سعودی حوثی جنگ میں حرمین شریفین کو درپیش خطرات
آلِ سعود کے بارے میں سب سے زیادہ میں نے لکھا ہے اور اپنے اس لکھے ہوئے پہ قائم ہوں، بیسیوں مضامین میں نے لکھے ہیں۔ وہ تقسیم جو برطانیہ نے کی تھی ایک صدی پہلے مشرقِ وسطیٰ کی، اس تقسیم میں جو جو بھی جہاں کھڑا ہے وہ میرے سامنے ہے سب کچھ، لیکن جب بات آتی ہے حرمین شریفین کی تو سارے تحفظات بالائے طاق ہو جاتے ہیں۔ ہمارے نزدیک حرمین شریفین کا تقدس، اس کی حفاظت ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’قبولِ روایت میں امام طحاویؒ کے اصول‘‘
امام ابو جعفر طحاوی رحمہ اللہ تعالیٰ امت کے ان اساطینِ علم میں سے ہیں جنہوں نے علمِ حدیث، علمِ فقہ، علمِ کلام اور دیگر علومِ دینیہ میں گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں جو ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود اہلِ علم کے استفادہ کا معتمد ذریعہ ہیں اور ہر دور کے علماء کرام اور طلبہ نے ان سے راہ نمائی حاصل کی ہے۔ امام طحاویؒ نے حدیث و فقہ اور اسلامی عقائد کی متوازن تشریح کے ساتھ ساتھ مکمل تحریر
قادیانیوں کا دیرینہ خواب اور وارثانِ ختمِ نبوت کی جدوجہد
قادیانیوں کا فتنہ بدستور چلا آرہا ہے، یہ لوگ دنیا کے مختلف علاقوں میں ہیں، اور اتفاق کی بات دیکھیں کہ جہاں جہاں انگریز کی حکومت ہے وہاں وہاں مرزائی بڑی مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ یہ لوگ اپنے دجل اور فریب کے ذریعے سادہ لوح مسلمانوں کو قابو کرتے ہیں۔ آپ ایک بات سے اندازہ کریں کہ آج سے چند سال قبل جب وسطی ایشیا کی ریاستیں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے نتیجے میں آزاد ہوئیں، ازبکستان اور تاجکستان وغیرہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ہمارے نظامِ تعلیم کا مستقبل؟
ملک کے جو حالات ہیں وہ آپ حضرات دیکھ رہے ہیں اور آئندہ جو حالات آنے والے ہیں وہ ہم دیکھ رہے ہیں۔ حالات کیسے بھی ہوں، نہ پہلے ہم کبھی گبھرائے ہیں، نہ آئندہ ان شاء اللہ العزیز گبھرائیں گے، صورتحال کیسی بھی ہو اس کا سامنا کریں گے۔ بہت سے دوست مجھ سے صدارتی ریفرنڈم کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا کیا ہو گا؟ میں عرض کرتا ہوں کہ بھئی آپ ریفرنڈم کے لیے جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مذہبی اقلیتوں کے بارے میں امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ
گزارش ہے کہ پاکستان کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالِ رواں کی رپورٹ کا خلاصہ پیش خدمت ہے جس میں (۱) امتناعِ قادیانیت آرڈیننس (۲) توہین رسالت کی سزا کے قانون اور (۳) زنا کی شرعی سزا کے آرڈیننس کو بطور خاص ہدفِ تنقید بنایا گیا ہے اور یہ ہمارے مذہبی معاملات میں مداخلت اور پاکستان کو اسلامی اصولوں سے ہٹ کر انسانی حقوق کے مغربی فلسفہ کا پابند بنانے کی مہم کا ایک حصہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی جمہوریہ پاکستان اور دستور کی پاسداری کا حلف
دو اہم اخباری تراشے ارسال ہیں، انہیں بغور ملاحظہ فرمائیں، ان کے مطابق اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے حلف نامہ میں ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کے نام سے ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ کے الفاظ اور ’’دستور کی پاسداری‘‘ کا حلف خارج کر دیا گیا ہے اور مالیاتی نظام کو شرعی نظام کے مطابق بنانے کے لیے جو کمیشن بنایا گیا ہے اس میں اکثریت ایسے افراد کی ہے جو سودی نظام کے حامی رہے ہیں - - - مکمل تحریر
امریکی خوشنودی کو دین بنانے والے!
حکمرانو! خدا کے لیے کچھ انسانیت سے کام لو، پاکستان ایک ملک ہے، اس کی سرحدیں ہیں، اس کے اپنے قانون اور ضابطے ہیں، اس ملک کی سالمیت اور خود مختاری کے بھی کچھ تقاضے ہیں، اس حد تک مت جاؤ۔ حالات ان شاء اللہ العزیز بدلیں گے، ان بدلے ہوئے حالات کو سامنے رکھ کر اپنے طرزِ عمل کا تعین کرو۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو ہدایت دے، اور امریکہ کی غلامی میں انتہا تک جانے والے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ہمارے ایمان کا کیا حال ہے؟
آپ نے اخبارات میں پڑھ لیا ہوگا کہ امریکہ سے ایک تجویز آئی ہے۔ امریکہ کا ایک رسالہ ہے ’’نیشنل ریویو‘‘، اس کے مضمون نگار نے ایک سروے کرنے کے بعد لکھا ہے کہ مسلمان جو اتنے بپھرے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان امریکہ کے خلاف نفرت بڑھتی جا رہی ہے، اس کا حل کیا ہے؟ اس نے تجویز دی ہے کہ مکہ مکرمہ پر ایٹمی حملہ کر دو، قصہ ہی ختم ہو جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’آثارِ سیرت‘‘
جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ ہماری دینی راہ نمائی اور تعلیم و تربیت کا ایک مستقل ماخذ ہے کیونکہ ’’لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ‘‘ کے حکمِ خداوندی کی بجا آوری کے لیے سیرتِ طیبہ کے تاریخی اور واقعاتی ماحول سے واقفیت ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے مگر ہمارے ریاستی و معاشرتی تعلیمی نظام و نصاب میں سیرتِ طیبہ بطور سیرتِ طیبہ باقاعدہ شامل نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’آل پارٹیز تحفظِ ناموسِ رسالت کانفرنس‘‘
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ’’آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس‘‘ کا یہ نمائندہ دینی و قومی اجتماع وطنِ عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کو درپیش سیاسی، انتظامی، معاشی، دینی و تہذیبی مسائل و مشکلات پر شدید اضطراب اور بے چینی کا اظہار کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ قومی معاملات میں مسلسل بیرونی دخل اندازی اور دستور و شریعت کے ناگزیر تقاضوں سے صَرفِ نظر کا یہ منطقی نتیجہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- 1
- 2
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »