دورہ افغانستان کے چند تاثرات

   
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
۱۸ اگست ۲٠٠٠ء

(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)

گزشتہ جمعہ کے بعد مجھے چند دن کے لیے افغانستان جانے کا اتفاق ہوا۔ ہم وہاں کی صورتحال دیکھنے کے لیے گئے تھے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے، جنگ کی کیا صورت حال ہے، ہمارے افغان بھائی کس حال میں ہیں، طالبان کی حکومت کیا کر رہی ہے اور لوگوں کے معاملات کیسے چل رہے ہیں۔ لمبے چوڑے تاثرات بیان کرنے کا موقع نہیں ہے، دو تین باتیں وہاں کے حوالے سے عرض کرنا چاہوں گا۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ میں دو سال قبل بھی افغانستان گیا تھا، اس وقت کی اور اب کی صورتحال میں بہت فرق آچکا ہے۔ میں دو دن کابل میں رہا ہوں، بحمداللہ وہاں کی رونقیں بحال ہو گئی ہیں، بازار آباد ہیں، لوگ آتے جاتے ہیں، چہل پہل ہے، مسجدوں میں رونق ہے، بازاروں میں رونق ہے۔ پہلے کابل شام چھ بجے بند ہو جاتا تھا، اب رات دس بجے تک کھلا رہتا ہے۔ دوسری بات جو خوشی کی وہاں میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھی، وہ جو ہم سنا کرتے تھے کہ اللہ کے قانون کی برکت سے آپ کھلے بندوں سامان رکھ دیں اور چوری کے خطرے سے محفوظ ہو جائیں، میں مبالغہ نہیں کر رہا، منبرِ رسول پر بیٹھا ہوں، میں نے اپنی آنکھوں سے ایسی دکانیں دیکھی ہیں کہ دکان سے باہر کھانے پینے کا سامان پڑا ہے، دکاندار اس کے اوپر کپڑا ڈال کر اپنے گھر آرام سے سویا ہوا ہے، یعنی دکاندار کو سامان اندر کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ دن کو بھی اور رات کو بھی اطمینان کے ساتھ آمد و رفت جاری ہے۔

اور جو سب سے زیادہ تعجب کی بات مجھے لگی، تعجب کی بھی اور خوشی کی بھی۔ اس وقت افغانستان تین طرف سے آزمائش میں ہے۔ تقریباً‌ ایک سال ہوگیا ہے کہ وہاں بارش نہیں ہوئی، خشک سالی ہے، اور وہ لوگ سالہا سال سے حالتِ جنگ میں ہیں۔ اس وقت بھی کابل سے پچیس تیس میل کے فاصلے پر جنگ ہو رہی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی پابندیاں بھی ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور امریکہ نے انہیں پورے طور پر جکڑ رکھا ہے، ایک آدھ ضروری فلائٹ کے علاوہ ملک سے کوئی فلائٹ باہر نہیں جاتی۔ اقوامِ متحدہ کی طرف سے پورے افغانستان کی ناکہ بندی ہے۔ اس کیفیت میں جبکہ وہ حالتِ جنگ میں ہیں، خشک سالی ہے، بین الاقوامی پابندیاں ہیں، اقتصادی ناکہ بندی ہے، کیا آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ کابل میں اشیائے صَرف، کھانے پینے کی چیزیں ہم سے کہیں زیادہ سستی ہیں۔ چینی وہاں بارہ روپے کلو ہے، بکرے کا گوشت چالیس روپے کلو ہے، گھی کا بڑا کنستر سولہ کلو والا پانچ سو روپے کا ہے، پیٹرول ۱۸ روپے لیٹر ہے — پیٹرول، ڈیزل نہیں— یہ ہم نے خود خریدا ہے۔

اس سب کی وجہ کیا ہے؟ میں نے وہاں کے لوگوں سے پوچھا کہ بھئی یہ سب کیسے ممکن ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ (حکومت والے) خود بیچارے بھوکے ہیں، ان کے پاس وسائل نہیں ہیں، تنخواہیں ان کی بہت کم ہیں، لیکن اسلامی حکومت کا اعلان ہے کہ کھانے پینے کی کسی چیز پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔ اشیائے صَرف کی چیزوں پر کسی طرح کا کوئی ٹیکس نہیں ہے، کہیں سے بھی سامان لاؤ، کوئی کسٹم ڈیوٹی نہیں ہے۔ اسی وجہ سے وہاں کے لوگوں کو اصل قیمت پر چیزیں ملتی ہیں جو یہاں سے سستی ہوتی ہیں۔ جس گاڑی پر ہم سفر کر رہے تھے، اس کے متعلق میں نے پوچھا کہ یہ کتنے کی ہے؟ یہ سراچا گاڑی کہلاتی ہے جو کہ اچھی گاڑی تھی۔ کہنے لگے کہ آپ کے ہاں پاکستان میں یہ گاڑی پانچ چھ لاکھ کی ہے جبکہ یہاں یہ گاڑی ڈیڑھ لاکھ کی ہے۔ میں نے پوچھا کیوں؟ اس لیے کہ باہر سے گاڑیاں آتی ہیں، ان پر ہمارے ہاں کسٹم ڈیوٹی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ڈیڑھ لاکھ کی گاڑی پر بمشکل چھ سات ہزار کسٹم ہوتا ہے۔ ایک اور صاحب سے ان کی گاڑی کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ گاڑی پاکستان میں پینتالیس لاکھ کی ہے جبکہ یہاں پاکستانی چھ سات لاکھ کے لگ بھگ ہے، اور اس گاڑی پر زیادہ سے زیادہ گیارہ بارہ ہزار روپے کے قریب کسٹم ڈیوٹی ہے۔

دوسری طرف میں نے وہاں کے سرکاری اہلکاروں کی تنخواہیں پوچھیں تو ایک وفاقی وزیر کے متعلق بتایا گیا کہ اس کی پندرہ سو روپے تنخواہ ہے۔ جب ایک وفاقی وزیر اپنا معیارِ زندگی اس سطح پر لے آئے گا کہ میں نے پندرہ سو روپے ماہانہ پر گزارا کرنا ہے تو پھر لوگوں کو ٹیکس کے بغیر چینی بھی مل جائے گی اور کسٹم ڈیوٹی کے بغیر گاڑی بھی مل جائے گی۔ جب حکمران قناعت پر آجائیں گے تو لوگوں کو فائدہ ہوگا، جب یہ غیر ضروری سرکاری اخراجات کے مظالم ختم ہوں گے تو لوگوں کو استعمال کی چیزیں سستی ملیں گی۔

دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی پاکستان میں یہ دن دکھائیں کہ یہاں قانون کی حکمرانی ہو، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسے حکمران دیں جو خود ضروری تنخواہوں پر گزارا کریں اور ہمارے سروں پر سے ٹیکس کا بوجھ اتاریں۔ ایسے لوگ جو صبح کا ناشتہ دودھ کے بغیر چائے کے ساتھ موٹی روٹی کھا کر کریں اور ملک کے عوام کو ٹیکسوں سے نجات دلائیں۔

آپ جامع مسجد والوں کے لیے، مدرسہ انوار العلوم والوں کے لیے ایک خوشخبری کی بات ہے جس کا ذکر میں آپ سے کرنا چاہتا ہوں۔ افغانستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہیں مولانا نور محمد ثاقب، ان سے ملاقات کے لیے میں گیا، جب ان سے ملا تو ان کا چہرہ جانا پہچانا لگا، بہت احترام سے ملے اور کہنے لگے کہ مولانا آپ میرے استاذ ہیں، میں آپ سے جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں پڑھتا رہا ہوں۔ اور کہا کہ حضرت مولانا قاضی حمید اللہ خان صاحب سے میں نے مشکوٰۃ شریف پڑھی ہے، ہدایۃ پڑھی ہے۔ اور میرے متعلق بتایا کہ آپ سے میں نے جلالین پڑھی ہے۔

میں آپ سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپ حضرات جو اِن مدارس کی خدمت کر رہے ہیں، اس کا ثواب آپ حضرات کو آخرت میں تو ملے گا ہی، دنیا بھی یہ کام آرہا ہے۔

میں نے عدالتی نظام کے متعلق ان سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ ہمارے ہاں قرآن و سنت کا نظام نافذ ہے اور فقہ حنفی کے مطابق ہمارے عدالتی فیصلے ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارا ہاں عدالتیں اس بات کی پابند ہیں کہ مقدمات کا فیصلہ دو ماہ کے اندر اندر کیا جائے، ہائیکورٹ کسی اپیل کا فیصلہ ایک ماہ کے اندر اندر نمٹانے کی پابند ہے، جبکہ سپریم کورٹ کے پاس کسی مقدمے کے لیے صرف بیس دن ہوتے ہیں۔ اگر کوئی جج کسی مقدمے کا فیصلہ مقررہ مدت کے اندر نہیں کرتا تو اسے اس تاخیر کی وجوہات مقدمہ کے ساتھ درج کرنا ہوتی ہیں اور یہ وضاحت کرنا پڑتی ہے کہ تاخیر کیسے ہوئی۔ اگر تاخیر کی یہ وجوہات چیف جسٹس کے نزدیک قابل قبول نہیں ہوں گی تو وہ جج معطل بھی ہو جائے گا اور اسے سزا بھی ملے گی۔ یعنی وقوعہ سے لے کر سپریم کورٹ سے فیصلہ ملنے کے مراحل ہم چار مہینے کے اندر نمٹانے کے لیے ہم قانوناً‌ پابند ہیں، مقصد یہی ہے کہ عام آدمی کو بروقت انصاف ملے۔

میں نے یہ سب مشاہدات اس لیے آپ سے عرض کیے ہیں کہ آپ یہ جان سکیں کہ اللہ کے قانون کی برکات یہ ہوتی ہیں۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں استحکام نصیب فرمائے، اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

2016ء سے
Flag Counter