(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
گزشتہ کچھ دنوں سے ہمارے ہندوستان کے مسلمان بھائیوں پر جو گزر رہی ہے آپ حضرات اخبارات میں پڑھ رہے ہیں۔ ہم نے کفر کے مطالبات ماننے کا جو رُخ اختیار کیا ہے، ہم نے بڑی طاقت کے سامنے جھکنے اور اس کے احکام ماننے کا جو طرزِ عمل اختیار کیا ہے، یہ اس کا منطقی نتیجہ ہے۔ اس کے ذمہ دار ہم ہیں، اگر ہم سرنڈر نہ ہوتے، ایک کفر کے سامنے ڈٹ جاتے تو دوسرا کفر ہمارے ساتھ یہ معاملہ نہ کرتا۔ جب دنیا نے یہ دیکھ لیا کہ یہ لوگ طاقت کے سامنے جھکنے والے ہیں تو جس کے پاس طاقت ہو گی وہ ہمیں جھکائے گا۔ جب ہم نے دنیا کی طاقتوں کو یہ پیغام دے دیا کہ ہم تو ڈنڈے کے سامنے جھکنے والے ہیں بھئی! اب انڈیا کے ہاتھ میں بھی ڈنڈا ہے یا نہیں؟ انڈیا کو بارڈر پر فوجیں لانے کا یہ حوصلہ کس نے دیا ہے؟ ہم نے دیا ہے۔ انڈیا کو ہم سے مطالبات کرنے کا حوصلہ کس نے دیا ہے؟ ہم نے دیا ہے۔ انڈیا کے انتہا پسندوں کو اندھیرے میں مسلمانوں کی گردن پر ہاتھ ڈالنے کا حوصلہ کس نے دیا ہے؟ ہم نے دیا ہے۔ یہ ہماری قومی بد اعمالیوں کا نتیجہ ہے جن کے نتیجے میں ہمارے مسلمان بھائیوں پر ظلم ہو رہا ہے۔
ہم اس کے علاوہ کیا کہہ سکتے ہیں کہ اب بھی خدا کرے کہ ہمارے حکمرانوں کو کچھ ہوش آجائے، خدا کے لیے اپنا رخ بدلو! جس طرف تم جا رہے ہو، یہ عزت کا راستہ نہیں ہے۔ عزت چند ڈالرز سے نہیں ہوتی، عزت وائٹ ہاؤس میں پروٹوکول ملنے سے نہیں ہوتی، عزت وائس آف امریکہ میں قصیدہ پڑھے جانے سے نہیں ہوتی، بلکہ دنیا میں قوموں کی عزت دوسرے قوموں کے سامنے باوقار طریقے سے کھڑے ہونے سے ہوتی ہے۔ ہم دنیا کی قوموں کے سامنے ذلت کے ساتھ سر جھکائے کھڑے ہوں اور ہمارے صدر صاحب کا وائٹ ہاؤس میں استقبال ہو رہا ہو تو عزت اس کا نام نہیں ہے۔ عزت تو اپنی خود مختاری کو قائم رکھنے میں ہے۔ اب بھی وقت ہے، واپس مڑ جاؤ! ہم تو یہ بات کہتے رہیں گے کہ اس کے سوا کوئی راستہ صحیح نہیں ہے۔ جس رخ پر تم چلے جا رہے ہو، اس پر جتنے قدم آگے چلو گے ذلت کے راستے پر بڑھتے چلے جاؤ گے، خود بھی ذلیل ہو گے اور قوم کو بھی ذلیل کرو گے۔
آپ حضرات سے میری گزارش ہے کہ اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کے لیے اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنے جذبات کا اظہار تو کریں۔ اپنے بھائیوں کو یہ حوصلہ تو دو کہ مسلمان حکومتیں اگر ہمارے ساتھ نہیں ہیں، مسلمان عوام تو ہمارے ساتھ ہیں، ہمارے ساتھ کوئی ہمدردی کرنے والا تو ہے۔ بھارت میں مسلمان ذبح ہو رہا ہے اور ہم یہاں بسنت منا رہے ہیں، ہم یہاں فحاشی کی مجلسیں آباد کر رہے ہیں، اس قوم کے لیے یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ انڈیا میں مسلمان خاندانوں کو گھروں میں بند کر کے آگے سے زندہ جلایا جا رہا ہے، اور ہم یہاں مجرے کروا رہے ہیں۔ گورنر بھی مجرے میں بیٹھا ہے، ڈی سی اور ناظم بھی۔ خدا کے عذاب کو دعوت مت دو، اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔
آپ اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے آواز بلند کریں، جذبات کا اظہار کریں، ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا تو کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم پر اور ہمارے مسلمان بھائیوں پر رحم فرمائے۔ انڈیا میں مسلمانوں کے قتلِ عام پر احتجاج کے لیے آج دینی جماعتیں مشترکہ طور پر شیرانوالہ باغ سے تین بجے دوپہر مشترکہ مظاہرے کا اہتمام کر رہی ہیں، آپ حضرات اس مظاہرے میں شریک ہوں، یہ ’’اضعف الایمان‘‘ ایمان کے کم سے کم درجے کی بات ہے، اس سے تو آپ پیچھے نہ رہیں، اپنے جذبات کا اظہار تو کریں، اپنے مظلوم بھائیوں کو حوصلہ تو دیں، ان پر ہونے والے ظلم پر غصے کا اظہار تو کرو۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم کے خلاف اس غصے کے اظہار کو ایمان کا آخری درجہ قرار دیا ہے۔ آپ اس مظاہرے میں شریک ہوں اور حکمرانوں سے مطالبہ کریں کہ وہ اپنے طرزِ عمل پر نظرِ ثانی کریں، اور انڈیا کے مسلمانوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مسلمان ممالک اپنے اثر و رسوخ کا صحیح استعمال کریں۔

