برطانیہ میں غیر سودی سرمایہ کاری کا منصوبہ

   
تاریخ : 
یکم ستمبر ۱۹۹۷ء

چند ہفتے قبل برطانیہ میں لنکاشائر کے شہر برنلے کی مسجد فاروق اعظمؓ کے سیکرٹری حاجی عزت خان صاحب کے ہاں نماز جمعہ کے بعد کھانے کے لیے بیٹھے تھے کہ ایک انگریز نوجوان بریف کیس ہاتھ میں پکڑے وارد ہوا، اس کے ساتھ ایک مسلمان بھائی تھے۔ ہم کھانے سے فارغ ہو کر چائے پینے کی تیاری کر رہے تھے، انہیں بھی چائے میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی اور اس کے ساتھ ہی گفتگو کا آغاز ہو گیا۔ مسجد فاروق اعظمؓ کے خطیب مولانا عزیز الحق ہزاروی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ حاجی عزت خان صاحب کا تعلق پاکستان کے علاقہ چھچھ سے ہے، اردو، پشتو اور انگلش روانی سے بولتے ہیں اور اسلام اور عیسائیت کے تقابلی مطالعہ میں خاصی مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی ذاتی لائبریری اسلام اور عیسائیت پر وقیع اور نایاب کتابوں سے بھری ہوئی ہے اور تحقیقی مطالعہ کے حوالے سے خاصے باذوق واقع ہوئے ہیں۔ اس انگریز نوجوان کے ساتھ گفتگو انگریزی میں ہو رہی تھی اس لیے میں لاتعلق سا رہا، لیکن اس کی زبان سے بار بار شریعہ لاء اور مضاربت کے الفاظ سن کر زیادہ دیر لاتعلق نہ رہ سکا اور حاجی عزت خان سے کہا کہ وہ ترجمانی کا بار اٹھا کر مجھے بھی اس گفتگو میں شریک کر لیں۔

معلوم ہوا کہ یہ نوجوان برطانیہ میں غیر سودی سرمایہ کاری کے لیے قائم ہونے والی کمپنی ’’دی حلال میوچل انویسٹمنٹ کمپنی‘‘ کا نمائندہ ہے، اور اس کا نام ڈیوڈ کول کلاڈ ہے جو یونائیٹڈ کنگڈم (برطانیہ) کے لیے اس کمپنی کا کوارڈینیٹر ہے، اور حاجی عزت خان کے پاس اس لیے آیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو اس سرمایہ کار کمپنی کے پاس رقوم جمع کرانے کی ترغیب دیں اور غیر سودی سرمایہ کاری کے اس منصوبے میں کمپنی سے تعاون کریں۔ اس کے پاس برطانیہ اور دوسرے ممالک کے چند سرکردہ علمائے کرام کے فتاویٰ کا ایک ضخیم مجموعہ تھا جس میں ان علمائے کرام نے اس کمپنی کے سرمایہ کاری کے طریق کار کے بارے میں مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ یہ سرمایہ کاری غیر سودی ہے اور اسلامی احکام سے متصادم نہیں ہے۔

اس سلسلہ میں اس قدر معلومات مجھے پہلے سے حاصل تھیں کہ برطانیہ میں غیر سودی سرمایہ کاری کے لیے کام ہو رہا ہے، گزشتہ سال اسی ادارے نے لندن میں عالمِ اسلام کے ممتاز دانشوروں، علمائے کرام اور ماہرین اقتصادیات کو ایک سیمینار میں جمع کیا تھا جس میں پاکستان سے جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی بھی تشریف لائے تھے اور اسلامی نظام بینکاری پر ان کا انگلش مقالہ بہت توجہ اور انہماک کے ساتھ سنا گیا تھا۔ اس موقع پر مولانا عثمانی اور بعض دیگر اہلِ دانش سے ملاقات ہوئی تھی اور اس ضمن میں پیشرفت کے بارے میں کچھ علم ہوا تھا۔ یہ کمپنی ’’دی حلال میوچل انویسٹمنٹ سروسز کمپنی لمیٹڈ‘‘ کے نام سے ۹ جنوری ۱۹۹۶ء کو آئرلینڈ میں قائم کی گئی اور ’’سنٹرل بینک آف آئرلینڈ‘‘ نے اسے قابلِ انتقال سکیورٹیز میں سرمایہ کاری کے لیے کاروبار کی باقاعدہ اجازت دی ہے، جبکہ اس کے ساتھ ’’التضامن کمیٹی لمیٹڈ‘‘ بطور مضارب شریک کار ہے، اور کمپنی کے پراسپیکٹس میں التضامن کمپنی لمیٹڈ کی ذمہ داری یہ قرار دی گئی ہے کہ وہ

’’کمپنی کی اسلامی شریعت کے تحت سرمایہ کاری اور تقسیم کار ہونے کی ذمہ دار ہے تاکہ سرمایہ کاروں کی رقمیں (فنڈز) اسلامی شریعت کے مطابق کاروبار میں لگائی جائیں۔‘‘

جبکہ کمپنی کے مقاصد اور پالیسی کے حوالے سے یہ درج ہے کہ

’’وہ بلز آف ایکسچینج جن میں پورٹ فولیو رقم لگائے گا، تجارتی مالیاتی سرمایہ کاری کے کئی مواقع فراہم کریں گے جو اسلامی شریعت کے مطابق مرتب کیے گئے ہوں گے۔‘‘

اس کے ساتھ ہی ایک ’’شریعہ ایڈوائزری بورڈ‘‘ کا ذکر بھی موجود ہے جس کے ساتھ طے کردہ اصولوں کے مطابق قرض لینے اور سرمایہ کاری کی ضمانت کا اعلان کیا گیا ہے۔

مسٹر ڈیوڈ نے بتایا کہ اس سلسلہ میں برطانیہ کے سرکردہ علمائے کرام ڈاکٹر ورش، مفتی محمد اسلم، مفتی کو اسماعیل سانچا، ڈاکٹر صہیب حسن، سید طفیل حسین شاہ اور ڈاکٹر مناظر حسن کے علاوہ پاکستان میں جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی کے ساتھ بھی مسلسل رابطہ موجود ہے اور ان کی راہنمائی میں کام کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اس کمپنی میں حصہ دار بننے کے لیے کم از کم سرمایہ کی حد اڑھائی سو برطانوی پونڈ رکھی گئی ہے اور اس کا ہیڈ کوارٹر ’’فریڈرک ہاؤس، ۱۹ ساؤتھ، فریڈرک سٹریٹ، ڈبلن ۲‘‘ میں قائم کیا گیا ہے۔

برطانیہ میں غیر سودی سرمایہ کاری کے اس منصوبے کے پس منظر کے بارے میں سوال کیا تو حاجی عزت خان کا جواب تھا کہ یہاں رہنے والے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد سود کی وجہ سے اپنی رقوم بینکوں میں جمع نہیں کراتی، اس لیے یہ منصوبہ انہیں اپنی رقوم بینکوں کے سپرد کرنے کی ترغیب دینے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ لیکن میرے ذہن میں اس سے ہٹ کر بھی کچھ سوالات تھے جو میں نے مسٹر ڈیوڈ کے سامنے بے تکلفی سے رکھ دیے اور انہوں نے بھی کسی قسم کے ذہنی تحفظ کے بغیر ان سوالات کے جوابات دیے۔ مثلاً میں نے ان سے پوچھا کہ غیر سودی سرمایہ کاری کے اس منصوبے کے بارے میں یہاں کے مذہبی عناصر کے تاثرات کیا ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ چرچ آف انگلینڈ اور کیتھولک چرچ کے ردعمل کے بارے میں تو وہ کچھ نہیں جانتے لیکن چونکہ بائبل کے عہد نامہ قدیم میں سود کے ناجائز ہونے کے بارے میں واضح ہدایات موجود ہیں، اس لیے یہودیوں کے مذہبی حلقے اس میں دلچسپی لے رہے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ بھی بالآخر ہمارے ساتھ اس جہاز میں سوار ہو جائیں گے۔

مسٹر ڈیوڈ نے کہا کہ غیر سودی سرمایہ کاری کا تصور ہمارے ہاں کوئی نیا نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی تجربات ہو چکے ہیں جو کامیاب رہے ہیں۔ مثلاً پہلی جنگ عظیم کے بعد یہاں اقتصادی بدحالی پھیلی تو لیور پول اور شیفیلڈ کی لوکل کونسلوں نے حکومت سے امداد طلب کی۔ حکومت نے امداد دینے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اس کے پاس دینے کو کچھ نہیں ہے اس لیے یہ کونسلیں مقامی سطح پر اپنا کوئی نظام وضع کر لیں۔ چنانچہ مسٹر ڈیوڈ کے بقول ان دونوں شہروں کی لوکل کونسلوں نے غیر سودی بنیادوں پر قرضوں کے لین دین اور باہمی مالی تعاون کا نظام وضع کیا جو کافی عرصہ تک چلتا رہا۔

اسی طرح شیفیلڈ میں ایک مقدس راہبہ (نن) نے ذاتی محنت کے ساتھ پچاس سال قبل لوگوں میں بغیر سود کے قرض کے لین دین اور باہمی تعاون کی مہم شروع کی، جو کسی نہ کسی حد تک اب بھی جاری ہے۔ مسٹر ڈیوڈ کول کلاڈ نے کہا فرانس میں نپولین نے اسلامک سسٹم رائج کرنا چاہا تھا (ان کے بقول نپولین مسلمان بھی ہو گیا تھا) اور بطور خاص غیر سودی بینکاری رائج کرنے کا پروگرام اس نے بنا لیا تھا۔ برطانیہ کے ساتھ اسی بنیاد پر نپولین کا جھگڑا ہوا اور یہی بات ان دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا باعث بن گئی تھی۔

مسٹر ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ سودی نظام نے ہماری معاشرت کو اس قدر جکڑ رکھا ہے کہ عام آدمی اس سے نکلنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، اس سسٹم کی تباہ کاریوں کی شکایت سب کرتے ہیں کیونکہ کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہے جس نے سود پر مکان، دکان، گاڑی یا ضرورت کی کوئی اور چیز نہ لے رکھی ہو، اور اس چیز کی اصل قیمت سے پانچ گنا قیمت ادا نہ کر چکا ہو۔ میرے کئی دوست ہیں جو کہتے ہیں کہ انہوں نے تیس برس قبل یا اس کے لگ بھگ سود پر قرض لے کر مکان خریدا تھا اور اب وہ اس کی قسطوں سے فارغ ہوئے ہیں، جبکہ ہر شخص مکان کی اصل قیمت سے پانچ گنا رقم ادا کر چکا ہے۔ لیکن جب ان سے کہا جاتا ہے کہ بغیر سود کے بھی قرض مل سکتا ہے تو ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی اور وہ حیران ہو کر پوچھتے ہیں کہ کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے؟

مغرب کی معیشت پر سودی سرمایہ کاروں کے کنٹرول کے بارے میں ایک سوال پر مسٹر ڈیوڈ نے کہا کہ یہاں کی عام آبادی کی بڑی اکثریت کو تو کچھ بھی پتہ نہیں ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔ انہیں یہ خبر نہیں ہے کہ یورپ کی پوری معیشت کو جو افراد کنٹرول کرتے ہیں، ان کی تعداد تین ہزار سے زائد نہیں، اور وہ سودی نظام کی وجہ سے معیشت پر اپنی اجارہ داری قائم رکھے ہوئے ہیں، لیکن چونکہ معیشت کے ساتھ ساتھ میڈیا پر بھی یہودیوں کا تسلط ہے اس لیے عام لوگوں کو اس صورتحال کی ہوا بھی نہیں لگنے دی جاتی اور استحصالی طبقے اپنی لوٹ مار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مسٹر ڈیوڈ نے کہا کہ میں تو زیادہ تفصیل نہیں جانتا لیکن میرے دادا کہا کرتے تھے کہ ’’یہودی وہ جونکیں ہیں جو یہاں کے عوام کا مسلسل خون چوس رہی ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ غیر سودی سرمایہ کاری کا اسلامی سسٹم ’’گڈ آئیڈیا‘‘ ہے جو اگر دنیا میں رائج ہو جائے تو عام آدمی سکھ کا سانس لے، کیونکہ سودی سسٹم چند سرمایہ کاروں کی دولت میں اضافہ کرنے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کے سوا کچھ نہیں کرتا، اور عام آدمی کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ سودی سسٹم میں جب کوئی بینک ڈوبتا ہے تو اجارہ دار لوگ مختلف حیلوں بہانوں سے اپنے تحفظ کے راستے نکال لیتے ہیں اور رقمیں صرف غریب لوگوں کی برباد ہوتی ہیں۔ مسٹر ڈیوڈ نے بتایا کہ عجیب بات یہ ہے کہ برطانوی حکومت ملک میں سود پر قرض کے لین دین کو تحفظ فراہم کرتی ہے، لیکن خود اپنے لیے جب قرض لیتی ہے تو وہ سود کے بغیر ہوتا ہے، اور اس وقت بھی برطانوی حکومت نے مختلف اداروں سے سود کے بغیر بے شمار رقوم بطور قرض لے رکھی ہیں۔

مسٹر ڈیوڈ نے اپنے بارے میں بتایا کہ وہ کرسچین ہے، لیکن اسے اس کے دوسرے عیسائی دوست ’’بدعتی‘‘ کہتے ہیں کیونکہ وہ تثلیث پر یقین نہیں رکھتا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا حصہ قرار دینے کی بجائے اس کا بندہ اور رسول سمجھتا ہے۔ اس پر محفل میں شریک ایک دوست نے مجھے کہا کہ ’’مولوی صاحب! اگلی دفعہ آپ آئیں گے تو ان شاء اللہ تعالیٰ یہ اسلام قبول کر چکا ہو گا اور اس کے چہرے پر سنتِ رسولؐ بھی ہوگی۔‘‘

مسٹر ڈیوڈ کول کلاڈ کی باتیں جس طرح حاجی عزت خان نے ترجمان کے طور پر مجھے بتائیں ان کا خلاصہ میں نے نقل کر دیا ہے۔ ان کی واقعاتی صداقت کی ذمہ داری ایک نوجوان پر ہے، ضروری نہیں کہ سب صحیح ہوں، لیکن ان سے موجودہ مغربی نظام کے بارے میں یورپ کے پڑھے لکھے نوجوانوں کے ذہنی رجحانات کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے، اور سودی معیشت کی تباہ کاریوں کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے، جس کے خلاف بغاوت کا عمل شروع ہو چکا ہے، اور ’’حلال انویسٹمنٹ کمپنی‘‘ اس کا ہراول دستہ معلوم ہوتی ہے۔ ہم اس تجربہ کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں اور ان علماء اور دانشوروں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جو مغرب کے دل میں بیٹھ کر غیر سودی سرمایہ کاری کے منصوبے کی کامیابی کے لیے خلوص دل سے راہنمائی کر رہے ہیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter