باسمہ تعالیٰ
محترمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی؟
گزارش ہے کہ پاکستان کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالِ رواں کی رپورٹ کا خلاصہ پیش خدمت ہے جس میں (۱) امتناعِ قادیانیت آرڈیننس (۲) توہین رسالت کی سزا کے قانون اور (۳) زنا کی شرعی سزا کے آرڈیننس کو بطور خاص ہدفِ تنقید بنایا گیا ہے اور یہ ہمارے مذہبی معاملات میں مداخلت اور پاکستان کو اسلامی اصولوں سے ہٹ کر انسانی حقوق کے مغربی فلسفہ کا پابند بنانے کی مہم کا ایک حصہ ہے۔
اس سلسلہ میں مؤثر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ آنجناب سے استدعا ہے کہ اس رپورٹ کے خلاف مؤثر اخباری بیان کے علاوہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور حکومتِ پاکستان کو اپنی جماعت اور ادارے کی طرف سے خط بھی ارسال فرمائیں اور مغربی ممالک میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی دیگر مسلم تنظیموں اور اداروں کو بھی اس طرف توجہ دلائیں۔
بے حد شکریہ، والسلام
ابوعمار زاہد الراشدی
نزیل لندن — ۳۵ سٹاک ویل گرین، لندن
پاکستان میں مذہبی اقلیتیں مظالم کا شکار ہیں۔ امریکہواشنگٹن (پی ٹی آئی) امریکہ نے سیکولر اقدار پر کاربند رہنے پر بھارت کی تعریف اور اقلیتوں کو مظالم کا نشانہ بنانے پر پاکستان پر تنقید کی ہے۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے مذہبی آزادی سے متعلق کانگرس کے لیے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے جس کا آئین مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے اور اس حق کا عملی احترام کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت میں عیسائیوں کے مذہب تبدیل کرنے پر پابندی کا کوئی قانون نہیں لیکن بھارت ۱۹۶۰ء کی دہائی کے وسط سے نئے غیر ملکی مشنریوں کو سکونت دینے سے انکار کر رہا ہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں پر مظالم ہو رہے ہیں، توہینِ مذہب کے قانون اور امتیازی مذہبی قانون سے اقلیتوں کے خلاف تشدد کو ہوا ملی ہے، اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا کہ کئی واقعات میں انتہاپسند مسلمانوں نے مذہبی اقلیتوں کے افراد پر حملے کیے، ان کی عصمت دری کی اور حتیٰ کہ قتل بھی کیے۔ رپورٹ کے مطابق کئی واقعات میں پولیس ضروری احتیاطی اقدامات اٹھانے، تحقیقات کرنے، یا ذمہ دار افراد پر مقدمہ چلانے میں ناکام رہی ہے اور ایسی صورتحال میں کئی مذہبی اقلیتوں میں عدمِ تحفظ کا احساس پیدا ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ پاکستان کے آئین میں سرکاری ملازمت میں کسی قسم کے امتیاز پر پابندی ہے لیکن سرکاری اداروں اور خصوصاً اعلیٰ عہدوں پر مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ نے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے لیے مساوی قانونی تحفظ پر زور دیا ہے۔
(ڈیلی جنگ، لندن۔ ۲۴ جولائی ۱۹۹۷ء)

