بامقصد زندگی عقیدے کے بغیر ممکن نہیں ہے

   
میسج ٹی وی
۲۴ اگست ۲۰۱۴ء

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ انسان دنیا کی جاندار چیزوں میں سب سے زیادہ عقل مند، ہوش مند، باصلاحیت اور سب سے زیادہ متحرک مخلوق ہے۔ اور اس کے اِن سارے اوصاف کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کو اپنا تعارف حاصل ہو کہ میں کون ہوں؟ مجھے کس لیے بنایا گیا ہے؟ بنانے والا کون ہے؟ میرا ایجنڈا کیا ہے؟ میرے اندر یہ ساری باتیں کیوں فِٹ کی گئی ہیں؟ اتنا وسیع نیٹ ورک مجھے کیوں دیا گیا ہے؟ اس تعارف کے بغیر انسان اس کائنات میں، سارے نیٹ ورک میں، اپنا صحیح مقام سیٹ نہیں کر سکتا۔ اس تعارف کا نام عقیدہ ہے۔

میں کون ہوں؟ مجھے کس نے بنایا ہے؟ کس مقصد کے لیے بنایا ہے؟ میری زندگی کا ایجنڈا کیا ہے، مقصد کیا ہے؟ اور میری زندگی کے مراحل کیا ہیں؟ ہم جب عقیدہ کی بات کرتے ہیں تو عقیدہ اسی بات کا نام ہے کہ انسان یہ پہچانے کہ مجھے بنانے والا کون ہے اور اس نے مجھے کس مقصد کے لیے بنایا ہے۔ اللہ اس کائنات کا خالق ہے، مالک ہے، رازق ہے، مدبر ہے، زندگی اور موت اس کے ہاتھ میں ہے، ساری کائنات کا نظام اس کے کنٹرول میں ہے، اور میں بے مقصد نہیں ہوں۔

دیکھیے، چھوٹی سی بات ہے، انسان کی جیب میں قلم ہوتا ہے ایک چھوٹا سا، دس روپے کا ہو یا بیس روپے کا، وہ بے مقصد نہیں ہے، اس کا کوئی ایجنڈا ہے۔ یہ کالر پر بٹن لگا ہوا ہے، یہ بے مقصد نہیں ہے، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں کہوں یہ بیکار چیز ہے۔ اس کا ایک ایجنڈا ہے، اس کا ایک مقصد ہے، اس کا کوئی بنانے والا ہے، یہ اگر اپنا مقصد پورا کرتا ہے تو کامیاب چیز ہے، اپنا مقصد پورا نہیں کرتا تو ناکام چیز ہے۔ میرا کوئی مقصد ہے یا نہیں ہے؟ میرا کوئی سبجیکٹ ہے یا نہیں؟ میرا کوئی ایجنڈا ہے یا نہیں؟ میرا کوئی purpose ہے یا نہیں؟ مجھے بنانے والے نے کیوں بنایا ہے؟

میں عرض کرتا ہوں کہ عقیدہ انہی باتوں کو پہچاننے کا نام ہے۔ یہ کائنات کیا ہے؟ کائنات کا سسٹم کیا ہے؟ اس کائنات میں میری حیثیت کیا ہے؟ میرا رول کیا ہے؟ کائنات کے سارے نظام میں مجھے کیا ذمہ داری سونپی گئی ہے؟ وہ ذمہ داری مجھے کیسے ادا کرنی ہے؟ اس سارے تعارف کا نام عقیدہ ہے۔ اس کو عقیدے کی زبان میں بیان کر لیں تو یہ کہیں گے: اللہ اس کائنات کا مالک ہے، رازق ہے، اللہ پاک نے کائنات پیدا کی ہے، میرے نفع کے لیے ہزاروں لاکھوں چیزیں پیدا کی ہیں، مجھے اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے، میری رہنمائی کے لیے پیغمبر بھیجے ہیں، میری رہنمائی کے لیے وحی بھیجی ہے، میری رہنمائی کے لیے کتاب بھیجی ہے، مجھے زندگی کا ایک محدود وقت دیا ہے کہ ایک وقت تک تم رہو گے، اس زندگی کو آزمائش کا دور بتایا ہے۔

مثال کے طور پر اللہ رب العزت نے کئی مقامات پر یہ بات کہی ہے، لیکن ایک مقام پر فرمایا ’’انا جعلنا ما علی الارض زینۃ لھا لنبلوھم ایھم احسن عملاً‘‘ (الکہف ۷) کہ یہ زمین میں جو کچھ بھی ہم نے بنایا ہے، یہ زمین کی رونق ہے۔ اس رونق کا مقصد کیا ہے؟ زمین پر رہنے والوں کی آزمائش، کہ زمین پر بسنے والے انسانوں کے اعمال کا امتحان لیں کہ کون اچھے عمل کرنے والا ہے۔ اپنے مقصد کو کون پورا کرتا ہے؟ اور ساتھ یہ بتا دیا کہ یہ مستقل نہیں ہے، عارضی ہے۔ اور نتیجہ کیا ہو گا؟ اگلی آیت یہ ہے ’’انا لجاعلون ما علیھا صعیدً‌ا جرزا‘‘ (الکہف ۸) کہ جو کچھ بھی ہے، ایک دن چٹیل میدان رہ جائے گا، خالی زمین رہ جائے گی، کچھ بھی نہیں ہوگا۔

تو یہ باتیں پہچاننا، اپنے آپ کو، اپنے مالک کو، اپنے خالق کو، اور اپنی رہنمائی کے اصولوں کو، اس کا نام عقیدہ ہے۔ اگر میں دنیا میں ایک کامیاب اور بامقصد زندگی بسر کرنا چاہتا ہوں تو یہ بات میرے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اور یہی بات ہے کہ جو لوگ بے مقصد، بے عقیدہ زندگی گزارتے ہیں، ان کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہوتا، سوائے اس کے کہ آئے ہیں، رہنا ہے، کھانا ہے، پینا ہے، چلے جانا ہے۔ اللہ پاک فرماتے ہیں: نہیں، اپنے آپ کو پہچانو، مقصد پہچانو، اور اپنے تعارف کے ساتھ بامقصد زندگی گزارو۔ بامقصد زندگی عقیدے کے بغیر ممکن نہیں ہے، اور اسلام عقائد کے حوالے سے انسان کی بہترین رہنمائی کرتا ہے۔

انسان کی فکری بیس کیا ہے؟ عقیدے کی بنیاد کیا ہے؟ انسان کا مستقبل کیا ہے؟ اور انسان کی زندگی کے مقاصد کیا ہیں؟ اس لیے سب سے پہلے مجھے عقیدہ حاصل کرنا چاہیے، عقیدہ سیکھنا چاہیے، عقیدہ صحیح رکھنا چاہیے، تاکہ میں اپنی زندگی کو بامقصد بنا سکوں۔

2016ء سے
Flag Counter