علماء اور سیاست

   
۱۶ فروری ۲۰۰۱ء

خورشید احمد ندیم صاحب نے علماء کے سیاسی کردار پر تفصیلی بحث کی ہے اور اس نقطہ نظر کی وضاحت کی ہے کہ علماء کرام کو عملی سیاست میں براہ راست رفیق بننے کی بجائے اصولی سیاست اور رہنمائی کی سطح تک اپنی سرگرمیوں کو محدود رکھنا چاہیے۔ اور ساتھ ہی پاکستان کی پچاس سالہ سیاست کا تجزیہ کیا ہے کہ علماء کا عملی سیاست میں حصہ لینا علماء اور دین دونوں کے لیے فائدہ کی بجائے نقصان کا باعث بنا ہے۔

جہاں تک علماء کے عملی سیاست میں فریق بننے یا نہ بننے کی بات ہے خورشید ندیم صاحب نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ یہ جائز و ناجائز کی بات نہیں بلکہ حکمت و تدبیر کا مسئلہ ہے۔ اس لیے اس حوالہ سے ان کے موقف اور ہمارے موقف میں کچھ زیادہ فرق نہیں رہا کیونکہ ہم نے بھی ’’موقع محل کی مناسبت‘‘ کے عنوان سے ضرورت کے وقت عملی سیاست میں علماء کے فریق بننے کا دفاع کیا تھا۔ جبکہ انہوں نے اسے ’’حکمت و تدبیر‘‘ کا نام دے دیا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ حکمت و تدبیر نہ تو ایسی جامد شے ہے کہ ہر وقت ایک ہی حالت اور کیفیت میں رہے اور نہ ہی اس کی سطح ہر طبقہ، زمانہ اور علاقہ کے لیے یکساں رہتی ہے کہ ہر طرح کے حالات میں اس سے ایک ہی طرح کا نتیجہ برآمد ہو۔ اس لیے ہم بھی اس بحث کو آگے نہیں بڑھا رہے کیونکہ بے مقصد بحث اور لفظی نزاع کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

البتہ ہم اپنی اس گزارش کا اعادہ ضروری سمجھتے ہیں کہ قومی زندگی میں علماء کا اصل مقام علمی رہنمائی اور فکری قیادت ہے، اور عملی سیاست میں براہ راست فریق نہ بننے کی صورت میں وہ زیادہ بہتر طور پر اپنی ذمہ داری کے تقاضے پورے کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر کسی وقت حکمت و تدبیر کے تقاضے یا موقع محل کی مناسبت سے وہ شرح صدر کے ساتھ عملی سیاست میں خود سامنے آنے کو ضروری سمجھتے ہوں تو ان کے لیے شرعاً یہ دروازہ بند نہیں ہے۔ اور اسلامی تاریخ میں ان کے لیے حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ، حضرت امام ابو حنیفہؒ ، حضرت امام مالکؒ ، شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ ، اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ جیسے زعمائے امت کا واضح اسوہ اور شاندار روایات موجود ہیں جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں عملی سیاست میں نہ صرف دخل دیا بلکہ اس کے لیے گروہ بندی کی، محاذ آرائی کے دور سے گزرے، اور تاریخ میں قربانی و ایثار اور استقلال و استقامت کے روشن باب قائم کیے۔

مگر خورشید ندیم صاحب کے تجزیہ کے دوسرے حصے یعنی پاکستان میں علماء کے سیاسی کردار کے حوالے سے ان کی رائے سے ہمیں اتفاق نہیں ہے۔ انہوں نے عملی سیاست میں علماء کرام کے فریق بننے کے جو نقصانات گنوائے ہیں وہ ہمارے سامنے بھی ہیں اور ان میں سے بعض باتوں سے ہمیں اتفاق ہے۔ لیکن ان کا یہ کہنا ہماری سمجھ سے بالاتر ہے کہ عملی سیاست میں حصہ لے کر علماء کرام ’’دعوت کے منصب‘‘ سے معزول ہوگئے ہیں۔ کیونکہ ہماری نصف صدی کی تاریخ میں بھی ماضی کی طرح یہ دونوں دائرے الگ الگ رہے ہیں اور آج بھی الگ الگ ہیں۔

دینی جدوجہد کی یہ فطری تقسیم کار چودہ سو سال سے چلی آرہی ہے کہ علمی کام کرنے والے خاموشی سے اپنے کام میں مگن ہیں، دعوت و اصلاح کے مرد میدان اپنے محاذ پر مصروف کار ہیں، اور تحریکی مزاج کے اہل علم و دین کا اپنا میدان کار ہے۔ پاکستان کی باون سالہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپ کو یہ تمام شعبے یہاں بھی اپنے دائرہ کار میں مصروف دکھائی دیں گے اور ان میں باہمی تعاون کی ایک خاموش روش بھی نظر آئے گی۔ ملک میں ایسے اصحاب علم کی ایک بڑی تعداد آج بھی موجود ہے جو عملی سیاست کے جھمیلوں میں پڑے بغیر اپنا کام کر رہے ہیں۔ اور عوامی سطح پر دین کی طرف بنیادی دعوت کا عمل بھی موجود ہے جو عملی سیاست سے الگ تھلگ رہ کر دین کی چند بنیادی باتوں کو ہر مسلمان کے ذہن میں ڈالنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ کیا خورشید ندیم صاحب کی ’’حکمت و تدبیر‘‘ اس تقسیم کار کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے؟ اور کیا ان کے نزدیک ’’حکمت و تدبیر‘‘ اسی کا نام ہے کہ علم و دانش سے تعلق رکھنے والے تمام حضرات کو ایک ہی طرح کے کام میں لگا دیا جائے اور تمام اذہان و افکار کو ایک ہی سطح، ایک ہی دائرہ اور ایک ہی رخ کا پابند بنا کر باقی ہر کام کی نفی کر دی جائے؟ ہم خورشید ندیم صاحب محترم سے یہ سمجھنا چاہیں گے کہ عملی سیاست میں فریق بننے والے علماء کی محدود تعداد کو سامنے رکھ کر وہ ملک بھر کے تمام اہل علم و دانش کو دعوت کے منصب سے معزول کرنے کا حکم کس بنیاد پر صادر کر رہے ہیں؟

پھر خورشید ندیم صاحب کو اس بات کا اعتراف ہے کہ علماء کی سیاسی جدوجہد کی وجہ سے ملک دستوری لحاظ سے اسلامی ہے اور قانون سازی میں یہ ضمانت موجود ہے کہ قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نہیں بنے گا۔ ہمارے خیال میں اس معاملے کو ایک اور رخ سے دیکھا جائے تو بات زیادہ واضح ہو جائے گی کہ عملی سیاست میں علماء کے فریق بننے کی وجہ سے پاکستان اب تک سیکولر ریاست بننے سے بچا ہے۔ ورنہ اگر پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ موجود نہ ہوتے تو قرارداد مقاصد کبھی منظور نہ ہوتی۔ ۱۹۷۱ء کی دستور ساز اسمبلی میں مولانا مفتی محمودؒ ، مولانا عبد الحقؒ ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، مولانا عبد المصطفیٰ ازہری، پروفیسر غفور احمد، اور مولانا ظفر احمد انصاری موجود نہ ہوتے تو اسلام کے سرکاری مذہب ہونے اور قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی کی ضمانت جیسی بنیادی دفعات دستور کا حصہ نہیں بن سکتی تھیں۔ اور ۱۹۷۴ء میں یہی حضرات قومی اسمبلی کے رکن نہ ہوتے تو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مسئلہ کبھی حل نہیں ہو سکتا تھا۔

لطف کی بات یہ ہے کہ خورشید احمد ندیم اس سارے کام کو مولانا ظفر احمد انصاری کے کھاتے میں ڈال کر انہیں عملی سیاست سے دور رہنے والا بزرگ قرار دے رہے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس دور کے دستور سازی کے عمل سے ہی سرے سے بے خبر ہیں۔ مولانا ظفر احمد انصاری کی خدمات اور کردار سے انکار نہیں، لیکن وہ دستور ساز اسمبلی اور قومی اسمبلی میں اس ٹیم کا ایک حصہ تھے جس میں مذکورہ بالا اکثر بزرگ شامل تھے اور ان کی قیادت مولانا مفتی محمودؒ کر رہے تھے۔ جبکہ عملی سیاست سے مولانا ظفر احمد انصاری کے دور رہنے کی کیفیت یہ تھی کہ وہ ۱۹۷۱ء کے الیکشن میں کراچی سے آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑ کر دستور ساز اسمبلی اور پھر قومی اسمبلی کے رکن بنے تھے۔ اس لیے اگر وہ اس سارے انتخابی عمل سے گزر کر بھی عملی سیاست سے دور رہنے والے بزرگ قرار پا سکتے ہیں تو مذکورہ بالا دیگر بزرگوں کو یہ سہولت دینے میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔

ہمارے خیال میں موجودہ عالمی حالات اور شدید بین الاقوامی دباؤ کے تناظر میں علماء کا پاکستان کو سیکولر ریاست بننے سے روکے رکھنا ہی ایک ایسی بنیادی کامیابی ہے جس کی خاطر عملی سیاست کے تمام مبینہ نقصانات برداشت کیے جا سکتے ہیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter