حضرت مفتی عبد الواحدؒ کی وفات اور مرکزی جامع مسجد کا نظم

   
مکاتیب
۱۷ دسمبر ۱۹۸۲ء

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حضرت مولانا مفتی عبد الواحد رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات گوجرانوالہ کے عوام اور جماعتی و مسلکی احباب کے لیے بے حد صدمہ اور رنج و الم کا باعث ہوئی ہے۔ مفتی صاحب مرحوم نے کم و بیش نصف صدی تک مرکزی جامع مسجد کے خطیب اور مدرسہ انوار العلوم کے مہتمم کی حیثیت سے جو دینی خدمات سرانجام دی ہیں اور علماء دیوبند کی مسلکی و سیاسی قیادت کی ہے اس کا تقاضہ ہے کہ مسلک اور سیاست دونوں محاذوں پر ان کی روایات کو زندہ رکھا جائے اور جامع مسجد و مدرسہ انوار العلوم کی علمی، دینی و سیاسی مرکزیت کے استحکام و ترقی کے لیے مخلصانہ جدوجہد کی جائے۔

مفتی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی زندگی میں ہم دونوں کو اپنے زیرسایہ خدمات سرانجام دینے کا موقع دیا اور ہم نے کافی عرصہ ان کی نگرانی میں حتی الوسع فرائض ادا کیے، اسی وجہ سے ہم مسلک احباب کو بجا طور پر توقع ہے کہ ہم مسجد و مدرسہ کی ترقی و استحکام اور اس کی مرکزیت کے تقاضوں کی تکمیل کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ چنانچہ ہم دونوں گوجرانوالہ اور علاقہ کے جماعتی و مسلکی دوستوں اور بہی خواہوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کی توقعات پر پورا اترنے میں ہم حتی الامکان کسی قسم کی کوتاہی روا نہ رکھیں گے اور باہمی صلاح و مشورہ اور اعتماد و تعاون کے ساتھ مسجد و مدرسہ کے نظام چلائیں گے۔ 

اسی بنا پر ہم نے انتظامی سہولت کی خاطر فیصلہ کیا ہے کہ

  • جامع مسجد کی خطابت، اس سے متعلقہ انتظامی امور اور شعبہ حفظ و تجوید کی نگرانی زاہد الراشدی کے سپرد ہو گی۔
  • مدرسہ انوار العلوم کا اہتمام، افتاء اور انتظامی امور کی نگرانی مولانا حمید اللہ صاحب کریں گے۔
  • مالی معاملات حسبِ سابق مسجد و مدرسہ کے متولی شیخ محمد نسیم صاحب کے ہاتھ میں رہیں گے۔

ہم تمام دوستوں سے توقع رکھتے ہیں کہ اس کارِخیر میں ان کا تعاون اور دعائیں ہمیں بدستور حاصل رہیں گی اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے ہماری دعا ہے کہ ہمیں خلوص اور اعتماد کے ساتھ مسجد و مدرسہ کی خدمات سرانجام دینے اور مسلک علماء دیوبند کے اس دینی و سیاسی مرکز کے نظم و نسق اور ترقی و استحکام کے لیے مخلصانہ جدوجہد کرنے کی توفیق ارزانی فرمائیں، آمین یا الٰہ العالمین۔

(دستخط)

خویدم حمید اللہ عفی عنہ

ابوعمار زاہد الراشدی      (۱۷ / ۱۲ / ۸۲ء)

ظفر احمد ڈار

محمد نسیم





بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

۱۹۶۹ء کے دوران مرکزی جامع مسجد کے خطیب حضرت مولانا مفتی عبد الواحد نور اللہ مرقدہ کے حکم پر میں نے جامع مسجد کے نائب خطیب کے طور پر ذمہ داری سنبھالی تھی اور ان کی زندگی میں ان کی نیابت کی خدمت سرانجام دیتا رہا ہوں۔ ۱۹۸۲ء میں ان کی وفات کے بعد حضرت مولانا قاضی حمید اللہ خان رحمہ اللہ تعالیٰ، محترم جناب شیخ محمد نسیم صاحب مرحوم و مغفور اور محترم الحاج ظفر علی ڈار صاحب کی باہمی مشاورت کے ساتھ مندرجہ بالا متفقہ تحریر کی صورت میں آئندہ کی ترتیب طے پائی تھی جس کے مطابق اب تک بحمد اللہ تعالیٰ یہ خدمت سرانجام دیتا آ رہا ہوں اور جب تک اللہ تعالیٰ نے توفیق دی اسی کے مطابق حسبِ استطاعت سرانجام دیتا رہوں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

۳    جنوری ۲۰۲۳ء

   
2016ء سے
Flag Counter