بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اگست شروع ہو چکا ہے اور ہر طرف ’’یومِ آزادی‘‘ منانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں جو ۱۴ اگست کو ملک بھر میں منایا جاتا ہے۔ ہم قیامِ پاکستان سے پہلے بھی یہ کہتے تھے کہ یہ وطن اسلام کے نام پر اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے قائم کر رہے ہیں جبکہ پاکستان قائم ہو جانے کے بعد بھی آٹھ عشروں سے مسلسل یہی کہے جا رہے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر اور اسلام کے لیے بنایا گیا ہے مگر ابھی تک ہم کہنے کے مرحلے میں ہی ہیں اور اس مقصد کی طرف عملی پیشرفت کی کوئی صورت سامنے نہیں آ رہی۔ آج کی اس نشست میں اس حوالہ سے چند باتیں کہنا چاہوں گا کہ اسلامی حکومت کیا ہوتی ہے اور اس کے اصول اور بنیادیں کیا ہیں؟
اس سلسلہ میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین خلیفہ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلے خطبہ کی چند باتیں عرض کروں گا جو اسلامی ریاست کے نظامِ حکومت کی بنیاد ہیں۔ یہ خطبہ حضرت صدیق اکبرؓ نے خلیفہ بنتے ہی ارشاد فرمایا تھا اور یہی اسلامی نظامِ حکومت و خلافت کی اساس ہے۔ مثلاً انہوں نے پہلی بات یہ فرمائی کہ ’’اُمرت علیکم‘‘ مجھے تم پر امیر بنا دیا گیا ہے۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اسلامی حکومت خود قائم نہیں ہوتی بلکہ قائم کی جاتی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ کو اس حکمرانی کے لیے نہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نامزد کیا تھا، نہ انہوں نے خود دعویٰ کیا تھا، اور نہ ہی انہوں نے طاقت کے ذریعہ اقتدار پر قبضہ کیا تھا، بلکہ مسلمانوں کے دو تین مشاورتی اجتماعات میں انہیں خلافت کے لیے منتخب کیا گیا تھا اور حضرت صدیق اکبرؓ کے انکار کے باوجود انہیں خلیفہ بنا لیا گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی حکومت کے قیام کی بنیاد امتِ مسلمہ کا اجتماعی اعتماد ہے جو حضرت ابوبکر صدیقؓ کی حکومت و خلافت کی بنیاد بنا تھا۔
دوسری بات انہوں نے یہ فرمائی کہ ’’اقودکم بکتاب اللہ و سنۃ نبیہ‘‘ میں تمہیں قرآن و سنت کے مطابق چلاؤں گا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی ریاست کا دستور قرآن و سنت ہو گا اور اس کے دائرے میں ریاست و حکومت کے تمام معاملات چلائے جائیں گے۔
جبکہ تیسری بات یہ فرمائی کہ اگر میں اس کے مطابق چلوں تو میری اطاعت کرو، ’’وان انا زغت فقومونی‘‘ اگر میں اس سے ہٹنے لگوں تو تم مجھے سیدھا کر دیں۔ اسے عوام کا حقِ احتساب کہا جاتا ہےکہ اگر حکومت دستور و قانون سے ہٹنے لگے تو عوام کا حق ہے کہ وہ اسے سیدھا کر دے۔ یہ سیدھا کرنا بھی بہت عجیب بات ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ میری غلطی مجھے بتا دو، بلکہ فرمایا کہ مجھے سیدھا کردو۔ جس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خلافت سنبھالنے کے بعد جب خطبہ ارشاد فرمایا تو یہی جملہ سوالیہ انداز میں فرمایا تھا کہ اگر میں ٹیڑھا چلنے لگوں تو تم لوگ کیا کرو گے؟ جس پر جمعہ کے اجتماع میں ہی ایک بدوی بزرگ نے کھڑے ہو کر تلوار میان سے نکالی اور اسے لہراتے ہوئے حضرت عمرؓ سے کہا کہ اگر آپ سیدھا نہ چلے تو ہم آپ کو اس تلوار کے ساتھ سیدھا کر دیں گے۔ اس زمانہ میں تلوار ہی طاقت کا نشان ہوتی تھی اس لیے اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ ہم تمہیں زبردستی سیدھا کر دیں گے۔
حکمرانوں کو سیدھا کرنے کے طریقے ہر زمانے کے اپنے ہوتے ہیں، اُس دور میں تلوار تھی، جبکہ آج کل سیاسی قوت اور اسٹریٹ پاور اس سلسلہ میں سب سے بڑا ہتھیار ہوتا ہے۔ اس لیے حضرت صدیق اکبرؓ نے ارشاد فرمایا کہ اگر حکمران سیدھے راستے یعنی قرآن و سنت کے راستے سے ہٹ جائے تو عوام کو حق حاصل ہے کہ اسے اس دور کے مطابق عوامی طاقت کے ذریعہ سیدھا کر دیں۔
حضرت صدیق اکبرؓ کے پہلے خطبہ کے ان جملوں سے اسلامی حکومت کی تین بنیادیں ملتی ہیں:
- حکومت عوام کے اجتماعی اعتماد کے ذریعہ قائم ہو گی اور کوئی طاقت کے زور سے حکومت قائم نہیں کر سکے گا۔
- ریاست و حکومت کا نظام قرآن و سنت کی بنیاد پر چلایا جائے گا اور اس سے انحراف کا کسی حکمران کو حق نہیں ہو گا۔
- دستور یعنی قرآن و سنت سے انحراف کی صورت میں عوام کو یہ حق حاصل ہو گا کہ اپنے دور کے حالات کے مطابق حکمرانوں کو دستور کےمطابق چلنے پر مجبور کریں اور اپنی اجتماعی قوت کو ملک کے نظام کو صحیح رکھنے کے لیے حالات کے مطابق استعمال کریں۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے وطنِ عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اسلامی ریاست و حکومت کی ان بنیادوں کے دائرے میں منظم کرنے اور چلانے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

