بعد الحمد والصلوٰۃ۔ بزمِ شیخ الہندؒ گوجرانوالہ کی یہ نشست مفکرِ انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ کے تذکرہ کے لیے منعقد ہو رہی ہے۔ اور آج ہم ان کے کچھ افادات، خدمات اور ان کی تعلیمات کا مختصر تذکرہ کریں گے، اپنی نسبت کو تازہ کرنے کے لیے اور ان کے علوم و افکار سے رہنمائی کے لیے دو چار باتوں کا ذکر کریں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا نام تو میں بچپن سے سنتا رہا ہوں؛ تعلیمی زمانے سے، والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ سے بھی اور عمِ مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نور اللہ مرقدہ سے بھی۔ جبکہ حضرت صوفی صاحبؒ تو حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ اور حضرت مولانا عبید اللہ سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ کے علوم و افکار کے متخصصین میں سے تھے۔ ان کے دروسِ قرآن، دروسِ حدیث، خطبات، اور مقالات میں آپ کو سب سے زیادہ تذکرہ حضرت شاہ ولی اللہؒ کا ملے گا اور حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا ملے گا۔ ان کے دائرہ فکر میں قرآن پاک، حدیث و سنت اور فقہ و شریعت کے مسائل کی تبیین اور تشریح و تعبیر کی ہے۔ اور سب سے زیادہ میں نے انہی سے حضرت سندھیؒ کا تذکرہ سنا ہے۔ سنا بھی ہے، پڑھا بھی ہے۔ خود حضرت سندھیؒ کو بھی مختلف صورتوں میں پڑھا ہے اور ان سے کچھ نہ کچھ استفادہ کیا ہے۔
حضرت سندھیؒ کی بعض آرا سے کچھ اہلِ علم کو اختلاف بھی ہوا، جو ہوتا ہے۔ ہر صاحبِ علم اور ہر صاحبِ دعوت، جو کسی علمی یا فکری موقف کا داعی ہوتا ہے، اس کی کچھ انفرادی آرا ہوتی ہیں، جو شروع سے چلی آ رہی ہیں، اور تفردات ہوتے ہیں جو قیامت تک ہوتے رہیں گے۔ ہماری ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ ہم کسی بھی علمی شخصیت کے بارے میں جب بات کرتے ہیں تو تفردات کی بحث میں الجھ کر سارا وقت لگا دیتے ہیں جس سے ان کی اصل خدمات نظر انداز ہو جاتی ہیں۔ اب بھی یہی ہو رہا ہے کہ دو چار تفردات ہمارا موضوعِ بحث بن جاتے ہیں اور گفتگو کا سارا زور اسی میں لگ جاتا ہے جبکہ ان کے اصل کام پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔
میں اس پہلو کے حوالے سے بات عرض کرنا چاہوں گا کہ اس سارے ماحول میں، جو بچپن سے لے کر اب تک تقریباً ساٹھ سال کا عرصہ بنتا ہے، بطور طالب علم اور بطور کارکن کے میں نے مولانا سندھیؒ سے کیا سیکھا ہے، مجھے ان سے کیا سبق ملا ہے؟ طالب علم دین و شریعت کا بھی، تاریخ و فلسفہ کا بھی، دینی تحریکات کا بھی، سیاسی تحریکات کا بھی، فکری تحریکات کا بھی۔ میں کارکن ہوں تو میں نے اس کارکن کی حیثیت سے اور ایک طالب علم کی حیثیت سے حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ سے کیا سیکھا ہے؟ دو تین باتیں عرض کروں گا، مختصر وقت میں۔
(۱) سب سے پہلی بات تو میں نے ان سے یہ سیکھی ہے کہ کارکن کیسا ہوتا ہے؟ مزاج کے اعتبار سے، فکر کے اعتبار سے، صبر کے اعتبار سے، حوصلے کے اعتبار سے، سادگی اور قناعت کے اعتبار سے، اور اپنی جدوجہد کے تقاضوں کے حوالے سے کارکن کسے کہتے ہیں؟ کارکن کیا ہوتا ہے؟ کیا صفات ضروری ہیں ایک کارکن میں؟ میں تین شخصیات کا نام لیا کرتا ہوں۔ دو کی تو خیر زیارت کی ہے، براہ راست استفادہ کیا ہے۔ جبکہ حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی زیارت نہیں ہوئی، میری ولادت سے پہلے فوت ہو گئے تھے، البتہ ان کو پڑھا ہے۔ کارکن بنیادی چیز ہوتی ہے کسی بھی تحریک کا۔ میں نے کارکن کی صفات ان سے سیکھی ہیں:
- حضرت مولانا عبید اللہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ سے،
- حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا ہے، ان کے ساتھ کام کیا ہے،
- حضرت مولانا محمد علی جالندھری رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا بھی ہے، ان سے استفادہ بھی کیا ہے اور ان کے ساتھ کام بھی کیا ہے۔
میں نے پہلی بات ان تینوں بزرگوں سے یہ سیکھی ہے کہ کارکن کیا ہوتا ہے؟ کارکن کو کام سے غرض ہوتی ہے، کارکن غیر متعلقہ باتوں میں نہیں الجھتا۔ اس کا اپنی ڈیوٹی سے، اپنے کام سے تعلق ہوتا ہے کہ یہ میرا مشن ہے، میں نے یہ کام کرنا ہے۔ کارکن اگر غیر متعلقہ باتوں میں، بحثوں میں، گفتگو میں الجھ جائے گا تو کام نہیں کر سکے گا۔ کام کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اپنے کام پر نظر رکھے، اپنے مقصد پر نظر رکھے، اس کے تقاضے پورے کرے۔ اور اردگرد، جس کو قرآن پاک نے یوں تعبیر کیا: ’’وان ہذا صراطی مستقیماً فاتبعوہ ولا تتبعوا السبل فتفرق بکم عن سبیلہ‘‘ (الانعام ۱۵۳) کسی بھی جدوجہد، کسی بھی تحریک کے کارکن کا ایک رخ متعین ہوتا ہے، اگر اس پر چلتا رہے گا تو منزلِ مقصود پر پہنچے گا۔ دائیں بائیں اس کے راستے میں بیسیوں انٹرچینج ہوں گے — آج کی زبان میں بات کرتا ہوں — دائیں طرف بھی انٹرچینج ہوں گے، بائیں طرف بھی انٹرچینج ہوں گے، بیسیوں ہوں گے۔ وہ ان میں سے کسی پر نہیں اترے گا تو اپنی منزل مقصود تک پہنچے گا، اور کسی انٹرچینج پر اتر گیا، تو اتر گیا! ہماری آج کی ایک بیماری یہ بھی ہے کہ میں کام کسی اور تحریک کا کر رہا ہوں، بحث کسی اور میں الجھا ہوا ہوں۔ میری جدوجہد کا رخ کوئی اور ہے اور بحث کا رخ کوئی اور ہے۔ کنفیوژ کر رہا ہوں، کنفیوژ ہو رہا ہوں۔ تو میں نے سب سے پہلا سبق جو حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ سے، اور ان کے بعد حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ سے، اور حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ سے سیکھا ہے، وہ یہ ہے کہ کارکن کو اپنے کام سے غرض ہونی چاہیے۔ ادھر ادھر دیکھیں ضرور، الجھیں نہیں۔
(۲) دوسری بات، اپنی جدوجہد کا دائرہ دیکھیں اور دائرے کے تقاضے دیکھیں۔ مولانا سندھی رحمۃ اللہ علیہ کی جدوجہد کا دائرہ کیا تھا، مقصد کیا تھا؟ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن رحمۃ اللہ علیہ، ان کے ساتھ ان کے رفقاء، بالخصوص مولانا سندھیؒ نے جس تحریک کا آغاز کیا تھا، اس کا ٹارگٹ کیا تھا؟ اس ٹارگٹ کا پھر دائرہ کیا تھا؟ اگر آپ مولانا محمد میاں انصاری رحمہ اللہ تعالیٰ — جو مولانا منصور انصاری غازیؒ کے نام سے معروف تھے، مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے قریب ترین ساتھی تھے، دستِ راست تھے، شیخ الہندؒ کے کارکن تھے — اگر ان کے دو رسالے دیکھ لیں، جو موجود ہیں۔ شیخ الہندؒ کی تحریک کا اصل ٹارگٹ کیا تھا؟ حکومتِ الٰہیہ! حکومتِ الٰہیہ کی عام تعبیر کیا ہے؟ خدا کی زمین پر خدا کا نظام! آپ کے دستور میں بھی ایک شق میں لکھا ہے کہ ’’حاکمیتِ اعلی‘‘ کس کی ہے؟ اللہ تعالیٰ کی۔ یہ حکومتِ الٰہیہ ہی کا ترجمہ ہے۔ اور آپ جو نعرہ لگاتے ہیں ’’خدا کی زمین پر خدا کا نظام‘‘، یہ بھی کس کا ترجمہ ہے؟ حکومتِ الٰہیہ کا!
ان کا ٹارگٹ کیا تھا؟ حکومت الٰہیہ! کہاں؟ پاکستان میں؟ جرمنی میں؟ جتنی زمین ہے سب پر۔ حکومتِ الٰہیہ تحریکِ ریشمی رومال کا ٹارگٹ تھا۔ اس کے لیے باقاعدہ ایک منظم تحریک چلی، اس کا جو نتیجہ نکلا میں اس کی طرف نہیں جا رہا، لیکن ان کا ٹارگٹ بتا رہا ہوں۔ حکومتِ الٰہیہ! کہاں؟ اللہ کی زمین پر! اس فلسفے کو سمجھنے کے لیے اگر آپ مولانا سندھیؒ اور ان کے پیچھے کھڑے شیخ الہندؒ، ان کے ساتھ کھڑے مولانا محمد میاں انصاریؒ، ان کا مشن سمجھنا چاہیں تو دو چھوٹے چھوٹے رسالے ہیں فارسی کے۔
- ایک ہے ’’انواع الدول‘‘۔ آج سے ایک سو سال پہلے کے ماحول میں دنیا میں ریاستوں اور حکومتوں کی قسمیں کتنی ہیں؟ ’’انواع الدول‘‘ فارسی کا رسالہ ہے، حکومتوں کی قسمیں۔ انہوں نے اپنے دور میں اُس وقت کی رائج الوقت حکومتوں اور ریاستوں کی قسمیں بیان کی ہیں: یہ بادشاہت ہے، یہ جمہوریت ہے، یہ پارٹی گورنمنٹ ہے، یہ شورائیت ہے، یہ کیا ہے۔ یہ پورا رسالہ نفاذِ اسلام کی تحریک کے ہر بندے کو پڑھنا چاہیے۔ ہمیں بنیاد مل جائے گی کہ ہم نے کن حکومتی نظاموں کے درمیان رہ کر اپنا نظام قائم کرنا ہے۔ دیکھیں، میں مکان بنانا چاہتا ہوں تو مجھے دائیں بائیں دیکھنا پڑے گا: دائیں کیا ہے؟ گلی ہے۔ بائیں کیا ہے؟ باغ ہے۔ سامنے کیا ہے؟ دوسرے کا مکان ہے۔ پیچھے کیا ہے؟ ایک مکان ہے۔ میں ایک چھوٹا سا مکان بنانے کے لیے نقشہ بناتا ہوں تو دائیں، بائیں، سامنے، پیچھے کی حدود متعین کرتا ہوں۔ یہ ہے ’’انواع الدول‘‘ کا ترجمہ، کہ ہمیں ایک ریاست قائم کرنی ہے، حکومتِ الٰہیہ قائم کرنی ہے، تو ہمیں اپنے دائیں بائیں، آگے پیچھے دیکھنا ہوگا کہ ہم کس لوکیشن پر اپنا کام کرنا چاہتے ہیں؟ اس وقت کی دنیا میں حکومتوں کی قسمیں کیا تھیں؟ کون کون سے ریاستی نظام رائج تھے؟ ’’انواع الدول‘‘ میں مولانا محمد میاںؒ نے اس کا تعارف کروایا تھا۔
- اور دوسرا رسالہ ہے ’’دستورِ اساسیِ ملتِ‘‘۔ حکومت الٰہیہ کا سسٹم کیا ہوگا؟ وہ بھی فارسی میں ہے، موجود ہے، کوئی پڑھنے کا ذوق رکھتا ہو تو مل جائے گا۔ انہوں نے جب تحریکی بات چلائی تو صرف یہ نہیں کہ ٹریننگ کروائی ہو؛ ٹریننگ بھی کروائی ہے، ٹارگٹ واضح کیا ہے کہ اس ماحول میں ہم یہ نظام قائم کرنا چاہتے ہیں، اس حدودِ اربعہ میں یہ مکان تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے وقت کے پورے ماحول کا جائزہ لیا، تجزیہ کیا اور اس میں اپنا ٹارگٹ متعین کیا۔
’’انواع الدول‘‘ میں انہوں نے پوری دنیا کے سسٹموں کی وضاحت کی ہے۔ اور ’’دستورِ اساسی ملت‘‘ میں انہوں نے جو خود کرنا چاہتے تھے وہ بتایا کہ اس ماحول میں ہم یہ کرنا چاہ رہے ہیں۔
تو میں نے اس سے یہ سبق سیکھا، میرا سبق یہ ہے کہ آپ آج جس زمانے میں کام کر رہے ہیں، ہمارا ٹارگٹ بھی کیا ہے؟ نفاذِ شریعت! کس ماحول میں؟ دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟ شریعت کے حوالے سے دنیا کے ریاستی نظام کیا کہتے ہیں؟ ہمیں عالمی ماحول سے واقف ہونا ضروری ہے۔ پھر اس ماحول میں شریعت کے نفاذ کا ہمارا سسٹم کیا ہوگا؟ ہمارے ذہن میں یہ سب واضح ہونا چاہیے۔
میں نے دوسرا سبق ان سے یہ لیا ہے کہ جو کام کرنا ہے، اس کا دائرہ دیکھیں، اردگرد کا ماحول دیکھیں کہ حدودِ اربعہ کیا ہیں؟ اور پھر اس کے مطابق سارے عوارض کو، سارے ماحول کو، سارے ظروف کو سامنے رکھ کر محنت کریں کہ یہ ہو سکتا ہے، یہ نہیں ہو سکتا۔ تو میں نے دوسری بات یہ عرض کی ہے، ان کے دو رسالوں سے، جو ان کے ساتھی مولانا منصور انصاری کے ہیں، اور مولانا سندھیؒ کے کہنے پر لکھے گئے ہیں، کیونکہ ان کا مشن تھا۔ یہ کہ عالمی ماحول کیا ہے، وہ ’’انواع الدول‘‘ میں ہے۔ اور شریعت کے نظام اور حکومتِ الٰہیہ میں ہمارا مقصد اور ہمارا طریقہ کیا ہے، وہ ’’دستور اساسی ملت‘‘ میں ہے، پورا دستور ہے مرتب شدہ۔
اچھا، اگر فارسی پڑھنا مشکل ہو — فارسی پرانی ہو گئی ہے اب — تو ’’دستور اساسی ملت‘‘ اور ’’انواع الدول‘‘ کی اردو میں تشریح کی ہے۔ حضرت مولانا منصور انصاریؒ کے فرزند حضرت مولانا منصور الانصاریؒ (سابق استاذ دیوبند) نے "اسلام کا نظام حکومت" کے نام سے۔ یہ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے نواسے ہیں، ان کے خاندان سے ہیں۔ مولانا حامد الانصاری غازی رحمہ اللہ تعالیٰ، یہ حضرت مولانا منصور انصاریؒ کے بیٹے ہیں، حضرت نانوتویؒ کے نواسے ہیں، دارالعلوم دیوبند کے استاذ تھے۔ اردو میں پڑھنا ہو تو انہوں نے آسان لفظوں میں ’’اسلام کا نظامِ حکومت‘‘ میں اس کی تشریحات پیش کی ہیں۔ تو میں نے یہ ان سے سیکھا کہ جو کام کرنا ہے، پہلے پتہ ہو، ذہن میں واضح ہو کہ کرنا کیا ہے اور کس ماحول میں کرنا ہے۔
(۳) تیسری بات، ایک ہے جنگ، ایک ہے امن؛ حالتِ جنگ کے تقاضے اور ہوتے ہیں، حالتِ امن کے تقاضے اور ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں نا کہ محبت اور جنگ کے قوانین مختلف ہوتے ہیں، عام محاورہ ہے۔ اور نارمل حالات کے قوانین بھی مختلف ہوتے ہیں۔ حالتِ جنگ میں شیخ الہندؒ کا کیا طریق کار تھا؟ مولانا سندھیؒ شیخ الہندؒ کے نمائندے تھے۔
جنگ کس سے ہے؟ جس سے جنگ ہے اُس کی سطح پر ساتھی بناؤ، خلا نہ ہو، یمین و یسار صحیح ہوں۔ لیول دیکھیں! مولانا سندھیؒ کی اور شیخ الہندؒ کی جنگ کس سے تھی؟ برطانوی سامراج سے، برطانوی استعمار سے! ریشمی رومال کی تحریک یہی تھی نا؟ تحریکِ ریشمی رومال کے بعد مالٹا کی اسارت سے واپسی کے بعد، تحریکِ آزادی کس کے خلاف تھی؟ برطانوی استعمار کے خلاف! اب برطانوی استعمار کے خلاف لڑنے میں شیخ الہندؒ کی اور مولانا سندھیؒ کی کمال حکمت عملی یہ تھی کہ لیول بھی عالمی تھا، جنگ بھی عالمی تھی اور صف بندی بھی عالمی تھی۔ اس صف بندی میں شیخ الہندؒ نے اور مولانا سندھیؒ نے صف بندی کیا کی؟ برطانیہ کا سب سے بڑا حریف کون تھا؟ جرمنی! یہ ساری صف بندی جرمنی میں بیٹھ کر ہوئی تھی۔ برطانوی استعمار کا سب سے بڑا مخالف جاپان تھا، جاپان اس تحریک میں شریک ہے۔ پہلی جنگِ عظیم میں برطانوی استعمار کی مخالفت میں اُس وقت عالمِ اسلام میں خلافتِ عثمانیہ تھی، خلافتِ عثمانیہ اس منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ برطانوی استعمار کے اثرات سے آزاد کابل تھا اور حجاز تھا، دونوں مراکز تھے اس تحریک کے۔
جس سطح کی جنگ ہے، صف بندی بھی اسی سطح کی ہے۔ جرمنی شریک ہے، جاپان شریک ہے، افغانستان شریک ہے، حجاز شریک ہے، ترکیہ کی خلافتِ عثمانیہ شریک ہے۔ جہاں جہاں سے دشمن کی سطح پر اس کے خلاف مدد ملی ہے وہ حاصل کی ہے، منظم کیا ہے۔ نتائج اپنے مقام پر۔
میں نے عرض کیا ہے کہ جنگ کا لیول اور دائرہ دیکھنا چاہیے، جہاں جہاں سے مدد ملتی ہو، لینی چاہیے۔ ٹارگٹ اپنا رکھنا چاہیے، لیکن جنگ کے تقاضے پورے کرنے چاہئیں۔ یہ نہیں کہ میں ہتھیار اٹھا کر ساری دنیا سے لڑوں گا۔ مولانا سندھیؒ سے میں نے جو سبق حاصل کیا، کہ جنگ کا دائرہ دیکھو، لیول دیکھو، تقاضے دیکھو، اس کے مطابق منصوبہ بندی کرو۔
(۴) آج کی گفتگو میں چوتھی اور آخری بات یہ عرض کروں گا کہ تیاری کی، جنگ لڑی، مخبری ہو گئی، ریشمی رومال کی تحریک ناکام ہو گئی۔ جنرل ایڈوائر پنجاب کا گورنر رہا ہے، اس نے اپنی مطبوعہ یادداشتوں میں پوری تفصیلات لکھی ہیں، وہ پڑھیں، اردو ترجمہ چھپ گیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہم نے ریشمی رومال کی تحریک کیسے پکڑی۔ بہرحال ناکام ہو گئی۔ جنگی حکمتِ عملی میں دو وجہیں بنی ہیں ریشمی رومال کی تحریک کی ناکامی کی:
- ایک یہ کہ ہماری تحریک کا مرکز تھا حجاز، ترکی سے باغی ہو کر حجاز آزاد ہو گیا تھا، برطانوی کیمپ میں چلا گیا تھا۔ حجاز کے شریفِ مکہ نے بغاوت کر دی تھی ترکی کے خلاف، اور برطانوی کیمپ میں چلا گیا تھا۔ ایک وجہ یہ بنی۔
- دوسری وجہ کہ ہماری یہاں کی تحریک مخبری کی بنیاد پر پکڑی گئی تھی۔
اچھا، اگلی بات بھی میں کرنا چاہ رہا ہوں۔ تحریک ناکام ہو گئی، گرفتار ہو گئے، مولانا سندھیؒ مستقل جلاوطن ہو گئے، شیخ الہندؒ گرفتار ہو کے مالٹا میں تھے۔ ہمیں مان لینا چاہیے کہ تحریک ناکام ہو گئی تھی، ہم اپنے مقاصد میں ٹارگٹ تک نہیں پہنچ سکے تھے۔ تو کیا اگر تحریک یا جدوجہد فیل ہو جائے تو گھر بیٹھ جانا چاہیے یا مورچہ بدل دینا چاہیے؟ کیوں جی؟ آرام سے بیٹھ جائیں کہ نہیں ہو سکا جی!
انہوں نے مسلح تحریک کا رخ بدل کر دو تحریکیں شروع کیں۔ ریشمی رومال کی تحریک، شیخ الہندؒ کی گرفتاری تک مسلح تحریک تھی۔ پورے ملک میں تیاریاں کرائی گئی تھیں، پورے ملک میں اسلحہ کی ٹریننگ تھی، مراکز تھے، بیسیوں عسکری تربیت کے کیمپ تھے۔ ہمارے گوجرانوالہ میں بھی ایک کیمپ تھا، پکڑا گیا تھا، یہ کوٹ بھوانی داس، کوٹ قاضی، یہ وہی کیمپ تھا جہاں سے مجاہدین پکڑے گئے تھے، باقاعدہ مقدمات چلے تھے، لاہور ہائی کورٹ میں بغاوت کا کیس چلا تھا۔ کوئی پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے۔ مگر ہم لوگ تو صرف سننا چاہتے ہیں، وہ بھی جیب سے موبائیل نکال کر سن لیا اور ختم!
مسلح تحریک تھی، آزادی کی مسلح جنگ تھی۔ وہاں سے واپس آئے تو دو تین محاذ الگ کھول دیے۔ شکست تسلیم نہیں کی، مورچہ بدلا ہے۔ شکست وہ ہوتی ہے جو تسلیم ہو جائے؛ جو شکست تسلیم نہ ہو وہ کیا ہوتی ہے؟ وہ ہوتا ہے: ’’متحرفا لقتال او متحیزًا الی فئۃ‘‘ (الانفال ۱۶) اگر تمہاری قوت نہیں ہے مقابلے کی، پیچھے ہٹنا چاہتے ہو تو پیچھے ہٹو، لیکن شکست کے لیے نہیں۔ یہی کام انہوں نے کیا۔ حضرت شیخ الہندؒ نے واپس آ کر یہ کیا کہ مسلح تحریک کو پرامن تحریک کا رخ دے دیا۔ ہم ہتھیار نہیں اٹھائیں گے، اب سٹریٹ پاور ہوگی، سیاسی جنگ ہوگی، رائے عامہ کی جنگ ہوگی۔ یہ تحریکِ خلافت کیا تھی؟ یہ سیاسی تحریک کس کی جدوجہد کا نتیجہ تھی؟
- شیخ الہندؒ نے ایک کام یہ کیا کہ اب مسلح جنگ نہیں۔ اب ہتھیار اٹھانے کا فائدہ نہیں ہے، یا ضرورت نہیں ہے، میں اس بحث میں نہیں پڑتا، لیکن اب ہتھیار نہیں اٹھائیں گے، اب سیاسی جنگ لڑیں گے سڑکوں پر، عدمِ تشدد کی تحریک، پولیٹیکل تحریک، سول سوسائٹی کی تحریک، سیاسی تحریک، جسے سٹریٹ پاور کی تحریک کہتے ہیں، یہ ایک رخ بدلا۔
- دوسرا رخ کیا بدلا؟ شیخ الہندؒ آ کر قدیم اور جدید کی صلح کرا دی۔ علی گڑھ اور دیوبند پھر ایک پلیٹ فارم پر آئے، تحریکِ خلافت میں بھی ایک پلیٹ فارم پر تھے، تحریکِ آزادی میں بھی ایک پلیٹ فارم پر تھے، تحریکِ پاکستان میں بھی ایک پلیٹ فارم پر تھے۔ یہ کس نے کیا ہے؟
- جبکہ تیسرا محاذ مولانا سندھیؒ نے سنبھال لیا، علمی و فکری جنگ، نئی نسل کی ذہن سازی۔ فکر کو، فلسفے کو، عقائد کو، نظریات کو نئی نسل تک منتقل کرنا۔
استاذ اور شاگرد نے ریشمی رومال کی تحریک کی ناکامی کے بعد تین مورچے کھولے ہیں۔ ایک مورچہ کیا تھا؟ قدیم و جدید کی صلح کا۔ مولانا محمد علی جوہرؒ کس کا نتیجہ ہیں؟ مولانا شوکت علیؒ کس کا نتیجہ ہیں؟ مولانا ظفر علی خانؒ کس کا نتیجہ ہیں؟ یہ تینوں ہمارے قومی لیڈر ہیں، ان تینوں میں ایک بھی مولوی نہیں ہے، سب علی گڑھ کے گریجویٹ ہیں، لیکن ہم انہیں ’’مولانا‘‘ کہتے ہیں۔ اس درجے کی صلح کرائی ہے شیخ الہندؒ کی اس جماعت نے کہ مولانا محمد علی جوہرؒ، مولانا شوکت علیؒ، مولانا ظفر علی خانؒ، بنگال کے مولوی تمیز الدینؒ، ان میں سے کوئی بھی مولوی نہیں ہے۔ اور ہم بھی انہیں ’’حضرت مولانا‘‘ کہہ کر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ یہ ایک مورچہ تھا۔ دوسری بات میں نے کیا بتائی؟ مسلح تحریک کا باب بند کیا، پرامن عدمِ تشدد کی سیاسی تحریک ہوئی۔
پھر دنیا بھر کے علوم و افکار کا جائزہ لے کر اسلام کی برتری ثابت کرنے کے لیے، اسلام کی افادیت ثابت کرنے کے لیے علمی تحریک چلائی۔ اگر مولانا سندھیؒ کے ملفوظات کو پڑھیں، وہ کہتے ہیں: میں نے دنیا کے نظاموں کا مطالعہ ان کے مراکز میں بیٹھ کر کیا ہے۔ جرمنی کے نظام کا مطالعہ وہاں بیٹھ کے کیا ہے، ترکوں کے نظام کا مطالعہ وہاں بیٹھ کے کیا ہے، ماسکو کے کمیونسٹ انقلاب کا مطالعہ وہاں بیٹھ کے کیا ہے۔ ان سے آگاہی حاصل کی ہے اور آگاہی حاصل کر کے میں سمجھا ہوں کہ اسلام سے بہتر آج بھی کوئی نظام نہیں ہے، اور اسلام کی تعبیر شاہ ولی اللہ سے بہتر آج تک کسی کی نہیں ہے۔ یہ ہے علمی اور فکری مورچہ۔ میں فکر و فلسفہ کے حوالے سے میں مولانا سندھیؒ کو امام ابو الحسن اشعریؒ کی جدوجہد پر قیاس کیا کرتا ہوں۔ جب معتزلہ کی عقلیات کا غلبہ ہوا، یونانی فلسفہ غالب آگیا، امام ابوالحسن اشعریؒ کھڑے ہوئے، یونانی فلسفہ سیکھا، عبور حاصل کیا، اور یونانی فلسفے کے دلائل سے یونانی کے عقلی نتائج کو رد کیا۔ معتزلہ کا مقابلہ علمی طور پر کس نے کیا ہے؟
آج کے دور میں دو آدمیوں نے، مغرب کا فکر و فلسفہ کیا ہے، اس کا مطالعہ کیا، اور اسلام کی برتری کی بات کی۔ اگر دو نام ہضم ہو جائیں تو! مغرب کے فکر و فلسفہ کو سمجھ کر، ماہیئت سمجھ کر ان کے دلائل سے ان کے فکر و فلسفہ کا سامنا مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے اور علامہ محمد اقبالؒ نے کیا ہے۔ قرآن پاک کو بنیاد بنایا مولانا سندھیؒ نے۔ دلی کا نظارۃ المعارف، اور اس کی تعبیر و تشریح میں لاہور کا شیرانوالہ، حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے رفقاء کا، یہ کیا ہے؟ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے جو بات کی تھی نا کہ آنے والا دور قرآن و سنت اور شریعت کے احکام کی سماجی تعبیر و تشریح ہو گی، اور برتری ثابت کرنا ہو گی، یہ کام عملاً ہمارے دور میں اگر کسی نے کیا ہے تو مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے کیا ہے، جبکہ جدید ماحول میں مغربی تہذیب و ثقافت کا علمی و فکری پوسٹ مارٹم اقبالؒ نے کیا ہے، اور ہمارے علماء کے حلقے میں حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے کیا ہے۔
یہ میں نے گزارش کی ہے کہ مولانا سندھیؒ کے فکر و فلسفہ اور جدوجہد سے میں نے کیا سیکھا ہے، ان میں سے چار باتیں عرض کی ہیں۔ اللہ پاک ہمیں سمجھنے کی توفیق بھی عطا فرمائیں، ان کے درجات بلند سے بلند تر فرمائیں، اور ہمیں ان کی روایات کو قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

