دینی مدارس اور نیکی و بدی کا انسانی اختیار

   
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
۱۵ فروری ۲۰۰۲ء

(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)

دوست آتے ہیں اور اس بارے میں پوچھتے ہیں اس لیے میں اس پر کچھ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ مساجد اور مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے کوئی قانون اور آرڈیننس ابھی تک طے نہیں ہو سکا۔ یہ جو حکومت کی طرف سے سروے فارم تقسیم ہو رہے ہیں، یہ صرف اپنا ریکارڈ مکمل کرنے کے لیے ہیں، اور یہ پولیس کے ذریعے رعب ڈال کر مکمل کروائے جا رہے ہیں۔ جہاں تک مساجد اور مدارس کی آزادی کا تعلق ہے اس کے متعلق بہت سی قیاس آرائیاں ہوتی ہیں، میں اس بارے میں دو باتیں دوٹوک کہنا چاہتا ہوں:

  1. ایک ہے مدارس کی آزادی کہ دینی مدرسہ میں دین کی تعلیم کسی سرکاری کنٹرول کے بغیر ہو، جیسے ڈیڑھ سو سال سے یہاں برصغیر میں ہو رہی ہے، اسی طرح ان شاء اللہ العزیز ہوتی رہے گی۔
  2. دوسری بات کہ مسجد کے اس منبر پر اللہ رسول کے دین کی بات آزادی کے ساتھ کہی جائے اور کسی بات کی پروا نہ ہو۔ یہ بھی ہماری صدیوں کی روایت ہے اور ان شاء اللہ العزیز یہ بھی جاری رہے گی۔ اس لیے یہ بات کوئی سوچے بھی نہیں کہ کوئی سرکاری افسر ہمیں خطبہ لکھ کر بھیجے گا اور ہم پڑھ کر سنائیں گے۔ ان شاء اللہ العزیز ہم اس منبر پر بیٹھیں گے اور آزادی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسولؐ کی بات کریں گے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ جو شخص اس منبر پر بیٹھ کر دین کی بات چھپائے گا اور حق کی بات نہیں کرے گا وہ گونگا شیطان ہے۔

ایک دوست نے مجھ سے یہ پوچھا کہ جنرل صاحب نے جو یہ کہا کہ خدا نے مجھے اس منصب پر بٹھایا ہے، جب تک خدا رکھے گا، میں رہوں گا۔ میں نے کہا بھئی سب کو خدا ہی بٹھاتا ہے۔ خدا نے فرعون کو نیکی اور بدی دونوں باتوں کا اختیار دیا تھا، اس نے کس بات کو اپنایا؟ خدا نے شیطان کو آدم کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا حکم دیا، شیطان نے کونسا راستہ اپنایا؟ شیطان جو آج دنیا کو گمراہ کر رہا ہے، اس کا اختیار اسے کس نے دیا ہے؟ کیا شیطان اپنا اختیار غلط استعمال کر کے سچا شمار ہوگا؟ ارے بھئی اقتدار میں آجانا، اقتدار پر بیٹھ جانا، اقتدار میں لمبا عرصہ رہنا، یہ سچ کی دلیل نہیں ہوتی۔ اگر لمبا عرصہ اقتدار پر قابض رہنا سچائی کی دلیل ہے تو پھر نمرود سچا ہوتا اور فرعون سچا ہوتا۔ سچائی تو یہ ہے کہ قرآن کریم کیا کہتا ہے اور سنتِ رسولؐ کیا کہتی ہے، جو بات بھی قرآن و سنت کے مطابق ہو گی سچ شمار ہو گی، باقی سب غلط ہے۔

2016ء سے
Flag Counter