قادیانیوں کا دیرینہ خواب اور وارثانِ ختمِ نبوت کی جدوجہد

قادیانیوں کا فتنہ بدستور چلا آرہا ہے، یہ لوگ دنیا کے مختلف علاقوں میں ہیں، اور اتفاق کی بات دیکھیں کہ جہاں جہاں انگریز کی حکومت ہے وہاں وہاں مرزائی بڑی مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ یہ لوگ اپنے دجل اور فریب کے ذریعے سادہ لوح مسلمانوں کو قابو کرتے ہیں۔ آپ ایک بات سے اندازہ کریں کہ آج سے چند سال قبل جب وسطی ایشیا کی ریاستیں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے نتیجے میں آزاد ہوئیں، ازبکستان اور تاجکستان وغیرہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ اپریل ۲۰۰۲ء

ہمارے نظامِ تعلیم کا مستقبل؟

ملک کے جو حالات ہیں وہ آپ حضرات دیکھ رہے ہیں اور آئندہ جو حالات آنے والے ہیں وہ ہم دیکھ رہے ہیں۔ حالات کیسے بھی ہوں، نہ پہلے ہم کبھی گبھرائے ہیں، نہ آئندہ ان شاء اللہ العزیز گبھرائیں گے، صورتحال کیسی بھی ہو اس کا سامنا کریں گے۔ بہت سے دوست مجھ سے صدارتی ریفرنڈم کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا کیا ہو گا؟ میں عرض کرتا ہوں کہ بھئی آپ ریفرنڈم کے لیے جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اپریل ۲۰۰۲ء

مذہبی اقلیتوں کے بارے میں امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ

گزارش ہے کہ پاکستان کے بارے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالِ رواں کی رپورٹ کا خلاصہ پیش خدمت ہے جس میں (۱) امتناعِ قادیانیت آرڈیننس (۲) توہین رسالت کی سزا کے قانون اور (۳) زنا کی شرعی سزا کے آرڈیننس کو بطور خاص ہدفِ تنقید بنایا گیا ہے اور یہ ہمارے مذہبی معاملات میں مداخلت اور پاکستان کو اسلامی اصولوں سے ہٹ کر انسانی حقوق کے مغربی فلسفہ کا پابند بنانے کی مہم کا ایک حصہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جولائی ۱۹۹۷ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان اور دستور کی پاسداری کا حلف

دو اہم اخباری تراشے ارسال ہیں، انہیں بغور ملاحظہ فرمائیں، ان کے مطابق اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے حلف نامہ میں ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کے نام سے ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ کے الفاظ اور ’’دستور کی پاسداری‘‘ کا حلف خارج کر دیا گیا ہے اور مالیاتی نظام کو شرعی نظام کے مطابق بنانے کے لیے جو کمیشن بنایا گیا ہے اس میں اکثریت ایسے افراد کی ہے جو سودی نظام کے حامی رہے ہیں - - - مکمل تحریر

یکم فروری ۲۰۰۰ء

امریکی خوشنودی کو دین بنانے والے!

حکمرانو! خدا کے لیے کچھ انسانیت سے کام لو، پاکستان ایک ملک ہے، اس کی سرحدیں ہیں، اس کے اپنے قانون اور ضابطے ہیں، اس ملک کی سالمیت اور خود مختاری کے بھی کچھ تقاضے ہیں، اس حد تک مت جاؤ۔ حالات ان شاء اللہ العزیز بدلیں گے، ان بدلے ہوئے حالات کو سامنے رکھ کر اپنے طرزِ عمل کا تعین کرو۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو ہدایت دے، اور امریکہ کی غلامی میں انتہا تک جانے والے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اپریل ۲۰۰۲ء

ہمارے ایمان کا کیا حال ہے؟

آپ نے اخبارات میں پڑھ لیا ہوگا کہ امریکہ سے ایک تجویز آئی ہے۔ امریکہ کا ایک رسالہ ہے ’’نیشنل ریویو‘‘، اس کے مضمون نگار نے ایک سروے کرنے کے بعد لکھا ہے کہ مسلمان جو اتنے بپھرے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان امریکہ کے خلاف نفرت بڑھتی جا رہی ہے، اس کا حل کیا ہے؟ اس نے تجویز دی ہے کہ مکہ مکرمہ پر ایٹمی حملہ کر دو، قصہ ہی ختم ہو جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ مارچ ۲۰۰۲ء

’’آثارِ سیرت‘‘

جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ ہماری دینی راہ نمائی اور تعلیم و تربیت کا ایک مستقل ماخذ ہے کیونکہ ’’لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ‘‘ کے حکمِ خداوندی کی بجا آوری کے لیے سیرتِ طیبہ کے تاریخی اور واقعاتی ماحول سے واقفیت ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے مگر ہمارے ریاستی و معاشرتی تعلیمی نظام و نصاب میں سیرتِ طیبہ بطور سیرتِ طیبہ باقاعدہ شامل نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جولائی ۲۰۲۶ء

’’آل پارٹیز تحفظِ ناموسِ رسالت کانفرنس‘‘

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ’’آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس‘‘ کا یہ نمائندہ دینی و قومی اجتماع وطنِ عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کو درپیش سیاسی، انتظامی، معاشی، دینی و تہذیبی مسائل و مشکلات پر شدید اضطراب اور بے چینی کا اظہار کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ قومی معاملات میں مسلسل بیرونی دخل اندازی اور دستور و شریعت کے ناگزیر تقاضوں سے صَرفِ نظر کا یہ منطقی نتیجہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۲۴ء

’’احسن البیان فی تحفیظ القرآن‘‘

قرآن کریم کے حفظ اور تجوید و قرأت کی تعلیم ہمارے دینی تعلیم کے نظام کا سب سے بڑا اور بنیادی دائرہ ہے جس میں ابتدا سے ہی تعلیم و تدریس اور تربیت و اصلاح کا کام ہو رہا ہے اور اس کے تنوع اور وسعت میں بحمد اللہ تعالیٰ دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہر دور میں حفظ و تجوید کے ماہرین پورے ذوق و محنت کے ساتھ اس عمل کا حصہ رہے ہیں اور آج بھی یہ محنت ترقی کی طرف گامزن ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جون ۲۰۲۶ء

تحفظ ختم نبوت و ناموس  رسالتؐ    کا ایک ناگزیر تقاضہ

پرسوں سات ستمبر کو ملک بھر میں ’’یومِ ختمِ نبوت‘‘ منایا گیا ہے۔ ہر سال اس موقع پر اجتماعات ہوتے ہیں، ریلیاں نکالی جاتی ہیں، سات ستمبر ۱۹۷۴ء کو قادیانیوں کے بارے میں پارلیمنٹ کے تاریخی فیصلے کی یاد تازہ کی جاتی ہے اور فیصلہ کرنے والے قائدین اور طبقات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے تحریک ختم نبوت کے مطالبات اور تقاضوں کو دہرایا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹   ستمبر ۲۰۲۶ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter