بخاری شریف کی کتاب العلم: اساتذہ کا تربیتی نصاب

   
اقرأ روضۃ الاطفال
۱۲ جولائی ۲۰۲۶ء

اقرأ روضۃ الاطفال ٹرسٹ کے گوجرانوالہ زون کے اساتذہ کی ایک تربیتی نشست سے خطاب کا خلاصہ نذرِ قارئین ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اقرأ روضۃ الاطفال ٹرسٹ کے پروگراموں میں وقتاً‌ فوقتاً‌ حاضری کا موقع ملتا رہتا ہے اور یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ ہمارے بزرگوں بالخصوص حضرت مولانا مفتی ولی حسن، حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہم اللہ تعالیٰ اور دیگر بزرگوں کا لگایا ہوا یہ پودا اب تن آور درخت کی صورت میں ملک بھر میں اپنے ثمرات و فیوض کو بکھیر رہا ہے اور مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ اور ان کے رفقاء کی محنت کے ثمرات سے نئی پود مسلسل فیض یاب ہو رہی ہے۔ والد گرامی امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ اس کی سرپرستی فرماتے رہے ہیں اور ان کی معیت میں مجھے بھی متعدد بار اقرأ روضۃ الاطفال کے پروگراموں میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ اللہ پاک اس پورے عمل کو قبولیت و ثمرات اور برکات و ترقیات سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

اساتذہ کی تربیت اور ٹریننگ کے حوالے سے یہ بات ذہن میں آ رہی ہے اور کئی مقامات پر اس کا ذکر بھی کیا ہے کہ حضرت امام بخاریؒ نے بخاری شریف کی ’’کتاب العلم‘‘ میں تعلیم و تربیت اور وعظ و نصیحت کے دائرہ میں جو کچھ ارشاد فرمایا ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و معمولات کے ساتھ ساتھ اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ائمہ تابعین رحمہم اللہ تعالیٰ کے جو اقوال و ارشادات اپنے انداز میں پیش کیے ہیں، وہ اساتذہ کو بطور نصاب پڑھائے جانے چاہئیں اور بخاری شریف کی ’’کتاب العلم‘‘ ہمارے تربیتی نصاب کا مستقل حصہ ہونا چاہیے۔ آج کی مجلس میں ان میں سے دو تین ارشادات کا ذکر کرنا چاہوں گا۔

امام بخاریؒ نے امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ ’’تفقہوا قبل ان تسودوا‘‘ سردار بننے سے پہلے دین کی سمجھ حاصل کر لو۔ جس کا ترجمہ میں آج کی زبان میں یہ کیا کرتا ہوں کہ کوئی بھی منصب حاصل کرنے سے پہلے اس منصب کے بارے میں اہلیت اور فرائض کا علم حاصل کرو، اور صرف علم نہیں بلکہ اس کی فقہ یعنی فہم و ادراک سے بھی آگاہی حاصل کرو، تاکہ تم اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو صحیح طور پر سرانجام دے سکو۔

یہ بات آج کہی تو جاتی ہے اور کوئی منصب کسی شخص کے سپرد کرنے سے قبل اس کی تعلیم و تجربہ اور اپنی ذمہ داریوں کے فہم و ادراک کا باقاعدہ ٹیسٹ لیا جاتا ہے مگر اس کے ساتھ امام بخاریؒ نے اپنی طرف سے ایک جملہ کا اضافہ کیا ہے کہ ’’و بعد ان تسودوا‘‘ کہ منصب سنبھال لینے کے بعد بھی اپنی تعلیم اور فہم و ادراک میں اضافہ کی مسلسل کوشش کرتے رہو۔ ہمارے ہاں عام طور پر سندِ فراغت حاصل کر لینے کے بعد تعلیم حاصل کرنے کا ذوق کمزور پڑ جاتا ہے جبکہ ہر علم و اور فن میں ارتقاء مستقل جاری رہتا ہے، اور کسی بھی علم و فن میں زمانے کے ارتقاء اور تجربات و مشاہدات کے ساتھ جو وسعت و ترقی ہوتی رہتی ہے اس سے آگاہ رہنا اس علم و فن کے استاذ کے لیے ضروری ہوتا ہے، جس کے بغیر وہ اپنے طلبہ کو ماضی سے باخبر رکھتے ہوئے بھی حال سے باخبر نہیں کر پاتا۔ اس لیے ہر علم و فن کے استاذ کا اپنے شعبہ میں نئی معلومات اور مشاہدات و تجربات سے آگاہ رہنا اور اس کے مطابق طلبہ کو تیار کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔

اسی طرح امام بخاریؒ نے ایک جگہ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ ’’کلموا الناس بما یعرفون اتحبون ان یکذب اللہ ورسولہ‘‘ لوگوں سے اس زبان و اسلوب میں بات کرو جس کو وہ سمجھتے ہوں، کیا تم یہ پسند کرو گے کہ سمجھا تم نہ پاؤ اور انکار اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا ہو جائے؟ یعنی تمہارے کسی بات کو سمجھا نہ سکنے کی وجہ سے اگر خدانخواستہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بات کا انکار کر دے تو اس کا سبب تم بنو گے۔ اس کا مطلب آج کی زبان میں یہ ہے کہ اپنے طلبہ اور سامعین کی ذہنی سطح پر ان کی زبان میں بات کرو۔ انہیں اصطلاحات اور علمی اسالیب میں نہ الجھاؤ۔ دوسرے الفاظ میں اپنے مخاطبین کے ساتھ پہلے ’’فریکونسی‘‘ سیٹ کرو، پھر بات کرو، تاکہ وہ تمہاری بات کو صحیح طور پر سمجھ سکیں اور علمی گورکھ دھندوں میں الجھ کر کنفیوژ نہ ہو جائیں۔

درس و وعظ کی مجلس ہو یا تعلیم و تدریس کی کلاس ہو، ہم عام طور پر اس کا لحاظ نہیں کرتے اور اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ دینی مدارس کے اساتذہ اور فارغین کی زبان، اسلوب اور اصطلاحات زمانے کے مروجہ ماحول سے مختلف ہیں۔ ہماری بہت سی باتیں علمی و فنی اصطلاحات، مناظرانہ اسلوب اور فکری دائروں کے تنوع کے باعث آج کی دنیا کے لوگوں کو صحیح طور پر سمجھ نہیں آتیں جس سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔ اس لیے خطیب اور واعظ کے ساتھ استاذ کو بھی اس کا لحاظ رکھنا چاہیے کہ جس کو وہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے وہ اس کی بات کو سمجھ رہا ہے یا نہیں؟ اور وہ کون سی زبان، لہجے اور اسلوب کے ساتھ بات کو صحیح طور پر سمجھ پائے گا؟

اس کے ساتھ ہی امام بخاریؒ نے امام ربیعۃ الرائےؒ کا یہ ارشاد بھی نقل کیا ہے کہ ’’لا ینبغی لاحد عندہ شیء من العلم ان یضیع نفسہ‘‘۔ امام ربیعۃ الرائےؒ جو حضرت امام ابوحنیفہؒ اور حضرت امام مالکؒ دونوں کے استاذ محترم ہیں، فرماتے ہیں کہ جس شخص کے پاس تھوڑا بہت علم بھی ہے اسے خود کو ضائع ہونے سے بچانا چاہیے۔ اس کا مطلب آج کے دور میں یہ ہے کہ اپنے علم کی حفاظت اور اس پر عمل کے ساتھ ساتھ اسے آگے پہنچانے کی خدمت بھی سرانجام دیتے رہنا چاہیے، ورنہ اس کا علم ضائع ہو جائے گا۔

اسی طرح بطور عالم اپنی شناخت اور پہچان کو باقی رکھنا بھی اس کی ذمہ داری ہے تاکہ اس کی بات پر بطور عالم لوگوں کا اعتماد قائم رہے، اس کی بات توجہ سے سنی جائے، عالمِ دین کی شناخت ایک عالمِ دین کے طور پر معاشرے میں قائم رہنی چاہیے ورنہ اس کی بات پر اعتماد کمزور ہو گا جو اس کے ساتھ ساتھ دین کے لیے بھی نقصان کا باعث بنے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان باتوں پر عمل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

2016ء سے
Flag Counter