نعمتوں کا احساس اور ان کا درست استعمال

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’الادب المفرد‘‘ میں ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ ایک تابعی بزرگ تھے جن کا نام انہوں نے جویبر بیان کیا ہے، وہ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا زمانہ تھا، میں مدینہ منورہ امیر المومنین کی مجلس میں حاضر ہوا، میری کچھ ضروریات اور تقاضے تھے جو میں عرض کرنا چاہتا تھا کہ دور کے علاقے سے آیا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ مئی ۲۰۲۶ء

دینی مدارس اور جہادی تنظیمیں: دو گزارشات

صدرِ مملکت کا خطاب آپ نے بھی سنا اور پڑھا، میں نے بھی۔ لمبی گفتگو کا موقع نہیں ہے، میں صرف دو باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں: ایک تو مدارس کے حوالے سے انہوں نے یہ بات بہت اچھی کہی ہے جو کہ باعثِ خوشی ہے کہ ’’ہم مدارس کو سرکاری تحویل میں لے کر خراب نہیں کرنا چاہتے‘‘۔ یعنی آپ کی تحویل میں جو چیزیں جاتی ہیں وہ خراب ہی ہوتی ہیں۔ اس اعتراف پر میں صدر صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ جنوری ۲۰۰۲ء

بیرونی مطالبات کا سلسلہ اور ہماری قومی حالت

حالات آپ کے سامنے ہیں، جس رُخ پر ہم جا رہے ہیں، اس کے سوا کوئی اور بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گڑگڑا کر روئیں اور عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے گریہ کریں کہ یا اللہ! تو ہی روک سکتا ہے تو روک دے، ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔ ہم سرنڈر ہونا شروع ہوئے اور ہوتے چلے گئے، جس طرح پہاڑ سے آدمی لڑھکتا ہے تو لڑھکتے ہی چلے جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جنوری ۲۰۰۲ء

حضرت مولانا محمد ادریس کی شہادت

پچھلے دنوں ہمارے ملک کے ایک بہت بڑے بزرگ، بہت بڑے عالمِ دین، محدث، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ دہشت گردی کا نشانہ ہوئے ہیں، شہید ہوئے ہیں، اللہ پاک ہمارے حال پہ رحم فرمائے۔ اسی ادارے سے حضرت مولانا سمیع الحق شہید ہوئے تھے، پھر مولانا حامد الحق شہید ہوئے، اب شیخ الحدیث مولانا ادریس صاحب شہید ہوئے، دارالعلوم حقانیہ کے، ہمارے بزرگوں میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ مئی ۲۰۲۶ء

’’کاروانِ علماءِ لدھیانہ‘‘

برصغیر پاکستان و ہندوستان اور بنگلہ دیش کی دینی و قومی تحریکات میں علماء لدھیانہ کا کردار ہمیشہ ہراول دستے کا رہا ہے اور انہوں نے ہر دور میں قوم و ملت کی نہ صرف صحیح سمت راہ نمائی کی ہے بلکہ خود بھی جدوجہد اور محنت کے میدان میں سرفہرست رہے ہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف جہادِ آزادی کا معرکہ ہو، مرزا غلام احمد قادیانی اور دیگر مدعیانِ نبوت کی خلافِ اسلام سرگرمیوں کا محاسبہ و تعاقب ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اگست ۲۰۲۶ء

’’علم کے تقاضے اور علماء کی ذمہ داریاں‘‘

علماء کرام کو حضراتِ انبیاء کرام علیہم السلام کا وارث بتایا گیا ہے اور وہ اس حوالہ سے ان تمام ذمہ داریوں میں اللہ تعالیٰ کے مقدس رسولوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو اپنے اپنے دور میں حضرات انبیاء کرام علیہم السلام سرانجام دیتے رہے ہیں اور خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و کردار میں وہ سب کمال جامعیت کے ساتھ پائے جاتے ہیں جو تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ بھی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اگست ۲۰۲۶ء

حضرت مفتی عبد الواحدؒ کی وفات اور مرکزی جامع مسجد کا نظم

حضرت مولانا مفتی عبد الواحد رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات گوجرانوالہ کے عوام اور جماعتی و مسلکی احباب کے لیے بے حد صدمہ اور رنج و الم کا باعث ہوئی ہے۔ مفتی صاحب مرحوم نے کم و بیش نصف صدی تک مرکزی جامع مسجد کے خطیب اور مدرسہ انوار العلوم کے مہتمم کی حیثیت سے جو دینی خدمات سرانجام دی ہیں اور علماء دیوبند کی مسلکی و سیاسی قیادت کی ہے اس کا تقاضہ ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ دسمبر ۱۹۸۲ء

وفاقی شرعی عدالت کا سودی نظام ختم کرنے کا فیصلہ: علماء کرام سے گزارش

باسمہ تعالیٰ۔ محترمی حضرات علماء کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ متحدہ علماء کونسل پاکستان کے ہنگامی مشاورتی اجلاس منعقدہ ۲۵ جون بمقام جامعہ اہلِ حدیث چوک دالگراں لاہور، اور گوجرانوالہ کے مختلف مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام کے مشترکہ اجلاس منعقدہ ۲۸ جون بمقام مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے فیصلوں کے مطابق، ملک بھر کے تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام سے گزارش ہے کہ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ جون ۲۰۲۲ء

مساجد کے خطباء، ائمہ اور منتظمین سے ایک اہم درخواست

بارشوں اور سیلاب سے متاثرین کی صورت حال انتہائی پریشان کن اور اضطراب انگیز ہے۔ یہ وقت بحث و مباحثہ کا نہیں، متاثرین کی مدد اور بحالی کے لیے جو کچھ بس میں ہو، کر گزرنے کا ہے۔ عربی ادب کی ایک کہاوت ہے کہ ایک شخص نہر میں ڈوب رہا تھا اور ایک شخص اس کو کنارے پر کھڑا ہو کر احتیاط نہ کرنے پر ملامت کر رہا تھا۔ ڈوبنے والے نے آواز دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اگست ۲۰۲۲ء

مکتوب بنام مفتی منیب الرحمٰن: نصاب کمیٹی سے متعلقہ امور کے بارے میں رائے

باسمہ تعالیٰ۔ محترمی حضرت مولانا مفتی منیب الرحمٰن صاحب زیدت مکارمکم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟ ۲۵ اپریل کے اجلاس کا دعوت نامہ مل گیا ہے، ان شاء اللہ حاضری ہو گی۔ قرطاسِ عمل میں نصاب کمیٹی سے متعلقہ امور کے بارے میں اپنی رائے تحریر کر رہا ہوں، کوئی بات قابلِ توجہ ہو تو اپنی گفتگو میں شامل فرما لیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اپریل ۲۰۱۷ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter