بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
قرآن کریم کے علوم و معارف ہر دور میں اہلِ علم کی توجہات اور استفادہ کا محور رہے ہیں اور قیامت تک رہیں گے اور نسلِ انسانی بالخصوص امتِ مسلمہ اور اس کے علماء کرام اس بحرِ ناپیدا کنار میں غوطہ زن ہو کر راہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔ چونکہ اس کا دور قیامت تک ہے اس لیے اس وقت تک کے ہر دور کی ہدایت کے تقاضے اور علمی و فکری ضروریات اس کے دامن میں موجود ہیں جو وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتے رہیں گے اور تشنگانِ علم و ہدایت کی سیرابی کا ذریعہ بنتے رہیں گے۔
ہمارے دور میں والد گرامی امام اہلِ سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کی علمی و تدریسی خدمات علماء کرام اور طلبہ کے لیے ایک وسیع دائرے کو محیط ہیں اور ان کے بیسیوں شاگردوں نے اپنے استفادہ کو تحریری شکل دی ہے جن میں حضرت مولانا احسان الحق رحمہ اللہ تعالیٰ کی مساعی قابلِ قدر ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس کی جزائے خیر میں جنت الفردوس کے اعلیٰ درجات سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔
ان کے شاگرد مولانا محمد الیاس زید مجدہم نے زیرنظر مجموعہ میں ان افادات کا بڑا حصہ مرتب کیا ہے اور ہمارے فاضل دوست حضرت مولانا قاضی فضل اللہ مدظلہ کے تفسیری افادات کو بھی اس کے ساتھ شامل کر کے اس کی افادیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اللہ پاک ان کی اس سعی جمیلہ کو قبولیت سے نوازیں اور زیادہ سے زیادہ کے لیے نفع و استفادہ کا ذریعہ بنائیں، آمین یا رب العالمین۔

