(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
سودی نظام کے حوالے سے حکومت کو ایک سال اور مل گیا ہے، آپ نے یہ بات اخبارات میں پڑھ لی ہوگی۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو ایک سال کی مہلت دے دی ہے۔ ایک بات میں اپنے فریضے کے طور پر لازماً عرض کرنا چاہوں گا، جہاں ہم نے ترپن سال انتظار کیا ہے، ایک سال اور سہی، لیکن مجھے نظر آرہا ہے کہ اگلے سال بھی یہ نہیں ہوگا۔ جہاں نیت خراب ہو کہ ہم نے یہ کام نہیں کرنا، وہاں سالوں پہ سال گزرتے چلے جاتے ہیں اور وہ کام نہیں ہوتا۔ یہ بات تو نرا بہانہ ہے کہ ہماری تیاری مکمل نہیں ہے۔
آپ کو یاد ہوگا کہ ۱۹۸۴ء میں غلام اسحاق خان صاحب وزیر خزانہ تھے، آپ اس سال کی بجٹ تقریر آج بھی نکال کر دیکھ لیں کہ غلام اسحاق خان نے بحیثیت وزیر خزانہ بجٹ تقریر میں یہ اعلان کیا تھا کہ: غیر سودی مالیاتی نظام کا ڈھانچہ ہم نے تیار کر لیا ہے اور اس سلسلہ میں تمام رکاوٹوں پر ہم نے قابو پا لیا ہے، تمام مشکلات کا حل تلاش کر لیا ہے، میں قوم کو یہ خوشخبری دیتا ہوں کہ کہ سال یعنی ۸۵، ۱۹۸۶ء کا بجٹ غیر سودی ہوگا۔
آج سترہ سال کے بعد وزارت خزانہ یہ کہہ رہی ہے کہ جناب ہماری تیاریاں مکمل نہیں ہیں۔ مجھے تو یہ سب جھوٹ اور فریب لگتا ہے، یہ سب بہانے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے کا عمل ہے۔ یہ کتنی بد نصیبی کی بات ہے کہ ایک دن پہلے اسی اسلام آباد میں جنرل پرویز مشرف نے قومی سیرت کانفرنس میں تقریر فرما رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات و حیات ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے، ہم حضورؐ سے راہنمائی حاصل کریں گے، اسلام پر جب بھی کوئی بات آئی میں سب سے آگے ہوں گا، پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور ہم یہاں اسلام نافذ کریں گے۔ صرف ایک دن پہلے اسی اسلام آباد میں مملکت کا سربراہ نبی کریمؐ کے ساتھ اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کر رہا ہے، اور اس سے دوسرے دن حکومت سپریم کورٹ میں جا کر کہتی ہے کہ جناب سودی نظام کے بغیر ہمارا گزارہ نہیں ہے۔ اسی کا نام تو منافقت ہے، منافقت اور کس بلا کا نام ہے۔ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں منافقت اور منافقوں سے نجات دلائیں اور ہمیں صحیح اور با اصول قیادت نصیب فرمائیں۔

