لاہور کے چند روزے اور سید سلمان گیلانیؒ

   
۲۶ فروری ۲۰۲۶ء

اِن دنوں چار پانچ روز کے لیے جوہر ٹاؤن لاہور میں عزیزم ڈاکٹر عمار خان ناصر سلّمہ کے گھر میں ہوں۔ میرے بڑے پوتے حافظ طلال خان ناصر کا معمول ہے کہ وہ رمضان المبارک میں اپنے گھر میں تراویح میں قرآن کریم سناتا ہے اور اس کا تقاضہ ہوتا ہے کہ میں بھی چند روز ان کے ساتھ تراویح میں شریک ہو کر چار پانچ پارے سنوں۔ چنانچہ دو تین سال سے معمول بن گیا ہے کہ رمضان المبارک کے پہلے عشرہ کے دوران تین چار دن ان کے ساتھ گزارتا ہوں۔ اس حوالہ سے ایک تو لطیفے کی بات ذکر کرنا چاہوں گا کہ خوش طبعی اور ظرافت والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کے مزاج کا حصہ تھی جو ان کی گفتگو اور تحریروں میں اصحابِ ذوق کو جابجا دکھائی دیتی تھی۔ یہ ذوق بحمد اللہ میرا بھی ہے کہ کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہوں۔ پھر میرے بیٹے ڈاکٹر عمار خان ناصر کا بھی یہ ذوق ہے اور اس کے بیٹوں طلال خان، ہلال خان اور ابدال خان بھی یہ ذوق رکھتے ہیں جس کی ایک ہلکی سی جھلک گزشتہ شب سامنے آئی۔ ہم تراویح کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے، امامت کے مصلّی پر طلال خان تھا اور پیچھے اس کا والد، دادا اور دونوں بھائی صف میں تھے، ہم تکبیرِ تحریمہ کے انتظار میں تھے کہ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور بے تکلفانہ انداز میں کہا: ’’اقامت؟‘‘۔ یہ اتنا اچانک تھا کہ بے ساختہ میری زبان پر اقامت کے الفاظ مچلنے لگے مگر طلال کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر میں ٹھٹھک گیا اور زبان روک لی ورنہ میں نے اقامت پڑھ دینا تھی۔ پھر خاصی دیر تک میں اس خوش طبعی پر خاموشی کے ساتھ محظوظ ہوتا رہا۔

معروف اہلِ حدیث بزرگ مولانا حافظ عبد الرحمٰن مدنی ان دنوں بیمار اور صاحبِ فراش ہیں، ’’شریعت بل‘‘ اور دیگر تحریکات میں ہماری رفاقت رہی ہے، صاحبِ علم بزرگ ہیں اور اجتماعی دینی و ملی معاملات میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔ کل عزیزم ڈاکٹر عمار خان کے ہمراہ ان کی عیادت کے لیے گیا تو وہ بہت خوش ہوئے اور دعاؤں سے نوازا۔ اللہ پاک انہیں صحت کاملہ و عاجلہ سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

وہاں سے شاعر اسلام الحاج سید سلمان گیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ کے گھر تعزیت کے لیے جانے کا ارادہ تھا جس پر مولانا حافظ عبد الرحمٰن مدنی کے فرزند ڈاکٹر حافظ حسن مدنی بھی یہ کہہ کر ہمارے ساتھ ہو گئے کہ میرا بھی ان کی تعزیت کے لیے جانے کو جی چاہتا ہے۔ ڈاکٹر حافظ حسن مدنی پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں اور ملی مجلس شرعی پاکستان میں ہمارے رفیق کار ہیں۔ وحدت روڈ پر مصطفیٰ ٹاؤن میں سید سلمان گیلانی مرحوم کی رہائش گاہ ہے جہاں ان کی زندگی میں بھی جانے کا اتفاق ہو چکا ہے، ان کے بھائی سحبان گیلانی، فرزند اسامہ گیلانی، رفیق کار فیصل بلال حسان، اور دیگر حضرات سے ملاقات ہوئی اور کچھ دیر سلمان گیلانیؒ اور ان کے والد گرامی حضرت الحاج سید امین گیلانی کا تذکرہ چلتا رہا۔

الحاج سید امین گیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ تحریکِ آزادی اور تحریکِ ختمِ نبوت کے بڑے حدی خوانوں میں تھے جن کے کلام اور آواز نے ہمیشہ دینی کارکنوں کو حوصلہ بخشا اور عوام میں جذبات کے تلاطم کو ابھارتے رہے۔ وہ امیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے رفقاء میں سے تھے، شاعری کے متنوع دائروں میں ان کا کلام شوق سے سنا جاتا تھا، ختمِ نبوت اور مدحِ صحابہ کرامؓ ان کے خصوصی موضوعات تھے اور غزل، نظم، قصیدہ، ہجو اور رجزیہ شاعری میں بھی یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ سید سلمان گیلانیؒ نے ان کی زندگی میں ہی ان کا راستہ اپنا لیا تھا بلکہ ان کی جگہ سنبھال لی تھی۔ میرا الحاج سید امین گیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ رابطہ اور نیازمندی کافی عرصہ سے تھی۔ ۱۹۷۰ء کے بعد سید سلمان گیلانیؒ اور ان کے بھائی سید حسان گیلانی مرحوم سے نظمیں سنیں تو یہ وراثت شاہ جی کے بیٹوں میں منتقل ہوتی دکھائی دینے لگی۔ حسان گیلانی تو زیادہ دیر اس راہ پر نہ چل سکے مگر سلمان گیلانیؒ نے اپنے والد مرحوم اور اکابر کے مشن اور جدوجہد کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا اور اسی میں ساری زندگی گزار دی۔

سلمان گیلانیؒ مزاحیہ شاعری کے بھی ماسٹر تھے اور پنجابی کے ساتھ انگلش کو بھی چھیڑ لیتے تھے اور محفلوں کو زعفران زار بنا دینا ان کا کمال تھا۔ جمعیۃ علماء اسلام اور عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت ان کی ترجیحات میں اول درجہ پر تھیں مگر دینی حوالہ سے کوئی جدوجہد اور جماعت بھی ان کی تگ و تاز سے محروم نہیں تھی، خاص طور پر عقیدۂ ختمِ نبوت اور تحفظ ناموسِ رسالتؐ کا عنوان ہوتا تو ان کے لہجے اور جذبات کا تلاطم اور ہی رخ اختیار کر لیتا تھا۔ وہ مجلس آرائی کے فن اور ذوق سے بھی پوری طرح بہرہ ور تھے اور ان کی موجودگی خشک سے خشک مجلس میں بھی قہقہوں کی گونج پیدا کر دیا کرتی تھی۔ میں نے بڑے بڑے بزرگوں کو ان کا کلام سننے کا شائق دیکھا ہے اور بڑے کسی بزرگ کی فرمائش پر سید سلمان گیلانی کا کلام اور لہجہ ان کے ترنم اور خوش گوئی کے ساتھ ساتھ عقیدت و محبت کا عجیب سماں باندھ دیا کرتا تھا۔

آج وہ ہم میں نہیں ہیں مگر ان کی یادیں تادیر زندہ رہیں گی اور ان کی باتیں ان کی کمی کا احساس دلاتی رہیں گی، اللہ تعالیٰ ان انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور تمام متعلقین و لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter