کلنٹن صاحب جنوبی ایشیا کے دورے پر تشریف لائے ہوئے ہیں، کل پاکستان آئیں گے جس پر سارا ملک سیل ہو رہا ہے۔ اِن صاحب نے پون گھنٹے پاکستان میں رہنا ہے اور اسلام آباد کے راستے بند کیے جا رہے ہیں۔ بھئی اتنا ڈر لگتا ہے تو آتے ہی کیوں ہو؟ قیادت پوری دنیا کی کہ ہم دنیا کے لیڈر ہیں، اور حوصلہ یہ کہ ایک شہر میں کچھ وقت گزارنا ہے تو پورا شہر چوبیس گھنٹے کے لیے سیل کر دو۔
کلنٹن صاحب پاکستان میں پتہ نہیں کن مقاصد کے لیے آرہے ہیں، ان کے اپنے مفادات ہیں، لیکن ہمیں یہ سبق دیا جا رہا ہے کہ تم کوئی بات نہ کہنا، وہ ہمارے مہمان ہیں۔ بھئی ہم کب انکار کرتے ہیں کہ وہ ہمارے مہمان نہیں ہیں، لیکن میں ایک اسلامی روایت کا حوالہ ضرور دینا چاہوں گا کہ مہمان کی مہمان نوازی اپنی جگہ لیکن اسلام کی غیرت اپنی جگہ۔ ضرور مہمان نوازی کرو، احترام کرو اور پروٹوکول دو، ہم اس سے انکار نہیں کرتے، لیکن مہمان کے احترام اور اکرام کے ساتھ ساتھ ہماری ایک روایت اور بھی ہے اور وہ ہے اپنی غیرت کی روایت۔
ام المؤمنین حضرت حبیبہؓ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں اور ابو سفیان کی بیٹی ہیں۔ اور ابو سفیان اس دور کے تمام کافروں کا متفقہ لیڈر تھا۔ کافروں کے لیڈر کی حیثیت سے معاہدے پر بات کرنے کے لیے مدینہ منورہ آیا۔ دشمن کیمپ کا انچارج تھا اور مشرکین کے قبائل کا متفقہ لیڈر تھا۔ مدینہ منورہ پہنچا تو سب سے پہلے اپنی بیٹی کے گھر آیا، باپ بیٹی کا اپنا تعلق ہوتا ہے، گھر میں داخل ہوا تو اندر بستر بچھا ہوا تھا، بیٹی نے بستر لپیٹ دیا۔ ابوسفیان نے پوچھا کہ بیٹی! اس بستر کو میرے قابل نہیں سمجھتی یا مجھے اس بستر کے قابل نہیں سمجھتی؟ باپ کے آنے پر تو بیٹیاں بستر بچھایا کرتی ہیں اور تم نے بچھا ہوا بستر لپیٹ کر رکھ دیا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ بستر میرے قابل نہ ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مجھے اس بستر کے شایان شان نہ سمجھا ہو۔ بیٹی! ان میں سے کون سی بات ہے؟ بیٹی نے کہا، ابا جان، والد محترم، آپ میرے باپ ہیں، ٹھیک ہے، آپ تشریف لائے ہیں، لیکن یہ بستر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر ہے، اس بستر پر کسی مشرک کو بیٹھا دیکھ نہیں سکتی خواہ میرا باپ ہی کیوں نہ ہو۔
میں اس موقع پر اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا کہ مہمان کا احترام کرو، اکرام کرو، مہمان نوازی کے جو تقاضے ہیں، پورے کرو، لیکن اپنی ملی غیرت اور دینی حمیت کو ہاتھ سے مت جانے دو۔ حمیت بیچنا مہمانداری نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو توفیق عطا فرمائے۔

