(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
آج تفریح کے نام پر، آرٹ کے نام پر، کلچر کے نام پر، ہم خدا جانے کیا کچھ کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں جو کھیل کود کی مختلف صورتیں ہیں ان میں سے بعض ٹھیک بھی ہیں جن کا کوئی جسمانی فائدہ ہے، کوئی ذہنی فائدہ ہے، جو انسانی صحت کے لیے مفید ہیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسی کھیلوں میں حصہ لیا ہے۔ کھیل کود سے انکار نہیں ہے لیکن دو شرطوں کے ساتھ: ایک یہ کہ اس کھیل کا انسان کو جسمانی اعتبار سے، کام کے اعتبار سے، ذہنی اعتبار سے کوئی فائدہ ہو۔ اور دوسرا یہ کہ اس کھیل میں گناہ کی کوئی بات نہ ہو، اس کھیل میں ایسی کوئی بات نہ ہو جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ہو۔ یعنی حرام کام نہ ہو اور کسی نہ کسی طرح سے انسانی صحت کے لیے فائدہ مند ہو۔
لیکن ایسے کھیل جن کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہے اور ان میں وقت بے تحاشا ضائع ہوتا ہے، تو علماء کرام نے محدثین نے ان کھیل تماشوں کو بھی لغو میں شمار کیا ہے جو بے مقصد ہیں۔ فائدے کے کھیل حضورؐ نے دیکھے بھی ہیں اور خود بھی ان میں شریک ہوئے ہیں۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوڑ میں حصہ لیا ہے جو کہ ایک بہت اچھی ورزش ہے۔ بلکہ حضورؐ نے دوسروں کی دوڑ لگوائی بھی ہے، بچوں سے بھی اور بڑوں سے بھی۔ نشانے بازی حضورؐ خود بھی کرتے تھے اور اپنے سامنے دوسروں سے بھی کرواتے تھے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کُشتیاں ہوتی تھیں اور آپؐ نے خود بھی کشتی بھی لڑی ہے، بلکہ ایک صحابیؓ تو آپ سے کشتی کے نتیجے میں مسلمان ہوئے۔
رکانہ عرب کے بہت بڑے پہلوان تھے۔ اب ہر آدمی اپنی زبان سمجھتا ہے، پڑھا لکھا آدمی پڑھی لکھی بات سمجھتا ہے، اور پہلوان آدمی پہلوانی کی زبان سمجھتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راستے میں رکانہ سے ملے اور فرمایا کہ رکانہ! مسلمان ہو جاؤ۔ رکانہ کہنے لگے، ٹھیک ہے مسلمان ہو جاتا ہوں لیکن شرط یہ ہے کہ پہلے آپ مجھے کشتی میں پچھاڑیں۔ جناب نبی کریمؐ نے چیلنج قبول کر لیا، آپؐ نے کشتی لڑی اور رکانہ کو پچھاڑ دیا۔ اب یہ بات رکانہ کے تصور کے خلاف تھی کہ میں ایک پہلوان ہوں اور میرا یہ روز کا کام ہے اور میں ایک غیر پہلوان سے کیسے چِت ہوگیا؟ رکانہ نے کہا کہ ایک دفعہ تو کبھی اتفاق ہو جاتا ہے، ایک بار پھر کشتی لڑیں۔ آپؐ نے فرمایا ٹھیک ہے، پھر لڑ لیتے ہیں۔ آپؐ نے پھر پچھاڑ دیا۔ رکانہؓ کہنے لگے کہ بس ایک مرتبہ اور۔ آپؐ نے جب تیسری مرتبہ رکانہ کی پشت زمین پر لگائی تو فوراً بول اٹھے ’’اشہد ان لا الٰہ الا اللہ‘‘ کہنے لگے میں آپ کا کلمہ پڑھتا ہوں اور آپ کو نبی مانتا ہوں۔ رکانہؓ سمجھ گئے کہ ایک غیر پہلوان نے مجھے جو تین مرتبہ شکست دی ہے تو یہ پیچھے کوئی اور طاقت ہے، چنانچہ آپؐ کی نبوت کو تسلیم کر لیا۔
ایک دفعہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہؓ کے ساتھ دوڑ لگائی، چاند رات تھی، دونوں میاں بیوی میں دوڑ لگی، جس میں حضرت عائشہؓ جیت گئیں۔ کچھ عرصہ گزرا تو حضورؐ نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا، عائشہ! دوڑ لگاتی ہو؟ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں اب کچھ صحتمند اور بوجھل ہو گئی تھی، دوڑ لگائی تو حضورؐ جیت گئے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان گھوڑوں کی دوڑ لگوائی، ایک دوڑ لمبے فاصلے کی تھی، جبکہ دوسری کم فاصلے کی۔ فرماتے ہیں کہ میں چھوٹے فاصلے کی دوڑ میں شریک ہوا پہلے نمبر پر آیا، میرا گھوڑا اتنا تیزی سے آگے بڑھا کہ مسجد کی دیوار پھلانگ کر اندر چلا گیا۔
گزارش یہ ہے کہ کھیل اور تفریح منع نہیں ہے لیکن اس کے جائز ہونے کی دو شرطیں ہیں:
- ایک یہ کہ اس میں انسان کے لیے کوئی نہ کوئی فائدہ ہو، یہ نہیں کہ مسلسل پانچ دن گزار دیے ہیں اور کھیل کا نتیجہ کچھ بھی نہیں۔ بھئی، جو کھیل رہے ہیں ان کا تو یہ معاش بھی ہے اور ہو سکتا ہے ان کی ورزش بھی یہی ہو، لیکن آپ نے اس میں اپنے پانچ دن لگا کر کیا مقصد حاصل کیا ہے؟
- دوسری شرط یہ ہے کہ اس میں کوئی حرام کام نہ ہو، جوا نہ ہو، آپس کی شرطیں نہ ہوں، اور کوئی ایسی حرام صورت نہ ہو۔ حرام اور بے مقصد کھیل لعنت میں شامل ہیں اور لغو میں شریک ہونا اہلِ ایمان کا کام نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے اوصاف میں فرمایا کہ میرے نیک بندے لغو اور بیہودہ کاموں میں شریک نہیں ہوتے، اور اگر وہ لغو اور بیہودہ کاموں کے قریب سے گزرتے ہیں تو شریفانہ اور باوقار طریقے سے گزرتے ہیں۔

