مولانا محمد اشرف ہمدانی ؒ

   
فروری ۲۰۱۳ء

۱۶ جنوری کو صبح نماز فجر کے بعد درس سے فارغ ہوا تھا کہ ڈاکٹر حامد اشرف ہمدانی نے فون پر بتایا کہ ان کے والد محترم مولانا محمد اشرف ہمدانیؒ کا فیصل آباد میں انتقال ہوگیا ہے۔ زبان پر بے ساختہ انا للہ وانا الیہ راجعون جاری ہوا اور ڈاکٹر صاحب موصوف سے تعزیت و تسلی کے چند کلمات کہے، مگر جنازے میں شریک نہ ہو سکا۔

مولانا محمد اشرف ہمدانیؒ کے ساتھ میرا پرانا تعلق تھا، وہ اس زمانے میں گوجرانوالہ کی پل لکڑ والا کی مسجد میں خطیب و امام تھے جب ہم نے گوجرانوالہ میں جمعیۃ علماء اسلام کی رکنیت سازی اور تنظیم کا کام شروع کیا تھا۔ میرا وہ طالب علمی کا آخری دور تھا اور ہمیں اس محنت میں مولانا محمد اشرف ہمدانیؒ کا بھرپور تعاون حاصل تھا۔ وہ اپنے دور کے ممتاز خطباء میں شمار ہوتے تھے اور ان کے خطبات جمعہ اور دروس گوجرانوالہ میں اور پھر فیصل آباد میں عام لوگوں کے لیے کشش اور استفادے کا ذریعہ ہوا کرتے تھے۔ میرا ان سے رابطہ شیرانوالہ لاہور کے حوالہ سے بھی تھا کہ وہ بھی میری طرح شیخ مکرم حضرت مولانا عبید اللہ انور قدس اللہ سرہ العزیز سے ادارت و عقیدت کا تعلق رکھتے تھے اور شیرانوالہ لاہور کی حاضری میں ہمارا اکثر ساتھ رہتا تھا۔

گوجرانوالہ میں چند سال خطابت کے جوہر دکھا کر وہ فیصل آباد چلے گئے اور جناح کالونی کی مرکزی جامع مسجد میں بطور خطیب خدمات سر انجام دینا شروع کیں، ان کی خطابت نے فیصل آباد میں اپنا رنگ جمایا اور دیوبندی مسلک کی ترجمانی اور ترویج کی جدوجہد میں حضرت مولانا مفتی زین العابدین، حضرت مولانا تاج محمودؒ اور حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کے ساتھ ان کا نام بھی نمایاں ہوتا چلا گیا۔ تحریک ختم نبوت ان کا خصوصی میدان تھا، چنانچہ انہوں نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے فورم پر نہ صرف اس محاذ پر مسلسل خدمات سر انجام دیں بلکہ ۱۹۷۳ء میں قادیانیوں کو دستوری طور پر غیر مسلم قرار دیے جانے کے بعد چناب نگر (ربوہ) میں قادیانیوں کی آبادی کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو آباد کرانے، مسلم کالونی کی ترقی اور وہاں ختم نبوت کی مسجد و مرکز کی تعمیر میں متحرک کردار ادا کیا اور فیصل آباد کے علماء کرام اور تاجران کو اس اہم کام کی طرف متوجہ کرنے کے لیے حضرت مولانا تاج محمودؒ اور حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کے ساتھ ان کے دست و بازو کے طور پر محنت کی۔ جناح کالونی کی مرکزی جامع مسجد سے الگ ہونے کے بعد انہوں نے ملت ٹاؤن میں جامع مسجد آمنہ اور اس کے ساتھ روحانی خانقاہ کا نظام قائم کرنے میں اپنی صلاحیتیں صرف کیں اور بہت سے لوگوں کے عقائد کی اصلاح اور دینی و روحانی تربیت کا ذریعہ بنے۔

شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ کے ساتھ خصوصی عقیدت رکھتے تھے اور ان کی گفتگو و خطابت میں ان بزرگوں کے فیوض کا اکثر تذکرہ رہتا تھا، والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے ساتھ بھی ان کا مسلسل ربط و تعلق رہا اور وہ ان کے خوشہ چینوں میں شمار ہوتے تھے۔ چند ہفتے قبل حافظ ریاض احمد قادری کے ہمراہ حاضر ہوا، بستر علالت پر تھے، ضعف کا غلبہ تھا مگر بذلہ سنجی اسی طرح تھی جیسے جوانی کے زمانے میں ہوا کرتی تھی، کھلے مزاج اور بے تکلفانہ گفتگو کے عادی تھے۔ اس روز بھی کھلے مزاج کے ساتھ اور کھلے ماحول میں بہت سی باتیں کیں، لطیفے بھی ہوئے اور چٹکلے بھی سنائے۔ مجھے خوشی ہوئی کہ بیماری اور ضعف نے ان کے مزاج کو متاثر نہیں کیا۔ وہ کم و بیش پچھتر برس کی زندگی گزار کر اپنے خالق حقیقی کے حضور پیش ہوگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا ہمدانی رحمہ اللہ تعالیٰ کو جنت الفردوس میں جگہ دیں اور پسماندگان کو ان کی حسنات جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter