’’آثارِ سیرت‘‘

جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ ہماری دینی راہ نمائی اور تعلیم و تربیت کا ایک مستقل ماخذ ہے کیونکہ ’’لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ‘‘ کے حکمِ خداوندی کی بجا آوری کے لیے سیرتِ طیبہ کے تاریخی اور واقعاتی ماحول سے واقفیت ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے مگر ہمارے ریاستی و معاشرتی تعلیمی نظام و نصاب میں سیرتِ طیبہ بطور سیرتِ طیبہ باقاعدہ شامل نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جولائی ۲۰۲۶ء

’’آل پارٹیز تحفظِ ناموسِ رسالت کانفرنس‘‘

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ’’آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس‘‘ کا یہ نمائندہ دینی و قومی اجتماع وطنِ عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کو درپیش سیاسی، انتظامی، معاشی، دینی و تہذیبی مسائل و مشکلات پر شدید اضطراب اور بے چینی کا اظہار کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ قومی معاملات میں مسلسل بیرونی دخل اندازی اور دستور و شریعت کے ناگزیر تقاضوں سے صَرفِ نظر کا یہ منطقی نتیجہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۲۴ء

’’احسن البیان فی تحفیظ القرآن‘‘

قرآن کریم کے حفظ اور تجوید و قرأت کی تعلیم ہمارے دینی تعلیم کے نظام کا سب سے بڑا اور بنیادی دائرہ ہے جس میں ابتدا سے ہی تعلیم و تدریس اور تربیت و اصلاح کا کام ہو رہا ہے اور اس کے تنوع اور وسعت میں بحمد اللہ تعالیٰ دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہر دور میں حفظ و تجوید کے ماہرین پورے ذوق و محنت کے ساتھ اس عمل کا حصہ رہے ہیں اور آج بھی یہ محنت ترقی کی طرف گامزن ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جون ۲۰۲۶ء

تحفظ ختم نبوت و ناموس  رسالتؐ    کا ایک ناگزیر تقاضہ

پرسوں سات ستمبر کو ملک بھر میں ’’یومِ ختمِ نبوت‘‘ منایا گیا ہے۔ ہر سال اس موقع پر اجتماعات ہوتے ہیں، ریلیاں نکالی جاتی ہیں، سات ستمبر ۱۹۷۴ء کو قادیانیوں کے بارے میں پارلیمنٹ کے تاریخی فیصلے کی یاد تازہ کی جاتی ہے اور فیصلہ کرنے والے قائدین اور طبقات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے تحریک ختم نبوت کے مطالبات اور تقاضوں کو دہرایا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹   ستمبر ۲۰۲۶ء

دورِ فتن میں ایمان کی قیمت

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نشانیاں بتائی تھیں وہ ایک ایک کر کے پوری ہو رہی ہیں۔ کل ہی میں نے طبرانی کی ایک روایت پڑھی ہے، فرمایا: تمہارا قتلِ عام ہوگا، نہرِ اردن کے مغربی کنارے پر ’’علی غرب نہر الاردن‘‘۔ اس زمانے میں صحابیؓ کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ پتہ نہیں تھا کہ اردن کہاں ہے اور نہرِ اردن کدھر ہے۔ نہرِ اردن کے کنارے پر تمہاری لاشیں بکھریں گی اور تمہارا قتلِ عام ہوگا۔ کیا خیال ہے جی! ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مارچ ۲۰۰۲ء

مولانا محمد امجد خان کو مبارکباد

گرامئ قدر حضرت مولانا محمد امجد خان۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ جمعیت علماء اسلام (پنجاب) کی امارت کا منصب بہت بہت مبارک ہو۔ اللہ پاک آپ کو حضرت خطیبِ اسلام مولانا اجمل خان رحمہ اللہ تعالیٰ کی عظیم روایات کو آگے بڑھانے کی توفیق سے نوازیں اور مسلسل ترقیات و برکات سے بہرہ ور فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ مکمل تحریر

۶ ستمبر ۲۰۲۶ء

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا مشترکہ دفاعی معاہدہ

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے کی خبر اس پُرآشوب ماحول میں تپتی دوپہر میں ٹھنڈی ہوا کے خوشگوار جھونکے کی طرح محسوس ہوئی، اور بے ساختہ زبان سے الحمد للہ رب العالمین کے ساتھ جذباتِ تشکر کا سیلاب امنڈ آیا، الحمد للہ علیٰ ذٰلک۔ یہ امتِ مسلمہ کے دلوں کی آواز اور ملت کے نظریاتی اور شعوری کارکنوں کی امیدوں کا اظہار ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ اگست ۲۰۲۶ء

مولانا سعید الرحمٰن علویؒ کا مجموعۂ نگارشات اور حالاتِ زندگی

حضرت مولانا محمد سعید الرحمٰن علوی رحمہ اللہ تعالیٰ میرے طالب علمی اور تحریکی دور کے رفقاء میں سے تھے، انہوں نے اپنے برادر بزرگ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن خورشید کے ہمراہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورۂ حدیث کیا اور ہمارے شیخین کریمین حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی رحمہما اللہ تعالیٰ سے تلمذ حاصل کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ فروری ۲۰۲۶ء

’’زاد المقررین‘‘ اور ’’تحفۃ الخطباء‘‘

فاضل عزیز مولانا شاہ نواز فاروقی ہمارے دور کے ان خطباء میں سے ہیں جو وعظ و خطابت کے ساتھ ساتھ تدریس و مطالعہ کا بھی ذوق رکھتے ہیں۔ اس لیے ان کے خطابات میں تقریر و خطابت کی فنی خوبیوں اور معلومات اور راہنمائی کا حسین امتزاج ہوتا ہے جس سے اصحابِ ذوق محظوظ ہوتے ہیں اور مستفید بھی ہوتے ہیں۔ سیرت نبوی علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تعارف و دفاع ان کی تقاریر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ نومبر ۲۰۲۳ء

’’فلسفۂ ختمِ نبوت اور احمدیہ تحریک: تاریخی و تجزیاتی مطالعہ‘‘ (جلد دوم)

امتِ مسلمہ کو درپیش فتنوں میں انکارِ ختمِ نبوت کا فتنہ سب سے قدیم اور سنگین چلا آ رہا ہے اور آج یہ فتنہ اسلام اور اسلامیت کے خلاف فکری و نظریاتی جنگ میں اسلام دشمن عالمی قوتوں کا سب سے بڑا ہتھیار اور مورچہ ہے جہاں سے ختمِ نبوت کے بنیادی عقیدہ کے ساتھ ساتھ امتِ مسلمہ کی وحدت اور مرکزیت کو بھی مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ہم پاکستانیوں کو بالخصوص مقامی، علاقائی، قومی اور بین الاقوامی ہر ماحول میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ ستمبر ۲۰۲۵ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter