مقالات و مضامین

حضرت مولانا حافظ گلزار احمد آزاد کے دروسِ قرآن کریم

حضرت مولانا حافظ گلزار احمد آزاد ہمارے شہر کے بزرگ علماء کرام میں سے ہیں جو کم و بیش نصف صدی سے تعلیم و تدریس اور مواعظ و دروس کے ذریعہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے فروغ میں مصروف ہیں اور نہ صرف شہر کے مختلف حصوں میں بلکہ اندرون ملک اور بیرون ممالک میں بھی ان کی تعلیمی اور درسی مصروفیات کا دائرہ وسیع ہے جس سے ہزاروں لوگوں نے استفادہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ فروری ۲۰۲۶ء

زبان و بیان کے آداب و معیار اور تعلیماتِ نبویؐ

بیان اور گفتگو انسان کے ان امتیازات میں سے ہیں جن کا اللہ پاک نے قرآن کریم میں بطور خاص ذکر فرمایا ہے اور ’’خلق الانسان‘‘ کے ساتھ ہی ’’علمہ البیان‘‘ فرما کر اس کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ انسانی معاشرت میں گفتگو، مکالمہ اور بیان کی مختلف صورتیں ہر دور میں رائج رہی ہیں اور ان کے تنوع کے ساتھ ساتھ ان کی اہمیت بھی وسعت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ بیان کا بہتر معیار اور اس کے فنی اور اخلاقی تقاضوں کی طرف ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ ستمبر ۲۰۲۵ء

بارہ ربیع الاول کی دو تقریبات میں شرکت

بارہ ربیع الاول / ۲۶ اگست کو جامعہ محمدی شریف چنیوٹ کے نئے لائبریری ہال میں پاکستان شریعت کونسل چنیوٹ کے زیر اہتمام ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت مولانا صاحبزادہ قمر الحق سیالوی نے کی اور اس میں راقم الحروف نے کچھ گزارشات پیش کیں جن کا خلاصہ نذر قارئین ہے۔ جامعہ محمدی شریف کے بانی حضرت مولانا محمد ذاکرؒ اور حضرت مولانا محمد نافعؒ ہمارے بزرگوں میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اگست ۲۰۲۶ء

’’کاروانِ علماءِ لدھیانہ‘‘

برصغیر پاکستان و ہندوستان اور بنگلہ دیش کی دینی و قومی تحریکات میں علماء لدھیانہ کا کردار ہمیشہ ہراول دستے کا رہا ہے اور انہوں نے ہر دور میں قوم و ملت کی نہ صرف صحیح سمت راہ نمائی کی ہے بلکہ خود بھی جدوجہد اور محنت کے میدان میں سرفہرست رہے ہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف جہادِ آزادی کا معرکہ ہو، مرزا غلام احمد قادیانی اور دیگر مدعیانِ نبوت کی خلافِ اسلام سرگرمیوں کا محاسبہ و تعاقب ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اگست ۲۰۲۶ء

’’علم کے تقاضے اور علماء کی ذمہ داریاں‘‘

علماء کرام کو حضراتِ انبیاء کرام علیہم السلام کا وارث بتایا گیا ہے اور وہ اس حوالہ سے ان تمام ذمہ داریوں میں اللہ تعالیٰ کے مقدس رسولوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو اپنے اپنے دور میں حضرات انبیاء کرام علیہم السلام سرانجام دیتے رہے ہیں اور خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و کردار میں وہ سب کمال جامعیت کے ساتھ پائے جاتے ہیں جو تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ بھی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اگست ۲۰۲۶ء

حضرت مفتی عبد الواحدؒ کی وفات اور مرکزی جامع مسجد کا نظم

حضرت مولانا مفتی عبد الواحد رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات گوجرانوالہ کے عوام اور جماعتی و مسلکی احباب کے لیے بے حد صدمہ اور رنج و الم کا باعث ہوئی ہے۔ مفتی صاحب مرحوم نے کم و بیش نصف صدی تک مرکزی جامع مسجد کے خطیب اور مدرسہ انوار العلوم کے مہتمم کی حیثیت سے جو دینی خدمات سرانجام دی ہیں اور علماء دیوبند کی مسلکی و سیاسی قیادت کی ہے اس کا تقاضہ ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ دسمبر ۱۹۸۲ء

وفاقی شرعی عدالت کا سودی نظام ختم کرنے کا فیصلہ: علماء کرام سے گزارش

باسمہ تعالیٰ۔ محترمی حضرات علماء کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ متحدہ علماء کونسل پاکستان کے ہنگامی مشاورتی اجلاس منعقدہ ۲۵ جون بمقام جامعہ اہلِ حدیث چوک دالگراں لاہور، اور گوجرانوالہ کے مختلف مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام کے مشترکہ اجلاس منعقدہ ۲۸ جون بمقام مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے فیصلوں کے مطابق، ملک بھر کے تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام سے گزارش ہے کہ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ جون ۲۰۲۲ء

مساجد کے خطباء، ائمہ اور منتظمین سے ایک اہم درخواست

بارشوں اور سیلاب سے متاثرین کی صورت حال انتہائی پریشان کن اور اضطراب انگیز ہے۔ یہ وقت بحث و مباحثہ کا نہیں، متاثرین کی مدد اور بحالی کے لیے جو کچھ بس میں ہو، کر گزرنے کا ہے۔ عربی ادب کی ایک کہاوت ہے کہ ایک شخص نہر میں ڈوب رہا تھا اور ایک شخص اس کو کنارے پر کھڑا ہو کر احتیاط نہ کرنے پر ملامت کر رہا تھا۔ ڈوبنے والے نے آواز دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اگست ۲۰۲۲ء

مکتوب بنام مفتی منیب الرحمٰن: نصاب کمیٹی سے متعلقہ امور کے بارے میں رائے

باسمہ تعالیٰ۔ محترمی حضرت مولانا مفتی منیب الرحمٰن صاحب زیدت مکارمکم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟ ۲۵ اپریل کے اجلاس کا دعوت نامہ مل گیا ہے، ان شاء اللہ حاضری ہو گی۔ قرطاسِ عمل میں نصاب کمیٹی سے متعلقہ امور کے بارے میں اپنی رائے تحریر کر رہا ہوں، کوئی بات قابلِ توجہ ہو تو اپنی گفتگو میں شامل فرما لیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اپریل ۲۰۱۷ء

حضرت سرفراز خان صفدرؒ اور مولانا قاضی فضل اللہ کے تفسیری افادات

قرآن کریم کے علوم و معارف ہر دور میں اہلِ علم کی توجہات اور استفادہ کا محور رہے ہیں اور قیامت تک رہیں گے اور نسلِ انسانی بالخصوص امتِ مسلمہ اور اس کے علماء کرام اس بحرِ ناپیدا کنار میں غوطہ زن ہو کر راہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔ چونکہ اس کا دور قیامت تک ہے اس لیے اس وقت تک کے ہر دور کی ہدایت کے تقاضے اور علمی و فکری ضروریات اس کے دامن میں موجود ہیں جو وقتاً‌ فوقتاً‌ ظاہر ہوتے رہیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اگست ۲۰۲۶ء

’’آزادئ وطن اور اس کے مقاصد و تقاضے‘‘

چودہ اگست ہمارا یومِ آزادی ہے اور اس موقع پر ملک بھر میں بیانات، تقریبات اور مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے جو آزادی اور قیامِ پاکستان کی عظیم نعمتِ خداوندی پر رب العزت کا شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ تحریکِ آزادی اور تحریکِ پاکستان کے شہداء اور مجاہدین کی یاد تازہ کرنے کا ذریعہ ہوتی ہیں، ان میں قیامِ پاکستان کے مقصد کی تکمیل کے لیے جدوجہد کا نئے سرے سے عزم کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اگست ۲۰۲۴ء

حضرت مولانا خواجہ عزیز احمد کا انتخاب

حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری قدس اللہ سرہ العزیز کی وفات کے بعد عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے ناظمِ اعلیٰ کے طور پر مخدوم زادہ حضرت مولانا خواجہ عزیز احمد دامت برکاتہم آف کندیاں شریف کا انتخاب ہم سب کے لیے مسرت و اطمینان کا باعث ہوا ہے اور ہم اس پر حضرت الامیر مولانا ناصر الدین خاکوانی دامت فیوضہم کی خدمت میں ہدیۂ تشکر و تبریک پیش کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اگست ۲۰۲۶ء

’’سزاؤں اور جنگوں کے قوانین و اخلاقیات‘‘

آج کے ماحول میں مروجہ عالمی و قومی قوانین معاشرتی معاملات سے مذہب کی لاتعلقی پر تشکیل پاتے ہیں اور چلائے جا رہے ہیں؛ اس لیے آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی نے معاشرتی امن و نظم اور عدل و انصاف کے ساتھ ساتھ عالمی و بین الاقوامی تعلقات و معاملات کے لیے جو قوانین دیے ہیں اور جن پر ہزاروں سال عمل ہوتا رہا ہے وہ قصۂ پارینہ قرار دے کر بالائے طاق رکھ دیے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جولائی ۲۰۲۶ء

’’سیرت محمد مصطفیٰ ﷺ‘‘

اردو میں سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر لکھی جانے والی کتابوں میں حضرت الشیخ مولانا محمد ادریس کاندھلوی نور اللہ مرقدہ کی تصنیف ’’سیرۃ المصطفیٰ ﷺ‘‘ نے علماء کے حلقوں میں جو مقبولیت حاصل کی ہے وہ حضرت الشیخ رحمۃ اللہ علیہ کے تبحرِ علمی اور ذوق و محبت کی علامت ہے۔ مگر اس بات کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اس کی تلخیص اور تسہیل کی طرف کوئی باذوق ساتھی متوجہ ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اپریل ۲۰۱۵ء

’’سبعہ اَحرف‘‘

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے شعبہ تجوید و قرأت کے صدر مدرس مولانا قاری سعید احمد ہمارے باذوق اور صاحبِ توفیق ساتھیوں میں سے ہیں جو ایک عرصہ سے تجوید و قرأت کی تعلیم و تدریس کے ساتھ ساتھ ملک بھر کی محفلوں میں قرآن کریم کی تلاوت و قرأت سے اپنے سامعین کو محظوظ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی تلاوت کو ذوق و اہتمام کے ساتھ سنا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جون ۲۰۲۶ء

قادیانی غیر مسلم اقلیت کیوں؟

سوال: جب خلیفہ اول حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منکرین ختم نبوت کے خلاف جہاد کیا تھا تو پاکستان میں انہیں غیر مسلم شہری کے طور پر قبول کرنے پر اکتفا کیوں کیا گیا ہے؟ جواب: یہ فیصلہ قیامِ پاکستان کے بعد تمام مکاتبِ فکر کے اکابر علماء کرام نے متفقہ طور پر کیا تھا کہ قادیانیوں کو پاکستان میں غیر مسلم اقلیت قرار دے کر دیگر غیر مسلم اقلیتوں کی طرح ملک کا شہری تسلیم کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جون ۲۰۲۶ء

’’غصے کے اسباب اور اس کا علاج: قرآن و سنت کی روشنی میں‘‘

قرآن کریم میں اہلِ ایمان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ’’واذا ما غضبوا ھم یغفرون‘‘ انہیں جب غصہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں اور ’’والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس‘‘ وہ اپنے غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں۔ جبکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی غصہ کو کنٹرول کرنے اور اس کا بے جا اظہار نہ کرنے کو بہادری سے تعبیر فرمایا ہے اور اس کا ثواب و اجر بیان فرمایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جون ۲۰۲۶ء

آزادی، علماء اور نئی پود

برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف جس طبقے نے آگے بڑھ کر ایثار و قربانی اور عزیمت و استقامت کی روایات کو زندہ کیا اور امتِ مسلمہ کی جرأت مندانہ قیادت کی، وہ بوریہ نشین علماء کرام کا گروہ تھا، جس کی تگ و تاز کی داستانیں تاریخ کے اوراق میں بکھری پڑی ہیں۔ اس قدسی طائفہ نے سیاست، ثقافت، تعلیم اور عقائد و نظریات سمیت قومی زندگی کے ہر شعبہ میں بدیشی آقاؤں کا مقابلہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۱۹۹۷ء

’’عقل بھی تابع فرمان ہوئی‘‘

سائنسی ارتقاء اور حقائق کے حوالہ سے اسلامی تعلیمات کا مطالعہ ایک دلچسپ موضوع ہے اور آج کی فکری و تہذیبی ضروریات کے حوالے سے یہ وقت کا تقاضہ بھی ہے کہ دینی تعلیمات سے بے خبری اور سائنسی تجربات و مشاہدات کے تسلسل کے ماحول میں نئی نسل کے ذہنوں میں جو شکوک و شبہات اور اشکالات پیدا ہو رہے ہیں ان کے ازالہ اور ان سے نجات کے لیے نئی نسل بالخصوص کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ اور طالبات ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ جنوری ۲۰۲۳ء

صوابی اور اکوڑہ خٹک کا ایک یادگار سفر

نصف صدی قبل سالہا سال تک میرا یہ معمول رہا ہے کہ عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران کچھ ایام مردان اور سخاکوٹ میں گزرتے تھے۔ حضرت مولانا سید گل بادشاہؒ کے ہاں حاضری ہوتی، وہاں سے سخاکوٹ صاحبزادہ خالد جان کے ہاں جاتا اور ان کے ہمراہ حضرت مولانا عزیر گلؒ کی زیارت و مجلس سے شادکام ہونے کی سعادت حاصل ہوتی اور مردان شہر میں پیر مبارک شاہؒ سے ملاقات ہو جاتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ جون ۲۰۲۶ء

حضرت مولانا محمد طیب کشمیری کی وفات

حضرت مولانا محمد طیب کشمیری (خطیب سبیل مسجد، گورومندر چوک، کراچی) کی وفات کی خبر پڑھ کر بے حد صدمہ ہوا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ میرے پرانے دوست تھے اور جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں طالب علمی کے دور میں کئی برس ہماری رفاقت رہی ہے۔ آزاد کشمیر کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا امیر الزمان خان رحمہ اللہ تعالیٰ کے بھتیجے تھے اور سرگرم و متحرک عالمِ دین تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ مئی ۲۰۲۶ء

بین الاقوامی تعلقات اور اسوۂ ابراہیمیؑ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایک بار پھر یہ تقاضہ سامنے آیا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور دیگر مسلم ممالک ’’ابراہیمی اکارڈ‘‘ پر دستخط کر کے اس معاہدہ میں شریک ہو جائیں جو صدر ٹرمپ نے اپنے گزشتہ دورِ صدارت میں کرایا تھا اور جس کا مقصد اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا کہ مسلم ممالک بالخصوص عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کر لیں تاکہ وہ اپنے ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے ایجنڈے کو نعوذ باللہ تکمیل تک پہنچا سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ مئی ۲۰۲۶ء

’’تذکرۃ الابرار‘‘

والد گرامی امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر قدس اللہ سرہ العزیز کا ذوق و معمول تھا کہ اپنے مضامین و تصانیف میں کسی بھی حوالہ سے اکابر اہلِ علم اور بزرگانِ دین میں سے کسی شخصیت کا ذکر کرتے تو ان کے سنِ وفات کا اہتمام کے ساتھ تذکرہ کرتے جس سے اس شخصیت کے دور اور اس ماحول میں ان کی خدمات کا صحیح پس منظر میں اندازہ کرنا آسان ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ مئی ۲۰۲۶ء

قرآن کریم کی تفسیر ’’الفلاح‘‘ اور نصابِ تعلیم ’’صراطِ مستقیم‘‘

الشمس ٹرسٹ گلیانہ ضلع گجرات کی طرف سے تعلیمی مقاصد کے لیے مرتب کردہ قرآن کریم کی تفسیر ’’الفلاح‘‘ نظر سے گزری اور اس کے ساتھ مختلف مراحل کے لیے ’’صراطِ مستقیم‘‘ کے عنوان سے مرتبہ نصابِ تعلیم کے کچھ حصے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ نظر کی مسلسل کمزوری کے باعث مطالعہ تو نہیں کر سکا مگر بعض مقامات سرسری دیکھنے سے اندازہ ہوا کہ اچھے ذوق اور اسلوب کے ساتھ نئی نسل کی دینی تعلیم و تربیت ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مئی ۲۰۲۶ء

سید سلمان گیلانیؒ کی یاد میں تعزیتی سیمینار

گزشتہ روز ایوانِ اقبالؒ لاہور میں شاعرِ اسلام الحاج سید سلمان گیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں منعقد ہونے والے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی جس کا اہتمام جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے کیا تھا اور جمعیۃ کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمٰن، مولانا خواجہ خلیل احمد، مولانا عبد الغفور حیدری، مولانا سعید یوسف خان، مولانا سید کفیل بخاری اور دیگر زعماء کے علاوہ علماء کرام، دینی کارکنوں اور دیگر طبقات ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اپریل ۲۰۲۶ء

پاکستان فلسطین فورم کا عوامی قافلہ اور ہماری ذمہ داری

سنیٹر (ر) محترم جناب مشتاق احمد خان کے قائم کردہ ’’پاکستان فلسطین فورم‘‘ کا ایک وفد گزشتہ دنوں گوجرانوالہ آیا تو وفد نے الشریعہ اکادمی میں مجھ سے بھی ملاقات کی اور اپنے پروگرام سے آگاہ کرتے ہوئے اس میں تعاون کے لیے کہا۔ مسجد اقصیٰ اور فلسطین کے مسئلہ پر بحمد اللہ تعالیٰ ۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دور سے ہی کچھ نہ کچھ کہتے اور کرتے رہنے کی سعادت حاصل ہوتی چلی آ رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اپریل ۲۰۲۶ء

امریکہ، روس اور چین میں سے پاکستان کا سچا دوست کون سا ہے؟

جہاں تک سچی دوستی کا تعلق ہے، کوئی کافر کسی مسلمان کا سچا دوست نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اسلام کا مقصد دنیا میں کفر و ظلم کا خاتمہ اور عدل و انصاف کے خدائی نظام کا قیام ہے، اور کفر دنیا میں کسی نوعیت کا بھی ہو، اسلام اس کا حریف ہے۔ اس لیے اگر واقعی پاکستان کے قیام کا مقصد اسلام کے عدل و انصاف کا نفاذ و اجرا ہے تو وہ کفر انتہائی احمق ہو گا جو پاکستان سے سچی دوستی کی حامی بھرے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۱۹۷۶ء

امام اہل سنتؒ کی تصانیف کی اشاعت اور مکتبہ صفدریہ گوجرانوالہ کا آئندہ نظم

والد گرامی امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تصانیف کی طباعت و اشاعت کا شرعی و قانونی حق اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو ’’وقف علی الاولاد‘‘ کے طور پر سپرد کر کے مکتبہ صفدریہ گوجرانوالہ قائم فرمایا تھا اور اس کا انتظام برادر عزیز مولانا عبد القدوس خان قارن رحمہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا تھا جو اپنی زندگی میں تمام بھائیوں اور بہنوں کے اعتماد اور مشاورت کے ساتھ چلاتے رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ مارچ ۲۰۲۶ء

جرم کے اسباب اور ان کا ازالہ

پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں محمد شہباز شریف نے گزشتہ دنوں لاہور میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبہ میں امن و امان کی صورتحال پر روشنی ڈالی ہے اور اس سلسلہ میں اپنے بعض اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت جرم کے وجوہ و اسباب کے ازالہ کے لیے بھی اقدامات کر رہی رہے۔ معلوم نہیں کہ میاں صاحب موصوف نے یہ بات کس پس منظر میں کہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ اپریل ۱۹۹۹ء

ظاہر شاہ کو استعمال کرنے کا امریکی منصوبہ

افغانستان کے سابق فرمانروا ظاہر شاہ ایک بار پھر منظر عام پر نمودار ہوئے ہیں اور ان کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ظاہر شاہ افغانستان میں امن کے قیام کے لیے طالبان اور ان کے مخالف شمالی اتحاد کے پاس الگ الگ وفود بھیجنے والے ہیں تاکہ ’’لوئی جرگہ‘‘ کے انعقاد کی راہ ہموار کی جا سکے جو اُن کے نزدیک افغانستان میں قیامِ امن کے لیے ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ مئی ۱۹۹۹ء

’’ختمِ نبوت اور ردِ قادیانیت: افادات امامِ اہلِ سنتؒ‘‘

حافظ محمد ثاقب صاحب رحمۃ اللہ علیہ گوجرانوالہ کے دینی و علمی حلقوں کی ایک معروف شخصیت تھے، جن کی ساری زندگی تحریکِ ختمِ نبوت میں جدوجہد کرتے ہوئے گزری اور سیالکوٹی دروازہ کے دفتر ختمِ نبوت میں عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کی سرگرمیوں میں ان کی زندگی کا خاصا حصہ بسر ہوا۔ ان کا تعلق ایک لدھیانوی خاندان سے تھا جو پاکستان کے قیام کے وقت ہجرت کر کے گوجرانوالہ میں آباد ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۲۰ء

قرآن و سنت کی دستوری بالادستی اور ہماری اعلیٰ عدالتیں

گزشتہ روز ایوانِ اقبال لاہور میں ڈاکٹر اسرار احمد کی تحریکِ خلافت پاکستان کے زیراہتمام ’’انٹرنیشنل خلافت کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس جناب جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں اسلامی نظام کے عملی نفاذ کے لیے دستوری طور پر قرآن و سنت کی بالادستی کا اہتمام ضروری ہے۔ ان سے قبل اسی کانفرنس میں جنرل (ر) حمید گل نے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ فروری ۲۰۰۱ء

’’مضامین و مقالات امام اہل سنت شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ‘‘

والد گرامی امام اہلِ سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر نور اللہ مرقدہ کے علوم و فیوض، درس و تدریس اور وعظ و خطابت کے ساتھ ساتھ تحریری ماحول میں بھی لاکھوں مسلمانوں کی راہ نمائی اور استفادے کا ذریعہ بنے رہے اور عام مسلمانوں کے علاوہ علماء کرام اور طلبہ بھی ان سے فیض یاب ہوتے چلے آ رہے ہیں، جو قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں ان کے دروس و مواعظ کے مختلف مجموعوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ فروری ۲۰۲۶ء

’’الفرقان بریلی کا مجدد الف ثانیؒ نمبر‘‘

مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ تعالیٰ جنوبی ایشیا کے اکابر علماء اسلام میں ایک ممتاز شخصیت ہیں جنہوں نے علومِ نبوت کی ترویج اور تزکیہ و احسان کے ساتھ ساتھ اسلامی عقائد و احکام کے تحفظ و دفاع میں بھی لائقِ رشک و تقلید خدمات سرانجام دیں اور حوصلہ و قربانی کے ساتھ الحادی افکار و رجحانات کے سامنے سدِ سکندری بن گئے۔ خاص طور پر اکبر بادشاہ کے خود ساختہ ’’دینِ الٰہی‘‘ کو اپنے علم و فضل ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جنوری ۲۰۲۶ء

حضور اکرمؐ کی سیرت اور علماء کی ذمہ داری

فیصل آباد میں دیوبندی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی تمام جماعتیں ’’تنظیم العلماء اہل السنت والجماعت حنفی دیوبندی‘‘ کے نام سے متحد ہو گئی ہیں اور انہوں نے اسلامی اقدار و روایات کے تحفظ، مدارس و مراکز کی حفاظت اور مسلکی امور کے حوالہ سے مشترکہ جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ انتہائی خوش آئند ہے اور ملک کے دیگر شہروں کے علماء کو بھی اس کی پیروی کرنی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جون ۲۰۰۱ء

تحریکِ آزادئ ہند کا نامور سپوت ٹیپو سلطان شہید

اخباری اطلاعات کے مطابق بھارتی شہر میسور میں سلطان ٹیپو شہید کی دو سو سالہ تقریبات منائی گئیں اور مسلمانوں کی مختلف تنظیمیں اس سلسلہ میں سرگرمِ عمل رہی ہیں، جبکہ انتہاپسند اور جنونی ہندو تنظیمیں ان تقریبات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش میں سرگرداں رہیں۔ سلطان فتح علی ٹیپو شہید برصغیر کی اسلامی تاریخ کا ایک روشن اور غیور کردار ہے جس نے آج سے دو سو برس قبل اس خطہ میں برطانوی استعمار کے بڑھتے ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۱۹۹۹ء

دینی جماعتوں کو وزیر داخلہ کا چیلنج

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۸ ستمبر ۲۰۰۱ء کی خبر کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دینی جماعتوں کے پاس اگر اسلامی نظام کا کوئی خاکہ ہے تو پیش کریں۔ ان کے اس ارشاد سے یہ تاثر ملتا ہے کہ دینی جماعتوں کے پاس اسلامی نظام کا کوئی خاکہ موجود نہیں ہے اور وہ اسلام کے نفاذ کا جو مطالبہ کر رہی ہیں وہ محض ایک نعرہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ ستمبر ۲۰۰۱ء

لاہور کے چند روزے اور سید سلمان گیلانیؒ

اِن دنوں چار پانچ روز کے لیے جوہر ٹاؤن لاہور میں عزیزم ڈاکٹر عمار خان ناصر سلّمہ کے گھر میں ہوں۔ میرے بڑے پوتے حافظ طلال خان ناصر کا معمول ہے کہ وہ رمضان المبارک میں اپنے گھر میں تراویح میں قرآن کریم سناتا ہے اور اس کا تقاضہ ہوتا ہے کہ میں بھی چند روز ان کے ساتھ تراویح میں شریک ہو کر چار پانچ پارے سنوں۔ چنانچہ دو تین سال سے معمول بن گیا ہے کہ رمضان المبارک کے پہلے عشرہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ فروری ۲۰۲۶ء

آہ! الحاج سید سلمان گیلانیؒ

شاعرِ اسلام الحاج سید سلمان گیلانی بھی ہم سے رخصت ہو گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ اپنے والد محترم شاعرِ حریت و ختم نبوت الحاج سید امین گیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ کے ذوق و فن، مشن اور روایات کے امین تھے اور پوری عمر انہوں نے اسی ماحول میں بسر کی۔ وہ شعر و شاعری اور حق کے پرچار و خدمت کے ساتھ ساتھ مجلس آرائی کے ذوق و اسلوب سے بھی مالامال تھے اور بذلہ سنجی میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ فروری ۲۰۲۶ء

غلبۂ اسلام کی جدوجہد اور اسوۂ ابراہیمیؑ

سیدنا ابراہیمؑ کی یاد کا مہینہ شروع ہو گیا ہے، دنیا بھر میں کروڑوں مسلمان اپنی اپنی جگہ ابراہیم علیہ السلام کی سنت قربانی کو تازہ کرنے کے علاوہ عرفات کے میدان میں حج کے روز لاکھوں کی تعداد میں مسلمان جمع ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے مقدس گھر کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر کے حضرت ابراہیمؑ کی اہلیہ محترمہ حضرت ہاجرہؓ کی سنت کو زندہ کریں گے۔ مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۱۹۹۹ء

عالمی استعمار کا ایجنڈا اور ہماری دینی قیادت

قوم پرست جماعتوں کے متحدہ محاذ ’’پونم‘‘ نے پاکستان کے دستور پر نظرثانی کے لیے جو دستوری ترامیم کا پیکج دیا ہے اس میں لسانی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ ساتھ ملک کے نام سے ’’اسلامی‘‘ کا لفظ حذف کر دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ اور پونم کے جس اجتماع میں یہ آئینی پیکج پیش کیا گیا اس میں ایک سندھی قوم پرست لیڈر نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ راجہ داہر کو قومی ہیرو سمجھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اپریل ۱۹۹۹ء

پاکستان کی ایٹمی قوت اور عالمِ اسلام کے جذبات

بھارت کے ایٹمی دھماکے کے بعد پاکستان کے ایٹمی دھماکے کا انتظار تو تھا مگر یہ خدشہ بھی تھا کہ بین الاقوامی حلقے اور ملک کے اندر ان کی نمائندہ لابیاں جس طرح کا مسلسل دباؤ ڈال رہی ہیں اور پاکستان کو ایٹمی قوت بننے سے روکنے کے لیے جو سازشیں کی جا رہی ہیں وہ کہیں اپنا رنگ دکھا نہ دیں۔ چنانچہ اس تذبذب کے عالم میں گوجرانوالہ کے ایک صحافی دوست نے فون پر پاکستان کے ایٹمی دھماکوں اور ان کی کامیابی کی خبر دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جون ۱۹۹۹ء

پاکستانی قبائل میں امریکہ کی دلچسپی

گزشتہ ہفتے پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمٰن درخواستی کے ہمراہ ڈیرہ اسماعیل خان میں دو روز گزارنے اور مختلف اجتماعات میں شرکت کا موقع ملا۔ کلاچی اور موسیٰ زئی شریف میں جانا ہوا۔ بزرگ عالمِ دین حضرت مولانا قاضی عبد الکریم مدظلہ کے علاوہ جمعیت علماء اسلام (س) صوبہ سرحد کے امیر مولانا قاضی عبد اللطیف اور پاکستان شریعت کونسل صوبہ سرحد کے امیر صاحبزادہ شمس الدین آف موسیٰ زئی شریف ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ مئی ۱۹۹۹ء

فلسطین کے بارے میں صدر ٹرمپ کا منصوبہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فلسطین کے بارے میں جو نیا منصوبہ سامنے آیا ہے وہ پوری صورت حال کو نئے رخ پر ڈھالنے کا منصوبہ ہے جس کے بارے میں مسلم حکمرانوں اور دانش وروں کے سنجیدہ غور و خوض کی ضرورت ہے۔ ہمارے خیال میں بیت المقدس کے حوالہ سے یہود و نصاریٰ کی قدیمی کشمکش نے نیا پینترا بدلا ہے اور مسیحی فریق نے، جو اس سے قبل پس منظر میں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اکتوبر ۲۰۲۵ء

صدر ٹرمپ اور شریعتِ اسلامیہ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لندن کے مسلمان میئر صادق خان کا ذکر کرتے ہوئے یہ شوشہ چھوڑا کہ وہ لندن میں شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں، جس پر مختلف حلقوں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ اس پر پہلی بات تو یہ عرض کرنے کی ضرورت ہے کہ ’’شریعت‘‘ آسمانی تعلیمات کے معاشرتی احکام و قوانین کو کہا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ ستمبر ۲۰۲۵ء

’’مسئلہ قادیانیت‘‘

تحریکِ ختمِ نبوت میں جن ممتاز صحافیوں نے نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں اور اپنی صلاحیتوں سے تحریکِ ختمِ نبوت کو بھرپور فائدہ پہنچایا ہے ان میں روزنامہ جرأت کے مدیر اعلیٰ جناب جمیل اطہر قاضی ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ زیر نظر کتاب میں انہوں نے ختمِ نبوت کی عظیم جدوجہد کے اپنے مشاہدات و تجربات کے ساتھ ساتھ بہت سی مفید معلومات کو مرتب طور پر پیش کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ ستمبر ۲۰۲۵ء

زیر زمین معدنی خزائن اور امتِ مسلمہ

زیر زمین معدنی خزائن کی تلاش اور حصول کے لیے امریکی کمپنی سے معاہدہ کی خبریں ان دنوں زیربحث ہیں۔ جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں ارشاد گرامی ہے کہ خواب میں زمین کے خزانوں کی چابیاں مجھے دی گئی ہیں، جس کا مطلب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ زمین کی تہہ میں محفوظ معدنی و دیگر خزائن زیادہ تر امتِ مسلمہ کے پاس ہوں گے اور اس کا ظہور رفتہ رفتہ ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ ستمبر ۲۰۲۵ء

’’جمعیۃ علماء اسلام کا مختصر تعارف اور کارکنانِ جمعیۃ کے اوصاف‘‘

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان علماء حق کی نمائندہ دینی و سیاسی جماعت ہے جس نے پہلے دور میں تحریکِ پاکستان اور دوسرے دور میں قیامِ پاکستان کے مقاصد کی تکمیل کے لیے نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں۔ اسے ملک میں سیاسی و دینی حوالوں سے قومی فیصلوں کی تشکیل و نفاذ میں ہمیشہ کلیدی حیثیت حاصل رہی ہے جو بحمد اللہ تعالیٰ آج بھی قائم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ نومبر ۲۰۲۳ء

امام اہل سنتؒ کا اسلوب بیان

والد محترم امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر نوراللہ مرقدہ کی حیات و خدمات کے حوالہ سے دارالعلوم مدنیہ بہاولپور کے آرگن ماہنامہ ’’المصطفیٰ‘‘ کی خصوصی اشاعت کا اعلان پڑھ کر اور عزیزم حمزہ سلمہ سے اس کی تیاری کے بارے میں معلومات حاصل کر کے بے حد خوشی ہوئی، دارالعلوم مدنیہ بہاولپور اور اس کے بانی حضرت مولانا غلام مصطفیٰ بہاولپوری رحمہ اللہ تعالیٰ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۰ء

Pages