اہلِ حق کے ایک بہت بڑے نمائندے، میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن کے ساتھ ان کی عظمت کا ذکر کر سکوں، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، اپنے وقت کے بہت بڑے مفسر، بہت بڑے محدث، بہت بڑے فقیہ، درویش، اللہ والے، جن کی ساری زندگی قرآن کریم پڑھاتے گزری، حدیث پڑھاتے ہوئے گزری ہے، حق بات کہتے ہوئے گزری ہے، آج کے دور میں اگر حق کی نمائندگی میں دو چار بڑے آدمیوں کا ذکر کیا جائے تو ان میں سے ایک نام مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے بہت کام لیا ہے، یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے سعادت کی بات ہوتی ہے۔ سب سے بڑا معرکہ جو انہوں نے جیتا، آپ کو یاد ہوگا آج سے پچیس تیس سال پہلے پورے ملک میں انکارِ حدیث کا ایک بہت بڑا فتنہ تھا، پورے ملک کے پڑھے لکھے طبقے میں یہ یلغار تھی، اور اتنے شکوک و شبہات پیدا کر دیے گئے تھے کہ ہر آدمی یہ کہتا تھا کہ یار حدیث کی کیا ضرورت ہے، قرآن کافی ہے۔
اللہ تعالیٰ بھی ہر زمانے میں اس دور کے فتنے کے مقابلے میں اپنے آدمی کھڑے کر دیتا ہے، یہ اللہ کا نظام ہے۔ حضرت مولانا یوسف بنوریؒ نے، حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے مسلمانوں کا ایمان بچانے کے لیے پورے ملک میں انکارِ حدیث کے خلاف علمی و فکری جنگ لڑی، اور ان کے ساتھ مل کر یہ علمی و فکری جنگ لڑنے والے سب سے بڑے مجاہد کا نام مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ ہے۔ ان کی اسی صلاحیت کی وجہ سے مولانا یوسف بنوریؒ انہیں کراچی لے گئے، وہاں بیٹھ کر انہوں نے منکرینِ حدیث کے دلائل، ان کے شکوک و شبہات اور ان کے اعتراضات کا اس اعتماد کے ساتھ جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس فتنے کی بڑھتی ہوئی موجوں کو روکتے ہوئے اہل حق کو فتح دی، کامیابی عطا فرمائی۔ آج کل مولانا یوسف احمد لدھیانویؒ کا سب سے بڑا محاذ قادیانیت تھا، اس محاذ پر ملک اور بیرون ملک انہوں نے جو خدمات سر انجام دیں، ایسی خدمات پورے کے پورے ادارے انجام نہیں دے سکتے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ وہ جس سے یہ کام لے لے۔
کل حضرت مولانا یوسف لدھیانویؒ کراچی میں شہید کر دیے گئے۔ وہ تو علمی دنیا کے آدمی تھے، لکھنے پڑھنے کے آدمی تھے، اللہ اللہ کرنے والے اور اللہ اللہ سکھانے والے آدمی تھے، اپنے وقت کے بہت بڑے شیخ، اپنے وقت کے بہت بڑے عالم، اور یقیناً وہ آج کے دور میں اہلِ حق کے اس قافلے کے سرخیل تھے جس قافلے کے متعلق جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر دور میں اہلِ حق کا گروہ رہے گا جو حق بات کہتا رہے گا، حق پر ڈٹا رہے گا، اس کو حق بات کہنے سے کوئی نہیں روک سکے گا، کوئی مخالفت، کوئی ظلم، کوئی زیادتی، کوئی خوف، کوئی لالچ ان کو حق کی راہ سے نہیں ہٹا سکیں گے اور بالآخر وہ کامیاب ہوں گے۔
آج مولانا یوسف لدھیانویؒ ہم سے رخصت ہوگئے ہیں، شہید ہوگئے ہیں، سچی بات یہ ہے کہ میں اپنے غم کو، اپنے صدمے کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ وہ تو شہید ہوگئے، اپنی زندگی بہت اچھی گزار گئے، اور موت بھی بہت اچھی، حق کی راہ میں شہادت سے اچھی موت کونسی ہو گی؟ لیکن ان کے جانے سے جو نقصان ہوا ہے اس کا میں اور آپ اندازہ نہیں کر سکتے۔
اس کے ساتھ میں دو تین باتیں عرض کرنا چاہوں گا۔ ایک بات یہ کہ حضرت مولانا یوسف لدھیانویؒ سے پہلے بھی بہت سے علماء شہید ہوئے ہیں، کسی کے قاتل نہیں پکڑے گئے، پکڑے ان کے بھی نہیں جائیں گے، لیکن ہم اپنا مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ حضرت مولانا یوسف لدھیانویؒ ہماری قوم کے ایک قیمتی اثاثہ تھے، ان کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے اور قاتلوں کی پشت پناہی کرنے والے لوگوں کو بے نقاب کیا جائے۔ ہم اس قتل کی مذمت کرتے ہیں اور قاتلوں کی گرفتاری کے لیے انکوائری کا مطالبہ کرتے ہیں۔

