’’زاد المقررین‘‘ اور ’’تحفۃ الخطباء‘‘

   
پیش لفظ / تقریظ / مقدمہ
۲۹ نومبر ۲۰۲۳ء

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

فاضل عزیز مولانا شاہ نواز فاروقی ہمارے دور کے ان خطباء میں سے ہیں جو وعظ و خطابت کے ساتھ ساتھ تدریس و مطالعہ کا بھی ذوق رکھتے ہیں۔ اس لیے ان کے خطابات میں تقریر و خطابت کی فنی خوبیوں اور معلومات اور راہنمائی کا حسین امتزاج ہوتا ہے جس سے اصحابِ ذوق محظوظ ہوتے ہیں اور مستفید بھی ہوتے ہیں۔ سیرت نبوی علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تعارف و دفاع ان کی تقاریر کے عام موضوعات میں سے ہیں جو آج کے دور میں نسلِ انسانی کی ضروریات میں سے ہیں، اس لیے بھی کہ ان مقدس شخصیات کے ساتھ ہماری عقیدت و نسبت ہمارے لیے ایمان کی ترقی اور روحانی سکون و طمانیت کا باعث ہیں بلکہ بھٹکے ہوئے انسانی سماج کو ان سے متعارف کرنا بھی نسلِ انسانی کے بہتر مستقبل کا تقاضہ ہے۔

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس جاہلیت کا سامنا تھا اور آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر آزما جدوجہد کے ساتھ ان جاہلی اقدار سے انسانی معاشرہ کو یہ فرما کر نجات دلائی تھی کہ ’’کل امر الجاہلیۃ موضوع تحت قدمی‘‘ جاہلیت کی ساری قدریں آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں؛ اور پھر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم بالخصوص خلفاء راشدین رضوان اللہ علیہم نے ایک صدی کی مسلسل تگ و دو کے ساتھ جاہلیت سے پاک معاشرہ کا عملی نقشہ دنیا کے سامنے پیش کر دیا تھا، آج وہ تمام تر جاہلی اقدار کفر، بت پرستی، نسلی تفاخر، شراب، زنا، جوا، ہم جنس پرستی، سود، عریانی اور باہمی ظلم و تعدی کی صورت میں انسانی سماج پر نہ صرف حکمرانی کر رہی ہیں بلکہ انہیں ارتقا، سولائزیشن اور ترقی و تہذیب کے عروج کے عنوان سے پوری دنیا پر مسلط کیا جا رہا ہے۔

چنانچہ اس تہذیبی دھاندلی اور ثقافتی دھماچوکڑی کی دلدل سے نسلِ انسانی کو نکالنے کے لیے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و اسوہ اور خلفاء راشدین و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی عملی و معاشرتی زندگی سے ایک بار پھر دنیا کو متعارف کرانا ضروری ہے اور مولانا شاہ نواز فاروقی اور ان کے ذوق کے دیگر اساتذہ، خطباء اور راہنماؤں سے توقع ہے کہ وہ اپنے ذوق اور صلاحیت کے ساتھ اس میدان میں مؤثر پیشرفت کریں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اِس وقت مولانا فاروقی کے خطبات کے دو مجموعے (۱) زاد المقررین اور (۲) تحفۃ الخطباء جلد اول میرے سامنے ہیں جو اسی امید اور توقع کے حوالہ سے میرے لیے اطمینان بخش ہیں، اللہ تعالیٰ اس کاوش کو قبولیت سے نوازیں، آمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter