلامی‘‘ کا لفظ حذف کر دیا گیا تھا۔ فیلڈ مارشل ایوب خان مرحوم کے عبوری آئین میں ’’جمہوریہ پاکستان‘‘ کر دیا گیا تھا۔ اس پر پورے ملک میں حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں ایک کمپین چلی تھی۔ جب ایوب خان مرحوم نے ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ سے ’’اسلامی‘‘ حذف کر کے ’’جمہوریہ پاکستان‘‘ کر دیا، اور دارالحکومت بنا کر اس کا نام رکھا ’’اسلام آباد‘‘ رکھا، تو اس وقت سیاسی پارٹیوں پر پابندی تھی۔ جمعیت علماء اسلام بھی باقی پارٹیوں کی طرح خلافِ قانون تھی۔ جمعیت علماء اسلام کی جگہ ’’نظام العلماء پاکستان‘‘ کے نام سے علماء کرام نے اپنی دینی جدوجہد جاری رکھی ہوئی تھی۔ اس کے امیر شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ اور سیکرٹری جنرل مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔
اس وقت دستخطوں کی ایک مہم پورے ملک میں چلی تھی کہ ہمیں جمہوریہ پاکستان منظور نہیں، ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہی ہو گا۔ میں بچہ تھا چودہ سال کا، تو یہ میری جماعتی جدوجہد کا آغاز تھا، میں گکھڑ میں اس فارم پر دستخط کرانے کی مہم میں شریک تھا۔ تو ہم نے ملک بھر میں تحریک چلائی تھی کہ نہیں بھئی! ہم اس ملک کے نام سے اسلام کا لفظ حذف نہیں ہونے دیں گے، اسلام کے لیے بنا تھا، اسلامی جمہوریہ ہی رہے گا۔ الحمد للہ ہمیں کامیابی ہوئی۔ پھر مستقل آئین آیا ۱۹۶۲ء کا، اس میں اسلامی جمہوریہ پاکستان واپس آیا۔ مجھے یاد ہے کہ اس زمانے میں ہمارے جلسوں میں ایک عوامی شاعر تھے، سعید علی ضیاء مرحوم، بڑے اچھے شاعر تھے، ان کی ایک نظم بڑی مشہور ہوئی تھی، اس کا عنوان تھا:
پاک حکمران زندہ باد، پاک حکمران زندہ باد
ہم بہت پڑھا کرتے تھے، بہت سنا کرتے تھے، اس زمانے میں یہ ہمارا تحریکی ترانہ بن گیا تھا۔ تو میں نے یہ عرض کیا ہے کہ اسلام آباد کا لفظ، پاکستان کے ساتھ اسلام کا لفظ، پاکستان کے دستور میں اسلام کی بات، یہ عالمی استعماری قوتوں کے لیے ناقابلِ قبول تھی، ناقابلِ قبول ہے، اور اب ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہے۔
اس کے ساتھ ہی اسلام آباد میں مساجد کا ماحول بھی ایک مستقل مسئلہ ہے۔ اسلام آباد میں مساجد کا ماحول جو نظر آ رہا ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت مولانا عبد اللہ شہید رحمۃ اللہ علیہ کے درجات بلند سے بلند تر فرمائیں، یہ ان کا ذوق تھا اور علماء کی محنت تھی۔ اسلام آباد میں مساجد کا یہ ماحول بھی عالمی استعماری قوتوں کے لیے ناقابلِ برداشت چلا آ رہا ہے۔ لیکن میں اسلام آباد کے علماء کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ آپ اس صورتحال کو سمجھتے ہیں، اسلام آباد کے تشخص کو، اپنے تشخص کو، اور ملک کے دستور کے امتیاز کو آپ باقی رکھنے میں شعوری کردار ادا کر رہے ہیں۔ آپ اکٹھے ہیں، متحد ہیں، میں مبارکباد دیتے ہوئے اس خطرے کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اب بھی پروگرام یہی لگتا ہے۔ آپ کو قدم قدم پر مزاحمت پیش آ رہی ہے، اب مسائل دوبارہ چھیڑے جا رہے ہیں اور مجھے ۱۹۶۲ء کا ماحول واپس آتا دکھائی دے رہا ہے۔ آپ کو پہلے سے زیادہ ہوشمندی کے ساتھ، حوصلے کے ساتھ، اور پوری جرأت کے ساتھ سامنا کرنا ہو گا۔
اسلام آباد کے علماء سے میں ہمیشہ سے یہ عرض کرتا آ رہا ہوں کہ آپ صرف علماء کرام ہی نہیں، اسلام آباد کے علماء کرام ہیں۔ ملک کی قیادت آپ نے کرنی ہے۔ جو فکر آپ دیں گے، جو طریق کار آپ طے کریں گے، ملک آپ کے پیچھے چلے گا۔ اس لیے اسلام آباد کے علماء سے میں گزارش کرتا ہوں کہ آپ کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی بڑی کوششیں ہوں گی۔ آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ کہاں کہاں سے ہوں گی۔ جس طرح آپ اس وقت تک اسلام آباد کے ماحول، مساجد و مدارس کے تحفظ، اور ملک کے اسلامی نظریاتی تشخص کی بقا کے لیے محنت کر رہے ہیں، اب آپ کو پہلے سے زیادہ ہوشمندی کے ساتھ کرنا ہو گا۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں ان شاء اللہ العزیز۔ پہلی بات میں نے یہ عرض کی ہے کہ اللہ پاک آپ کو مبارک کرے اور اس جدوجہد کو اسی طرح اسی ماحول میں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اس کے ساتھ اس وقت ہمیں پاکستان اور عالمی سطح پر کچھ مسائل ’’کرنٹ ایشوز‘‘ کے طور پر درپیش ہیں، ان پر ہلکا ہلکا تبصرہ کرنا چاہوں گا۔ ایک مسئلہ یہ کم سنی کی شادی کا ہے جس پر ملک میں بڑی بحث ہو رہی ہے۔ یہ بحث کیا ہے، مسئلہ کیا ہے؟ یہ آج کا نہیں ہے، یہ بھی ۱۹۶۲ء میں ہوا تھا۔ اسلام آباد کب بنا تھا؟ سن ۶۰ء، ۶۱ء، ۶۲ء میں۔ اور یہ کم سنی کی شادی کا مسئلہ بھی ۱۹۶۲ء میں شروع ہوا تھا، آپ کو یاد ہو گا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق کا چارٹر، اور عالمی استعماری ماحول، یہ لوگ زبانی تو کہتے ہیں کہ ہر مذہب کو اپنے خاندانی قوانین کے تحفظ کا حق حاصل ہے، لیکن وہ انسانی حقوق کے چارٹر کے ساتھ ہمارے خاندانی نظام کو بکھیرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں کہتے ہیں کہ مغربی خاندانی قوانین کی پیروی کرو، اور زبان سے کہتے ہیں کہ ہر ایک کو تحفظ دیتے ہیں۔ خاندانی قوانین کیا ہیں؟ نکاح، طلاق، وراثت، اس کو پرسنل لاء کہتے ہیں۔ پرسنل لاء کا یہ جھگڑا ہمیں یہاں بھی درپیش ہے، انڈیا میں بھی درپیش ہے، برطانیہ میں بھی درپیش ہے، امریکہ میں بھی ہے، بڑی لمبی تفصیل ہے، کبھی موقع ملا تو تفصیل آپ سے عرض کروں گا کہ یہ مسئلہ ہمیں کہاں کہاں درپیش ہے۔ مسلم پرسنل لاء، مسلمانوں کے خاندانی قوانین پوری دنیا میں زیربحث ہیں۔
اب آپ سے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ خاندانی قوانین، نکاح، طلاق، وراثت، کفاءت، کفالت اور ولایت کے مسئلے، یہ ہم مسلمانوں نے قرآن و سنت سے لینے ہیں یا اقوام متحدہ سے لینے ہیں؟ یہ بنیادی بات ہے۔ نکاح قرآن پاک کی ہدایت کے مطابق کرنا ہے تو ٹھیک ہے، اور اگر اقوام متحدہ کے مطابق کرنا ہے تو پھر نکاح کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ اگر ہمارے نکاح، طلاق اور وراثت کے احکام کے پیچھے قرآن و سنت نہیں ہیں تو اس کی ضرورت کیا ہے؟ ٹھیک ہے چلنے دیں، جیسے جنگل چلتا ہے ویسے آپ بھی جنگل چلائیں۔ لیکن اگر ہم نے نکاح، طلاق، وراثت اور متعلقہ مسائل قرآن و سنت کی رہنمائی میں کرنے ہیں، اور الحمد للہ کر رہے ہیں، تو پھر ہم مداخلت قبول نہیں کریں گے۔ یہ مداخلت سب سے پہلے ہوئی تھی ایوب خان مرحوم کے دور میں۔ ’’مسلم فیملی لاء آرڈیننس‘‘ یہاں نافذ ہوا تھا ۱۹۶۲ء میں۔ سب سے پہلے اُس میں یہ کیا گیا تھا کہ لڑکا اٹھارہ سال کا اور لڑکی سولہ سال کی ہو، اس سے کم عمر کے نکاح کو قانونی طور پر ناجائز قرار دیا گیا تھا۔ اب عمر کی تبدیلی کی گئی ہے کہ لڑکی کی عمر سولہ سے اٹھارہ سال کر دی ہے۔ اصل قانون ۱۹۶۲ء سے چلا آ رہا ہے۔ مغرب والوں سے میں کہا کرتا ہوں کہ مسلم سوسائٹی نے آج تک تمہارے ایجنڈے کو قبول نہیں کیا۔ کسی کو پتہ ہے کہ یہ بات ۱۹۶۲ء سے چلی آ رہی ہے؟ اب صرف یہ ہوا ہے کہ لڑکی کی عمر سولہ سے اٹھارہ کر دی گئی ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوا۔
اُس وقت ہماری دینی قیادت نے اس آرڈیننس کو بیک آواز مسترد کر دیا تھا۔ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا مفتی ولی حسن رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ، اور حضرت مولانا عبد الحامد بدایونی رحمۃ اللہ علیہ جو بریلویوں کے بڑے قائد تھے، اور مولانا سید داؤد غزنوی رحمۃ اللہ علیہ۔ تمام قیادتوں نے مشترکہ طور پر مسلم فیملی لاء آرڈیننس کو غیر شرعی قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ میں ایک بات شامل کروں گا کہ اُس مسلم فیملی لاء آرڈیننس کو تحفظ دینے کے لیے اس کو مستثنیٰ کر دیا گیا تھا کہ آئندہ دس سال تک اس کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ یہ لڑائی ۱۹۶۲ء سے ہے۔ ایک مسئلہ تو یہ ہے۔
ایک مسئلہ طلاق کے حوالے سے ’’تفویضِ طلاق‘‘ کے نام سے ہے۔ ایک مسئلہ وراثت کا یتیم پوتے کی وراثت کے حوالے سے ہے۔ اس پر اگر آپ نے تفصیل پڑھنی ہے تو حضرت مولانا مفتی ولی حسن رحمۃ اللہ علیہ ہمارے بڑے اکابر مفتیان میں سے ہیں، ان کا تفصیلی تبصرہ موجود ہے، اور مغربی پاکستان اسمبلی میں ان عائلی قوانین پر حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے، اور قومی اسمبلی میں حضرت مولانا مفتی محمودؒ نے تفصیلی خطاب کیا تھا، وہ دونوں ریکارڈ پہ موجود ہیں۔ اس میں طلاق کے مسائل بھی ہیں، وراثت کے مسائل بھی ہیں، نکاح کے مسائل بھی ہیں، اور خاندانی قوانین پورے کے پورے مغربی سانچے میں ڈھالے گئے ہیں۔ جس کو اُس وقت غیر شرعی قرار دے کر مسترد کر دیا گیا تھا، وہ آج بھی غیر شرعی ہے۔ ہمارا موقف وہی ہے جو عائلی قوانین کے بارے میں مولانا سید یوسف بنوریؒ کا تھا، جو حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحبؒ کا تھا، جو مغربی پاکستان اسمبلی میں حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی کا تھا، جو قومی اسمبلی میں حضرت مولانا مفتی محمود صاحبؒ کا تھا۔ یہ ۱۹۶۲ء کی بات ہے، ۱۹۶۲ء، ۱۹۶۳ء، ۱۹۶۴ء۔
علماء کرام سے میری گزارش یہ ہے کہ کچھ تھوڑا سا مطالعہ کر لیا کریں۔ کوئی نیا مسئلہ کھڑا ہو تو اپنے موقف کا مطالعہ کریں۔ کم از کم یہ تین چیزیں لازماً پڑھیں: (۱) عائلی قوانین کی شرعی حیثیت پر حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحب ٹونکی رحمۃ اللہ علیہ کا تبصرہ تفصیل سے کتاب کی صورت میں ہے۔ (۲) مغربی پاکستان اسمبلی میں حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ کی تقریر، (۳) اور قومی اسمبلی میں حضرت مولانا مفتی محمود رحمۃ اللہ علیہ کی تقریر۔ یہ تین دستاویزات تلاش کریں اور پڑھیں، تاکہ آپ کو پتہ چلے کہ ہمارے خاندانی قوانین جو بین الاقوامی قوانین اور استعمار کی زد میں ہیں، ان کے مسائل کیا ہیں۔ مختصراً دیکھنا چاہیں تو ۱۹۹۹ء کے دوران گلاسگو برطانیہ کی مرکزی جامع مسجد میں مسلم پرسنل لاء پر ایک کانفرنس تھی، میں نے ایک تبصرہ کیا تھا، وہ اس وقت میرے پاس موجود ہے جو میں مولانا کو مہیا کر دوں گا، لیکن یہ سرسری تبصرہ ہے صرف معلومات کے لیے۔ اس پر اسٹڈی کے لیے آپ کو وہ تین چیزیں پڑھنی چاہئیں۔ اس کے علاوہ جامعہ فتحیہ، اچھرہ، لاہور کے مولانا ڈاکٹر محمد سعید عاطف نے خاندانی نظام پر میرے خطبات کا ایک مجموعہ مرتب کر کے شائع کیا ہے، اس کا مطالعہ بھی اس حوالہ سے مفید رہے گا۔
انڈیا میں بھی یہ مسئلہ درپیش ہے۔ انڈیا میں ایک جھگڑا یہ ہے کہ مسلمان کی شادی ہندو سے کیوں نہیں ہو سکتی؟ ہندو کی شادی سکھ سے کیوں نہیں ہو سکتی؟ اس پر انڈیا میں آل پارٹیز مسلم پرسنل لاء بورڈ بنا ہوا ہے اور جدوجہد جاری ہے۔ اِس وقت تفصیل کا موقع نہیں ہے۔ میں نے صرف آپ کو یہ آگاہ کیا ہے کہ یہ جھگڑا عالمی ہے اور کم از کم چار عشروں سے جاری ہے، اس لیے آپ کو واقف ہونا چاہیے۔ اس کا ایک جزوی مسئلہ نکاحِ صغیر اور نکاحِ صغیرہ کا ہے کہ مرد کی اور عورت کی عمر کی حد مقرر کی گئی ہے۔ سولہ سال سے کم عمر لڑکی، اب اٹھارہ سال کر دی گئی ہے، اور اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکا، ان کا نکاح غیر قانونی تصور ہوتا ہے۔ آپ کی فقہ کی کتابوں میں نکاحِ صغیر اور نکاحِ صغیرہ کے ضوابط ہیں، ولایت اجباری اور ولایت اختیاری وغیرہ، کیا یہ سارے معطل ہو گئے ہیں؟ شریعت میں صغیرہ کے نکاح پر پابندی کہاں لگی ہے؟ آپ کی حدیث کی کتابوں میں بھی یہ باب موجود ہے۔ آپ وہ ابواب دوبارہ پڑھ لیں۔ کفالت اور کفاءت کیا ہے اور ولی کون ہے؟ اور ولی کے بغیر نکاح درست ہے یا نہیں۔ وہ سارے قوانین اِس ایک شق سے معطل ہو گئے ہیں۔ اگرچہ عملاً تو معطل نہیں ہیں لیکن قانونی طور پر معطل ہیں۔ عملاً تو سوسائٹی نے قبول ہی نہیں کیا اس کو، الحمد للہ۔
مثال کے طور پر عرض کرتا ہوں۔ نکاح کے فارم میں ایک خانہ ’’تفویضِ طلاق‘‘ کا بھی ہے کہ کیا خاوند نے بیوی کو طلاق کا حق تفویض کر دیا ہے؟ خاوند اگر بیوی کو طلاق کا حق تفویض کر دے تو یہ شرعاً بھی ہو جاتا ہے۔ میں عرض کیا کرتا ہوں کہ ہوا یہ کہ ہم سے مطالبہ کیا گیا اقوام متحدہ کی طرف سے اور بین الاقوامی اداروں کی طرف سے کہ عورت کو طلاق کا حق دو۔ ہم نے بڑی حکمت عملی سے پاکستانی اسلوب کے مطابق کام کیا کہ نکاح فارم میں تفویضِ طلاق کا خانہ شامل کر کے اُن کو کہہ دیا کہ ہم نے طلاق کا حق دے دیا ہے۔ یہ ’’تفویضِ طلاق‘‘ کا خانہ اس لیے شامل کیا تھا کہ انہوں نے ہم سے مطالبہ کیا تھا کہ عورت کو بھی طلاق کا حق دو، جس طرح مرد کو طلاق کا حق ہے،۔
ہمارے ہاں مرد کو طلاق کا حق ہے۔ اور عورت کو طلاق کا حق نہیں ہے لیکن مطالبۂ طلاق کا حق ہے، جس کو خلع کہتے ہیں۔ ایک سوال ہوتا ہے کہ عورت کو آپ نے مرد کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ عورت کو مطالبۂ طلاق یعنی خلع کا حق حاصل ہے، اور اس کے فیصلے کا اختیار مرد کے علاوہ دو اور اداروں کے پاس بھی ہے۔ تحکیم میں بھی فسخِ نکاح ہو سکتا ہے، اگر عورت کا خلع کا مطالبہ ہے تو ’’ان خفتم شقاق بینھما فابعثوا حکما من اہلہ وحکما من اہلہا‘‘ (النساء)۔ حکمین کو خلع کے اسباب موجود ہونے پر فسخِ نکاح کا حق ہے۔ اور اگر حکمین بھی نہیں کرتے تو عدالت کو اس کا حق ہے۔ مغرب والوں سے میں یہ کہتا ہوں کہ یہ بات غلط ہے کہ ہم نے عورت کو مرد کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا ہے۔ عورت کو مطالبۂ طلاق کا حق ہے، اس کا فیصلہ کرنے کی مختار مرد کے علاوہ دو اتھارٹیاں اور بھی ہیں۔ مرد پر منحصر نہیں ہے کہ طلاق دے یا نہ دے۔ حکمین بھی فسخِ نکاح کر سکتے ہیں اور قاضی بھی کر سکتا ہے۔
ایک لطیفہ آپ سے عرض کر دیتا ہوں۔ میں کئی نکاحوں میں دیکھتا ہوں، جب نکاح فارم پُر کرتے ہیں، ایک دوست کا میں نے ہاتھ پکڑ لیا۔ میں نے کہا، کیا لکھا ہے؟ کہا، ’’تفویضِ طلاق‘‘۔ میں نے کہا، کیا مطلب؟ کہا، ’’عورت کو طلاق کا حق تفویض کرتا ہوں‘‘۔ میں نے کہا، کیا لکھنے لگے ہو؟ کہا، میں کراس لگانے لگا ہوں۔ میں نے کہا، سوال تم سے ہے یا خاوند سے ہے؟ یہ سوال کس سے ہے کہ خاوند نے بیوی کو طلاق کا حق تفویض کر دیا ہے یا نہیں؟ اور اگر خاوند کر دے تو شرعاً بھی ہو جاتا ہے؟ تمہیں کس نے اختیار دیا کہ ہاں لکھو، اور تمہیں کس نے اختیار دیا کہ ناں لکھو۔ خاوند سے پوچھو تو سہی۔ اس نے کہا، ہم تو ایسے ہی کرتے ہیں جی۔ چنانچہ ۱۹۶۲ء سے ایسے ہی ہو رہا ہے۔ اسلام آباد میں شاید نہ ہوتا ہو مگر ملک بھر میں ۱۹۶۲ء سے ایسے ہی ہو رہا ہے، نہ خاوند کو پتہ ہے کہ یہ اختیار دینا ہے، نہ بیوی کو پتہ ہے، نہ نکاح خوانوں کو پتہ ہے، نہ رجسٹرار کو پتہ ہے۔ اس بات کو بنیاد بنا کر میں کہا کرتا ہوں مغرب والوں سے کہ کیوں وقت ضائع کرتے ہو؟ تمہارا یہ فارمولا مسلم سوسائٹی نے قبول نہیں کیا۔ ۱۹۶۲ء کو کتنا عرصہ ہو گیا ہے، اب تک یہ بات عوام کے شعور میں نہیں آئی کہ یہ کچھ بھی ہوتا ہے۔
یہ تو میں اشارہ کر رہا تھا اور میرا خیال ہے آپ کی سمجھ میں آ گیا ہو گا۔ لیکن میری عرض یہ ہے کہ یہ صرف کم سنی کی شادی کا مسئلہ نہیں ہے، یہ تو مسلم فیملی قوانین کا ایک جزوی مسئلہ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے خاندان میں نکاح، طلاق اور وراثت کے احکام قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کے مطابق کرنے ہیں یا اقوام متحدہ کے چارٹر کے حساب سے کرنے ہیں؟ اس پر آپ کو مضبوط موقف اختیار کرنا چاہیے اور اسلام آباد کے علماء کو اس پر کچھ تھوڑا سا آگے بڑھ کر ملک کے باقی علاقوں کے علماء کی رہنمائی بھی کرنی چاہیے۔
ایک اور بات درمیان میں ذکر کر دوں کہ کیا بچے اور بچی کی وراثت برابر ہے؟ ’’للذکر مثل حظ الانثیین‘‘ (النساء) آپ کے علم میں لانا چاہوں گا کہ سندھ میں ایک لڑکی نے عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق مجھے برابر حصہ ملنا چاہیے، لیکن مجھے میرے بھائی آدھی وراثت دے رہے ہیں۔ وہ سول کورٹ میں گئی، وہ مسئلہ چلتے چلتے ہائی کورٹ میں آگیا۔ اس وقت ہائی کورٹ کے جسٹس صاحب تھے جسٹس شائق عثمانی، وہ اس کے بعد سپریم کورٹ میں آئے، اور اب ریٹائر ہو گئے ہیں۔ لیکن جب ہائی کورٹ کے جج تھے، ان کے پاس کیس آیا۔ مسئلہ یہ ہے کہ بین الاقوامی قوانین میں برابر حصہ ملتا ہے لیکن قرآن پاک نے حصہ برابر کیا ہے؟ ’’للذکر مثل حظ الانثیین‘‘۔ جسٹس صاحب نے فیصلہ دے دیا کہ اس کو برابر حصہ دیا جائے۔ اب انہوں نے دلائل بھی دینے تھے، چنانچہ انہوں نے لکھا کہ قرآن پاک نے ’’للذکر مثل حظ الانثیین‘‘ جو کہا ہے، یہ حصے کا بیان نہیں ہے، یہ minimum کی حد ہے کہ کم از کم اتنا تو دو۔ اور حصے کا بیان کہاں آیا ہے؟ ’’ان اللہ یأمر بالعدل والاحسان‘‘۔ جج صاحب نے آرڈر دے دیا کہ اس کو برابر حصہ دیا جائے۔
ایک بات اور دیکھ لیں، ہمارے ہاں اسٹیبلشمنٹ کا طریق کار یہ ہے کہ جو کام یہ کرنا نہ چاہیں، یا جو کام یہ عوامی دباؤ کی وجہ سے نہ کر سکتے ہوں، وہ کھینچ تان کے سپریم کورٹ میں رٹ دائر کر کے حکمِ امتناعی لے لیتے ہیں، اور وہ اسٹے فریزر میں پڑا رہتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فریزر میں بڑی بڑی بلائیں فریز ہوئی پڑی ہیں، ان میں ایک یہ بھی ہے۔ وراثت کے مسئلے میں یہ تبدیلی اسٹیبلشمنٹ ہضم کر سکتی تھی؟ انہوں نے سپریم کورٹ میں رٹ کی، سٹے ملا، اب تک سٹے چل رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے فریزر میں کیا کیا بلائیں فریز ہوئی پڑی ہیں، اچھی بھی، بری بھی، ذرا چیک تو کریں۔ اب یہ وراثت کا قانون پرانا جو چلا آ رہا ہے، یہ سٹے پر چلا آ رہا ہے، ورنہ سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ لڑکی کو لڑکے کے برابر حصہ ملنا چاہیے۔
یہ ہمارے مسائل ہیں، تو میں نے عرض کیا ہے کہ ہمارے ہاں عدالتوں میں بھی، اسمبلیوں میں بھی، کسی نہ کسی بہانے کوئی نہ کوئی قانون چھیڑ کر اس میں ردوبدل کر کے یہ ماحول بنایا جا رہا ہے کہ کسی طریقے سے ہم شرعی قوانین سے دستبرداری کو قبول کر لیں۔ یہ ہے بنیادی مسئلہ۔ یہ کم سنی کا نکاح تو جزوی مسئلہ ہے۔ اسی طرح وراثت کے مسائل ہیں، اس کے ساتھ تفویضِ طلاق کا مسئلہ ہے، اسی طرح خلع ہے۔ میں علماء کرام سے پوچھتا ہوں کہ ’’خلع‘‘ طلاق ہے یا مطالبۂ طلاق ہے؟ جبکہ آپ کا موجودہ قانون بھی وہی ہے لیکن پراسیس میں خلع اب مطالبۂ طلاق نہیں رہا بلکہ یہ طلاق کا نوٹس سمجھا جاتا ہے۔ آپ کے علم میں ہے؟ اس وقت آپ کے قانونی پراسیس میں، اسلام آباد میں بھی، خلع مطالبۂ طلاق نہیں ہے بلکہ طلاق کا نوٹس سمجھا جاتا ہے۔ ایسے ہی جیسے مرد نے طلاق کا نوٹس دے دیا، بس ٹائٹل بدلا ہے۔ اس کو سول جج صاحبان طلاق کے نوٹس کے طور پر ڈیل کرتے ہیں۔ میرا ایک شاگرد ہے، سول جج ہے، میں نے اس سے پوچھا، یہ خلع کا آپ کو جو نوٹس آتا ہے، آپ نوے دن کے اندر اس کا فیصلہ کرنے کے پابند ہیں، تو کیا خاوند کو بلاتے ہیں اور اس کا موقف سنتے ہیں؟ اس نے کہا کہ ضروری نہیں ہے۔ جج کی مرضی ہے بلائے یا نہ بلائے، کیونکہ یہ نوٹس ہے۔ خاوند کو تو تب بلائیں جب یہ مطالبۂ طلاق ہو۔ میں آپ کو یہ بتا رہا ہوں کہ یہ تبدیلی ہو چکی ہے۔ تو بہرحال یہ بھی اسی کا حصہ ہے۔ جدوجہد جاری ہے اور ان شاء اللہ جاری رہے گی۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اپنے فیملی قوانین میں اور خاندانی نظام میں، نکاح، طلاق، وراثت وغیرہ میں ہم نے شرعی قوانین کی پابندی برقرار رکھنی ہے؟ یا مختلف تبدیلیوں کے نام سے مغربی نظامِ خاندان کو قبول کرنا ہے؟ یہ ہے بنیادی جھگڑا۔
ہمارے ہاں اس وقت ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ’’غزہ پیس بورڈ‘‘ کیا ہے؟ سادہ سی بات یہ ہے کہ غزہ کو اسرائیلیوں نے فتح کرنے کی کوشش کی ہے، دو سال لڑائی لڑی ہے، غزہ والوں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، اللہ پاک شہداء کے درجات بلند فرمائے، قربانیاں بارآور کرے۔ کیا اسرائیل حماس کو شکست دینے میں کامیاب ہو گیا ہے؟ اب وہ ہمیں آگے کر کے ہم سے شکست دلوانا چاہتا ہے۔ سادہ لفظوں میں غزہ پیس بورڈ کا مطلب یہ ہے کہ غزہ کو فلسطینیوں سے خالی کروانے کا جو کام امریکی سرپرستی میں اسرائیل دو سال میں نہیں کر سکا، اب غزہ کو حماس سے خالی کروانے کا کام ہم سے لینا چاہتا ہے۔ اور ہم نے yes کر دیا ہے کہ ’’حاضر سائیں‘‘۔
ہمارا ریاستی موقف کیا ہے؟ ہمارا موقف شروع سے وہی چلا آ رہا ہے جو قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا تھا، کہ اسرائیل ناجائز ریاست ہے، فلسطین فلسطینیوں کا ہے، دنیا سے لا کر بسائے جانے والے یہودیوں کا نہیں ہے۔ وہ وہاں پر صدیوں سے چلے آنے والے باشندوں کا ملک ہے، باہر سے لا کر بسائے جانے والوں کا نہیں ہے۔ فلسطین یہودیوں کا ہے یا فلسطینیوں کا ہے؟ لیکن فلسطینیوں کو نکال کر کون آئے گا وہاں پر؟ مصری آئیں گے؟ اردن والے آئیں گے؟ نکالے کون جائیں گے؟ فلسطینی۔ اور بسائے کون جائیں گے؟ یہودی۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ نسل در نسل چلے آنے والے ملک سے نکالے جائیں گے، اور کوئی جرمنی سے لا کر بسایا جائے گا، کوئی فرانس سے لا کر بسایا جائے گا، یہ انصاف کا کون سا معیار ہے؟ اب کیا ہو گا؟ ہم لڑیں گے۔ اللہ پاک ہمیں اس آزمائش سے بچا لے۔ لیکن غزہ پیس بورڈ کا بنیادی مطلب کیا ہے کہ غزہ کو خالی کروایا جائے، اور حماس کو وہ شکست دی جائے جو اسرائیل نہیں دے سکا، اور یہ ہم سے دلوانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
فلسطین فلسطینیوں کا ہے، اب تک ہمارا ریاستی اور قومی موقف یہی ہے، ہم یہ گزارش کرتے ہیں کہ اپنے موقف کو تبدیل نہ کریں۔ مجھے ایک ساتھی نے پوچھا کہ کیا وقت بدلنے سے موقف نہیں بدلتا؟ میں نے کہا، ٹھیک ہے، بدلتا ہو گا، لیکن قائد اعظم نے کیا الفاظ کہے تھے کہ ’’اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے‘‘۔ فلسطین کس کا ہے؟ فلسطینیوں کا۔ تو کیا ناجائز بچہ ساٹھ سال گزرنے کے بعد جائز ہو جاتا ہے؟ اس لیے ہماری درخواست یہ ہے کہ اس دلدل سے بچا جائے، یہ دلدل پاکستانی قوم کے لیے اور عالم اسلام کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو گی اور فلسطینیوں پر ظلم ہو گا۔
اس پر ایک لطیفہ سنا دوں؟ کافی دیر سے خشک باتیں کر رہا ہوں۔ یہ دو ریاستی حل کا سوال ہمیں بھی درپیش ہے۔ اب تو دو ریاستی نہیں بلکہ یہودی ریاست کہا جا رہا ہے۔ جس زمانے میں یہ مسئلہ اٹھا تھا کہ ہمیں اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے، دو ریاستی حل کے طور پر، تو میں نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا آپ یہ فارمولا کشمیر پر قبول کر لیں گے؟ کشمیر میں تو آپ کو تین ریاستی حل کرنا پڑے گا۔ گلگت بلتستان الگ، آزاد کشمیر الگ، مقبوضہ کشمیر الگ۔ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ وہاں دو ریاستی حل آپ سے قبول کروا کے یہاں تین ریاستی حل قبول کروانا ہو؟ ہم وہاں الگ معیار رکھیں گے اور یہاں الگ معیار رکھیں گے؟ اس لیے عرض ہے کہ جو موقف چلا آ رہا ہے وہی انصاف کا موقف ہے، اسی پر قائم رہنا چاہیے۔
لطیفہ یہ ہے، پرانے لوگوں کو یاد ہو گا کہ کشمیر کے شیخ عبد اللہ مرحوم و مغفور ایک مرتبہ یہاں دورے پر آئے تھے، ایوب خان کا زمانہ تھا۔ ہماری شادیوں میں جو بھانڈ ہوتے ہیں وہ بڑے ٹاپ کے ڈرامے کیا کرتے ہیں۔ اُس زمانے میں ایک بڑی شادی تھی، وہاں بھانڈ آ گئے۔
ایک نے دوسرے سے پوچھا، میں انتظار کر رہا ہوں کافی دیر سے، تم لیٹ کیوں آئے ہو؟
اس نے کہا جی وہ شیرِ کشمیر آئے ہوئے تھے، میں استقبال کے لیے گیا تھا۔
اچھا! شیرِ کشمیر کیوں آئے ہیں؟
وہ کشمیر کی صلح ہو رہی ہے، کشمیر کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔
اچھا! حل ہو گیا ہے؟
بالکل ہو گیا ہے، کشمیر تقسیم ہو گیا ہے۔
کشمیر کی تقسیم کیا ہوئی ہے؟
کشمیر ہندوستان کا، کشمیری ہمارے۔
میرا خیال ہے اب بھی یہی فیصلہ ہونے جا رہا ہے: فلسطین یہودیوں کا، فلسطینی ہمارے۔ کچھ مصر کے، کچھ اردن کے، کچھ سعودیہ کے، کچھ ہمارے پاس بھی شاید آجائیں۔ میں ہاتھ جوڑ کے اسلام آباد میں آپ حضرات کے سامنے یہ گزارش کروں گا کہ اس مسئلے کو سمجھیں، ہم ٹرمپ کی فرنٹ لائن کیوں بنے ہوئے ہیں؟ ٹرمپ اپنی لڑائی خود لڑے۔ امریکہ اپنی جنگ خود لڑے۔ ہم کیوں اس کے سپاہی بن رہے ہیں؟ ہم اس کے فارمولے پر کیوں چل رہے ہیں؟ اس لیے ہمارا موقف وہی ہے جو قائد اعظم نے کہا تھا، جو اب تک ہمارا قومی موقف ہے، کہ فلسطین فلسطینیوں کا ہے، دو ریاستی حل قبول نہیں، اسرائیل ناجائز ریاست ہے اور ناجائز ہی رہے گی اور ہمیں اس سے ناجائز ریاست کے طور پر ہی ڈیل کرنا چاہیے۔
یہ میں نے چند باتیں آپ سے عرض کر دی ہیں، گزارش یہ ہے کہ مہربانی فرمائیں، امت کی قیادت کریں، آپ اسلام آباد میں آ گئے ہیں تو پھر اسلام آباد والا کام کریں۔ اسلام آباد کے علماء کی ذمہ داری صرف خود تڑپنا ہی نہیں، اوروں کو تڑپانا بھی ہے۔
خود تڑپنا ہی نہیں، اوروں کو تڑپانا بھی ہے
آگے بڑھیں، قیادت کریں، ہم آپ کے ساتھ ہیں، کارکن ہیں آپ کے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اسلام آباد کے تحفظ کی، اسلام آباد کی مساجد کے تحفظ کی، اسلام آباد کے مدارس کے تحفظ کی، اور اس فورم کے حوالے سے ملک بھر میں ملک کی شناخت، ملک کی تہذیب، اور اپنے خاندانی نظام کے تحفظ کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

