مغربی یلغار اور اسلامی تحریکیں

   
اکتوبر ۱۹۹۴ء

(دورۂ برطانیہ سے واپسی پر جمعیۃ اہلِ سنت کی طرف سے دیے گئے استقبالیہ سے خطاب کا خلاصہ)

پاکستان میں شریعتِ اسلامیہ کی بالادستی کی جنگ اسلام آباد میں نہیں بلکہ واشنگٹن، نیویارک، جنیوا اور لندن میں لڑی جا رہی ہے اور مغربی لابیاں اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور جنیوا کنونشن کی قراردادوں کی آڑ میں ’’انسانی حقوق‘‘ کے ہتھیاروں کے ساتھ اسلامی نظامِ حیات پر حملہ آور ہیں۔

مغربی جمہوریت اور کمیونزم کے درمیان سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد مغربی ذرائع ابلاغ اور لابیوں کا سب سے بڑا ہدف اسلام ہے اور ایک منظم سازش کے تحت اسلام کو سولائزیشن کے مخالف اور انسانی حقوق سے محروم کرنے والے مذہب کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ جس کا مقصد عالمی رائے عامہ کو اسلام سے متنفر کرنا اور مسلمانوں کی نئی نسل کو اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات اور بے یقینی سے دوچار کرنا ہے۔ اس لیے اس محاذ پر ٹھوس فکری اور نظریاتی کام کی ضرورت ہے۔ اور ورلڈ اسلامک فورم اسی مقصد کے لیے جدوجہد کو منظم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ خلافتِ راشدہ کی بنیاد پر اسلامی نظام کا صحیح تعارف دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔

اس وقت پاکستان کے علاوہ انڈونیشیا، ملیشیا، مراکش، مصر، ترکی، الجزائر، تونس اور دیگر مسلم ممالک میں اسلامائزیشن کی تحریکیں موجود ہیں مگر مسلم ممالک کے حکمران اپنے ملک کے عوام اور اسلام کا ساتھ دینے کی بجائے مغربی حکومتوں کے ایجنٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں اور متعدد ممالک میں اسلامائزیشن کی تحریکات ریاستی جبر کا شکار ہیں۔ سعودی عرب میں بھی خلافتِ راشدہ اور قرآن و سنت کی بنیاد پر شرعی حقوق کی بحالی کے لیے علماء و مشائخ سرگرم عمل ہیں اور متعدد سرکردہ علماء اس جدوجہد کی وجہ سے گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ خلیج میں امریکہ کی نئی افواج کی آمد دراصل اس خطہ میں دینی بیداری کی تحریکات کو کچلنے اور مغربی مفادات کے لیے کام کرنے والی حکومتوں کے تحفظ کے لیے ہے۔

پاکستان کی دینی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ آنے والے حالات کا بروقت اندازہ کریں اور عالمِ اسلام کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے مسلم ممالک میں ریاستی جبر کا شکار بننے والی دینی تحریکات کا ساتھ دیں۔

(ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ ۔ نومبر ۱۹۹۴ء)
2016ء سے
Flag Counter