شرعی سزائیں اور مغربی فلسفہ

   
تاریخ : 
۲۷ اکتوبر ۲۰۰۵ء

گزشتہ ہفتے بریڈ فورڈ، برطانیہ کے ’’ریڈیو رمضان‘‘ کے ذمہ دار حضرات کی طرف سے فرمائش ہوئی کہ ان کے سامعین سے ٹیلیفون کے ذریعے ’’اسلام کی مقرر کردہ سزائیں اور ان پر شکوک و اعتراضات‘‘ کے حوالے سے گفتگو کروں۔ یہ گفتگو سوالات و جوابات سمیت ایک گھنٹہ سے زیادہ جاری رہی جو براہ راست نشر کی گئی۔ اس کے اہم حصوں کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

اسلام میں معاشرتی جرائم کی سزائیں دو حصوں پر مشتمل ہیں:

  1. ایک حصے کو ’’تعزیرات‘‘ کہا جاتا ہے، جن کے تعین کا اختیار اسلامی حکومت، پارلیمنٹ یا عدلیہ کو حاصل ہے کہ وہ حالات اور ضروریات کی روشنی میں کسی جرم پر کوئی سزا مقرر کر دیں۔ ان میں ردوبدل بھی ہو سکتا ہے اور حالات میں تغیر و تبدل کے ساتھ ساتھ ان سزاؤں میں تغیر و تبدل کی گنجائش بھی موجود رہتی ہے۔
  2. جبکہ دوسرا حصہ ’’حدود‘‘ کہلاتا ہے، یہ وہ سزائیں ہیں جو کسی متعین جرم کے حوالے سے قرآن کریم یا سنتِ نبوی کے ذریعے طے کر دی گئی ہیں۔ اور ان کے بارے میں امت کا شروع سے یہ اجماع ہے کہ ان میں ردوبدل کا کسی کو اختیار نہیں ہے، اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں اسلامی عدالت اس کی پابند ہے کہ اس جرم پر مجرم کو وہی سزا دے جو قرآن و سنت میں طے کر دی گئی ہے۔ یہ حدود صرف چند جرائم کے بارے میں ہیں جن کی تعداد پانچ چھ سے زیادہ نہیں ہے۔ مثلاً چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے، زنا کی سزا ایک صورت میں سنگسار کرنا اور دوسری صورت میں ۱۰۰ کوڑے مارنا ہے، کسی پر بدکاری کا غلط الزام لگانے کی سزا ۸۰ کوڑے ہے، ڈکیتی کی سزا بعض صورتوں میں ہاتھ پاؤں کاٹ دینا اور بعض صورتوں میں اس سے مختلف ہے، اور ارتداد کی سزا قتل ہے، وغیر ذٰلک۔

ان چند جرائم اور ان کی سزاؤں کے علاوہ باقی تمام سزائیں تعزیرات کے دائرے میں آتی ہیں، اور ان کا تعین اور بوقتِ ضرورت تغیر و تبدل حکومتِ وقت یا اس کی مقننہ اور عدلیہ کے دائرہ اختیار میں ہوتا ہے۔ ان میں سے حدود ایک عرصہ سے بین الاقوامی اعتراضات کی زد میں ہیں اور ان کے بارے میں مختلف قسم کے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ زیادہ تر اعتراضات اور شکوک و شبہات کی بنیاد مغرب کا وہ فکر و فلسفہ ہے، جسے ٹیکنالوجی، معاشی بالادستی اور عسکری قوت کی وجہ سے اس وقت عالمی اور بین الاقوامی فلسفہ کی حیثیت حاصل ہے، اس کی روشنی میں یہ کہا جاتا ہے کہ سنگسار کرنے، قتل کرنے، کوڑے مارنے، جسم کے اعضا کاٹنے، اور اس قسم کی سزائیں تشدد پر مبنی ہیں۔

اسلام اور مغرب کے درمیان ایک اصولی اور بنیادی اختلاف موجود ہے جسے سزاؤں کا جائزہ لینے سے پہلے سمجھنا ضروری ہے۔ مغرب کے نزدیک کسی عمل کو جرم قرار دینے کی بنیاد صرف انسانی سوسائٹی کی اس دنیا کی ضروریات ہیں، اور اس کا تعین ان کی سوسائٹی کی خواہشات اور قبولیت کے حوالے سے ہوتا ہے۔ مگر اسلام اس دنیا کی معاشرتی ضروریات کے ساتھ ساتھ انسان کی اُخروی زندگی کے حوالے سے بھی جرم کا تعین کرتا ہے۔ اس طرح جو عمل اس دنیا میں انسانی سوسائٹی کے لیے ضرر رساں ہے وہ بھی جرم ہے، اور جو عمل انسانوں کی اُخروی زندگی میں ان کی ناکامی اور ان کے لیے عذابِ الٰہی کا باعث بن سکتا ہے وہ بھی اسلام کے نزدیک جرائم کی فہرست میں شامل ہو جاتا ہے۔

پھر اس دنیا کی زندگی کے حوالے سے بھی فرد اور سوسائٹی کی ضروریات اور تقاضوں کا دائرہ مغرب کے ہاں بہت محدود ہے، جبکہ اسلام اس سے زیادہ وسیع تناظر میں اس کا جائزہ لیتا ہے۔ مغرب کے نزدیک کسی فرد کا وہ عمل جرم ہو گا جس سے دوسرے فرد کی آزادی اور اس کے حقوق متاثر ہوتے ہیں، یا زیادہ سے زیادہ اس کا ماحول اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، مثلاً:

  • سود مغرب کے نزدیک صرف اس لیے جائز قرار پا گیا ہے کہ سود لینے والے کے ساتھ وقتی طور پر سود دینے والے کا مفاد بھی وابستہ ہو جاتا ہے اور وہ اسے قبول کر لیتا ہے، اسی طرح ماحول کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لہٰذا اسے جرم قرار دینا درست نہیں ہے۔ مگر اسلام صرف فرد اور ماحول کو نہیں دیکھتا بلکہ اس کے ساتھ انسانی سوسائٹی کے اجتماعی تناظر اور کسی عمل کے حتمی نتیجے کو بھی پیش نظر رکھتا ہے۔ اور چونکہ سود ایک محدود دائرے میں چند افراد یا ماحول کے لیے قابل قبول ہونے کے باوجود انسانی سوسائٹی کے اجتماعی ماحول اور حتمی نتیجے کے حوالے سے دولت کی غیر مساویانہ تقسیم اور اس کے ارتکاز کا باعث بنتا ہے، اس لیے اسلام اسے جواز کی سند دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ جبکہ اس بات پر جدید ماہرینِ معیشت بھی متفق ہیں کہ عالمی معیشت میں دولت کے چند ملکوں میں ارتکاز، وسائلِ دولت کی غیر مساویانہ اور غیر منصفانہ تقسیم، اور ہوشربا معاشی تفاوت کی ایک بڑی وجہ سود ہے۔ اس طرح اپنے حتمی نتیجے کے حوالے سے سود سوسائٹی کے لیے نقصان دہ ہے اور اسی لیے اسلام کے نزدیک وہ جائز نہیں ہے۔
  • اسی طرح زنا کے مسئلہ کو لے لیجیے، مغرب کہتا ہے کہ جب زنا کرنے والے دو افراد آپس میں رضامند ہیں اور کسی تیسرے فرد کا حق اس سے متاثر نہیں ہو رہا تو اس پر اعتراض کا جواز نہیں ہے، اور باہمی رضامندی کے ساتھ قائم کیے جانے والے جنسی تعلق کو جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مگر اسلام کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ زنا کے اثرات صرف دو افراد تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس سے انسانی سوسائٹی کا اجتماعی ماحول متاثر ہوتا ہے کہ (۱) نسبت کا سلسلہ مشکوک ہو جاتا ہے جو نوعِ انسانی کا امتیازی وصف ہے، (۲) خاندانی نظام خطرے میں پڑ جاتا ہے جو انسانی تمدن کا بنیادی یونٹ ہے، (۳) اور پیدا ہونے والے بچے کی پرورش کی ذمہ داری کا تعین ممکن نہیں رہتا۔ اس لیے زنا خواہ رضامندی کا ہو، وہ بھی نسلِ انسانی کے لیے مجموعی طور پر نقصان دہ اور ضرر رساں ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے اور سنگین جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس طرح ایک فرق یہ بھی ہے کہ اسلام کے نزدیک جرم اور اس کی سزا کے تعین کی بنیاد آسمانی تعلیمات ہیں۔ جبکہ مغرب کے نزدیک اس کا تعین سوسائٹی کی خواہشات کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آسمانی تعلیمات میں سنگین جرائم کی فہرست ہمیشہ سے مشترک چلی آ رہی ہے، اور مغرب میں جرائم کی فہرست میں ردوبدل کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ایک چیز نصف صدی قبل جرم شمار ہوتی تھی مگر سوسائٹی میں اس کا رواج عام ہو جانے کے بعد اب وہ جرم نہیں رہی۔ اور ایک چیز مغربی دنیا کے ایک حصے میں جرم شمار ہوتی ہے مگر دوسرے حصے میں اسے جرم کا درجہ حاصل نہیں ہے۔ اس طرح جرم کا تعین کسی اخلاقی اصول پر نہیں بلکہ سوسائٹی کی ہر لمحہ بدلتی ہوئی خواہشات کے حوالے سے ہوتا ہے، اور جرائم کی فہرست ہمیشہ بدلتی رہتی ہے۔

اس پس منظر میں اسلامی ’’حدود‘‘ کے حوالے سے کیے جانے والے شکوک و اعتراضات کے بارے میں اصولی طور پر تین گزارشات کرنا چاہوں گا:

  1. ایک یہ کہ اسلام کے نظامِ قانون میں بیان کردہ جرائم اور ان کی سزاؤں کی بنیاد وحئ الٰہی پر ہے اور اس میں انسانی خواہشات کا کوئی دخل نہیں ہے۔
  2. دوسری بات یہ کہ یہ سزائیں اسلام کی مقرر کردہ نہیں بلکہ آسمانی تعلیمات کی صورت میں پہلے سے چلی آ رہی ہیں، اور اسلام نے یہ سزائیں از خود طے کرنے کی جائے ان کے بارے میں آسمانی تعلیمات کے تسلسل کو قائم رکھا ہے۔ سابقہ آسمانی کتابوں کا مجموعہ بائبل کی صورت میں تمام تر تغیرات اور تحریفات کے باوجود آج بھی اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ قصاص میں قتل کرنے، زنا کے جرم میں سنگسار کرنے، سزا کے طور پر انسانی جسم کے اعضا کاٹنے، اور کوڑے مارنے کی سزائیں اسلام نے بائبل سے لی ہیں۔ جبکہ خود قرآن کریم کا اپنا دعویٰ یہ ہے کہ وہ تورات، زبور اور انجیل کی تعلیمات کا محافظ ہے۔ اس لیے اگر ان سزاؤں میں تشدد ہے تو اس کی ذمہ داری قرآن پر نہیں بلکہ بائبل پر عائد ہوتی ہے۔ قرآن کریم اور سنتِ نبویؐ نے صرف یہ کیا ہے کہ وحئ الٰہی کے مطابق تورات کی بیان کردہ سزاؤں کو بعض جزوی اصلاحات و ترامیم کے ساتھ قائم رکھا ہے اور ایک تسلسل کے طور پر انہیں اپنے نظام کا حصہ بنا لیا ہے۔
  3. تیسری گزارش یہ ہے کہ آج کے دور میں بھی یہ بات تجربے سے ثابت ہو چکی ہے کہ جرم پر قابو وہیں پایا جا سکا ہے جہاں سزاؤں کی نوعیت سخت رہی ہے، بلکہ اسلام کی مقرر کردہ سزائیں جس معاشرے میں عملاً نافذ ہوئی ہیں وہاں آج بھی وہ جرائم پر کنٹرول میں مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔ اس میں مثال کے طور پر سعودی عرب کو پیش کیا جا سکتا ہے کہ اگرچہ وہاں بادشاہت کا نظام ہے جو اسلامی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا، لیکن جرائم کی شرعی سزائیں نافذ ہیں جن پر عمل بھی ہوتا ہے۔ اس لیے سعودی عرب میں جرائم کی شرح دوسرے ممالک سے بہت کم ہے۔ دوسری مثال افغانستان میں طالبان کی حکومت کے پانچ سالہ دور کی صورت میں ریکارڈ پر موجود ہے کہ ان کے دورِ حکومت میں نہ صرف یہ کہ جرائم کی شرح کا گراف حیرت انگیز طور پر گر گیا تھا بلکہ ان کی حدودِ کار میں امن قائم ہونے کے ساتھ ساتھ قبائلی سرداروں کی جنگیں بھی غائب ہو گئی تھیں، اور پوست کی کاشت کی شرح بھی صفر تک جا پہنچی تھی، جو کہ طالبان کی حکومت ختم ہونے کے ساتھ ہی دوبارہ اپنی سابقہ پوزیشن پر واپس چلی گئی ہے، اور اب اس قبائلی خانہ جنگی اور پوست کی کاشت کا مسئلہ عالمی سطح پر پھر پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔

اس لیے میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ اگر قانون کا مقصد جرم پر قابو پانا اور معاشرے میں امن قائم کرنا ہے تو اس کا ذریعہ آج کے دور میں بھی صرف آسمانی تعلیمات ہیں۔ اور آسمانی تعلیمات کی نمائندگی صرف اور صرف اسلام کرتا ہے کہ وحئ الٰہی اور آسمانی تعلیمات کا محفوظ ذخیرہ اسی کے پاس موجود ہے اور وہی اس حوالے سے نسلِ انسانی کی راہنمائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter