بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج چودہ اگست ہے، پاکستانی قوم پاکستان میں، اور دنیا میں جہاں کہیں بھی پاکستانی شہری بستے ہیں، اپنا آزادی کا اور قیامِ پاکستان کا دن منا رہے ہیں۔ اس دن پاکستان قائم ہوا تھا، اس دن ہمیں برطانوی استعمار کی غلامی سے آزادی ملی تھی۔ اور ایک آزاد خودمختار قوم کی حیثیت سے، ملک کی حیثیت سے، ریاست کی حیثیت سے، ہم نے نئی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ یہ دن ہر سال ہم مناتے ہیں اور یہ قوموں کے دن ہوتے ہیں۔
آج کا دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہمارے بزرگوں نے، ہمارے اکابر نے دو سو سال تک اس ملک کی آزادی کے لیے جنگ لڑی ہے، قربانیاں دی ہیں۔ اس میں مسلح تحریکات بھی ہیں، سیاسی تحریکات بھی ہیں۔ ان مجاہدین میں، ان تحریکِ آزادی کے قائدین میں نواب سراج الدولہؒ بھی ہیں، ٹیپو سلطانؒ بھی ہیں، حافظ رحمت خانؒ بھی ہیں، شہدائے بالاکوٹؒ بھی ہیں، جنرل بخت خانؒ بھی ہیں۔ اور پھر اس کے بعد سیاسی تحریکات میں شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ بھی ہیں، مولانا محمد علی جوہرؒ بھی ہیں، مولانا سید حسین احمد مدنیؒ بھی ہیں، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ بھی ہیں۔ اور دوسرے مکاتب فکر کے مولانا عبد الحامد بدایونیؒ ہیں، مولانا داؤد غزنویؒ ہیں، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹیؒ ہیں۔ مختلف مکاتب فکر کے علماء نے، اہلِ دین نے مل کر آزادی کی جنگ میں بھی اور پاکستان کی تحریک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔
ایک تو غلامی سے آزادی حاصل کرنا تھی، وہ تو ہم نے انگریزوں کی غلامی سے آزادی حاصل کر لی۔ لیکن دوسرا پہلو ابھی تشنہ ہے، دو حوالوں سے۔ وہ پہلو یہ ہے کہ ہم نے پاکستان قائم کیا تھا ایک اسلامی نظریاتی ریاست کے لیے۔ قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم و مغفور کے اعلانات کے مطابق پاکستان قرآن و سنت کے عملی نفاذ کے لیے قائم ہوا تھا اور مسلم تہذیب کے تحفظ کے لیے۔ پاکستان کے قیام کی نظریاتی وجہ ہی یہ تھی کہ ہماری الگ تہذیب ہے، ہم ایک الگ تہذیب رکھتے ہیں، اپنی الگ معاشرت رکھتے ہیں، ہم مخلوط تہذیب کے ساتھ نہیں رہ سکتے، اور اپنے تہذیبی امتیاز کی بنیاد پر ہم الگ ہوئے ہیں۔ اس لیے پاکستان کی نظریاتی اساس، تہذیبی شناخت اور ہمارا تہذیبی امتیاز، یہ پاکستان کا بنیادی مقصد ہے۔
آج ہمیں یہ جائزہ لینا چاہیے، دونوں حوالوں سے:
- نظریاتی اساس کے حوالے سے، دستور میں تو اسلامی دفعات شامل ہیں، عمل کہاں تک ہے؟
- اور تہذیبی حوالے سے ہمیں خطرہ تھا اُس وقت ہندو تہذیب سے۔ ہندو تہذیب کے غلبے سے بچنے کے لیے ہم نے پاکستان بنایا۔ آج ہندو تہذیب کے ساتھ ساتھ ہمیں مغربی تہذیب کا بھی سامنا ہے۔ اور ایک اور تہذیب بھی ہمارے درمیان تشریف لا رہی ہے، چائینیز بھی آ رہے ہیں۔ یہ سہ طرفہ یلغار ہے تہذیبوں کی۔ سادہ سی بات ہے، اگر ہم تہذیب رکھتے ہیں اور ہمارا تہذیبی امتیاز ہے، تو یہ جو تہذیبی حصار ہے، ہمیں اس میں اپنی تہذیب کا تحفظ کرنا ہو گا۔ پاکستان کے قیام کا مقصد بھی یہی ہے اور دو قومی نظریے کی اساس بھی یہی ہے کہ ہمیں اپنی تہذیبی شناخت کو قائم رکھنا ہے۔ اور ہماری تہذیب کی بنیاد امتِ مسلمہ کی چودہ سو سالہ روایات ہیں، ہمارا ماضی ہے۔
اس لیے میں آج کے دن اپنے لیے اور سب کے لیے پیغام عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں آزادی کا دن مناتے ہوئے اور پاکستان کے قیام کا دن مناتے ہوئے اس کی بنیاد کو نہیں بھولنا چاہیے۔ ہمارا مقصد صرف آزادی حاصل کرنا نہیں تھا، ہمارا مقصد اپنی نظریاتی اور تہذیبی بنیادوں کو اور شناخت کو مستحکم کرنا بھی تھا۔ آج ہماری نظریاتی شناخت بھی خطرات کی زد میں ہے اور تہذیبی امتیاز بھی مختلف تہذیبوں کی یلغار کی زد میں ہے۔ آج بھی قرآن و سنت ہمارے راہنما ہیں جیسے آج سے اَسی سال پہلے علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ، قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم و مغفور اور دوسرے قائدینِ پاکستان نے یہ کہا تھا کہ پاکستان کا دستور قرآن پاک ہو گا، سنتِ رسول ہو گی۔ آج ہمیں اسی سبق پہ واپس جانے کی ضرورت ہے، اور عملاً — زبانی نہیں۔
آج یومِ پاکستان ہم سے تقاضہ کر رہا ہے کہ ہم اپنی تہذیبی شناخت کو، اپنی نظریاتی اساس کو اور اپنے امتیاز کو قائم رکھنے کے لیے اپنی ماضی کی ناکامیوں اور ماضی کی کوتاہیوں پر نظر ڈالیں اور ان کی تلافی کی کوشش کریں۔ پاکستان صحیح معنوں میں ایک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہو اور دستور کے مطابق یہاں اسلامی روایات کی حکمرانی ہو، قرآن و سنت کے احکام کی بالادستی ہو۔ یہ ہے پاکستان کی اصل منزل۔ اللہ پوری پاکستانی قوم کو آج کا یومِ پاکستان مبارک کرے اور ہمیں پاکستان کے حقیقی مقاصد کے لیے مل جل کر قومی بنیادوں پر محنت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

