(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
آپ حضرات کو معلوم ہوگا کہ سود کے حوالے سے بات چل رہی ہے جو کہ اب تقریباً آخری مرحلے میں ہے۔ گزشتہ بیس سال سے یہ عدالتی جنگ چل رہی تھی۔ اب سپریم کورٹ کے فل بنچ نے یہ فیصلہ دیا کہ جناب سود قرآن و سنت کے خلاف ہے، پاکستان کے دستور کے خلاف ہے، اس لیے حکومت یکم جولائی ۲٠٠۱ء سے ملک میں غیر سودی مالیاتی نظام نافذ کرے۔ چنانچہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ایک کمیشن بنا، اسٹیٹ بینک کے سربراہ امتیاز عالم حنفی کی سربراہی میں، اس کمیشن میں صرف ایک عالم دین تھے مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دیں اور ان کی عمر میں برکت عطا فرمائیں، انہوں نے اس معاملے میں اہلِ دین کے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ میں تفصیل میں نہیں جاتا۔
ایک سال کی طویل کشمکش کے بعد اس کمیشن نے مسودہ مرتب کر کے حکومت کے حوالے کر دیا۔ یعنی سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا تھا کہ ایک کمیشن بناؤ جو مسودۂ قانون مرتب کرے، اور حکومت کو پابند کیا کہ یکم جولائی تک اسے نافذ کرنے کا اہتمام کیا جائے، اس فیصلے کے مطابق یکم جولائی ۲٠٠۱ء کے بعد اس ملک میں کوئی سودی معاہدہ، کوئی سودی کاروبار قانوناً جائز نہیں ہوگا اور یہ قابلِ تعزیر جرم ہوگا جس کی سزا ہو گی۔ کمیشن نے جو مسودہ تیار کر کے دیا کہ اس میں:
- ایک تو غیر سودی نظام کی ترتیب بتائی گئی کہ سود کے بغیر بینکاری سسٹم کس طرح تشکیل پائے گا۔
- دوسرا یہ بتایا گیا کہ غیر سودی بینکاری کو شریعہ بورڈ کنٹرول کرے گا جو تین بڑے علماء اور دو بڑے بینکاروں پر مشتمل ہوگا۔
یہ مسودہ اب حکومت کے پاس ہے۔ لیکن ہوا کیا کہ کمیشن کے ہی ایک رکن نے سپریم کورٹ میں نظرِ ثانی کی درخواست دے دی۔ یونائیٹڈ بینک کے صدر جو کمیشن کے رکن ہیں، انہوں نے کمیشن میں بیٹھ کر تو یہ فیصلہ دیا جو میں نے ذکر کیا ہے، جبکہ باہر آ کر یہ کام کیا کہ سپریم کورٹ میں نظرِ ثانی کی درخواست دے دی۔ ذرا سنیے کہ درخواست کیا دی۔
آج سے پہلے جب عدالتوں میں جاتے تھے تو سود کے حوالے سے ہمارے دو عذر ہوتے تھے:
- ایک یہ کہ متبادل نظام ہمارے پاس نہیں ہے، موجودہ سسٹم ختم کر دیں گے تو بحران اور خلا پیدا ہو جائے گا۔
- دوسرا عذر یہ ہوتا تھا کہ بعض بینکاری کی صورتیں ایسی ہیں جو کہ سود نہیں ہیں، جبکہ ہمارے مولوی صاحبان ضد کر کے انہیں سود قرار دے رہے ہیں۔
پچاس سال تک سود کے حوالے سے جتنی بھی عدالتی جنگیں لڑی گئی ہیں ان میں یہ دو عذر ہوتے تھے۔ اب جبکہ سپریم کورٹ نے فیصلہ دے دیا کہ سود کی تمام قسمیں حرام ہیں، اور پھر اسٹیٹ بینک کی سربراہی میں کمیشن نے متبادل سسٹم بھی دے دیا ہے، یہ دو بہانے تو ختم ہوگئے۔ اب انہوں نے کیا رٹ دی ہے؟ رٹ میں سپریم کورٹ سے یہ کہا گیا ہے کہ جناب آپ کو یہ اختیار تو حاصل ہے کہ آپ کسی قانون کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیں، لیکن آپ کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ قانون کو ختم کرنے کا حکم جاری کر سکیں۔ یہ بات اس سپریم کورٹ سے کہی جا رہی ہے جس نے فردِ واحد کو آئین میں ترمیم کے اختیارات دے دیے ہیں، اس سپریم کورٹ سے کہا جا رہا ہے کہ آپ کو قانون نافذ کرنے کا حکم دینے کا اختیار نہیں ہے۔ اور پھر سپریم کورٹ نے سماعت کے لیے یہ رٹ منظور بھی کر لی ہے۔ اللہ اکبر کبیرا۔
میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے یہ بات کہہ کر، کہ ٹھیک ہے سود قرآن و سنت کے خلاف ہے، لیکن آپ کو ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ بے شک سود قرآن و سنت کے خلاف ہے لیکن ہم اسے ختم نہیں کریں گے۔ ذرا سوچیے کہ اس سے ہماری خدا و رسول کے ساتھ جو جنگ تھی اس میں کمی آئے گی یا شدت پیدا ہوگی؟ اس انکار کے بعد کہ جاؤ ہم سود نہیں ختم کرتے۔ پہلے گول مول انکار تھا، اب صاف انکار ہوگیا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ قوم خدا کے ساتھ جنگ لڑنے کے لیے تیار ہے؟ خدا کا خوف کرو، پہلے تم لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کے احکامات سے انحراف کر کے اس قوم کو تباہ کیا ہے، آج ہم تمہاری ان حماقتوں کی وجہ سے عالمی مالیاتی اداروں کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔
میں بات کو سمیٹتے ہوئے بس یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ اس مسئلے پر ملک بھر کے دینی حلقے سر جوڑ کر بیٹھ رہے ہیں، کل یہاں گوجرانوالہ میں میٹنگ تھی، اسی طرح کل لاہور میں ہے۔ ہم نے اس پر دو تین تجاویز دی ہیں جو میں آپ حضرات کے سامنے پیش کرتا اور اس پر آپ کی تائید حاصل کرنا چاہتا ہوں:
- ایک تو حکومت سے یہ مطالبہ کہ جو پراسیس سپریم کورٹ نے دیا ہے، اس کے نتیجے میں جو مسودۂ قانون مرتب ہوا ہے، اسے رائے عامہ کے لیے مشتہر کیا جائے اور یکم جولائی تک اس کے عملی نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔
- دوسری بات یہ کہ یونائیٹڈ بینک نے اس فیصلے کے خلاف نظرِ ثانی کی اپیل کر کے خود کو قرآن کریم کے شرعی احکام کے مقابل کھڑا کر لیا ہے۔ اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ مسلمان یونائیٹڈ بینک کا بائیکاٹ کریں، ہم اپنے ملک کے کسی ادارے کو یہ حق نہیں دیں گے کہ وہ قرآن و سنت کے احکامات کے خلاف یوں کھڑا ہو کہ ہم شرعی احکام نہیں مانتے۔
اس سلسلے میں گوجرانوالہ کے تمام مکاتب فکر کا ایک کنونشن یہاں آپ کی جامع مسجد میں ۲۹ مئی کو ہو رہا ہے جس میں ہم طریقۂ کار کا اعلان کریں گے۔ آپ حضرات اس میں تعاون کریں، اس میں ہمارا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے، یہ اللہ کے دین کا معاملہ ہے، قرآن و سنت کی بالادستی کا معاملہ ہے، اللہ اور اس کے رسول کے احکام کا معاملہ ہے۔ ان شاء اللہ العزیز یہ قانونی جنگ ہم لڑیں گے اور اس ملک میں قرآن و سنت سے انحراف کی کسی شخص کو، کسی ادارے کو، کسی حکومت کو کسی قیمت پر اجازت نہیں دیں گے۔

