باسمہ تعالیٰ
محترمی حضرات علماء کرام!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
متحدہ علماء کونسل پاکستان کے ہنگامی مشاورتی اجلاس منعقدہ ۲۵ جون بمقام جامعہ اہلِ حدیث چوک دالگراں لاہور، اور گوجرانوالہ کے مختلف مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام کے مشترکہ اجلاس منعقدہ ۲۸ جون بمقام مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے فیصلوں کے مطابق، ملک بھر کے تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام سے گزارش ہے کہ
- یکم جولائی کو جمعۃ المبارک کے بیانات میں وفاقی شرعی عدالت کے سودی نظام کو پانچ سال کے اندر مکمل ختم کر دینے کے فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس کے خلاف مالیاتی اداروں کی طرف سے سپریم کورٹ میں دائر کردہ اپیل کی مذمت کی جائے۔ اور عوام کو بتایا جائے کہ یہ اپیل فیصلے پر عملدرآمد میں رکاوٹ پیدا کرنے کا حربہ اور قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق خدا و رسولؐ کے خلاف اعلانِ جنگ کے مترادف ہے۔ اس لیے یہ اپیل فوری طور پر واپس لے کر وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد اور اس کے بارہ میں درپیش مشکلات کے حل کے لیے قومی کمیشن قائم کیا جائے تاکہ مقررہ مدت کے اندر ملک کے معاشی نظام کو سود کی نحوست و لعنت سے پاک کر کے اسلامی تعلیمات کے مطابق بنایا جا سکے۔
- اس کے ساتھ ہی عوام پر واضح کیا جائے کہ ہماری قومی معیشت کا موجودہ بحران اور دن بدن بڑھتی ہوئی مہنگائی سودی نظام کی نحوست کی وجہ سے ہی ہے، جس نے ہمیں بیرونی اداروں کا دستِ نگر بنا کر رکھ دیا ہے اور اس سے نجات حاصل کرنا ہمارا دینی فریضہ ہونے کے ساتھ ساتھ قومی ضرورت بھی ہے۔
اس سلسلہ میں مزید معلومات اور راہنمائی کے لیے متحدہ علماء کونسل کے مرکزی راہنما مولانا ڈاکٹر حافظ محمد سلیم سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
شکریہ، والسلام
ابو عمار زاہد الراشدی
کنوینر رابطہ کمیٹی تحریکِ انسداد سود پاکستان

