دینی منصوبہ جات کی معاونت میں ثروت مند علاقوں کا کردار

   
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
۱۹ نومبر ۱۹۹۹ء

(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)

گلگت، بلتستان، شمالی علاقہ جات، آپ حضرات جانتے ہیں کہ پاکستان کا یہ سب سے آخری حصہ ہے جو چین کے ساتھ ملتا ہے۔ وہاں ہمارے اہلِ سنت بھائی ہمیشہ مظلومیت کا شکار رہے ہیں، اور آج بھی ہیں۔ این جی اوز کی سرگرمیوں کا وہاں بہت وسیع دائرہ ہے۔ وہاں بین الاقوامی تنظیمیں مالی امداد، فنڈز اور ہسپتالوں کے قیام کے ذریعے لوگوں کو اپنے زیر اثر لانے کے لیے مسلسل مصروفِ عمل ہیں۔ وہاں ہمارے اہلِ سنت کسمپرسی کی حالت میں، غربت اور عدمِ وسائل کے عالم میں دینی کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہاں دینی مدارس بھی ہیں، لائبریریز بھی ہیں۔ اسی علاقے سے ہمارے کچھ دوست امداد حاصل کرنے کی غرض سے آئے ہوئے ہیں، باہر مسجد کے صحن میں موجود ہیں۔ یہ بلتستان کے حضرات مدرسہ تعمیر کر رہے ہیں اور اس مدرسے کے لیے تعاون کی امید لے کر آئے ہیں۔ ایسے علاقے جو خود اپنی کفالت نہ کر سکتے ہوں، ان کا حق زیادہ ہوتا ہے، اس لیے کوشش اور ہمت کر کے ان حضرات کی جتنی زیادہ امداد کر سکیں کریں، اللہ تعالیٰ آپ کو اجرِ عظیم عطا فرمائے۔ آمین۔

2016ء سے
Flag Counter