مرکزی مجلسِ عمل تحفظ ختم نبوت کی بحالی

   
مئی ۱۹۹۶ء

کل جماعتی مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے سربراہ حضرت مولانا خان محمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں نے ۳۰ مارچ ۱۹۹۶ء کو لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی مجلس عمل کو دوبارہ متحرک کرنے کا اعلان کیا ہے اور ۱۶ مئی ۱۹۹۶ء کو لاہور میں ’’قومی ختم نبوت کنونشن‘‘ طلب کر لیا ہے جس میں ملک بھر سے مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام شریک ہوں گے اور اس موقع پر تحریک ختم نبوت کے آئندہ پروگرام کا اعلان کیا جائے گا۔

قادیانی گروہ ملتِ اسلامیہ کے متفقہ فیصلہ کے مطابق دائرہ اسلام سے خارج ایک غیر مسلم گروہ ہے اور پاکستان کی پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو ایک آئینی ترمیم کے ذریعے غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہوا ہے، لیکن قادیانی گروہ اس فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے اور اسے اس انکار میں مغربی قوتوں کی پشت پناہی حاصل ہے جس کی وجہ سے اس کی ہٹ دھرمی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

روزنامہ پاکستان لاہور ۷ مارچ ۱۹۹۶ء کے مطابق امریکی وزارتِ خارجہ نے پاکستان کے بارے میں اپنی سالانہ رپورٹ میں دیگر امور کے علاوہ توہینِ رسالت پر موت کی سزا کے قانون اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے فیصلے کو بھی ہدفِ تنقید بنایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق:

’’قادیانیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہیں، ۱۹۹۵ء میں ۱۵ دفن شدہ قادیانیوں کی لاشیں قبروں سے باہر نکال لی گئیں، قادیانیوں کو فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے پاسپورٹ جاری نہیں کیا جاتا، ان پر توہینِ رسالتؐ کے مقدمات بنا دیے جاتے ہیں۔‘‘

جبکہ روزنامہ جنگ لاہور ۹ مارچ ۱۹۹۶ء کے مطابق امریکی نائب وزیر خارجہ مسٹر رابن رافیل نے ان قوانین کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے انہیں منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ ان قوانین کی منسوخی کے لیے پاکستان پر مسلسل دباؤ ڈالا جاتا رہے گا۔

اس کے ساتھ ہی حکومتِ پاکستان نے اقلیتوں کو دوہرے ووٹ کا حق دینے کا اعلان بھی کر دیا ہے جس کا عملی فائدہ سب سے زیادہ قادیانیوں کو ہو گا کہ وہ اس چور دروازے سے مسلمانوں کی صفوں میں دوبارہ گھس سکیں گے۔ ان حالات میں حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی طرف سے مرکزی مجلس عمل کو دوبارہ متحرک کرنے کا اعلان وقت کی اہم ضرورت ہے اور تمام مکاتب فکر کے علماء اور کارکنوں کو چاہیے کہ وہ مذہبی قوانین کے خلاف بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے مرکزی مجلس عمل کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔

   
2016ء سے
Flag Counter