طائف والوں کی شرطیں اور اہلِ پاکستان

طائف والوں نے کہا کہ ہم شراب نہیں چھوڑیں گے، زنا نہیں چھوڑیں گے اور سود نہیں چھوڑیں گے، اس لیے کہ شراب اور سود کا تعلق ہماری معیشت سے ہے اور زنا کا تعلق ہمارے کلچر سے ہے۔ ہمیں اسلام قبول ہے لیکن معیشت کی قیمت پر نہیں، کاروبار کی قیمت پر نہیں، کلچر کی قیمت پر نہیں۔ اس سے نیچے نیچے والا اسلام ہمیں دے دیں، اسے ہم قبول کرتے ہیں۔ طائف والوں نے تینوں شرطیں پیش کیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جون ۲۰۰۲ء

سود کے متعلق عدالتی فیصلے کا حکومتی جواب

چیف جسٹس نے سرکاری وکیل کو کہا کہ یہ آئین میں لکھا ہوا ہے کہ ہم نے سود ختم کرنا ہے۔ اس پر وکیل صاحب فرماتے ہیں کہ جناب آئین کے بارے میں پارلیمنٹ سے دوبارہ رجوع کریں۔ سیاسی زبان میں وکیل صاحب کے اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ پارلیمنٹ سے کہیں کہ آئین سے اس شق کو ختم کر دیں جس میں لکھا ہوا کہ سود ختم کرنا ضروری ہے۔ یعنی آئین کو تبدیل کر دیں، ہم اس پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جون ۲۰۰۲ء

سودی نظام کی دو حمایتی دلیلوں کا جائزہ

پاکستان میں پچاس سال سے ایک کشمکش چل رہی ہے کہ یہاں سے سود کا نظام ختم ہو۔ اس کے لیے عدالتِ عظمیٰ تک گئے اور سپریم کورٹ کے فل بنچ نے فیصلہ کر دیا کہ سود قرآن کریم کے منافی ہے، ملک کے دستور کے منافی ہے، اس لیے اس کو ختم ہونا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے اب ۳۰ جون ۲۰۰۲ء کو آخری تاریخ قرار دیا ہے اور حکومت کو الٹی میٹم دے رکھا ہے کہ اس تاریخ تک سودی قوانین ختم کرو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ جون ۲۰۰۲ء

حضرت مولانا محمد اجمل خانؒ کی وفات

معروف بزرگ، عالمِ دین، خطیب حضرت مولانا محمد اجمل خان صاحبؒ کا انتقال ہوگیا ہے۔ جنہوں نے تقریباً‌ چالیس سال تک خطابت کی دنیا میں حکمرانی کی ہے، وہ اپنے دور کے بہت بڑے خطیب تھے، اور صرف خطیب نہیں تھے، بہت بڑے عالم تھے، صاحبِ مطالعہ تھے، اللہ کے عبادت گزار تھے، نیک تھے، متقی تھے، مجاہد تھے۔ سچی بات یہ ہے کہ ذاتی حوالے سے جو بزرگ مجھ پر شفقت فرمایا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مئی ۲۰۰۲ء

حدود کی سزائیں اور عالمی دباؤ

ہمارے وفاقی وزیر صاحب کا بیان ہے کہ حدود آرڈیننس میں یہ جو قوانین ہیں، ان میں ہم ترمیم کر رہے ہیں اور ختم کر رہے ہیں۔ حدود کس کو کہتے ہیں؟ حدود کہتے ہیں اُن قوانین کو جو قرآن کریم نے طے کیے ہیں۔ جرائم کی وہ سزائیں جو قرآن کریم نے بیان کی ہیں اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طے کی ہیں۔ چور کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے، زانی کی سزا سنگسار کرنا ہے، شرابی کی سزا کوڑے مارنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مئی ۲۰۰۲ء

مسلمانوں کو گمراہ کرنے کا ایک طریقہ

باطل قوتوں کا مسلمانوں کو گمراہ کرنے کا ایک طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے کسی خود ساختہ شخصیت کے ساتھ عقیدت کے جذبات پیدا کرو اور پھر رفتہ رفتہ عقیدت کو استعمال کرتے ہوئے عقائد کو متزلزل کر دو۔ یہ بات بطور اصول اور قاعدے کے یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے حوالے سے، قرآن کریم کے مضامین کے حوالے سے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و سنت کے حوالے سے جہاں کہیں کوئی بات شک ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ مئی ۲۰۰۲ء

’’نقوشِ صحابہ و اہل بیتؓ‘‘

حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ محبت و عقیدت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنا دین کا بنیادی تقاضہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ’’فان اٰمنوا بمثل مآ اٰمنتم بہ فقد اہتدوا‘‘ (البقرۃ ۱۳۷) فرما کر خود واضح کر دیا ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات و ارشادات اور سیرت و کردار کے وہ صرف راوی نہیں بلکہ اس کا پرتَو ہیں اور انہی کے ارشادات و اعمال سے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اکتوبر ۲۰۲۶ء

امریکی کانگریس کے مطالبہ پر ہماری حکومت کے تین عملی اقدام

منکرینِ ختمِ نبوت کے حوالے سے ہم پاکستانیوں کا براہ راست سابقہ قادیانیوں سے ہے۔ قادیانیوں کو ہمارے دستور میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا، قادیانیوں کو اسلام کا نام استعمال کرنے سے، اسلامی اقدار کو اپنانے سے ضیاء الحق مرحوم نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے روک دیا تھا۔ مرزا طاہر احمد گزشتہ اٹھارہ سال سے لندن میں بیٹھ کر پاکستان کے دستور کے خلاف، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ مئی ۲۰۰۲ء

سیرتِ صحابہؓ و اہلِ بیتؓ پر حضرت مولانا محمد الیاس گھمن کی تالیفات

حضرت مولانا محمد الیاس گھمن زید مجدہم ہمارے ان فاضل اور باذوق دوستوں اور ساتھیوں میں سے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی توفیق و غایت کے ساتھ مسلسل دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، ان کی سرگرمیوں اور مصروفیات کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے اور حوصلہ ملتا ہے، بالخصوص مسلکی محاذ پر جس دل جمعی اور توازن و اعتدال کے ساتھ اہل السنۃ والجماعۃ اور علماء حق علماء دیوبند کثر اللہ جماعتہم کی نہ صرف ترجمانی کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اکتوبر ۲۰۲۶ء

حیا اور سنتِ نبویؐ

ابھی یہاں حاضر ہوا تو جامع مسجد کے خطیب مولانا محمد لقمان شمس سے گوجرانوالہ کے لہجے میں پوچھا کہ گفتگو کا کوئی موضوع متعین ہے یا   فری سٹائل گفتگو کرنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ’’حیا اور سنت ِنبویؐ‘‘ کے حوالہ سے بات ہو جائے تو بہتر ہے، تو اسی کے بارے میں چند باتیں ترتیب کے ساتھ عرض کرنا چاہوں گا۔ پہلی بات یہ کہ ’’حیا‘‘ کیا ہے؟ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جنت میں حضرت آدم علیہ السلام اور حوا علیہا السلام ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ ستمبر ۲۰۲۶ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter