سیاست میں علماء کرام کا کردار

   
الشریعہ اکادمی، ہاشمی کالونی، گوجرانوالہ
۶ فروری ۲۰۲۴ء

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ علماء کرام کا سیاست سے کیا تعلق ہے اور سیاست میں علماء کرام کا کیا کردار ہے؟ اس حوالے سے مختصراً‌ دو تین پہلوؤں سے بات کرنا چاہوں گا۔

ایک تو اس لیے کہ علماء نمائندگی کرتے ہیں حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی۔ اور حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی تعلیمات اور پروگرام بنیادی طور پر زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے تھا اور اس میں سیاست بھی ایک اہم رول تھا۔ انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات نے صرف نماز روزے اور عبادات کی بات نہیں کی بلکہ معاشرت کی بات بھی کی ہے، سماج کی بات بھی کی ہے، قانون کی بات بھی کی ہے، حکمرانی کی بات بھی کی ہے، عدل کی بات بھی کی ہے، اور ان کے بنیادی فرائض میں اور مقاصد میں یہ سارے معاملات تھے۔ اس لیے جب علماء کرام نمائندگی کرتے ہیں انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی اور آسمانی تعلیمات کی، تو آسمانی تعلیمات کے تمام شعبے اور حضراتِ انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی جدوجہد کے تمام دائرے علماء کے فرائض میں شامل ہوتے ہیں۔

دوسری بات یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ ظاہر بات ہے جب انسانی سماج، مسلم سماج پابند ہے قرآن و سنت کے احکام کا اور قوانین کا، تو سماج میں قرآن و سنت کے احکام اور شریعت کے قوانین کا نفاذ اور نگرانی علماء ہی کر سکتے ہیں۔ علماء کسی نسل کا نام نہیں ہے، علماء میں ہر وہ شخص شامل ہے جو قرآن پاک کا علم رکھتا ہے، سنت کا علم رکھتا ہے، شریعت کا علم رکھتا ہے، اسلامی تاریخ سے واقف ہے، اور اسلامی اقدار و روایات کا ادراک رکھتا ہے۔ ہر وہ شخص عالم ہے جو ضروری علوم سے بہرہ ور ہوا ہے۔ یہ کسی نسل اور طبقے کا نام نہیں ہے کہ کوئی نسلی بالادستی ہے یہ۔ ہر وہ شخص جو قرآن و سنت کا، قانون و شریعت کا، اسلامی تاریخ کا، اور معاشرے میں اسلامی کردار کا علم رکھتا ہے، وہ عالم ہے۔ اور جب سماج میں قرآن و سنت کی حکمرانی اور اسلامی قوانین کے نفاذ کو ہم ایک ذمہ داری سمجھتے ہیں تو علماء کے بغیر ممکن کیسے ہے کہ قرآن و سنت کا علم رکھنے والوں کے بغیر معاشرے میں قرآن و سنت کے احکام کی عملداری قائم ہو جائے۔

اور تیسرے نمبر پہ یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ علماء کی تاریخ دیکھ لیں آپ۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے لے لیں، حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے لے لیں، پھر پوری تاریخ پہ نظر ڈال لیں، اور پھر برصغیر کی تاریخ میں آپ مجدد الف ثانیؒ کو دیکھیں، شاہ ولی اللہؒ کو دیکھیں، ان کے بعد تمام طبقات میں، ہر علاقے میں، بنگال میں حاجی شریعت اللہؒ کو دیکھ لیں، سرحد میں فقیر ایپیؒ اور حاجی صاحب ترنگزئیؒ کو دیکھ لیں، علماء کرام نے ہر دور میں ملت کے اجتماعی معاملات میں قیادت بھی کی ہے، رہنمائی بھی کی ہے، وہ ایک تاریخی تسلسل رکھتے ہیں۔ برصغیر کے علماء تو بالخصوص سیاسی جدوجہد میں؛ وہ آزادی کی جدوجہد ہو، یا اسلامی احکام کے نفاذ کی جدوجہد ہو، یا غیر اسلامی تمدن کے مقابلے کی جدوجہد ہو، علماء کرام نے ہر شعبے میں ایک تاریخ دی ہے اور پورا تسلسل ہے اُن کا۔

تو میں نہیں سمجھتا کہ یہ بالکل بنیادی تین باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے علماء کو سیاست سے لاتعلق کیسے کیا جا سکتا ہے، اور کیسے ہوں گے، ممکن نہیں ہے۔ علماء اگر اپنی تاریخ رکھتے ہیں، علماء اگر قرآن و سنت کا شعور رکھتے ہیں، علماء اگر حضرات انبیاء کرامؑ کی نمائندگی کرتے ہیں، تو سیاست اُن کے فرائض میں شامل ہے، اُن کے حقوق میں نہیں۔ میں سیاست کو علماء کے حقوق میں نہیں، فرائض میں شامل کرتا ہوں۔

ہاں، البتہ یہ ہے، سیاست کے دائرے ہیں، طریقِ کار ہیں۔ ایک طریقِ کار شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا تھا جو اب تک چلا آ رہا ہے کہ اہلِ اقتدار کا سامنا کر کے اُن سے مقابلہ اور محاذ آرائی سے منوانا۔ ایک طریقِ کار مجدد الف ثانیؒ کا ہے کہ پیچھے بیٹھ کر علمی انداز میں، فکری انداز میں محنت کر کے سماج کو تیار کرنا۔ طریقِ کار مختلف ہو سکتے ہیں لیکن سیاست، سیاسی جدوجہد، امت کی اجتماعی قیادت، سماج کے اجتماعی معاملات میں رائے دینا، قیادت کرنا، لوگوں کو منظم کرنا، یہ علماء کے حقوق میں ہے؟ نہیں، علماء کے فرائض میں ہے اور علماء اور سیاست لازم و ملزوم ہیں اسلام کی تعلیمات میں اور اسلام کے نظام میں۔

https://www.facebook.com/share/v/1GffsfNsQ9

2016ء سے
Flag Counter