اسلامی نظریاتی کونسل کی علمی اشاعتیں اور ملی مجلس شرعی کا قیام

   
تاریخ : 
۳۰ اگست ۲۰۰۷ء

جامعہ حفصہ کے سانحہ اور دیگر اہم معاملات کے باعث دو علمی مجالس کا تذکرہ مؤخر ہوتا آ رہا ہے، اب اس کا موقع ملا ہے کہ ان کی کچھ تفصیل قارئین کی خدمت میں پیش کر سکوں۔

ایک مجلس کا اہتمام اسلام آباد میں ۲ اگست کو اسلامی نظریاتی کونسل نے کیا، اسی روز بھوربن مری کے مدرسہ تعلیم القرآن میں پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلسِ عاملہ کا اجلاس تھا، اس لیے وہاں جاتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کی اس نشست میں حاضری کا موقع مل گیا۔ یہ علمی اور فکری نشست دو حوالوں سے تھی۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے ’’اجتہاد‘‘ کے عنوان سے ایک علمی و فکری سہ ماہی مجلہ کا اجرا کیا ہے جس کا پہلا شمارہ منظرِ عام پر آ چکا ہے۔ جبکہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے نامور عرب عالمِ دین اور دانشور الاستاذ عبد الحلیم محمد ابو شقہؒ کی ایک معرکۃ الآرا کتاب کا اردو ترجمہ اسلامی نظریاتی کونسل نے شائع کیا ہے۔ یہ تقریب مجلہ ’’اجتہاد‘‘ اور ’’خواتین کی آزادی عصرِ رسالتؐ میں‘‘ کے نام سے شائع ہونے والی اس کتاب کی رونمائی کے لیے منعقد ہوئی۔ کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود نے مجھے بطور خاص اس میں شرکت کی دعوت دی۔ دونوں موضوع میری خصوصی دلچسپی کے ہیں اس لیے حاضری ضروری تھی۔

اجتہاد کی ضرورت اور حدودِ کار پر گزشتہ ربع صدی سے مسلسل لکھتا آ رہا ہوں۔ مذکورہ مجلہ میں بھی مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے تصور ِاجتہاد پر میرا ایک مضمون شاملِ اشاعت ہے، اور شاید میری اسی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے سہ ماہی ’’اجتہاد‘‘ کی مجلسِ مشاورت میں بھی میرا نام شامل کر لیا گیا ہے۔ اجتہاد کے بارے میں ہم اس وقت دو انتہاپسندانہ رویوں سے دوچار ہیں:

  • ایک طرف سرے سے اجتہاد کی ضرورت سے انکار کیا جا رہا ہے،
  • اور دوسری طرف اجتہاد کے نام پر امت کے چودہ سو سالہ علمی مسلّمات اور اجماعی اصولوں کا دائرہ توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جبکہ حق ان دونوں انتہاؤں کے درمیان میں ہے۔ اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ امتِ مسلمہ کے اجماعی اصولوں اور علمی مسلّمات کے دائرے میں رہتے ہوئے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں امتِ مسلمہ کے مسائل و مشکلات کا حل پیش کیا جائے، خاص طور پر نئے پیش آمدہ مسائل کے قابلِ قبول دینی و علمی حل کی کوئی صورت نکالی جائے۔

عصرِ حاضر میں دنیا کے مختلف اسلامی ممالک میں اس پر مسلسل کام ہو رہا ہے اور بہت سے تحفظات کے باوجود اس سلسلے میں پیشرفت جاری ہے۔ میں خود اس امر کی ضرورت محسوس کر رہا تھا کہ دنیائے اسلام کے مختلف حصوں میں اجتہاد کے عنوان سے ہونے والے کام سے پاکستان کے اہل ِعلم و دانش کا آگاہ ہونا ضروری ہے، ایک دوسرے کے نقطۂ نظر سے واقفیت کے ساتھ ساتھ مختلف جہات سے ہونے والی اجتہادی کاوشوں کے نتائج بھی ہمارے سامنے ہونے چاہئیں، اتفاق یا اختلاف اس سے بعد کا مرحلہ ہے کہ ہم کس بات کو قبول کرتے ہیں اور کون سی ہمارے نزدیک قبولیت کے معیار پر پوری نہیں اترتی، مگر اس سے پہلے ان کاوشوں سے اور ان کے دلائل و نتائج سے واقفیت ناگزیر ہے، کیونکہ اس کے بعد ہی کسی بات سے اتفاق یا اختلاف کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے سہ ماہی مجلہ اجتہاد کا دائرہ کار یہی طے کیا ہے اور اس کی ادارتی ذمہ داری ہمارے ایک فاضل دوست خورشید احمد ندیم کے سپرد کی ہے، جو بعض مسائل میں اختلاف و اتفاق کے تحفظات سے قطع نظر اپنی استعداد، اہلیت اور ذوق کے حوالے سے اس کام کے لیے موزوں ہیں اور اسے بہتر طریقے سے آگے بڑھا سکتے ہیں۔

الاستاذ عبد الحلیم محمد ابو شقہؒ کی کتاب ’’تحریر المرأۃ فی عصر الرسالۃ‘‘ میں نے کوئی دس برس قبل لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا مفتی برکت اللہ کی لائبریری میں دیکھی تھی، اور صرف دیکھی ہی نہیں بلکہ پڑھی بھی تھی، اور پھر فورم کے چیئرمین کی حیثیت سے حقِ صدارت استعمال کرتے ہوئے ضبط بھی کر لی تھی، اب ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسٰی منصوری ہیں اور مجھے ان دوستوں نے سرپرست کا درجہ دے رکھا ہے۔ یہ کتاب چار جلدوں میں ہے اور اس میں مصنف نے اس بات پر بحث کی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات نے معاشرے میں عورتوں کے حقوق اور آزادی کے حوالے سے کیا عملی تبدیلیاں پیدا کی تھیں، اور جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے اسلامی معاشرے میں عورتوں کو کون کون سے شعبوں میں کیا کیا آزادیاں حاصل تھیں؟ مصنف نے اس کتاب میں قرآن کریم کے بعد احادیثِ نبویؐ کی دو مستند ترین کتابوں بخاری شریف اور مسلم شریف کو حوالوں کے لیے بنیاد بنایا ہے اور تمام معلومات قرآن کریم، بخاری شریف اور مسلم شریف کے دائرے میں رہتے ہوئے پیش کی ہیں۔ ان کے بعض استدلال اور نتائجِ فکر سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن مصنف کی یہ محنت واقعتاً قابلِ داد ہے کہ انہوں نے عورتوں کے حقوق اور آزادی کے حوالے سے مباحثہ و مکالمہ کے لیے قرآن و سنت کا مستند ترین مواد یکجا کر دیا ہے۔

میری ایک عرصہ سے خواہش تھی کہ اس کتاب کا اردو ترجمہ ہو جائے تاکہ پاکستان کے دینی حلقے بھی اس سے استفادہ کر سکیں، اسلامی نظریاتی کونسل نے یہ کام کر دیا ہے اور اپنے وسائل اور دائرہ کار کی مناسبت سے وہی یہ کام بہتر طور پر کر سکتی تھی، جس پر مجھے بہت خوشی ہوئی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی موجودہ ہیئت سے ملک کے روایتی دینی حلقوں کو بہت سی شکایات ہیں، جبکہ کونسل کا غیر متوازن ڈھانچہ اور بعض فیصلے ان شکایات کا جواز بھی فراہم کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود سہ ماہی مجلہ ’’اجتہاد‘‘ کا آغاز اور ’’تحریر المرأۃ فی عصر الرسالۃ‘‘ کے اردو ترجمہ کی اشاعت کو اسلامی نظریاتی کونسل کی اچھی کوششوں میں ہی شمار کیا جانا چاہیے۔

جبکہ دوسری علمی مجلس جس کا تذکرہ میں ضروری سمجھتا ہوں، ہمارے فاضل دوست اور پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ دائرہ معارفِ اسلامیہ کے اردو سیکشن کے سینئر ایڈیٹر ڈاکٹر محمد امین صاحب نے بپا کی۔ ڈاکٹر صاحب موصوف ملک کے تعلیمی نصاب و نظام، بالخصوص دینی مدارس کے نصاب و نظام کے بارے میں انتہائی فکرمند ہیں اور ایک مستقل موقف اور پروگرام رکھتے ہیں جس کا تفصیلی تذکرہ وہ اپنے متعدد مضامین و مقالات میں کر چکے ہیں۔ اس موقف اور پروگرام کے لیے وہ مسلسل متحرک رہتے ہیں اور مختلف مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام سے ان کا رابطہ ہے۔ وہ اپنے موقف اور ایجنڈا کے لیے علماء کرام اور دینی مدارس کے اربابِ بست و کشاد کو عملی طور پر تیار کرنے کے لیے کئی محافل کا انعقاد کر چکے ہیں، اور ہمارے ہاں الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں بھی انہوں نے اس سلسلہ میں متعدد لیکچر دیے ہیں۔

انہوں نے ۳/اگست کو گلبرگ لاہور کی مسجد شانِ اسلام میں مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کرام کی ایک محفل کا اہتمام کیا جس میں مولانا حافظ عبد الرحمٰن مدنی، مولانا عبد الغفار روپڑی، مولانا ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی، پروفیسر محمد رفیق چودھری اور دیگر حضرات کے علاوہ راقم الحروف نے بھی الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے ناظم مولانا حافظ محمد یوسف کے ہمراہ شرکت کی۔

ڈاکٹر محمد امین صاحب کا موقف یہ ہے کہ وہ دینی مدارس کے نصاب میں عصری علوم و فنون کی شمولیت کو ضروری سمجھتے ہیں، لیکن اس کے لیے وہ سکولوں اور کالجوں کے لیے تیار کی جانے والی نصابی کتابوں کو دینی مدارس میں پڑھانے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کتابیں ایک خاص ماحول اور پس منظر میں لکھی گئی ہیں اور انہیں جوں کا توں دینی مدارس کے نصاب میں شامل کرنے سے دینی مدارس کا فکری، تربیتی اور دینی ماحول متاثر ہو گا۔ اس لیے جن علوم و فنون کی شمولیت ضروری ہے اس کے لیے دینی مدارس کے ماحول اور ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے الگ سے کتابیں لکھی جانی چاہئیں۔

۳/اگست کی اس محفل میں ڈاکٹر صاحب نے اپنا نقطۂ نظر تفصیل کے ساتھ پیش کیا اور اس پر شرکاء نے بھی اظہارِ خیال کیا۔ لیکن اس بحث کے دوران ایک اور مسئلہ کی طرف شرکاء محفل کی توجہ مبذول ہو گئی کہ مذکورہ مسئلہ اور اس جیسے دیگر بہت سے مسائل کے بارے میں اجتماعی طور پر اظہارِ رائے کے لیے ایک مستقل علمی فورم کی ضرورت ہے جو مختلف ملی، قومی اور عوامی مسائل کے حوالے سے عوام کی رہنمائی کرے، اور جب کوئی اہم بات سامنے آئے تو مختلف مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام سیاسی کشمکش سے الگ رہتے ہوئے خالصتاً علمی بنیادوں پر مشترکہ موقف اور رائے کا اظہار کریں تاکہ عوام کو صحیح رہنمائی میسر آ سکے۔ اس حقیقی ضرورت سے سب نے اتفاق کیا اور طے پایا کہ اس کے لیے ایک الگ اجلاس منعقد کیا جائے اور اس نوعیت کے مشترکہ علمی فورم کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔

چنانچہ اس مقصد کے لیے ۹/اگست کو جامعہ نعیمیہ گڑھی شاہو لاہور میں اجلاس منعقد ہوا جس میں مولانا ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی، مولانا محمد صدیق ہزاروی، مولانا حافظ صلاح الدین یوسف، مولانا ارشاد الحق اثری، مولانا حافظ عبد الرحمٰن مدنی، مولانا عبد الرؤف فاروقی، ڈاکٹر محمد امین، پروفیسر محمد رفیق چودھری، مولانا قاری جمیل الرحمٰن اختر اور دیگر حضرات کے علاوہ راقم الحروف نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں طے پایا کہ ’’ملی مجلسِ شرعی‘‘ کے نام سے ایک علمی فورم قائم کیا جائے جو سیاسی دھڑے بندی اور فرقہ وارانہ کشمکش سے الگ رہتے ہوئے ملی اور قومی مسائل میں باہمی مشاورت کے ساتھ ضرورت کے وقت مشترکہ موقف اور اجتماعی رائے قوم کے سامنے پیش کرنے کا اہتمام کرے۔ ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی صاحب کو ملی مجلسِ شرعی کا کنوینر اور پروفیسر ڈاکٹر محمد امین صاحب کو رابطہ سیکرٹری منتخب کیا گیا، اور مجلس کے شرکاء کو اس کے اساسی ارکان قرار دے کر اس کام کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

میرے خیال میں یہ ایک انتہائی اہم پیشرفت ہے اور مختلف مکاتبِ فکر کے سرکردہ اہلِ علم نے جس خوشگوار ماحول میں اور جس جذبہ و عزم کے ساتھ اس کا فیصلہ کیا ہے اگر اسے قائم رکھنے میں سنجیدگی سے کام لیا گیا تو یہ ایک ’’غیر سرکاری اسلامی نظریاتی کونسل‘‘ ثابت ہو سکتی ہے، جو پیش آمدہ مسائل میں قوم کو دینی و علمی رہنمائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ سرکاری اسلامی نظریاتی کونسل کے غیر متوازن فیصلوں کو بیلنس کرنے اور ان سے عوام کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے کنفیوژن کو دور کرنے کا بھی ذریعہ بنے گی۔ یہ وقت کی ایک اہم ضرورت ہے، خدا کرے کہ ہم اسے اچھے انداز میں آگے بڑھا سکیں اور یہ مجلس قوم کی مفید علمی و دینی رہنمائی کا مؤثر فورم ثابت ہو، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter