افغانستان کا بحران اور ہمارا افسوسناک طرز عمل

   
دسمبر ۲۰۲۱ء

روزنامہ اسلام لاہور ۲۷ نومبر ۲۰۲۱ء کی خبر کے مطابق امارتِ اسلامی افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی محمد امیر خان متقی اپنے وفد کے ہمراہ دوحہ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ افغانستان کی تازہ ترین صورتحال کے حوالہ سے امریکی حکمرانوں سے مذاکرات کریں گے۔ جبکہ اخبار کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات جناب فواد چوھدری نے اسلام آباد میں اے پی پی کے ملازمین کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلحہ کی جنگ تو ختم ہو گئی اب باتوں کی جنگ جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی جنگ ساڑھے تین گھنٹے میں ختم ہو گئی تھی جب کابل کے حکمران بھاگ گئے تھے اور امریکہ جنگ ہار گیا تھا مگر اب باتوں اور بیانیہ کی جنگ جاری ہے۔

ہمارے خیال میں فواد چوہدری نے موجودہ صورتحال کے حوالہ سے ایک اہم سوال کا جواب دیا ہے کہ جب تمہاری جنگ ختم ہو گئی ہے تو اب کیا ہو رہا ہے اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے نئے مرحلہ کی کیا ضرورت پیش آگئی ہے جس کے لیے دوحہ میں مذاکرات کے ایک اور دور کا آغاز ہو گیا ہے؟ وفاقی وزیر اطلاعات نے اس کی وجہ باتوں اور بیانیہ کی جنگ کو قرار دیا ہے اور ہمیں اس حد تک ان کی بات سے اتفاق ہے کہ اب جنگ باتوں اور بیانیہ کی ہے، مگر اس سے اگلی بات بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ صرف باتوں کی جنگ نہیں بلکہ نظریات اور تہذیب و ثقافت کی جنگ ہے جس کے ذریعے میدانِ جنگ میں افغان طالبان کے ہاتھوں واضح شکست سے دوچار ہونے والی قوتیں اس جنگ کے مقاصد کو معاشی دباؤ اور نفسیاتی حربوں کے ذریعے حاصل کرنے کے درپے ہیں، اور امریکی اتحاد اس کوشش میں ہے کہ فلسفہ و نظام اور تہذیب و ثقافت کے غلبہ کا جو ایجنڈا وہ ہتھیاروں کی جنگ میں پورا نہیں کر سکا اس کی تکمیل کے لیے سیاسی، معاشی اور نفسیاتی ہتھیاروں کو بروئے کار لا کر اپنی شکست کو فتح میں تبدیل کر لیا جائے۔

ہمارے نزدیک اس وقت افغان قوم تین بحرانوں سے دوچار ہے جو زیادہ تر مصنوعی ہیں اور امریکہ اور اس کے حواریوں کی پیدا کردہ ہیں:

  • افغانستان کی آزادی اور خود مختاری کو افغان قوم کے کسی فیصلہ کے علی الرغم بین الاقوامی معاہدات اور مغرب کے سیاسی شکنجے میں جکڑ لیا جائے تاکہ وہ ان بین الاقوامی معاملات کے بارے میں آزادی کے ساتھ خود کوئی فیصلہ نہ کر سکیں۔
  • امارتِ اسلامی افغانستان کو ملک میں اسلامی شریعت کے نفاذ اور اپنے عقیدہ و ثقافت کے مطابق کوئی نظام قائم کرنے سے ہر قیمت پر روکا جائے۔
  • افغانستان کو معاشی ناکہ بندی اور بائیکاٹ کے ذریعے ایسے حالات سے دوچار کر دیا جائے کہ وہ ایک آزاد اور خود مختار ملک کے طور پر کوئی نظم قائم نہ کر سکے اور سنگین ترین معاشی بحران کو حل کرنے کی بجائے مسلسل بڑھاتے ہوئے افغان قوم کو مغربی فلسفہ و ثقافت کو بہرحال اختیار کرنے پر مجبور کر دیا جائے۔

اس مقصد کے لیے نہ صرف یہ کہ امارتِ اسلامی افغانستان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے بلکہ دنیا کو ان کی معاشی امداد سے دور رکھنے کے لیے ہر قسم کے دباؤ اور حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حتٰی کہ امارت اسلامی افغانستان کے اس تقاضے کو بھی بے رحمانہ انداز میں نظر انداز کیا جا رہا ہے کہ اگر خود افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کر دیے جائیں تو وہ کسی اور بیرونی مدد کے متقاضی نہیں ہیں۔ یہ سب کچھ مسلسل ہو رہا ہے، ساری دنیا کے سامنے ہو رہا ہے اور پوری ڈھٹائی کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جس میں مغربی ملکوں اور استعماری قوتوں کا کردار تو سمجھ میں آتا ہے مگر مسلّمہ مسلم ممالک بالخصوص اسلامی جمہوریہ پاکستان کا طرز عمل کم از کم ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’المسلم اخو المسلم لا یَظلمہ ولا یُسلمہ‘‘ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے نہ خود اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کو ظلم کے لیے کسی اور کے حوالے کرتا ہے۔ جبکہ امت مسلمہ اس وقت خاموش تماشائی دکھائی دے رہی ہے بلکہ جب بھی کسی عملی کردار کا موقع آتا ہے تو اس کا وزن اور جھکاؤ منفی نظر آنے لگتا ہے۔ ان حالات میں مسلم حکومتوں سے کسی خیر کی توقع تو اب نظر نہیں آتی مگر علم و دانش اور رائے عامہ کا وہ میدان ضرور موجود ہے جس میں اربابِ فکر و دانش اگر کچھ کرنا چاہیں تو اس کا راستہ نکالا جا سکتا ہے۔

اس لیے ہم اربابِ علم و دانش سے گزارش کریں گے کہ وہ خاموش تماشائی بنے رہنے کی بجائے اپنے کردار کو مؤثر طریقہ سے ادا کرنے کی کوئی صورت پیدا کریں۔ جبکہ اصحابِ ثروت سے بھی یہی گزارش ہے کہ اس سنگین معاشی بحران میں اپنے افغان بھائیوں کی امداد پر سنجیدہ توجہ دیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter