حضرت مولانا محمد طیب کشمیری کی وفات

   
۲۸ مئی ۲۰۲۶ء

حضرت مولانا محمد طیب کشمیری (خطیب سبیل مسجد، گورومندر چوک، کراچی) کی وفات کی خبر پڑھ کر بے حد صدمہ ہوا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ میرے پرانے دوست تھے اور جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں طالب علمی کے دور میں کئی برس ہماری رفاقت رہی ہے۔ آزاد کشمیر کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا امیر الزمان خان رحمہ اللہ تعالیٰ کے بھتیجے تھے اور سرگرم و متحرک عالمِ دین تھے۔ مطالعہ کا خصوصی ذوق رکھتے تھے اور تحریکِ آزادی میں علماء دیوبند کا کردار ان کے مطالعہ و تحقیق کا خاص ذوق تھا۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ کی علمی شخصیت اور سیاسی جدوجہد کا تذکرہ اکثر ان کی زبان پر رہتا تھا اور کم و بیش ہر مجلس میں کسی نہ کسی حوالہ سے ان کی کسی بات کا ذکر کر دیتے تھے۔ 

مجھے کراچی حاضری کے دوران جب کبھی موقع ملتا میں ان کے ہاں حاضری دیتا اور ان کی گفتگو کا لطف اٹھاتا تھا۔ جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے اساتذہ و اکابر کے ساتھ پڑوس کے علاوہ مجلس آرائی اور گفتگو کا شرف بھی اکثر انہیں حاصل رہتا تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کی حسنات قبول فرمائیں، آخرت کی منزلیں آسان کریں، اپنے محبوب اکابر کے ساتھ جنت کی رفاقت سے بہرہ ور فرمائیں اور جملہ اہلِ خاندان کو صبرِ جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter