دارالعلوم انوریہ کے سالانہ اجتماع میں بیٹھے ہیں، اس حوالے سے کہ ایک دینی درس گاہ کا پروگرام ہے، بچے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرتے ہیں، دینیات پڑھتے ہیں، یہ ایک مستقل حوالہ ہے۔ اور یہ ایک مستقل حوالہ ہے کہ ہمارے چند بزرگوں کی یادگار ہے یہ۔ حاجی عبد الکریم صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہمارے بزرگ تھے، قاری عبد اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہمارے بزرگ تھے، ان کا صدقہ جاریہ ہے اور ان کی یادگار ہے یہ، ان کی محنتوں کا ثمرہ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے درجات جنت میں بلند سے بلند تر فرمائیں، اور ان کے خاندان کو، ان کے رفقاء کو خیر کا یہ سلسلہ مستقل جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
دینی مدرسہ کیا ہے؟ آج کل اسی پہ بات کر رہا ہوں، آپ کے سامنے بھی وہی کہانی پیش کر دیتا ہوں۔ ایک سوال یہ ہے، یہ دینی مدرسہ معاشرے کو سوسائٹی کو دیتا کیا ہے؟ اس کا سماج کو فائدہ کیا ہے؟ اتنے پیسے لگتے ہیں، اتنا کام ہوتا ہے، وقت لگتا ہے۔ معاشرے کی کونسی ضرورت پوری کرتا ہے یہ؟ اس کے بجائے کالج سکول ڈاکٹر دیتے ہیں، وکیل دیتے ہیں، انجینئر دیتے ہیں، سائنسدان دیتے ہیں، قوم کی بڑی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ یہ مدرسہ کیا کرتا ہے؟ مدرسہ قوم کی کونسی ضرورت پوری کرتا ہے؟ ایک سوال ہے۔
میں اس پر پہلی بات تو یہ عرض کروں گا کہ کیا قرآن پاک کی تعلیم، دینیات کی تعلیم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و حدیث کی تعلیم، یہ ہماری ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ میں آپ سے سوال کر رہا ہوں۔ قرآن پاک کی تعلیم ایک مسلمان کی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ حلال حرام کا فرق ایک مسلمان کی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ چھوٹے بڑے کی تمیز ایک مسلمان سوسائٹی کی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ اللہ رب العزت کی بندگی، یہ ایک مسلمان سوسائٹی کی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ اس کو ضرورت پورا کرنا، اس کے لیے کچھ لوگ چاہئیں، وہ کون فراہم کر رہا ہے؟ قرآن پاک پڑھانے کے لیے حافظ چاہئیں، کون دے رہا ہے؟ رمضان المبارک آ رہا ہے، اس ملک کے مسلمان قرآن پاک تراویح میں سنتے ہیں یا نہیں سنتے، سننا چاہیے یا نہیں سننا چاہیے؟ کون دے رہا ہے؟ اگر یہ مدرسے حافظ دینا بند کر دیں تو رمضان میں تراویح میں قرآن پاک سن لیں گے آپ؟ اپنے بچے کو قرآن پاک کی تعلیم دلا لیں گے اگر قاری نہیں ملے گا تو؟ اگر حلال حرام اور جائز ناجائز بتانے والا مفتی نہیں ہو گا تو کس سے پوچھیں گے؟
میرا پہلا سوال یہ ہے کہ کیا قرآن پاک کی تعلیم ہماری ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ یہ تعلیم کون دیتا ہے؟ قاری اور حافظ کون دیتا ہے؟ کونسی یونیورسٹی سے تیار ہوتے ہیں یہ؟ کونسا کالج قاری تیار کرتا ہے؟ کونسی یونیورسٹی حافظ تیار کرتی ہے؟ اگر حافظ اس قوم کی ضرورت ہے، اگر قرآن پاک پڑھانے والا قاری اس قوم کی ضرورت ہے، تو یہ ضرورت کون پوری کر رہا ہے؟ اور مدرسے کے علاوہ کوئی اور پوری کر رہا ہے؟
اس معاشرے کو حلال حرام کا پتہ ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے، ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ کون بتائے گا؟ وکیل صاحب بتائیں گے؟ جائز ناجائز ڈاکٹر سے پوچھیں گے؟ شرعی غیر شرعی کی بات آپ انجینئر سے پوچھیں گے؟ کون بتائے گا، یہ چیز جائز ہے، یہ ناجائز ہے، یہ حلال ہے، یہ حرام ہے، یہ شرعی ہے، یہ غیر شرعی ہے۔ یہ ڈاکٹر صاحب بتائیں گے، وکیل صاحب بتائیں گے، انجینئر بتائے گا، سائنسدان بتائے گا، کون بتائے گا؟ یہ کون بتائے گا، مفتی صاحب۔ مفتی صاحب کونسی یونیورسٹی میں تیار ہوتے ہیں اور کونسا کالج تیار کرتا ہے؟ یہ معاشرے کی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ سوسائٹی کی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟
اچھا، مسجد سوسائٹی کی ضرورت ہے یا نہیں؟ مسجد کی ضرورت ہمیں ہے، واقعتاً ہے؟ مسجد کن لوگوں سے آباد ہوتی ہے، مسجد کا نظام کون چلاتے ہیں؟ امام ہوتا ہے، خطیب ہوتا ہے، خادم ہوتا ہے، مؤذن ہوتا ہے۔ یہ چار بندے کون تیار کرتا ہے؟ امام چاہیے، پڑھا لکھا چاہیے یا جیسے کیسے چاہیے۔ خطیب چاہیے، کوالیفائیڈ چاہیے یا جیسا مل جائے ویسا ہی ٹھیک ہے؟ مؤذن چاہیے، صحیح اذان دینے والا چاہیے کہ جیسے آذان دے دے۔ چار بندے تو ضروری ہیں۔ مؤذن، خادم، خطیب، امام، یہ مسجد کی ضرورت ہے۔ ان چار بندوں کے بغیر مسجد آباد ہوتی ہے؟ یہ چار بندے کون دیتا ہے؟ میڈیکل کالج، سائنس کالج؟ اور ملک میں مسجدوں کی تعداد آپ کے اندازے میں ہے؟ ان مسجدوں کے لیے جو مسجدوں کو چلانے والے رجال ہیں، یہ کون دیتا ہے؟ مدرسہ دیتا ہے۔ صرف ایک معاشرتی ضرورت کا تجزیہ کر لیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ مدرسہ معاشرے کی کون کون سی ضرورت کس کس انداز میں پوری کر رہا ہے۔
ہسپتال کو ڈآکٹر چاہیے، کمپاؤڈر چاہیے، نرس چاہیے۔ مولویوں کو امام چاہیے، خطیب چاہیے، مؤذن چاہیے، وہ ضرورت تو میڈیکل کالج پوری کرتا ہے، یہ کون پوری کرتا ہے؟ یا تو آپ ذمہ داری اٹھا لیں۔ پنجاب یونیورسٹی کہہ دے کہ آج کے بعد امام ہم تیار کریں گے۔ سندھ یونیورسٹی کہے کہ مؤذن ہم تیار کریں گے۔ یا پھر مسجد بند کر دیں کہ مسجد کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اگر مسجد سوسائٹی کا حصہ ہے، تو مسجد کو چلانے والے افراد بھی سوسائٹی کی ضرورت ہیں یا نہیں ہیں؟ کون فراہم کر رہا ہے؟ اور یہ افراد باقیوں کے لیے تو کوالیفائیڈ ہونا ضروری ہے، اِن کے لیے کوالیفائیڈ ہونا ضروری نہیں ہے؟ کوالیفیکیشن کون دیتا ہے؟ یہ تو میں نے عمومی معاشرت کی بات کی ہے۔ اس سوسائٹی کی بنیادی ضرورت ہے۔ حلال حرام کا مسئلہ لوگ پوچھتے ہیں کہ نہیں پوچھتے؟ پوچھنا چاہیے یا نہیں پوچھنا چاہیے؟
چلیں، گھر کا نظام ہے، گھر میں کوئی توتکار ہو گئی۔ نکاح قائم ہے کہ ٹوٹ گیا ہے، یہ سیشن جج نے بتانا ہے یا ایس ایچ او نے بتانا ہے؟ یہ بات کہ بات الٹی سیدھی منہ سے نکل گئی ہے، نکاح باقی ہے یا نہیں، طلاق ہوئی ہے یا نہیں ہوئی، یہ کس نے بتانی ہے؟ مفتی کی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ مفتی کون فراہم کر رہا ہے؟
معاشرے کی سب سے بنیادی ضرورت یہ مدرسہ فراہم کر رہا ہے۔ اور کوئی بجٹ لیے بغیر فراہم کر رہا ہے۔ دوسرے شعبوں کے افراد تیار کرنے والے بڑے بڑے بجٹ لیتے ہیں۔ یہ مدرسہ گورنمنٹ سے کوئی بجٹ لیتا ہے؟ گورنمنٹ دیتی ہے، پھر بھی نہیں لیتے، اپنے پاس رکھو، ہم آپس میں مسلمانوں کے تعاون سے کام کریں گے۔ میں نے ایک بات یہ کی ہے کہ یا تو انکار کردو مسجد ضرورت نہیں ہے، یا انکار کردو کہ قرآن پاک کی تعلیم معاشرے کی ضرورت نہیں ہے، یا انکار کر دو کہ حلال حرام کا اِدراک معاشرے کی ضرورت نہیں ہے، یا یہ کہہ دو کہ شرعی غیر شرعی کا فرق کوئی ضروری نہیں ہے۔ یا تو اِس پر آجاؤ نا۔ اور اگر یہ ضروریات ہیں، مسجد بھی ضرورت ہے، نماز بھی ضرورت ہے، حلال حرام کا فرق بھی ضرورت ہے، جائز ناجائز کی تمیز بھی ضرورت ہے، اگر یہ ضروریات ہیں تو میں پوچھتا ہوں کہ پوری ریاست سے پوچھتا ہوں، اسٹیبلشمنٹ سے پوچھتا ہوں، معاشرے کی یہ ضروریات کون پوری کر رہا ہے؟
یہ رجال کار کون فراہم کرتا ہے بھئی؟ اور اگر مدرسہ خدانخواستہ یہ فراہم کرنا بند کر دے، اقبالؒ نے یہی کہا تھا، علامہ اقبالؒ جب اسپین کے دورے پر گئے۔ اندلس میں آٹھ سو سال مسلمانوں نے حکومت کی تھی، آج وہاں اندلس کا کوئی آدمی آپ کو مسلمان نظر نہیں آئے گا۔ وہاں علی سٹریٹ آپ کو ملے گی، علی نہیں ملے گا۔ وہاں عمر روڈ آپ کو ملے گا، عمر نہیں ملے گا۔ اس کی وجہ کیا تھی، کہ معاشرے کی یہ ضرورت پوری کرنے والے افراد تیار ہونا بند ہو گئے تھے۔
یہ ہمارے اکابر کی سب سے بڑی محنت ہے، میں تھوڑا نقشہ آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔ آج یہ بات کہی جاتی ہے کہ تعلیم تقسیم ہے۔ میں کہانی سنا دوں تھوڑی سی۔ تعلیم تقسیم ہے جی۔ ٹھیک ہے۔ کالج کی تعلیم اور ہے، مدرسے کی اور ہے۔ یہ تقسیم ہے یا نہیں ہے؟ جو کچھ کالج میں پڑھایا جاتا ہے، مدرسے میں پڑھایا جاتا ہے؟ اور جو مدرسے میں پڑھایا جاتا ہے، کالج میں پڑھایا جاتا ہے؟ تقسیم ہے۔ ایک ہی محلے میں مدرسہ بھی ہے، کالج بھی ہے، وہاں کچھ اور پڑھایا جاتا ہے، یہاں کچھ اور پڑھایا جاتا ہے۔ یہ تقسیم تو ہے نا، نظر آ رہی ہے کہ نہیں آ رہی؟ سوال یہ ہے، یہ تقسیم کی کس نے ہے؟ میں تھوڑی سی تاریخ عرض کر دوں اس کی۔ مدرسے کا نظام جو پڑھایا جاتا ہے، اس نظام کو کیا کہتے ہیں؟ مدرسے میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے اس نصاب کو کیا کہتے ہیں؟ درسِ نظامی۔ یہ نظامی کیا ہے؟
ایک بزرگ تھے ملا نظام الدین سہالوی رحمۃ اللہ علیہ۔ اورنگزیب کے زمانے کی بات ہے۔ انہوں نے نصاب ترتیب دیا تھا۔ اورنگزیب نے ان کو جگہ دی تھی لکھنؤ میں مدرسہ بنایا تھا، تب سے درسِ نظامی کے نام سے تین سو سال ہو گئے ہیں یہ چل رہا ہے۔ اور وہ مدرسہ بھی چل رہا ہے جس مدرسے سے آغاز ہوا تھا لکھنؤ میں، آج بھی وہ فرنگی محل کا مدرسہ تین سو سال کے بعد بھی قائم ہے۔ ملا نظام الدینؒ نے تعلیم کا نظام شروع کیا تھا، اورنگزیب کے زمانے میں شروع کیا تھا، یہ نصاب بنایا تھا۔ اس نصاب میں کیا تھا، موٹی سی بات، جو کچھ آج کالج میں پڑھایا جاتا ہے وہ بھی نصاب کا حصہ تھا، جو مدرسے میں پڑھایا جاتا ہے یہ بھی نصاب کا حصہ تھا۔ اکٹھا تھا۔ قرآن بھی پڑھایا جاتا تھا، سائنس بھی پڑھائی جاتی تھی، حدیث بھی پڑھائی جاتی تھی، ریاضی بھی پڑھائی جاتی تھی، فقہ بھی پڑھائی جاتی تھی، اور تاریخ اور جغرافیہ بھی پڑھایا جاتا تھا۔ وہ تمام علوم جو کالج میں پڑھائے جاتے ہیں اور جو مدرسے میں، دونوں اکٹھے پڑھائے جاتے تھے اور ڈیڑھ سو سال تک پڑھائے جاتے رہے ہیں۔ اورنگزیب کے زمانے سے لے کر ۱۸۵۷ء تک۔ آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں۔ ایک ہی تپائی پر تفسیر بھی پڑھتے تھے، فلکیات بھی پڑھتے تھے۔ فلکیات اس زمانے میں سائنس کو کہتے تھے۔ میڈیکل کو طب کہتے تھے۔ اسی پر طب پڑھتے تھے، اسی پر جغرافیہ پڑھتے تھے، اسی پر ریاضی پڑھتے تھے۔ وہی استاذ وہ پڑھاتا تھا، وہی وہ پڑھاتا تھا۔
ڈیڑھ سو سال تک اکٹھا پڑھایا جاتا رہا ہے۔ حتیٰ کہ انگریزوں کا پہلا دور جو تھا، ایسٹ انڈیا کمپنی کا سو سال کا، اس دور میں بھی دونوں تعلیمیں اکٹھی ہوتی تھیں۔ تقسیم کس نے کی ہے؟ بات سوچنے کی ہے۔ تقسیم ہوئی ہے۔ تقسیم ہم نے نہیں کی بھئی۔ ہم تو ڈیڑھ سو سال تک سب کچھ اکٹھا پڑھاتے رہے ہیں۔ جب ۱۸۵۷ء میں انگریزوں نے نظام سنبھالا ہے، نیا نظام ترتیب دیا ہے تو پانچ مضمون نکال دیے۔ ۱۸۵۷ء کے بعد، اُس نصاب کو ڈیڑھ سو سال پورا ہونے کے بعد۔ نئے نصاب سے انگریزوں نے پانچ مضمون نکال دیے۔ قرآن نکال دیا، حدیث نکال دی، فقہ نکال دی، فارسی نکال دی، عربی نکال دی۔ آج تک نکلے ہوئے ہیں۔
یہ پانچ مضمون آج بھی ریاستی نصابِ تعلیم کا حصہ ہیں؟ نکالے کس نے تھے؟ میں پہلی بات تو یہ عرض کروں گا، نکلے ہیں، ہم نے نہیں نکالے۔ نکالنے والا نکال کے جا چکا، اس نکالنے کو ابھی تک لوگوں نے سینے سے چمٹا رکھا ہے۔ ایک کہاوت سنایا کرتا ہوں۔ نکالنے والا اور تھا۔ ایک کہاوت یہ ہے کہ ایک جنگل کے کنارے پر کسی زمیندار کا ڈیرہ تھا۔ زمیندار کے ڈیرے پر جو کچھ ہوتا ہے، ہوتا ہے۔ جانور تھے دودھ کے۔ دودھ دوہتے تھے، مٹکے میں سنبھالتے تھے۔ ایک دن ایسا ہوا، دودھ کا مٹکہ بھرا ہوا ہے، صبح اٹھے تو مٹکا خالی ہے۔ رات کو کوئی پی گیا۔ اِدھر اُدھر دیکھا تو ایک کٹے کے منہ پر ملائی لگی ہوئی ہے۔ پھر کٹے کے ساتھ وہی کچھ ہوا جو ہوتا ہے۔ کٹے کی پٹائی شروع کر دی کہ دودھ پی گیا ہے۔ ایک رات، دوسری رات، تیسری رات، چار پانچ راتیں گزر گئیں، زمیندار کو خیال آیا یار یہ کُٹ کھا کے بھی نہیں باز آتا۔ چیک تو کرو مسئلہ کیا ہے۔ ایک دن زمیندار نے پہرا دیا رات کو کہ آج دیکھتے ہیں کس وقت پیتا ہے یہ۔ آدھی رات گزری، جنگل سے دو بندر آئے، ڈھکن اٹھایا، دودھ پی گئے، ملائی کٹے کے منہ پر ملی اور نکل گئے۔ زمیندار کو تب سمجھ آئی کہ بیچارہ یہ [کٹا مار کھاتا رہا]۔
میں کہا کرتا ہوں کہ میرے بھائی، جنہوں نے تقسیم کی تھی، نصابِ تعلیم سے قرآن پاک، حدیث، فقہ، عربی اور فارسی کالے تھے وہ بندر دودھ پی کے جا چکا۔ کتنا عرصہ ہو گیا بندر کو گئے ہوئے؟ ستر سال ہو گئے ہیں۔ کٹا ابھی تک کُٹ کھا رہا ہے۔ ہم نے تقسیم نہیں کی بھئی۔ تقسیم انگریز نے کی ہے۔
اگلی بات، انگریزوں نے جو تقسیم کی تھی، انگریزوں کے جانے کے بعد تقسیم باقی رہنی چاہیے تھی یا ختم ہونی چاہیے تھی؟ ختم ہوئی ہے؟ کس نے نہیں کی، کس نے کرنی تھی؟ انگریزوں کی جگہ ہم بیٹھے ہیں؟ کون بیٹھا ہے؟ یہ تقسیم انہوں نے ختم کرنی تھی جو انگریز کی سیٹ پہ بیٹھے تھے۔ ختم کی ہے انہوں نے؟ تقسیم کو باقی بھی انہوں نے ہی رکھا ہوا ہے، آج تک تیار نہیں ہیں۔
یعنی یونیورسٹی تو نہ قرآن پڑھانے کو تیار ہے، نہ حدیث پڑھانے کو تیار ہے، نہ فقہ پڑھانے کو تیار ہے، نہ عربی پڑھانے کو تیار ہے۔ اور مدرسے سے کہا جا رہا ہے سب کچھ تم پڑھاؤ۔ وجہ؟ ایک بات، پڑھے لکھے دوست بیٹھے ہیں، دیکھیں، تقسیم ہوتی ہے، بنیادی تعلیم، بیسک ایجوکیشن جسے کہتے ہیں، وہ میٹرک تک ہوتی ہے، مشترک جو سب کو پڑھنی چاہیے۔ یا انٹرمیڈیٹ تک ہو گی باہر، ایف اے تک ہو گی۔ میٹرک کے بعد، ایف اے کے بعد، آپ کے ہاں تعلیم تقسیم نہیں ہوتی؟ ڈاکٹری پڑھنے والا اُدھر جاتا ہے، وکالت پڑھنے والا اُدھر جاتا ہے، انجینئرنگ پڑھنے والا اِدھر جاتا ہے، سائنس پڑھنے والا اِدھر جاتا ہے۔ تقسیم ہوتی ہے یا نہیں ہوتی؟ ایف اے کے بعد، میٹرک کے بعد، تعلیم ساری مشترک ہوتی ہے یا تقسیم ہو جاتی ہے؟ کبھی ڈاکٹر سے کہا ہے کہ تم نے وکالت کیوں نہیں پڑھی؟ کبھی وکیل سے پوچھا ہے کہ تم نے سائنس کیوں نہیں پڑھی؟ کبھی کسی سائنسدان سے پوچھا ہے کہ قانون کیوں نہیں پڑھا؟ الگ کیوں پڑھائی ہے تمہاری؟
دنیا کا اصول ہے، بیسک ایجوکیشن کے بعد تقیسیم ہو جاتی ہے، کوئی وکیل بنتا ہے، کوئی ڈاکٹر بنتا ہے، کوئی انجینئر بنتا ہے۔ عجیب تماشا ہے کہ ڈاکٹر سے کوئی نہیں پوچھتا کہ تم انجینئر کیوں نہیں ہو، انجینئر سے کوئی نہیں پوچھتا کہ تم وکیل کیوں نہیں ہو، وکیل سے کوئی نہیں پوچھتا کہ تم سائنسدان کیوں نہیں ہو، سائنسدان سے کوئی نہیں پوچھتا کہ تم ٹیکنوکریٹ کیوں نہیں ہو۔ مولوی سے پوچھتے ہیں، تم ڈاکٹر کیوں نہیں ہو بھئی؟ اگر وکیل کے لیے ڈاکٹر ہونا ضروری نہیں ہے، تو مولوی کے لیے وکیل ہونا کیوں ضروری ہے بھئی؟ اگر انجینئر کے لیے وکیل ہونا ضروری نہیں ہے تو مولوی کے لیے کیوں ضروری ہے کہ وہ مولوی بھی ہو ڈاکٹر بھی ہو۔ کیوں جی، وجہ؟
بیسک ایجوکیشن میں تو ہم شریک ہیں، میٹرک تو ہم بھی کرتے ہیں۔ مدرسے والے میٹرک پڑھتے ہیں یا نہیں پڑھتے۔ مدرسوں میں میٹرک پڑھایا جاتا ہے یا نہیں، اب کیا کہتے ہو؟
تو خیر، میں نے یہ بات عرض کی کہ مدرسہ سوسائٹی کی بنیادی ضرورت پوری کر رہا ہے، جس طرح میڈیکل کالج قوم کو ڈاکٹر فراہم کر رہا ہے، لاء کالج قوم کو وکیل فراہم کر رہا ہے، انجینئرنگ کالج قوم کو انجینئر فراہم کر رہا ہے، سائنس کالج لوگوں کو سائنسدان فراہم کر رہا ہے، ٹیکنوکریسی کا کالج لوگوں کو ٹیکنوکریٹ فراہم کر رہا ہے، مدرسہ سوسائٹی کو علماء فراہم کر رہا ہے۔ جس طرح وکیل کی ضرورت ہے، جس طرح انجینئر کی ضرورت ہے، سائنسدان کی ضرورت ہے، ڈاکٹر کی ضرورت ہے، مولوی کی بھی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ ایک بات تو میں نے یہ کی۔
دوسری بات اور آخری بات۔ دیکھیے، یہ مدارسِ دینیہ اللہ تعالیٰ کا نظام ہے، ہم تو صرف حصہ ہیں، اسباب ہیں، یہ نظام اللہ کا قائم کردہ ہے۔ ایک بات ذہن میں تازہ کر لیں۔ قرآن پاک کی حفاظت کی ذمہ داری کس نے اٹھائی ہے؟ یہ کس نے کہا ہے، یہ میں نے نازل کیا ہے، میں حفاظت کروں گا؟ کس نے وعدہ کیا ہے، کہاں اعلان کیا ہے؟ ’’انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون‘‘ اللہ کہتا ہے، ہم نے اتارا ہے۔ اللہ پاک حفاظت کر رہا ہے، ہم اللہ تبارک و تعالیٰ کے سپاہی ہیں جو اللہ کے حکم کی تعمیل میں لگے ہوئے ہیں، ہم حفاظت نہیں کر رہے، حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے اٹھائی ہے۔ اور ایک بات ذہن میں رکھ لیں، اللہ پاک قرآن کی حفاظت کرے گا تو قرآن پڑھانے والوں کی حفاظت بھی کرے گا یا نہیں کرے گا؟ مجھے کوئی اگر دوست کہہ جائے، دودھ کا جگ میرے سامنے رکھ گیا، مولوی صاحب! میرے آنے تک دھیان رکھنا، اس کی حفاظت کرنا۔ تو میں دودھ کی حفاظت کروں گا کہ جگ کی بھی کروں گا؟ کوئی شربت کا گلاس رکھ گیا میرے پاس۔ مولوی صاحب! میرے آنے تک دھیان رکھنا۔ تو میں شربت کی حفاظت کروں گا کہ گلاس کی بھی کروں گا؟ گلاس کی کروں گا تو شربت کی ہو گی۔
اس لیے یہ بات بالکل ذہن سے نکال دیں کہ مدرسے ختم ہوں گے۔ مدرسے چلتے رہیں گے۔ مدرسہ سبب ہے۔ اللہ پاک نے دین کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی ہے، قرآن پاک کا محافظ ہے۔ آخری بات یہ عرض کرنا چاہوں گا، ذرا دھیان رکھیں، قرآن پاک کی تعلیم کا دائرہ کیا ہے اِس وقت؟ پاکستان میں وفاق نے اس دفعہ کتنے حافظ دیے ہیں؟ گوجرانوالہ میں ایک ڈیڑھ ہزار۔ ملک میں چوہتر ہزار حافظ اِس سال دیے ہیں۔ ایک وفاق نے۔ یہ اللہ کے تکوینی نظام کے بغیر ہو سکتا ہے؟ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا نظام ہے، اللہ پاک کا فضل ہے، اللہ کا کرم ہے کہ اللہ پاک نے حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی ہے، اور اللہ پاک اس کے لیے ہمیں بطور ذریعہ استعمال کر رہے ہیں۔ میں اہلِ مدارس سے یہ کہتا ہوں کبھی اس گمان میں نہ رہنا کہ ہم کر رہے ہیں۔ اللہ پاک کام لے رہا ہے۔ اللہ پاک کی مہربانی ہے ہم پر، الحمد للہ۔ ہر وقت شکر ادا کرتے رہیں۔ ایک فارسی کا شعر ہے:
منت شناس از او کہ بخدمت بداشتت
میں اپنے طلبہ سے کہہ رہا ہوں، اساتذہ سے کہہ رہا ہوں، بادشاہ کی خدمت کا موقع مل رہا ہے، تو بادشاہ پر احسان نہ دھرو، بادشاہ کا احسان مانو کہ اس نے تمہیں خدمت کا موقع دیا ہے۔ ہمیں دین کی خدمت کا موقع مل رہا ہے الحمد للہ، اللہ پاک کا فضل ہے، کر رہے ہیں، انکار بھی نہیں ہے اور افتخار بھی نہیں ہے، اللہ پاک کی مہربانی ہے۔ مدارسِ دینیہ کے معاونین، منتظمین، اساتذہ، طلبہ، اللہ پاک کا انتخاب ہے یہ، اللہ پاک اپنی فوج خود منتخب کرتے ہیں۔ اور جو جو بھی اس نظام میں شریک ہیں، سب ثواب اور اجر کے مستحق ہیں، سب کو اللہ پاک اجر عطا فرماتے ہیں۔ تو اللہ رب العزت ان مدارس کی حفاظت فرمائیں۔ ان مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ، علماء، قراء، حفاظ، مفتیان کرام، سب کو اللہ پاک دین کی خدمت کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائیں، وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

