قرطبہ کی جامع مسجد میں گرجا گھر

   
تاریخ : 
اکتوبر ۱۹۹۷ء

پنجاب اسمبلی کے رکن مولانا منظور احمد چنیوٹی یورپ کے مختلف ممالک میں ختمِ نبوت کانفرنسوں سے خطاب کے بعد گزشتہ دنوں وطن واپس پہنچے تو انہوں نے اپنے دورہ کے تاثرات بیان کرتے ہوئے قرطبہ کی جامع مسجد کا بھی ذکر کیا جہاں انہیں اس سفر میں اپنے رفقاء کے ہمراہ حاضری کا موقع ملا۔

قرطبہ اسپین کا تاریخی شہر ہے جو اندلس پر مسلمانوں کی صدیوں کی حکمرانی کے دوران ان کا علمی و سیاسی مرکز رہا ہے، اور جس کے در و دیوار آج بھی ملتِ اسلامیہ کی عظمتِ گم گشتہ اور تہذیب و ثقافت کی گواہی دیتے ہیں۔ قرطبہ میں اموی حکمرانوں کی تعمیر کردہ دنیا کی سب سے بڑی جامع مسجد بھی ہے جو اپنی وسعت اور مضبوطی کے ساتھ ساتھ اسلامی طرز تعمیر کا نادر نمونہ شمار ہوتی ہے، اور دنیا بھر سے ہزاروں سیاح اسے دیکھنے کے لیے قرطبہ کا سفر کرتے ہیں۔

مولانا چنیوٹی کا کہنا ہے کہ وہ یہ تمنا دل میں لے کر قرطبہ کی جامع مسجد میں گئے تھے کہ وہاں دو رکعت نماز ادا کریں گے اور بارگاہِ ایزدی میں ملتِ اسلامیہ کی عظمتِ گم گشتہ کی بحالی کے لیے دعا کریں گے، مگر وہاں یہ دیکھ کر افسوسناک حیرت ہوئی کہ اس وسیع و عریض مسجد میں درجنوں گرجے بنا دیے گئے ہیں جن میں مسجد کے محراب کے ساتھ ایک بڑا گرجا بھی شامل ہے۔ اور جہاں کسی دور میں لاکھوں فرزندانِ توحید ایک خدا کی عبادت کیا کرتے تھے اسے بت پرستی اور شرک کی آماجگاہ بنا دیا گیا ہے۔ جبکہ ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس مسجد میں نماز ادا کرنے اور ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے تک کی اجازت نہیں ہے۔ حتیٰ کہ جو مسلمان سیاح مسجد کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں پولیس اہلکار مسلسل ان کے ساتھ رہتے ہیں اور انہیں اس بات کا موقع نہیں دیتے کہ وہ دو رکعت نماز یا کم از کم ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کی خواہش ہی پوری کر سکیں۔ مولانا چنیوٹی کا کہنا ہے کہ خود انہوں نے پولیس اہلکاروں کی مسلسل نگرانی کی وجہ سے بنچ پر بیٹھ کر اشارے سے بمشکل دو رکعت نماز پڑھی اور دعا مانگی۔

مولانا موصوف کے بقول اسپین میں رہنے والے مسلمان اس مسجد کا انتظام سنبھالنے اور اسے آباد کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن حکومت ان کی درخواستوں پر کوئی توجہ نہیں دے رہی۔ جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اسپین کے ان مسلمانوں کو دنیا کی مسلم حکومتوں اور عالمِ اسلام کے اداروں کی حمایت اور پشت پناہی حاصل نہیں ہے۔ یہ صورتحال انتہائی پریشان کن اور افسوسناک ہونے کے ساتھ ساتھ پوری ملتِ اسلامیہ کے لیے باعثِ شرم بھی ہے کہ انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے بلند بانگ دعووں کے اس دور میں آزادیوں کے نام نہاد علمبردار یورپ کے ایک ملک میں دنیا کی سب سے بڑی مسجد مسلمانوں کی تحویل میں نہیں ہے اور اس کا ایک ایک چپہ فرزندانِ توحید کے سجدوں کو ترس رہا ہے۔

ہم اپنی جماعتوں، اداروں اور مراکز سے گزارش کریں گے کہ وہ دنیا بھر کی مسلم حکومتوں کو اس طرف توجہ دلائیں کہ قرطبہ کی جامع مسجد کی واگزاری اور بطور مسجد اس کی دوبارہ آبادی کے لیے اسپین حکومت پر دباؤ ڈالا جائے اور مسجد کا نظم و نسق سنبھالنے کے خواہشمند مسلمانوں کی حوصلہ افزائی اور حمایت کی جائے۔

   
2016ء سے
Flag Counter