’’قبولِ روایت میں امام طحاویؒ کے اصول‘‘

   
پیش لفظ / تقریظ / مقدمہ
۲۲ ستمبر ۲۰۲۶ء

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

امام ابو جعفر طحاوی رحمہ اللہ تعالیٰ امت کے ان اساطینِ علم میں سے ہیں جنہوں نے علمِ حدیث، علمِ فقہ، علمِ کلام اور دیگر علومِ دینیہ میں گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں جو ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود اہلِ علم کے استفادہ کا معتمد ذریعہ ہیں اور ہر دور کے علماء کرام اور طلبہ نے ان سے راہ نمائی حاصل کی ہے۔ امام طحاویؒ نے حدیث و فقہ اور اسلامی عقائد کی متوازن تشریح کے ساتھ ساتھ ان اشکالات و اعتراضات کو بھی موضوعِ بحث بنایا ہے جو ان کے دور میں مختلف حلقوں کی طرف سے اٹھائے گئے ہیں بالخصوص احادیثِ نبویہ علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام میں ظاہری تعارض و اختلاف کو رفع کرنے میں ان کا طرزِ استدلال آج بھی قابلِ تقلید ہے۔ انہوں نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ’’شرح معانی الآثار‘‘ کی مختصر تمہید میں اپنی اس کاوش کی وجہ ہی یہ بتائی ہے کہ احادیثِ نبویہ علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام میں نظر آنے والے اختلاف و تعارض کو ملحدین اور ناواقف دونوں طبقوں نے اپنے اعتراض کا ہدف بنایا ہے جبکہ تئیس سال کے طویل عرصہ کو محیط ارشادات و اعمال میں مختلف مواقع و احوال کے باعث یہ اختلاف فطری بات ہے، جو اختلاف و تعارض نہیں بلکہ تنوع ہے جو مختلف احوال و مواقع کا فطری تقاضہ ہوتا ہے کیونکہ اپنے اپنے محل کے حوالہ سے ہر حدیث اور سنت الگ مفہوم رکھتی ہے جسے اگر فہم و تدبر اور ترتیب کے ساتھ دیکھا جائے تو کوئی اختلاف اور تعارض باقی نہیں رہتا۔

امام طحاویؒ کے اس ذوق میں قبولِ روایت کے حوالہ سے ان کے اختیار کردہ اصول کو ہمارے فاضل دوست ڈاکٹر محمد سلیمان اسدی نے اس مقالہ میں واضح کیا ہے جو ایک اہم علمی خدمت ہے اور ہمارے دور میں احادیث و سنن کے فہم و تطبیق کے لیے علماء و طلبہ کی راہ نمائی کے لیے گراں قدر علمی تحفہ ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف موصوف کو جزائے خیر سے نوازیں اور ان کی اس کاوش کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے نفع بخش بنائیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter