(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
اُس زمانے میں مسلمان ریاستوں میں سب سے بڑی ریاست حیدر آباد دکن تھی، اور بڑی امیر ریاست تھی، وہاں کا نواب مسلمان تھا۔ ہوا یوں کہ ریاست والوں نے دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہونے والے کچھ طلبہ کو ملازم رکھا تو وہ کارکردگی میں دوسروں سے بہتر ثابت ہوئے۔ اس وقت دارالعلوم دیوبند کے مہتمم تھے مولانا حافظ محمد احمد صاحب قدس اللہ سرہ العزیز، جو مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ کے والد تھے اور مولانا قاسم نانوتویؒ کے بیٹے تھے۔ حافظ صاحبؒ حیدر آباد دکن کے دورے پر گئے تو نواب حیدر آباد نے پیشکش کی کہ حضرت آپ کے کچھ فاضل ہم نے اپنے محکموں میں رکھے ہیں، یہ دیانتدار بھی ہیں اور ان کی کارکردگی بھی اچھی ہے، تو میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنے سارے فضلاء ہمارے پاس بھیج دیا کریں اور اپنا سال کا بجٹ ہم سے لے لیا کریں، اس کے لیے نصاب میں تھوڑی سی تبدیلی کر لیں، آپ کو سارے سال کا خرچہ دینا بھی ہمارے ذمے، اور فارغ ہونے والے سارے طلبہ کو ملازمت دینا بھی ہمارے ذمے۔ حافظ صاحبؒ نے فرمایا کہ میں خود تو فیصلہ نہیں کر سکتا، ہمارے بڑے زندہ ہیں، حضرت شیخ الہندؒ سے پوچھ کر ہی کچھ بتا سکوں گا۔ حافظ صاحبؒ واپس آئے اور شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسنؒ سے آ کر عرض کیا کہ حضرت! نواب حیدر آباد نے یہ پیشکش کی ہے کہ آپ کے جتنے طلبہ فارغ ہوں گے ان سب کو میں ملازمت دوں گا اور سال کا جتنا آپ کا خرچہ ہوگا میں اٹھاؤں گا، ہماری مرضی کے مطابق نصاب میں کچھ تبدیلی کر لیں۔
اس زمانے میں یہ آداب ہوتے تھے کہ بڑوں کے سامنے چھوٹے زیادہ بات نہیں کرتے تھے۔ حضرت شیخ الہندؒ نے حافظ صاحبؒ سے کہا کہ حضرت گنگوہیؒ حیات ہیں، ہمارے سرپرست ہیں، ان کی خدمت میں جا کر یہ بات عرض کر دو، جیسے وہ فرمائیں گے، ہم کر لیں گے۔ حافظ صاحبؒ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے پاس چلے گئے۔ آخری عمر تھی، حضرت گنگوہیؒ نابینا ہوگئے تھے۔ حافظ صاحبؒ نے جا کر عرض کیا کہ حضرت یہ صورتحال ہے، حضرت شیخ الہندؒ نے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ حافظ صاحبؒ مدرسے کے مہتمم تھے، مہتمم کا جی چاہتا ہے کہ اس کی چندے سے جان چھوٹے اور کہیں سے اکٹھے پیسے مل جائیں۔ حافظ صاحبؒ نے یہ بات کچھ اس انداز سے کہی کہ جیسے ہمارا تو مسئلہ ہی حل ہوگیا ہے۔ حضرت گنگوہیؒ نے اس پر ایک جملہ فرمایا، یہی جملہ میں آپ کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ دینی مدارس کا مشن کیا ہے، فرمایا: ’’مولوی احمد! میں تمہیں بے وقوف سمجھتا تھا لیکن اتنا نہیں‘‘۔ بڑوں کا حق ہوتا ہے کہ ایسی بات کہہ لیں، حضرت گنگوہیؒ حافظ صاحبؒ کے چچا لگتے تھے، ان کے والد کے ساتھی تھے۔ فرمایا: ’’ارے میاں! بھاڑ میں جائے حیدر آباد کی ریاست، ہم نے یہ مدرسہ حیدر آباد کی ریاست کو کلرک فراہم کرنے کے لیے نہیں بنایا۔ ہم نے اسے مسلمانوں کی مسجدیں آباد کرنے کے لیے بنایا ہے کہ مسلمانوں کو نماز پڑھانے والے امام ملتے رہیں اور قرآن پڑھانے والے استاد ملتے رہیں۔ ہم نے مدرسہ اس لیے بنایا ہے کہ مسجدیں ویران نہ ہوں، لوگوں کو نماز پڑھانے والے امام میسر آتے رہیں، قرآن کی تعلیم سے لوگ محروم نہ ہو جائیں، انہیں قاری اور حافظ ملتے رہیں۔ ہماری بلا سے حیدر آباد کی ریاست چلتی ہے یا نہیں، ہم اس سے کیا!‘‘
سمجھدار دوست بیٹھے ہیں، اپنے ضمیر اور ذہن دونوں پر زور ڈال کر دیکھیں کہ آج اس پورے معاشرے میں نماز پڑھانے والا امام، قرآن کریم پڑھانے والا قاری، دین کا مسئلہ بتانے والا عالم، فتویٰ دینے والا مفتی، یہ افراد کون فراہم کر رہا ہے؟ یہ افرادی قوت جو پورے معاشرے میں کھپی ہوئی ہے، یہ کہاں سے آرہی ہے؟ اگر یہ مدارس بند ہو جائیں تو مسجدوں کا کیا حال ہوگا، قرآن کریم کے مکاتب کا کیا حال ہوگا۔ عالمِ اسباب میں اگر ہم آج کلمہ پڑھ رہے ہیں تو اس مدرسے کی وجہ سے پڑھ رہے ہیں، اگر ہم قرآن کریم کی تلاوت کر پا رہے ہیں تو اس مدرسے کی وجہ سے، اگر آج ہمیں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سنت کا تھوڑا بہت علم ہے تو اس مدرسے کی وجہ سے ہے۔ میں اسباب کی دنیا کی بات کر رہا ہوں، ذرا سوچیں کہ اگر یہ مدارس درمیان سے ہٹ جائیں تو کیا ہمیں قرآن کریم کی ایک آیت پڑھانے والا بھی کوئی ہے؟ حضورؐ کی ایک حدیث سنانے والا بھی کوئی ہے؟
آج یہی بات چبھ رہی ہے کہ مدرسوں نے جو دین کو باقی رکھا ہوا ہے، دین کی حفاظت کے یہ جو قلعے ہیں، ان میں دراڑیں ڈال دو۔ پہلے بند کرنے کی دھمکیاں دے کر اور اب دو ارب روپے کا لالچ دے کر۔ ان شاء اللہ العزیز جس طرح دھمکیاں کام نہیں کر سکیں، لالچ بھی کام نہیں کر سکے گی۔ یہ مدرسے اپنا کردار باقی رکھیں گے، آزاد رہیں گے، خود مختار رہیں گے۔ ہمیں گورنمنٹ سے بیس بیس کروڑ کی امداد لینے کی بجائے رسید بک پکڑ کر عام مسلمانوں سے دس دس روپے لینا زیادہ پسند ہے، ان شاء اللہ العزیز۔ یہ حکمران جو دو ارب روپے ہمیں دے رہے ہیں، امریکی انٹرنیشنل ایڈ کے چیئرمین نے گزشتہ دسمبر میں اسلام آباد آکر اعلان کیا تھا کہ دینی مدارس کی اصلاح کے لیے، یعنی امریکہ کے ڈھب پر لانے کے لیے جتنے پیسے ہم سے مانگو، ہم دینے کے لیے تیار ہیں۔ ورنہ یہ حکمران مدرسوں کو پیسے دینے والے! گزشتہ پچاس سال میں انہوں نے مدرسوں کو کیا دیا، آج تمہارے پاس دو ارب روپے دینے کے لیے کدھر سے آگئے؟
اس لیے گورنمنٹ کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور اسے نظر ثانی کرنی ہوگی۔ تمام مکاتب فکر کے مدارس متحد ہیں، اپنی آزادی قائم رکھنے پر، اپنی خودمختاری قائم رکھنے پر، اور ان شاء اللہ اس مسئلے پر لوگ بھی ہمارے ساتھ ہوں گے، ان شاء اللہ العزیز، اللہ تعالیٰ ان مدارس کی آزادی کی حفاظت فرمائے اور اللہ تعالیٰ ان کے خلاف سازشوں کو ناکام بنائے۔

