قومی معیشت کی ’’اوورہالنگ‘‘ کی ضرورت

   
تاریخ : 
جنوری ۲۰۲۴ء

روزنامہ اوصاف لاہور ۲۹ دسمبر ۲۰۲۳ء کی رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کے علاقائی ڈائریکٹر ناجی بن حسائن نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں پاکستان کی معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ

’’پاکستان کا معاشی ماڈل ناکارہ ہو چکا ہے، پاکستان کو اپنی معیشت کی اوورہالنگ کرنے کی ضرورت ہے، معاشی ترقی کے فوائد اشرافیہ تک محدود ہیں، پاکستان اپنے ساتھی ملکوں سے پیچھے رہ گیا ہے، ماضی میں غربت میں خاطر خواہ کمی ہوئی تھی مگر غربت دوبارہ سر اٹھا رہی ہے، یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ پالیسی بدلنا ضروری ہے۔‘‘

محترم ناجی بن حسائن کی پوری رپورٹ لائق توجہ ہے اور ان کے تجزیہ و تبصرہ سے مجموعی طور پر ملک کا ہر باشعور شہری اتفاق کرے گا، مگر ان میں سے کوئی بات نئی نہیں ہے، بلکہ ہر بات ایسی ہے جو مختلف فورموں سے بار بار کہی جا چکی ہے، البتہ یہ تبصرہ چونکہ عالمی بینک کے علاقائی ڈائریکٹر کی طرف سے سامنے آیا ہے اس لیے توقع کی جا سکتی ہے کہ ہر معاملہ میں بین الاقوامی اداروں بالخصوص مغربی ماہرین پر بھروسہ کرنے والے طبقات اور ادارے بھی اس پر سنجیدہ توجہ دیں گے، جس سے ملک کی معاشی بہتری کا راستہ نکالنے کی کوئی صورت شاید نکل آئے۔

جہاں تک قومی معیشت کے حوالے سے بنیادی پالیسی میں تبدیلی اور اس کی اوورہالنگ کی بات ہے یہ آواز سب سے پہلے بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے اٹھائی تھی کہ ملکی معیشت کو اب معیشت کے مغربی اصولوں کی بجائے اسلامی تعلیمات و قوانین کے مطابق نئے سرے سے استوار کرنے کی ضرورت ہے، اور اس کے لیے انہوں نے ماہرینِ معیشت کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس کے لیے محنت کریں۔ مگر ان کی وفات کے بعد سے اب تک عملی طور پر کوئی قدم ایسا سامنے نہیں آیا جسے قومی معیشت کی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی قرار دیا جا سکے۔ بلکہ اس کے برعکس اس حوالے سے کی جانے والی ہر عملی پیشرفت قومی معاشی معاملات اور اسلامی تعلیمات کے درمیان فاصلے میں اضافے کا باعث بنی ہے جس کا نتیجہ خود عالمی بینک کے تبصرہ کے مطابق یہ ہے کہ پاکستان کا معاشی ڈھانچہ ناکارہ ہو چکا ہے اور اس کی اوورہالنگ کی ضرورت ہے۔

پھر یہ ’’ناکارہ پن‘‘ صرف قومی معیشت تک محدود نہیں ہے بلکہ عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ سمیت ملک کے ہر قومی اور ریاستی ادارے کی صورتحال یہی ہے، اور کسی بھی ادارے کی معروضی صورتحال کو خود اس کے اپنے ماہرین کی تجزیاتی رپورٹوں پر نظر ڈال کر دیکھا جائے تو سب جگہ ماحول ایک ہی طرح کا دکھائی دے گا اور ہر طرف سے ’’ڈھانچہ ناکارہ ہو گیا ہے، اوورہالنگ کی ضرورت ہے‘‘ کی صدا بلند ہوتی سنائی دے گی۔

ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان قائم ہونے کے بعد سے قومی اداروں اور پالیسیوں کو ماضی کے نوآبادیاتی ماحول میں جکڑے رکھنے کے مسلسل طرزعمل نے ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جسے تبدیل کیے بغیر اصلاحِ احوال کی کوئی صورت ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ اس لیے آج بھی سب سے بڑی ضرورت معیشت سمیت تمام قومی اداروں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ازسرِنو ڈھالنے کی ہے، خدا کرے کہ ہم اس سمت کوکئی پیشرفت کر سکیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter