جارج بش اور ٹونی بلیئر کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ

   
اکتوبر ۲۰۱۲ء

روزنامہ پاکستان میں نیویارک سے جناب قمر علی عباسی ’’اور پھر بیان اپنا ‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتے ہیں، انہوں نے ۱۰ ستمبر ۲۰۱۲ء کو شائع ہونے والے اپنے کالم میں انکشاف کیا ہے کہ:

’’برطانیہ کے نوبل انعام یافتہ آرچ بشپ نے برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر اور امریکہ کے سابق صدر جارج بش پر عراق جنگ میں ان کے کردار پر بین الاقوامی کریمینل کورٹ ہیگ میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ دونوں راہنماؤں نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیا تھا اور عراق پر حملہ کیا تھا جس کی وجہ سے دنیا تاریخ کے کسی بھی دوسرے تنازعہ کے مقابلہ میں زیادہ غیر مستحکم اور تقسیم کا شکار ہو گئی ہے۔ آرچ بشپ نے اخبار ’’آبزرور‘‘ میں لکھا ہے کہ صدام حسین کو ہٹانے کے لیے امریکہ اور برطانیہ کی قیادت میں کی جانے والی کاروائیوں کے نتیجے میں شام میں خانہ جنگی کی راہ ہموار ہوئی جس سے مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور ایران کی شمولیت بھی صاف نظر آتی ہے۔ آرچ بشپ نے کہا ہے کہ عراق جنگ کے دوران اور اس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد ان کے خلاف مقدمے کے لیے کافی جواز ہے اس لیے جس طرح بعض افریقی اور ایشیائی راہنماؤں کے خلاف مقدمات چلائے جاتے رہے ہیں اسی طرح ان دونوں کے خلاف بھی کاروائی کی جائے۔‘‘

ہمیں یقین ہے کہ مسیحیوں کے عالمی مذہبی راہنما آرچ بشپ کے اس جائز مطالبہ پر مغربی دنیا کا کوئی راہنما کان نہیں دھرے گا اور یہ آواز حقیقت پسندانہ ہونے کے باوجود صدا بصحرا ثابت ہو گی جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ٹونی بلیئر اور جارج بش نہ افریقی ہیں اور نہ ایشیائی، جبکہ عالمی طاقتوں اور اداروں نے انسانی جرائم کے حوالہ سے جو بھی تعزیری اور تادیبی قوانین بنا رکھے ہیں ان کا اطلاق صرف ایشیائی اور افریقی ممالک پر ہوتا ہے، اور یورپ اور امریکہ کے حکمران ایسے قوانین سے عملاً مستثنیٰ ہیں۔ البتہ ہم آرچ بشپ کی اس حقیقت بیانی کی داد ضرور دیں گے اور اس بات پر ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیں گے کہ انہوں نے جارج بش اور ٹونی بلیئر کے جنگی جرائم کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ شام میں اس وقت جاری خانہ جنگی کے پس منظر اور اس کے متوقع نتیجے کی طرف بھی اشارہ کر دیا ہے۔

ہمارا خیال بھی یہ ہے کہ شام کی موجودہ خانہ جنگی کے پس منظر میں عراق کی تباہی اور خطے میں ماضی قریب میں ہونے والے اہم واقعات خاصی اہمیت رکھتے ہیں، اس لیے کہ شام میں سنی اور شیعہ گروہوں میں جو خوفناک کشمکش جاری ہے وہ آنے والے دور میں پورے مشرق وسطیٰ کی سیاست کا رخ تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی اور ہو سکتا ہے کہ یہ ساری تگ و دو شام کا کنٹرول حاصل کرنے کی مہم کا حصہ ہو جو بیت المقدس کے حوالہ سے مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان متوقع عالمی تصادم کا کلیدی کردار بننے والا ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ارشادات میں ملاحم کبریٰ کے حوالہ سے شام کی اس اہمیت و مرکزیت کا تذکرہ موجود ہے اور بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ معاملات اسی رخ کی طرف بڑھ رہے ہیں کہ شام ان ساری جنگوں کا مرکز ہو گا اور اسی کے نتیجے میں حق و باطل کا وہ فیصلہ کن معرکہ بپا ہو گا جس کے بعد اسلام کے فیصلہ کن غلبہ کی بشارت ارشادات نبوی ؐ میں پائی جاتی ہے۔

مگر حیرت اور تعجب کی بات یہ ہے کہ شام کی اس خانہ جنگی کے پس منظر اور متوقع نتائج کا آرچ بشپ سمیت بہت سے لوگوں کو اندازہ ہے اور وہ اس کا اظہار بھی کر رہے ہیں لیکن پاکستان اور مشرقی وسطیٰ میں اہل سنت کی پوری مذہبی قیادت اس صورتحال کے ادراک تک سے عاری اور لاتعلق دکھائی دے رہی ہے اور اس کا حال یہ ہے کہ:

ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم
   
2016ء سے
Flag Counter