اسرائیل اور امریکہ کیلئے نوشتۂ دیوار

   
دسمبر ۲۰۰۳ء

روزنامہ اسلام لاہور ۵ نومبر ۲۰۰۳ء میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ایک حالیہ سروے میں یورپی ممالک کے شہریوں نے اسرائیل اور امریکہ کو عالمی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ یہ سروے یورپی یونین کی طرف سے کرایا گیا جس میں یورپی یونین کے ہر ملک کے تقریباً پانچ سو باشندوں سے سوال کیا گیا کہ وہ کن ممالک کو عالمی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ ساڑھے سات ہزار کے لگ بھگ افراد سے یہ سوال کیا گیا اور ان میں سے ۵۹ فیصد نے اسرائیل کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا، جبکہ دوسرے نمبر پر امریکہ اور اس کے بعد ایران، شمالی کوریا، پاکستان، شام، لیبیا اور دیگر ممالک کو عالمی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔

اسرائیل اور امریکہ دونوں نے اس سروے کے نتائج پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیل کے وزیر خارجہ سلوان شلوم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ سروے غیر معیاری طریقے سے کیا گیا ہے اور یہ حقیقت کو ظاہر نہیں کرتا۔ جبکہ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ عالمی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں ہے، اور اگر یورپی شہریوں کو صحیح حقائق معلوم ہوتے تو ان کے خیالات یہ نہ ہوتے۔

دوسری طرف امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کو، جو اِن دنوں برطانیہ کے دورے پر ہیں، برطانوی عوام کی زبردست مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، ان کی سکیورٹی کے انتہائی سخت اور وسیع تر انتظامات کے باوجود برطانوی حکومت نے لندن میں انہیں کھلے بندوں عوام کے درمیان سے گزارنے کی تجویز قبول نہیں، اور برطانوی اخبارات میں ان کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ یہ امریکہ اور برطانیہ کی عالمی پالیسیوں، ان کی طرف سے اسرائیلی جارحیت کی مسلسل سرپرستی، اور مسلمانوں کے خلاف ان کے معاندانہ اور متعصبانہ طرزعمل کا منطقی ردعمل ہے۔ جس پر امریکہ اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ کو برہمی کا اظہار کرنے کی بجائے حقائق کا کھلی آنکھوں سے جائزہ لینا چاہیے۔ اور اس بڑھتی ہوئی مخالفت کے اسباب و عوامل کو اپنی پالیسیوں اور طرز عمل میں تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ صدر بش کو اکثر یہ شکایت رہتی ہے کہ مسلمانوں میں ان کے خلاف نفرت کیوں ہے؟ مگر یورپ کے یہ باشندے مسلمان نہیں جن کی اکثریت نے اسرائیل اور امریکہ کو عالمی سلامتی اور ان کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔

گزشتہ نصف صدی سے اسرائیل نے مسلمانوں اور عربوں کے خلاف جارحیت اور تشدد کی جو کاروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، اور امریکہ اور برطانیہ جس طرح اس کی سرپرستی کر رہے ہیں، پھر عراق اور افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے نہتے شہریوں پر جبر و تشدد اور وحشت و بربریت کا جو بازار گرم کر رکھا ہے، وہ دنیا کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہے۔ اور کوئی بھی ذی شعور اور انصاف پسند شخص خواہ وہ کسی بھی مذہب یا ملک سے تعلق رکھتا ہو، اسرائیل اور امریکہ کے بارے میں اس کے تاثرات و احساسات اس سے مختلف نہیں ہو سکتے جن کا اظہار مذکورہ سروے میں یورپی باشندوں کی اکثریت نے کیا ہے۔ اس لیے یہ نوشتۂ دیوار ہے جس سے اسرائیل اور امریکہ کو سبق حاصل کرنا چاہیے۔

   
2016ء سے
Flag Counter