بارہ ربیع الاول کی دو تقریبات میں شرکت

   
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
۲۹ اگست ۲۰۲۶ء

بارہ ربیع الاول / ۲۶ اگست کو جامعہ محمدی شریف چنیوٹ کے نئے لائبریری ہال میں پاکستان شریعت کونسل چنیوٹ کے زیر اہتمام ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت مولانا صاحبزادہ قمر الحق سیالوی نے کی اور اس میں راقم الحروف نے کچھ گزارشات پیش کیں جن کا خلاصہ نذر قارئین ہے۔

جامعہ محمدی شریف کے بانی حضرت مولانا محمد ذاکرؒ اور حضرت مولانا محمد نافعؒ ہمارے بزرگوں میں سے تھے، خاص طور پر حضرت مولانا محمد ذاکرؒ نے ۱۹۷۳ء میں دستور ساز اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے پاکستان کے دستور کی تشکیل و تدوین میں جو کردار ادا کیا وہ ہماری قومی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ مولانا صاحبزادہ قمر الحق سیالوی اپنے ان بزرگوں کی روایات کو قائم رکھے ہوئے ہیں اور جامعہ محمدی شریف کی تدریسی، تعلیمی اور سماجی خدمات کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ جامعہ محمدی شریف کی طرف سے پبلک لائبریری کا قیام اور عوام کو کتاب تک رسائی کا موقع فراہم کرنا خوش آئند اور آج کی اہم ترین علمی، فکری اور دینی ضرورت ہے کیونکہ ’’موبائل‘‘ نے کتاب کے ساتھ نئی نسل کا رشتہ بہت کمزور کر دیا ہے جو ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ ہماری عمومی حالت یہ ہو گئی ہے کہ قرآن کریم کی کسی آیت کا ترجمہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث و سنت کا حوالہ، یا کوئی فقہی مسئلہ بھی اب ’’گوگل‘‘ سے پوچھا جاتا ہے اور اصل مآخذ دیکھے بغیر اس کی بنیاد پر فیصلے کر لیے جاتے ہیں۔ یہ بات انتہائی خطرناک ہے جو ہمارے علمی ذخیرے اور مآخذ سے نہ صرف نئی نسل بلکہ نوجوان علماء کرام کا رشتہ بھی ختم کرتی جا رہی ہے۔ چنانچہ اِس دور میں لائبریری کا قیام اور عوام کو اس تک رسائی کا موقع فراہم کرنا بہت بڑی علمی اور دینی خدمت ہے۔

میں عام طور پر اس سلسلہ میں یہ حوالہ دیا کرتا ہوں کہ سیدنا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں قرآن کریم کو کتابی شکل میں مرتب و محفوظ کر کے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لکھے ہوئے قرآن کریم کو مسجد نبویؐ کے ایک ستون کے ساتھ جگہ بنا کر وہاں رکھوا دیا تھا اور اعلان کر دیا تھا کہ قرآن کریم کی کسی آیت، سورۃ، یا ترتیب کے بارے میں کسی کو کوئی اشکال یا شبہ ہو تو وہ اسے دیکھ کر درست کر لے۔ یہ مصحف شریف حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت تک کم و بیش بارہ سال اسی ستون پر ’’اوپن نسخہ‘‘ کے طور پر موجود رہا اور لوگ مسلسل آ کر اپنے نسخوں کو اس کے مطابق درست کرتے رہے۔ یہ ستون ’’أسطوانۃ المصحف‘‘ کہلاتا تھا اور اس کی جگہ بننے والا ستون آج بھی مسجد نبوی میں ’’أسطوانۃ المصحف‘‘ کے نام سے موجود ہے۔ کتاب کو عوامی استفادہ کے لیے اوپن جگہ پر رکھوانے کا یہ کام حضرت صدیق اکبرؓ نے کیا تھا اور یہی ہمارے ہاں پبلک لائبریری کا نقطۂ آغاز ہے۔

اسی طرح یہ بات بھی خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر جو پہلی عوامی دعوت دی تھی اس میں سب سے پہلے اپنے بارے میں پوچھا تھا کہ میرے بارے میں تم کیا جانتے ہو؟ سب نے بیک آواز کہا تھا کہ ’’ما جربنا عليك الا صدقا‘‘ (صحیح بخاری ۴۷۷۰) ہم نے آپ میں سچائی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت پیش فرمائی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی دعوت کا نقطۂ آغاز بھی سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور رسول اکرمؐ کے تعارف سے دین کی دعوت شروع ہوتی ہے۔ اس لیے ہماری آج کی ضرورت بھی یہ ہے کہ ہم دین اور دینی معلومات سے بے خبر آج کی انسانی آبادی اور خاص طور پر اپنی نئی نسل کو قرآن کریم اور سیرتِ نبویؐ سے متعارف اور مانوس کرنے کی کوشش کریں اور مباحث میں الجھانے کی بجائے بریفنگ کے انداز میں (۱) قرآن کریم (۲) سیرت و سنتِ رسولؐ اور (۳) حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی معاشرت اور سوسائٹی سے متعارف کرائیں۔ یہی آج کے دور میں دین کی دعوت اور دین کی طرف رجوع کا سب سے بہتر طریقہ ہے۔

جبکہ اسی روز چناب نگر میں مجلس احرار اسلام پاکستان کی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں اپنی گفتگو کے دوران ایک اہم معاملہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے میں نے یہ عرض کیا کہ مجھ سے پہلے مقررین نے تحفظِ ختمِ نبوت اور تحفظِ ناموسِ رسالتؐ کے قوانین کے بارے میں سیکولر حلقوں کی طرف سے ردوبدل کے مطالبہ کی مذمت کی ہے، میں بھی اس کی مذمت کرتا ہوں لیکن اس سے اگلی بات بھی کرنا چاہوں گا کہ دستور کی فکر کیجیے! میں اس کے اردگرد خطرات کا دائرہ تنگ ہوتا دیکھ رہا ہوں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور میں چار اہم باتیں ایسی ہیں جو اس دستور کی نظریاتی اور اسلامی شناخت کو اجاگر کرتی ہیں اور اسی وجہ سے بین الاقوامی سیکولر حلقوں کے ساتھ ساتھ ملک کے بعض لا دین عناصر بھی دستور کے خلاف متحرک ہیں:

  1. دستور میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ اعلیٰ کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
  2. نظام و قانون میں قرآن و سنت کی بالادستی کا اعلان کیا گیا ہے۔
  3. عقیدۂ ختمِ نبوت کا تحفظ کرتے ہوئے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے، اور
  4. حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور دیگر مقدس شخصیات و مقامات کی توہین کو جرم قرار دے کر اس کی سزا مقرر کی گئی ہے۔

دستورِ پاکستان کی یہ چاروں باتیں ملکی اور بین الاقوامی لابیوں کو مسلسل کھٹک رہی ہیں اور اس کی بنیاد پر دستورِ پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بُنے جا رہے ہیں۔ یہ چاروں باتیں ہمارے عقیدہ و ایمان کا حصہ ہیں اور دستورِ پاکستان کے اسلامی نظریاتی تشخص اور شناخت کا اظہار ہیں۔ اس لیے دستور کا تحفظ اور اس کے خلاف سازشوں کا ادراک اور مقابلہ کرنا ہمارا دینی فریضہ ہے جس کے لیے تمام محب وطن دینی و سیاسی جماعتوں اور حلقوں کو بیدار اور متحرک رہنا چاہیے۔

   
2016ء سے
Flag Counter