مسلمان اور مسیحی مذہبی راہنماؤں کے درمیان مکالمہ کی ضرورت

   
۵ اگست ۱۹۹۷ء

ایک عرصہ سے دل میں یہ خواہش پرورش پاتی چلی آ رہی ہے کہ مغرب آسمانی تعلیمات اور مذہبی احکامات و اقدار سے بغاوت کے جو تلخ نتائج بھگت رہا ہے اور اب ان میں ہم مشرق والوں کو بھی شریک کرنے کے درپے ہے، ان کے بارے میں سنجیدہ مسیحی مذہبی راہنماؤں سے گفتگو کی جائے اور اگر مذہب گریز رجحانات کو روکنے کے لیے کسی درجے میں مشترکہ کوششوں کی کوئی راہ نکل سکتی ہو تو اس کے لیے پیشرفت کی جائے۔ پاکستان کے مسیحی راہنماؤں میں آنجہانی جسٹس اے آر کارنیلیس اور آنجہانی جوشوا فضل دین کے بعد کوئی ایسا مسیحی راہنما نظر نہیں آیا جس کے ساتھ اس موضوع پر سنجیدگی سے بات کی جا سکے، کیونکہ پاکستانی مسیحیوں کی روایتی لیڈر شپ ایک عرصہ سے اپنی کمیونٹی کے مذہبی رجحانات اور مذہبی تعلیمات کے بجائے مغرب کی سیکولر لابیوں کی نمائندگی کو ترجیح دیے ہوئے ہے، اور بیشتر مسیحی راہنماؤں کی سرگرمیاں آسمانی تعلیمات و احکام کی پیشرفت میں رکاوٹ ڈالنے اور مذہب سے گریز اور فرار کی حوصلہ افزائی کے لیے وقف ہو کر رہ گئی ہیں، اس لیے میں بیرون ملک مسیحیت کے سنجیدہ مذہبی راہنماؤں کی تلاش میں رہتا ہوں۔

غالباً ۱۹۹۰ء کی بات ہے کہ امریکہ کی ریاست جارجیا کے شہر اگستا میں عیسائیوں کے بیپٹسٹ فرقہ کے ایک مذہبی پیشوا سے ملاقات ہوئی جن کا نام اس وقت میرے ذہن میں نہیں ہے، البتہ ملاقات کا نقشہ اور گفتگو کی بہت سے تفصیلات یاد ہیں۔ اگستا میں میرے بچپن کے ایک دوست اور کلاس فیلو افتخار رانا قیام پذیر ہیں۔ ان سے میں نے گزارش کی کہ کسی مسیحی مذہبی راہنما سے ملنا چاہتا ہوں، انہوں نے بیپٹسٹ فرقہ کے چرچ سے رابطہ قائم کیا اور اس کے سربراہ سے ملاقات کے لیے وقت لے لیا۔ اس ملاقات میں ترجمانی کے فرائض بھی افتخار رانا نے سرانجام دیے، کیونکہ میں انگریزی زبان سے نابلد ہوں۔ اس موقع پر مغربی معاشرہ کی مذہب سے دوری، معاشرہ پر اس کے منفی اثرات، شراب اور زنا کی کثرت، بے پردگی اور خاندانی زندگی کی شکست و ریخت سمیت بہت سے امور پر گفتگو ہوئی اور سیکولر سوچ اور فلسفہ کے خلاف مشترکہ محنت کے امکانات کا جائزہ لیا گیا، اور یہ طے پایا کہ اگلے سال اس بارے میں مزید سوچ بچار کریں گے، مگر اس کے بعد امریکہ بہادر مجھے ویزا دینے سے مسلسل انکار کر رہا ہے، اس لیے وہ گفتگو ادھوری رہ گئی۔

ماہ رواں کے آغاز کی بات ہے کہ برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان عالم دین مولانا اورنگزیب خان کے سامنے میں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ کسی سنجیدہ مسیحی عالم سے ملنا چاہتا ہوں۔ مولانا اورنگزیب خان جامعہ الہدٰی نوٹنگھم میں اسلامک ہوم اسٹڈی کورس کے ڈائریکٹر ہیں اور انگلش کے اچھے خطیب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نوٹنگھم سٹی کے ایک چرچ کے سربراہ کینن نیل ان کے دوست ہیں، ان سے انہوں نے ملاقات کا وقت لے لیا اور ان سے ان کے چرچ میں کم و بیش ڈیڑھ گھنٹہ تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ملاقات میں ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسٰی منصوری اور مولانا اورنگزیب خان کے علاوہ ایک نومسلم آئرش بزرگ حاجی عبد الرحمن بھی شریک تھے۔ گفتگو کا ایجنڈا وہی تھا جس کا ذکر سطور بالا میں امریکہ کے مسیحی پیشوا کے ساتھ ملاقات کے حوالے سے ہو چکا ہے۔

آسمانی تعلیمات اور مذہبی احکام و اقدار سے بغاوت کے معاشرے پر اثرات کے بارے میں سوال کے جواب میں جناب کینن نیل نے کہا کہ اس کے اثرات تباہ کن ہیں: سوسائٹی بکھر کر رہ گئی ہے؛ پڑوسی، دوست اور رشتہ دار کا کوئی تصور باقی نہیں رہا؛ نفسا نفسی کا عالم ہے؛ خاندانی نظام تتربتر ہو گیا ہے؛ ماں باپ بوڑھے ہو جائیں تو کوئی پرسان حال نہیں ہوتا، حتٰی کہ مکانات بنانے والی سوسائٹیاں اب جو مکانات بنا رہی ہیں، وہ کسی فیملی کے رہنے کی غرض سے نہیں بلکہ ایک دو افراد کے رہنے کے لیے چھوٹے چھوٹے فلیٹ بن رہے ہیں؛ بدکاری، شراب اور منشیات کا استعمال بڑھ رہا ہے؛ زندگی کی ظاہری سہولتوں کی فراوانی کے باوجود ذہنی سکون غارت ہو گیا ہے؛ اور اسمگلنگ، چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہو گیا ہے۔

اس صورتحال کا بنیادی سبب فادر کینن نیل کے نزدیک مذہب سے انحراف اور روحانیت کا فقدان ہے۔ اس سلسلے میں چرچ کے کردار کے بارے میں انہوں نے کہا کہ چرچ سوسائٹی کے معاملات کے ساتھ اپنا تعلق باقی رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہم معاشرتی مسائل پر بحث و مباحثہ کرتے ہیں، رپورٹیں مرتب کرتے ہیں، متعلقہ محکموں اور لوگوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ وہ خود ایک رفاہی کمیٹی کے ممبر ہیں، جو بدکاری کا پیشہ کرنے والی عورتوں اور نشہ کا استعمال کرنے والے لوگوں سے مل کر انہیں سمجھانے کی کوشش کرتی ہے اور انہیں اس فعل بد سے توبہ کی تلقین کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈائس پر کھڑے ہو کر خطاب کرنے کی بجائے انہیں یہ طریقہ زیادہ مؤثر معلوم ہوتا ہے کہ برائی میں مبتلا لوگوں سے فردًا فردًا ملا جائے اور انہیں سمجھا بجھا کر برائی سے بچانے کی کوشش کی جائے۔

انہوں نے بتایا کہ چرچ حکومت کو بھی بہت سے معاملات میں مشورہ دیتا ہے اور قومی معاملات میں اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے، بالخصوص اسقاط حمل کو قانونی جواز فراہم کرنے کے خلاف چرچ نے کھل کر بات کی ہے اور شہزادہ چارلس کی طرف سے لیڈی ڈیانا کو طلاق دینے کے بعد کمیلا پارکر کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بھی چرچ نے اپنی ناراضگی کا کھلے بندوں اظہار کیا ہے اور چرچ کو اس پر بہت تشویش ہے۔ اس موقع پر فادر نیل نے کم وبیش تین سو صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ ہمیں دکھائی جس میں بے روزگاری کے منفی اثرات پر بحث کی گئی ہے اور چرچ کی طرف سے اس سلسلے میں حکومت کو سفارشات اور تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود بھی نوٹنگھم سٹی کو نسل کے لارڈ میئر کے مذہبی مشیر ہیں اور انہیں مختلف معاملات میں مذہبی نقطہ نظر سے مشورہ دیتے ہیں۔

میں نے ان سے سوال کیا کہ اس سب کچھ کے باوجود حالات میں بگاڑ بڑھ رہا ہے اور مذہب سے انحراف کے اثرات سوسائٹی پر بدستور حاوی دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے پاس مذہبی راہنما کے طور پر اس کا کیا حل ہے؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ یہی سوال میں آپ سے کرنے والا تھا، کیونکہ ہمارے پاس اس کا کوئی حل نہیں ہے اور ہم مذہب سے بغاوت کو روکنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ اس کا حل روحانیت میں ہے جو ہمارے پاس نہیں رہی اور آپ لوگوں کے پاس نظر آتی ہے، اس لیے ہم تو حل کے لیے آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ آپ ہی ہماری رہنمائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ خدا، مذہب اور آخرت پر یقین رکھنے والے دانشور مل بیٹھیں اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے مذہبی رہنما مل جل کر نسل انسانی کو اس دلدل سے نکالنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے بتایا کہ گلف وار کے موقع پر یہاں مسلمانوں اور عیسائیوں نے باہم مل بیٹھنے کے لیے ایک فورم قائم کیا تھا جس کی کئی نشستیں ہوئیں، لیکن اس کے بعد یہ سلسلہ زیادہ دیر نہ چل سکا۔ میں نے عرض کیا کہ یہ کام اگر سیاست کاری سے ہٹ کر ہوتا تو شاید زیادہ مؤثر اور دیرپا ہوتا۔ اس سے انہوں نے اتفاق کیا اور کہا کہ اب بھی اس سلسلے کو دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

فادر کینن نیل نے کہا کہ آج کے دور میں ہم عجیب کشمکش میں مبتلا ہیں۔ ایک طرف مذہب پر مکمل عمل کو بنیاد پرستی کے طعنوں کا سامنا ہے اور دوسری طرف عملی مسائل سے لاتعلق کر کے مذہب کو کھوکھلا کر دیا گیا ہے۔ ہمیں اس میں کوئی متوازن راہ نکالنی چاہیے اور اسلام اور مسیحیت کے سنجیدہ مذہبی رہنماؤں کو مل بیٹھ کر اس سلسلے میں گفتگو کرنی چاہیے کیونکہ وہی اس مشکل کا حل تلاش کر سکتے ہیں۔

یہ ایک مسیحی رہنما کے خیالات ہیں جو ہمارے لیے سبق بھی ہیں اور اور دعوت بھی کہ مغرب کو روحانیت کا بھولا ہوا سبق یاد دلانے کے لیے آگے بڑھیں، لیکن اس کے لیے شرط ہے کہ یہ سبق خود ہمیں بھی اچھی طرح یاد ہو، ورنہ ایک بھولا ہوا دوسرے بھولے ہوئے کو کیا راہ دکھائے گا؟

   
2016ء سے
Flag Counter