اقوام متحدہ کے منشور پر نظرثانی کی ضرورت

   
۱۲ دسمبر ۲۰۰۱ء

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی انسانی حقوق کمیٹی نے کچھ عرصہ قبل اسلامی جمہوریہ ایران کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں ایرانی حکومت سے متعدد قوانین اور پالیسیوں کی تبدیلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ قرارداد ۵۲ کے مقابلہ میں ۷۱ ووٹوں سے منظور ہوئی ہے۔ قرارداد کے خلاف ووٹ دینے والوں میں اکثریت مسلم ممالک اور سابق کمیونسٹ ملکوں کی ہے جبکہ ۴۱ ممالک رائے شماری سے غیر حاضر رہے جن میں زیادہ افریقی ممالک ہیں۔ اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنرل اسمبلی اگلے ماہ اس قرارداد کی حتمی منظوری دے گی۔

قرارداد میں ایرانی حکومت سے جن قوانین کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ان میں بطور خاص (۱) سرعام سزا دینے (۲) ہاتھ یا پاؤں کاٹنے (۳) سنگسار کرنے (۴) بعض غیر سنگین جرائم پر موت کی سزا دینے (۵) اور کوڑے مارنے کی سزائیں بھی شامل ہیں جنہیں قرارداد میں ’’وحشیانہ سزائیں‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ خیال ہے کہ جنرل اسمبلی کی طرف سے اس قرارداد کی حتمی منظوری کے بعد اگر ایران نے ان قوانین میں ردوبدل نہ کیا تو اس کے خلاف اقوام متحدہ کی طرف سے امتناعی احکامات اور پابندیوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

اس سے قبل افغانستان میں کابل کا کنٹرول حاصل کرنے والے شمالی اتحاد کے وزیرقانون اور وزارت انصاف کے ایک ڈائریکٹر نے گزشتہ روز ایک انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ طالبان دور کے ’’سخت قوانین‘‘ تبدیل کیے جا رہے ہیں اور صدر داؤد خان کے دور کا قانونی نظام واپس لایا جا رہا ہے۔ شمالی اتحاد کے ان راہنماؤں کے بقول خاص طور پر سنگسار کرنے، کوڑے مارنے اور ہاتھ کاٹنے جیسی سزائیں منسوخ کر دی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی ایک قومی اخبار نے طالبان حکومت کے دور میں ایک سال قید کاٹنے والے پینتیس سالہ افغان شہری کا انٹرویو شائع کیا ہے جس میں اس نے بتایا ہے کہ طالبان حکومت نے اسے گرل فرینڈ رکھنے کے جرم میں سزا دی تھی جبکہ صدر داؤد کے دور میں یہ جرم نہیں تھا۔ دوسری طرف سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ عبد اللہ کے اس حالیہ اخباری بیان کو بھی سامنے رکھ لیا جائے تو یہ بات مزید واضح ہو جاتی ہے کہ مغربی میڈیا قرآن کریم کے احکامات کے خلاف زہریلا پراپیگنڈا کر رہا ہے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی، امریکی وزارت خارجہ کے جنوبی ایشیا ڈیسک اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی چند سال کی مسلسل رپورٹوں میں ان امور کا تذکرہ ہوتا رہا ہے اور خود پاکستان کے بعض سیاسی راہنماؤں کی طرف سے کوڑے مارنے، سنگسار کرنے اور ہاتھ کاٹنے کی سزاؤں کو کھلم کھلا وحشیانہ قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کشمکش کے پس منظر پر ایک نظر ڈال لی جائے تاکہ یہ بات واضح طور پر سامنے آجائے کہ اقوام متحدہ اور مغربی ممالک کا اس بارے میں موقف کیا ہے اور وہ اس قسم کی قراردادوں اور رپورٹوں کے ذریعے مسلم ممالک سے کیا تقاضہ کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کے جس چارٹر کو دنیا بھر میں انسانی حقوق کے تحفظ اور عملداری کی بنیاد بنا رکھا ہے اس کی دفعہ نمبر ۵ میں کہا گیا ہے کہ

’’کسی شخص کو ذہنی اذیت، جسمانی تشدد اور عزت نفس کے منافی سلوک کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا اور نہ ہی ایسی سزا دی جائے گی۔‘‘

اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی جرم کی سزا کا ذہنی اذیت، جسمانی تشدد اور تذلیل کے عناصر سے خالی ہونا ضروری ہے۔ جبکہ اسلام میں معاشرتی جرائم کی جو سزائیں مقرر کی گئی ہیں ان میں یہ تینوں باتیں پائی جاتی ہیں، مثلاً:

  • سورہ مائدہ کی آیت ۳۳ میں کہا گیا ہے کہ ڈکیتی اور قتل کے مرتکب افراد کے ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں اور انہیں سولی پر لٹکا دیا جائے۔
  • اسی سورہ کی آیت ۳۸ میں کہا گیا ہے کہ چوری کرنے والے مرد اور عورت کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔
  • سورہ نور کی آیت ۲ میں کہا گیا ہے کہ زنا کرنے والے مرد اور عورت دونوں کو سو سو کوڑے مارے جائیں۔
  • اسی سورہ کی آیت ۴ میں کہا گیا ہے کہ کسی پاک دامن عورت پر بدکاری کی جھوٹی تہمت لگانے والے کو اسی کوڑے مارے جائیں۔
  • سورہ نور کی آیت نمبر ۲ میں کہا گیا ہے کہ بدکاری کی سزا سرعام دی جائے تاکہ لوگ اسے دیکھ کر عبرت حاصل کریں۔
  • فقہاء امت کا کہنا ہے کہ سورہ نور میں مذکورہ زنا کی سزا غیر شادی شدہ مرد اور عورت کے لیے ہے جبکہ شادی شدہ مرد اور عورت زنا کے مرتکب ہوں تو تورات میں ان کے لیے سنگسار کرنے کی سزا مقرر تھی جسے بخاری شریف کی روایت کے مطابق جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برقرار رکھا اور متعدد کیسوں میں تورات کے اسی قانون کے مطابق مجرموں کو سنگسار کرنے کی سزا دی۔

یہ چند حوالہ جات اس بات کی وضاحت کے لیے دیے گئے ہیں کہ ہاتھ کاٹنے، پاؤں کاٹنے، سنگسار کرنے، کوڑے مارنے اور سرعام سزا دینے کے یہ قوانین ایرانی حکومت یا طالبان حکومت کے خودساختہ نہیں بلکہ قرآن کریم کے بیان کردہ ہیں جن پر صدیوں تک امت میں عمل ہوتا رہا ہے۔ لیکن چونکہ ان سزاؤں میں جسمانی تشدد ،ذہنی اذیت اور عزت نفس مجروح ہونے کے واضح پہلو موجود ہیں اس لیے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کی رو سے یہ قوانین وحشیانہ قرار پاتے ہیں اور ان کے نفاذ سے اقوام متحدہ کے اصولوں کی رو سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی مذکورہ قرارداد میں ایک بات یہ بھی کہی گئی ہے کہ کسی سنگین جرم کے بغیر موت کی سزا دینے کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ یہ بہت دلچسپ نکتہ ہے اس لیے کہ اسلام میں زنا، ارتداد اور توہینِ رسالت کے جرائم میں موت کی سزائیں مقرر ہیں او ریہ تینوں امور اقوام متحدہ کے نزدیک سنگین جرم نہیں ہیں بلکہ سرے سے انہیں جرم ہی تصور نہیں کیا جاتا۔ حتیٰ کہ مذہب تبدیل کرنے کے عمل کو اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ ۱۸ میں انسانی حقوق میں شمار کیا گیا ہے اور کسی بھی معاملہ میں رائے قائم کرنے اور اس کے کھلم کھلا اظہار کو ہر شخص کا بنیادی حق قرار دیا گیا ہے۔

اس پس منظر میں دیکھا جائے تو اقوام متحدہ کے منشور اور اس کی بنیاد پر دنیا بھر کے مسلم ممالک سے انسانی حقوق کے عملی احترام کے لیے اس کے مطالبہ کی زد میں جو قوانین آتے ہیں ان میں سے اکثر وہ ہیں جو قرآن و سنت کے بیان کردہ ہیں اور اسلامی شریعت کے قوانین تصور کیے جاتے ہیں۔ ہم نے ان سب اسلامی قوانین کا احاطہ نہیں کیا جو اقوام متحدہ کے منشور سے ٹکراتے ہیں بلکہ بطور نمونہ صرف چند ایک کا تذکرہ کیا ہے تاکہ عالمی سطح پر موجودہ تہذیبی اور ثقافتی کشمکش کا وہ پہلو واضح طور پر سامنے آسکے جو اس وقت دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے منشور کی بنیاد پر یکساں قوانین کے نفاذ کے لیے کی جانے والی جدوجہد کا اہم عنوان بن چکا ہے۔

اقوام متحدہ کی اب تک کی قراردادوں اور رپورٹوں میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر مسلم ممالک اپنے قانونی نظاموں کو اقوام متحدہ کے منشور اور قراردادوں کے مطابق تبدیل کرتے ہیں تو انہیں نکاح، طلاق، وراثت، زنا، شراب، چوری، ڈکیتی، قذف، ارتداد اور ناموسِ رسالتؐ جیسے بہت سے معاملات میں قرآن مجید اور سنت نبویؐ کے صریح احکام سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ کیونکہ قرآن و سنت کے ان واضح احکام و قوانین سے دستبرداری اختیار کیے بغیر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر پر اس طرح کا عملدرآمد ممکن ہی نہیں ہے جس کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی مسلسل قراردادیں منظور کرتی چلی جا رہی ہے۔ اور ایران کے خلاف بھی اس نے اسی مقصد کے لیے یہ قرارداد منظور کی ہے۔ اقوام متحدہ کا موقف یہ ہے کہ جن ممالک نے انسانی حقوق کے اس چارٹر پر دستخط کر رکھے ہیں وہ اس پر عملدرآمد کے پابند ہیں اس لیے انہیں اس منشور اور اس کی وضاحت میں اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں پر مکمل عملدرآمد کا اہتمام کرنا چاہیے اور یہ ان کی ذمہ داری ہے۔

اب ایک طرف قرآن و سنت کے واضح احکام ہیں اور دوسری طرف اقوام متحدہ کا منشور اور جنرل اسمبلی کی قراردادیں ہیں جنہوں نے مسلم حکمرانوں کو دوراہے پر کھڑا کر دیا ہے اور ان کے لیے اس کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں رہ گیا کہ وہ یا تو اقوام متحدہ کے منشور پر کیے گئے دستخطوں کی پاسداری کرتے ہوئے اس کے تمام مطالبات کو منظور کر کے ترکی کی طرح باقی مسلم ملکوں میں بھی اسلامی قوانین کو شجر ممنوعہ قرار دے دیں، یا پھر اقوام متحدہ کے منشور کی قرآن و سنت کے منافی دفعات کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے خلاف تحفظات کا اظہار کریں اور ان کی تبدیلی کے لیے منظم دباؤ ڈالیں۔

یہ بات ایک حقیقت ہے کہ نصف صدی قبل جب اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کا یہ چارٹر منظور کیا تھا تو اس وقت مسلم دنیا کی وہ پوزیشن نہیں تھی جو آج ہے، بیشتر ممالک غلام تھے اور جو چند مسلم ملک آزاد کہلاتے تھے وہ بھی ایک منظم گروپ کے طور پر اپنی بات پیش نہیں کر سکتے تھے۔ جبکہ آج اقوام متحدہ میں ساٹھ کے قریب مسلم ممالک کا گروپ موجود ہے اور اسے یہ پوزیشن حاصل ہے کہ اگر مسلم ممالک قرآن و سنت کے ساتھ عملی وابستگی اور دینی حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے منشور پر نظرثانی کا مطالبہ کریں اور اس منشور کے ذریعے پوری دنیا پر مغربی تہذیب و ثقافت مسلط کرنے کی کوششوں کے خلاف ڈٹ جائیں تو وہ مغرب کی اس ثقافتی یلغار کو بریک لگا سکتے ہیں جو امریکہ کی فوجی قوت اور اقوام متحدہ کے منشور اور قراردادوں کے زور پر پوری دنیا کے مسلم معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لیے مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔

چند سال قبل ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے مسلم حکومتوں سے کہا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کے طرزعمل اور پالیسیوں کے خلاف منظم گروپ کے طور پر احتجاج کریں اور اجتماعی دباؤ ڈال کر اقوام متحدہ کو اپنے منشور اور پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور کریں۔ ہمارے نزدیک مسلم حکومتوں کے لیے آج بھی باوقار راستہ یہی ہے، ورنہ دنیا بھر کے مسلم حکمران یہ بات نوٹ کر لیں کہ اگر انہوں نے اسلامی شریعت کے صریح منافی اقوام متحدہ کے فیصلوں کے سامنے ہتھیار ڈالے تو وہ اس عمل میں تنہا ہوں گے اور مسلم دنیا کے عوام کو اقوام متحدہ کے منشور کی خاطر قرآن و سنت کے ارشادات سے دستبردار ہونے کے لیے وہ کبھی تیار نہیں پائیں گے۔

   
2016ء سے
Flag Counter