نبی اکرمؐ سے منکرینِ ختمِ نبوت کے دو مطالبے

   
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ
۹ جولائی ۲۰۲۶ء

(جامع مسجد شیر شاہ سوری، چمن شاہ، گوجرانوالہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ایک نشست سے خطاب کا خلاصہ)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ قیامِ پاکستان کے بعد ملک کے تمام مکاتبِ فکر کے اکابر علماء کرام نے قادیانیوں کے بارے میں جو متفقہ طور پر موقف طے کیا تھا اس کی دو بنیادیں تھیں:

  1. قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیتوں کے دائرے میں شامل کیا جائے اور امت مسلمہ سے الگ ایک غیر مسلم گروہ قرار دیا جائے۔
  2. ایک اسلامی ریاست کے نظام و انتظام میں ان کی شرکت قبول نہ کی جائے۔

اسی بنیاد پر ۱۹۵۳ء کی تحریکِ ختم نبوت میں دو اہم مطالبے کیے گئے تھے: ایک یہ کہ قادیانیوں کو ملک کے دستور میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور دوسرا یہ کہ قادیانی وزیرخارجہ سر ظفر اللہ خان کو ان کے منصب سے الگ کیا جائے۔ اس ملی و قومی مطالبہ کو ۱۹۷۴ء میں دستوری طور پر قبول کر لیا گیا مگر قادیانیوں نے اسے تسلیم کرنے سے اب تک نہ صرف انکار کر رکھا ہے بلکہ اس کے خلاف قومی اور بین الاقوامی سطح پر مہم جوئی جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کی پشت پناہی بہت سے عالمی ادارے اور بین الاقوامی فورم مسلسل کر رہے ہیں اور اس کے لیے پاکستانی حکومت اور قوم دونوں پر دباؤ کا ہر حربہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

ہم سے یہ کہا جا رہا ہے کہ جب قادیانی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت پر ایمان کا اظہار کرتے ہیں تو انہیں امتِ مسلمہ میں شامل کیوں نہیں سمجھا جا رہا؟ اور وہ ملک کے شہری ہیں تو انہیں ملک کے انتظام و انصرام سے الگ رکھنے پر اصرار کیوں کیا جا رہا ہے اور کلیدی عہدوں سے قادیانیوں کو الگ کرنے کے مطالبے کیوں کیے جا رہے ہیں؟ اس سلسلہ میں آج اس پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ یہی مطالبات جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں اس دور کے منکرینِ ختمِ نبوت نے خود ان سے کیے تھے، جو خاتم النبیین جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسترد کر دیے تھے، اس لیے اب بھی ان مطالبات پر توجہ دینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

بخاری شریف کی روایت کے مطابق اس دور کے سب سے بڑے مدعی نبوت قبیلہ بنو حنیفہ کے سردار مسیلمہ بن حبیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو نمائندے اپنا خط دے کر بھیجے، جس میں یہ دونوں باتیں شامل تھیں۔ اس نے لکھا کہ ’’اشرکت معک فی الامر‘‘ کہ مجھے نبوت میں آپ کے ساتھ شریک کیا گیا ہے۔ میں آپ کو اللہ پاک کا رسول مانتا ہوں، آپ بھی مجھے شریک نبی کے طور پر قبول کریں۔ اور دوسری یہ کہ مجھے اپنا جانشین نامزد کر دیں، یا شہروں کا نظام اپنے پاس رکھیں اور دیہات کا میرے حوالے کر دیں، یعنی ریاست اور نظام میں مجھے بھی شریک کار بنائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں مطالبات مسترد فرما دیے۔ بلکہ اس موقع پر جب مسیلمہ کے نمائندوں نے کہا کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا رسول مانتے ہیں اور ان کے بعد مسیلمہ کو بھی اللہ کا رسول مانتے ہیں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’لولا ان الرسل لا تقتل لضربت اعناقکما‘‘ اگر سفیروں اور نمائندوں کو قتل نہ کرنے کا ضابطہ نہ ہوتا تو میں تم دونوں کی گردنیں مار دیتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو رسول تسلیم کرنا کفر و ارتداد ہے۔ جبکہ یہ بھی اس کا مطلب ہے کہ اگر ان کو چھوڑ دیا گیا تھا تو اس کی وجہ اُس دور کا یہ بین الاقوامی عرف و قانون تھا کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا۔

بخاری شریف ہی کی ایک اور روایت کے مطابق ایک بار مسیلمہ کذاب خود ایک بڑا وفد لے کر مدینہ منورہ آیا اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست ملاقات کر کے یہ باتیں پیش کیں۔ جس کا جواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیا کہ نبوت دینا یا زمین کو تقسیم کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے ’’ان الارض للہ یورثہا من یشاء من عبادہ‘‘۔ اور اس کے ساتھ اسے خبردار کیا کہ وہ اپنی اوقات میں رہے اگر اس نے یہ حد کراس کی تو اللہ تعالیٰ اس کی ’’ٹانگیں کاٹ دیں گے‘‘۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور مسیلمہ کذاب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں جنگ کرتے ہوئے میدانِ جنگ میں مارا گیا۔

اس لیے یہ دونوں مطالبے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے چلے آ رہے ہیں جو خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسترد فرما دیے تھے، اس لیے انہیں کسی بھی دور میں تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ قادیانیوں اور ان کے پشت پناہوں کو اپنی ضد اور ہٹ دھرمی ختم کر کے پاکستان کا دستوری فیصلہ بہرحال قبول کرنا ہو گا اور اس کے قبول و تسلیم ہونے تک ہماری جدوجہد ان شاء اللہ تعالیٰ جاری رہے گی۔

2016ء سے
Flag Counter