امام اہل سنتؒ کی تصانیف کی اشاعت اور مکتبہ صفدریہ گوجرانوالہ کا آئندہ نظم

   
۳۱ مارچ ۲۰۲۶ء

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

والد گرامی امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تصانیف کی طباعت و اشاعت کا شرعی و قانونی حق اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو ’’وقف علی الاولاد‘‘ کے طور پر سپرد کر کے مکتبہ صفدریہ گوجرانوالہ قائم فرمایا تھا اور اس کا انتظام برادر عزیز مولانا عبد القدوس خان قارن رحمہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا تھا جو اپنی زندگی میں تمام بھائیوں اور بہنوں کے اعتماد اور مشاورت کے ساتھ چلاتے رہے، جس میں ان کے فرزند مولانا عبد الوکیل خان مغیرہ ان کے ساتھ شریک کار تھے۔ چند ماہ قبل حضرت مولانا قارن رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات ہو گئی، اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین۔

اس کے بعد مکتبہ صفدریہ گوجرانوالہ کے نظم و نسق کے حوالہ سے بھائیوں کا ایک مشاورتی اجلاس ۲۸ مارچ ۲۰۲۶ء کو گکھڑ میں برادر عزیز مولانا منہاج الحق خان راشد کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا جس میں درج ذیل حضرات نے شرکت کی: (۱) ابوعمار زاہد الراشدی (۲) مولانا عبد الحق خان بشیر (۳) مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد (۴) مولانا قاری حماد الزہراوی (۵) مولانا منہاج الحق خان راشد (۶) مولانا محمد داؤد خان نوید (۷) مولانا عبد الرزاق واجد (۸) مولانا عبد الرحمٰن خان انس۔

اجلاس میں اتفاق رائے سے یہ طے پایا کہ مکتبہ صفدریہ کو حضرت امام اہل سنتؒ کی ہدایات کے مطابق چلایا جائے گا اور ان کی وصیت کے قانونی اور شرعی تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے تصانیف اور افادات کی طباعت و اشاعت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ جس کے لیے مولانا قاری حماد الزہراوی کی نگرانی میں پانچ رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو اس کا انتظام و اہتمام کرے گی اور پہلے مرحلہ میں اب تک کی مجموعی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے اس کے تمام پہلوؤں کا عید الاضحیٰ تک جائزہ لے کر جامع طریق کار تجویز کرے گی۔ 

اور عید الاضحیٰ کے بعد دوبارہ ہمارا مشترکہ اجلاس ہو گا جس میں اس طریق کار کی منظوری کے بعد یہ پانچ رکنی کمیٹی کام کو آگے بڑھائے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ: (۱) حافظ عبد الوکیل خان مغیرہ (۲) مولانا عبد الرحمٰن خان انس (۳) مولانا داؤد خان نوید (۴) مولانا حافظ محمد عمیر ابن مولانا قاری خبیب احمد عمرؒ (۵) حافظ عبد الرزاق خان واجد ابن مولانا عنایت الوہاب خان ساجد۔

اس موقع پر میں یہ بات ایک بار پھر واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر نور اللہ مرقدہ کی تصانیف کی اشاعت کا قانونی اور شرعی حق ان کی وصیت کے مطابق ان کی اولاد کو حاصل ہے اور شرعی ورثاء کی باقاعدہ اجازت کے بغیر امام اہل سنتؒ کی کوئی تصنیف شائع کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے۔ بعض اداروں کی طرف سے کچھ کتابیں شائع کرنے کا جو سلسلہ سامنے آ رہا ہے وہ شرعاً‌ اور قانوناً‌ درست نہیں ہے اور حضرت امام اہل سنتؒ کے شرعی ورثاء اس پر قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter