اسلامی عقائد اور عالمی قوتیں

   
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
یکم مارچ ۲۰۰۲ء

(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)

یہ جو عقیدہ ہے، یہ مسلمان کی سب سے بڑی متاع ہے۔ آج دشمن کو مسلمان کی یہی بات سب سے زیادہ چبھ رہی ہے۔ ابھی چند ہفتے قبل امریکہ کے سابق صدر کلنٹن صاحب سعودی عرب کے دورے پر تشریف لے گئے اور وہاں وہ امامِ کعبہ سے بھی ملے، مصر گئے تو وہاں شیخ الازہر سے بھی ملے۔ یہ ہماری بڑی شخصیات ہیں، علمی لوگ ہیں، امام کعبہ و حرمین اور جامعہ ازہر مصر کے شیخ۔

جدہ میں کلنٹن نے دانشوروں کے اجتماع میں ایک تقریر بھی کی اور اس میں یہ کہا کہ یار موجودہ جنگ میں آپ لوگوں نے ہمارا بہت ساتھ دیا ہے، لیکن بات یہ ہے کہ جب تک عقیدے کی بات نہیں چھوڑو گے تب تک بات نہیں بنے گی۔ یہ جو تم اپنے مدارس میں پڑھاتے ہو کہ یہ خدا ہے، یہ رسول ہے، یہ قیامت ہے، اور ان باتوں پر قائم رہنا ہے، اور یہ کہ اس کے علاوہ باقی عقیدے غلط ہیں، جب تک تم اس عقیدے کی تلقین نہیں چھوڑو گے تب تک تم دہشت گردی کے مخالف نہیں ہو۔ کلنٹن نے کہا کہ تم اوپر اوپر سے ہمارا ساتھ دے رہے ہو لیکن اندر سے اپنے عقیدے پر قائم ہو، بات تب بنے گی جب تم اپنے سکولوں کے نصاب میں، اپنے مدارس کے نصاب میں عقیدے کی تلقین کو چھوڑو گے، تب ہمیں تمہیں مخلص سمجھیں کہ تم ہمارے وفادار ساتھی ہو۔

یہی بات قرآن کریم نے آج سے چودہ سو برس پہلے بڑی وضاحت کے ساتھ کہہ دی تھی ’’ولن ترضٰی عنک الیھود ولا النصارٰی حتّٰی تتبع ملتھم‘‘ (البقرۃ ۱۲۰) جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ نے مخاطب ہو کر فرمایا، اے محمد! یہ یہودی اور عیسائی اس وقت تک آپ سے راضی نہیں ہوں گے جب تک آپ ان کے دین اور عقیدے کی پیروی نہ کریں۔ جب تک آپ اپنے عقیدے کی بات کریں گے، ان کے پیچھے نہیں چلیں گے، ان کی ملت اور دین کی پیروی نہیں کریں گے، یہ آپ سے راضی نہیں ہوں گے۔

کلنٹن نے دوسرے الفاظ میں یہ کہا کہ آپ بے شک اپنے مسلمان بھائیوں کو ماریں، بے شک انہیں ذبح کر دیں، انہیں مار مار کر بھرکس نکال دیں، لیکن پھر بھی ہم آپ کو اپنا صحیح دوست تسلیم نہیں کرتے۔

آپ ہی بتائیے، مسلمان حکمرانوں نے امریکہ کو راضی کرنے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا؟ اس لالچ میں کہ امریکہ ہم سے خوش رہے۔ پچھلے چالیس پچاس سالوں میں مسلمان ممالک کے حکمرانوں نے امریکہ کو خوش کرنے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا، اور وہ کونسی انتہا ہے جہاں تک یہ نہیں پہنچے؟ لیکن آج بھی وہ اپنی جگہ پر کھڑے ہیں۔ سعودی عرب والوں سے مطالبہ یہ ہے کہ جناب اپنے سکولوں اور مدارس کے نصاب میں سے عقیدے کی بات نکالو۔

اور ہم سے ہمارے عقیدے کے متعلق ان کے کیا مطالبات ہیں؟ پاکستان کے صدرِ مملکت کی واشنگٹن میں موجودگی کے دوران امریکی کانگریس نے قرارداد منظور کر کے ہم سے دو مطالبات کیے:

  1. ایک مطالبہ یہ کیا کہ یہ جو قادیانیوں کو تم غیر مسلم کہتے ہو، یہ فیصلہ واپس لو۔ یہ جو تم نے آئین میں لکھا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی ماننے والے مسلمان نہیں ہیں اور قادیانیوں کو اسلام کے نام پر تبلیغ کی اجازت نہیں ہے، یہ فیصلہ واپس لو۔ کیا یہ ہم سے یہ مطالبہ نہیں کر رہے کہ اپنے عقیدے سے منحرف ہو جاؤ؟ میں پھر یہ بات دہراؤں گا کہ بحیثیت ملک ہم نے امریکہ کو خوش کرنے کے لیے کونسی بے غیرتی ہے جو ہم نے نہیں کی۔ اس دنیا میں بے غیرتی کی کونسی قسم ہے جو ہم نے اختیار نہیں کی کہ امریکہ ہم سے خوش رہے۔ لیکن امریکہ ہم سے اب بھی خوش نہیں ہے۔ امریکہ کہتا ہے کہ ٹھیک ہے تم نے اپنے مسلمان بھائیوں کو قتل کرنے میں ہماری مدد کی ہے، ایک اسلامی ریاست کو تہس نہس کرنے میں پوری معاونت کی ہے، لیکن یہ بات کافی نہیں ہے، اپنا عقیدہ چھوڑو گے تب ہم تمہیں اپنا وفادار تسلیم کریں گے۔
    اب صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ امریکہ یہ فیصلہ کر رہا ہے کہ قادیانی مسلمان ہیں۔ دنیا بھر کے علماء کرام، تمام مکاتبِ فکر، دینی حلقے اور مراکز گزشتہ ڈیڑھ سو سال سے چیخ رہے ہیں کہ قادیانی غیر مسلم ہیں۔ جبکہ امریکی کانگریس یہ فیصلہ کر رہی ہے کہ قادیانی مسلمان ہیں۔ اب ہمارے عقیدے کے فیصلے بھی امریکی کانگریس نے کرنے ہیں؟
  2. دوسرا مطالبہ ہم سے اس قرارداد میں امریکہ نے یہ کیا ہے کہ یہ جو تم کہتے ہو کہ جناب نبی کریمؐ اور حضرات انبیاء کرامؑ کی شان میں گستاخی کی سزا موت ہے، یہ قانون منسوخ کرو۔
    یہ بات ہم نہیں بلکہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، اس درجے میں کہ جب حضورؐ ایک فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے تو آپؐ نے کتنی کھلی معافی کا اعلان کیا تھا؟ آپؐ نے ہر دشمن کو معاف فرما دیا تھا، اپنے چچا کے قاتل کو معاف کر دیا، ابو جہل کے بیٹے کو معاف کر دیا، لیکن دو چار نام ایسے تھے کہ جن کے بارے میں فرمایا کہ یہ خانہ کعبہ کے غلاف کے ساتھ بھی چمٹے ہوں تو انہیں قتل کر دو۔ ان میں سے ایک ابن خطل تھا، گستاخِ رسول، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کیا کرتا تھا، تقریریں کرتا تھا، شعر کہتا تھا، قبائل میں دورے کر کے حضورؐ کی شان میں بکواس کیا کرتا تھا۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب کے لیے معافی ہے، ابو جہل کے بیٹے کو بھی معافی ہے، حمزہ کے قاتل کو بھی معافی ہے، مجھ پر کوڑا پھینکنے والوں کو بھی معافی ہے، لیکن ابن خطل کے لیے معافی نہیں ہے، جہاں ملے قتل کر دو۔ صحابہ کرامؓ نے کہا، یا رسول اللہ! وہ خانہ کعبہ کے غلاف کے پیچھے چھپا ہوا ہے، فرمایا اسے وہیں قتل کر دو۔ صحابہؓ نے اسے وہاں سے گھسیٹا اور زم زم کے کنویں کے قریب حرم میں لا کر قتل کیا۔
    یہ میرا اور آپ کا نہیں بلکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے۔ یہ مسلمان کے ایمان کا، اس کی غیرت اور حمیت کا مسئلہ ہے۔ لیکن آج ہم سے امریکہ کا یہ مطالبہ ہے کہ گستاخِ رسول کے لیے موت کی سزا کا قانون منسوخ کرو۔

اب ہم عقائد کی ایک فہرست لکھ کر امریکہ کو بھیجیں کہ جناب بتائیے کہ ہمارا کونسا عقیدہ صحیح ہے اور کونسا عقیدہ غلط ہے؟ لیکن میں یہ عرض کر دوں کہ ہم ضرور بے عمل لوگ ہیں، بد عمل لوگ ہیں، ہمارے اندر ہر طرح کی خرابیاں ہیں، لیکن ہمارے پاس آخری مورچہ، آخری دفاعی لائن عقیدے کے سوا اور ہے کیا؟ قرآن کریم کا عقیدہ، جناب نبی کریمؐ کا عقیدہ، توحید، ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالت۔ یہ ہمارے عقیدے کی بات ہے، ان شاء اللہ العزیز دنیا کی کوئی طاقت مسلمان کو اپنے عقیدے سے اِدھر اُدھر نہیں کر سکتی۔ جو تشدد، جو جبر، جو بربریت، جو درندگی افغانستان کے طالبان کے ساتھ ہوئی ہے اور کہیں ہو سکتی ہے؟ لیکن عقیدہ کسے کہتے ہیں؟

ابھی چند روز پہلے افغانستان کی پچیس کے قریب پڑھی لکھی خواتین کا گروپ جو افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پشاور آکر بیٹھ گئی تھیں، اور یہ خواتین طالبان کی مخالف ہیں۔ ان پچیس کے قریب خواتین کے گروپ میں ایڈووکیٹ اور ججز بھی ہیں۔ گزشتہ دنوں لاہور ہائیکورٹ بار نے ان کو استقبالیہ دیا۔ یہ سب کی سب خواتین پردے کے اہتمام کے ساتھ پروگرام میں شریک ہوئیں۔ جب پریس کلب نے ان سے طالبان کے متعلق سوالات کرنا چاہے تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم سے طالبان کے متعلق کوئی سوال نہ کیا جائے، ہم طالبان کی مخالفت میں کوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ پھر انہوں نے کہا کہ ہم اسلامی نظام پر یقین رکھتی ہیں، شرعی سزاؤں پر یقین رکھتی ہیں، اور ہمارا ایمان یہ ہے کہ قرآن و سنت کے بغیر اور شریعت کے نظام کے بغیر ہمارا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا اور ہم افغانستان میں آج بھی مکمل شرعی نظام کی حمایت میں ہیں۔ یہ ہے عقیدہ اور یہ ہے کمٹمنٹ۔ یہی بات دنیا کو پریشان کر رہی ہے کہ یار اِن لوگوں کو اتنا مارا، اتنا مارا، پھر بھی یہ لوگ اپنے عقیدے پر قائم ہیں۔ اتنی مار پیٹ دیکھ کر بھی آج افغانستان کی ایڈووکیٹ اور پروفیسر عورتیں کہہ رہی ہیں کہ ہمیں شریعت کا نظام چاہیے۔

دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مسلمان کو اس عقیدے پر قائم رکھیں۔ لیکن آج اس عقیدے سے مسلمان کو محروم کرنے کے لیے ایک نئی فکری جنگ شروع ہو گئی ہے۔ آج جو مختلف سطحوں پر ہم سے یہ مطالبات ہو رہے ہیں کہ فلاں عقیدہ چھوڑو اور فلاں عقیدہ سے باز رہو، یہ ایک فکری جنگ ہے، جس کے لیے ہم سب کو تیار رہنا ہوگا اور اپنے عمل سے بتانا ہوگا کہ ہم اپنے عقیدے میں کوئی لچک برداشت نہیں کر سکتے۔

2016ء سے
Flag Counter