(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
آپ جانتے ہیں کہ کافی عرصے سے یہ بات چل رہی ہے کہ مدارس آزادی کے ساتھ دینی تعلیم کیوں دیتے ہیں؟ یہ کسی محکمے کے تابع کیوں نہیں ہیں؟ افسروں کے تابع کیوں نہیں ہیں؟ حکومت کے کنٹرول میں کیوں نہیں ہیں؟ الحمد للہ ہر دور میں دینی مدارس نے اپنی آزادی کی حفاظت کی ہے۔ بھئی، جب لوگ آپس میں تعاون کے ساتھ ایک ادارہ بناتے ہیں اور یہ ادارہ لوگوں ہی کے تعاون سے ساتھ چلتا ہے، حکومت سے کوئی پیسہ نہیں لیتا، کسی قسم کی امداد نہیں لیتا، بلکہ حکومت والے دیتے بھی ہیں تو یہ لینے سے انکار کر دیتا ہے، پھر حکومت کو مداخلت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
ہمارے ہاں ہزاروں این جی اوز کام کرتی ہیں، کم از کم چالیس ہزار کے قریب ہیں، وہ باہر سے بھی امداد لیتی ہیں، یہاں سے بھی پیسے اکٹھے کرتی ہیں، ان کے حسابات کا نظام تو ہے لیکن کیا کسی کے داخلی معاملات میں حکومت نے مداخلت کی ہے؟ کبھی ایسا ہوا ہے کہ حکومت نے کہا ہو کہ ہماری مرضی سے اپنا پروگرام طے کرو؟ ہمارے ہاں پرائیویٹ سکول چلتے ہیں، کیا ان کے نصاب گورنمنٹ طے کرتی ہے؟ پرائیویٹ سکول جو فیسیں لے کر سکول چلاتے ہیں، ان کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنا نصاب خود طے کریں، اپنے معاملات خود نمٹائیں۔ یہ بھی انسانی حقوق میں ہے کہ کسی ملک کے شہری اپنی پسند کی تعلیم کے لیے اپنے طور پر انتظام کر سکتے ہیں۔ اگر این جی اوز کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے وسائل خود اکٹھے کر کے اپنی تنظیموں کے نظام اپنی مرضی کے مطابق چلائیں، اگر پرائیویٹ سکولوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ گورنمنٹ کی مدد لیے بغیر اپنے طور پر وسائل اکٹھے کر کے اپنا نظم خود چلائیں، بلکہ کیا الٹی بات ہے کہ جو پرائیویٹ سکول اور کالج گورنمنٹ نے بھٹو دور میں اپنی تحویل میں لیے تھے، اب وہ سب واپس پرائیویٹ سیکٹر میں واپس کر دیے گئے ہیں، لیکن مدرسوں کے لیے حکم یہ ہے کہ جناب تم ہماری تحویل میں آؤ۔ کیوں جی! کیا یہ انصاف کی بات ہے؟ یہ بالکل نا انصافی ہے اور ظلم ہے۔
مدارس کے بارے میں آرڈیننس میں یہ کہا گیا ہے کہ مدارس کے لیے ہر صوبے میں سیکرٹری اوقاف کی سربراہی میں سرکاری بورڈ بنے گا، ہر مدرسے کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنا الحاق اس بورڈ کے ساتھ کروائے، جو مدرسہ الحاق نہیں کروائے گا، چھ ماہ کے بعد اسے بند کر دیا جائے گا، حکومت اپنی مرضی سے اس مدرسے کی جائیداد کو کسی مدرسے کے حوالے کر دے گی۔ سرکاری بورڈ ہی نصاب طے کرے گا کہ کونسے مضامین پڑھانے ہیں اور کیسے پڑھانے ہیں، بورڈ ہی امتحانات لے گا، اساتذہ کا معیار بھی بورڈ طے کرے گا۔ اور کسی بھی مدرسے کی جو بھی انتظامیہ بورڈ کی ہدایات کے مطابق نہیں چلے گی، مہتمم اور ناظم صاحب دو سال کے لیے قید ہوں گے، مدرسہ معطل ہو جائے گا اور گورنمنٹ اپنی مرضی کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر کے اس مدرسے کا نظام چلائے گی۔
یہ مدارس پر قبضہ کرنے کا منصوبہ ہے، اس لیے کل تمام مکاتب فکر کے وفاقوں نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم حکومت کے اس آرڈیننس کو تسلیم نہیں کرتے اور ہم مدارس پر گورنمنٹ کو قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔ کیا آپ اس مسئلے پر ہمارے ساتھ ہیں یا نہیں؟ یہ بات تو طے ہے کہ ہم مدرسے کی چار دیواری، مدرسے کے نظام کو حکومت کے حوالے نہیں کریں گے، اس کے لیے جو قربانی بھی دینی پڑی، ان شاء اللہ العزیز ہم دیں گے۔
۷ اگست کو تمام ملک کی دینی و سیاسی جماعتیں لاہور میں اکٹھی ہو رہی ہیں، وہاں اس کے لیے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔ آپ حضرات سے گزارش ہے کہ ذرا حوصلے سے — ٹھیک ہے، مشکلات آتی ہیں لیکن مشکلات ہی کے راستے سے دین کا بچاؤ ہوتا ہے — ہمت سے، استقامت کے ساتھ اہلِ حق کا ساتھ دیں، اور اپنے اپنے ذرائع سے بھی حکمرانوں پر واضح کریں کہ یہ ظلم مت کرو کہ عیسائیوں کے سکول تو واپس کر رہے ہو، مرزائیوں کے سکول واپس کر رہے ہو، اور مسلمانوں کے مدارس پر قبضہ کر رہے ہو، یہ نا انصافی ہے، ظلم ہے۔ اور اگر یہ لفظ زیادہ سخت نہ ہو تو یہ سراسر بدمعاشی ہے، اسے ہم قبول نہیں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں استقامت اور دینی مدارس کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائیں۔

